اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 14:43
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی
Advertisements

خدیجہ رحیم

NA

Advertisements

ہلال کڈز اردو

چوری کا پھل 

جون 2024

’’انکل ! ایک کلوآم دے دیں ۔‘‘عاصم نے ٹھیلے والے کو سو روپے پکڑاتے ہوئے کہا ۔
جیسے ہی ٹھیلے والے نے آم تولنا شروع کیے ، عاصم نے نظریںبچا کر تین آم اپنے رومال میں چھپا لیے ۔اِس کامیاب کارروائی پرتھوڑی دُور کھڑے کاشف اور حماد نے اشارے سے عاصم کو شاباش دی ۔ابھی ٹھیلے والا عاصم سے پیسے لے کر دوسرے گاہگ کی طرف متوجہ ہوا ہی تھا کہ اُس نے ایک بار پھر وہی عمل دہرایا۔ اس بار عاصم نے دو آم اُٹھائے تھے ۔



 ہر بارکی طرح اب بھی ٹھیلے والے کواُس نے پتا ہی نہ چلنے دیا۔اب تینوں دوستوں کے پاس سو روپے میں پانچ کی بجائے دس آم آچکے تھے ۔یعنی آدھے پیسوں سے اور باقی چوری سے۔ 
’’آہا...میٹھے میٹھے آم ، کتنا مزاآئے گا نا!‘‘ کاشف ، عاصم اور حماد نے ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہوئے قہقہہ لگایا اور پارک کی طرف روانہ ہوگئے۔ چور ی آم کھانے کے اس عمل کو انہوںنے ’’مشن آم‘‘کا نام دے رکھا تھا۔اُن کی اِس چالاکی کو آج مسلسل تیسرا دن تھا ۔آم بیچنے والابے چارہ سادہ مزاج ایک غریب آدمی تھا ۔ حماد ، کاشف اور عاصم پارک میں آم کھانے کے بعد روزانہ کی طرح اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔  
گھر میں داخل ہوتے ہی عاصم کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ سامنے برآمدے میں ابا جان سر جھکائے بیٹھے تھے ۔وہ بازار میں ٹھیلے پر ٹوپیاں اور رومال بیچتے تھے ۔ ’’آج ابا جان اتنی جلدی گھر کیوں آگئے ؟‘‘ عاصم دل میں عجیب و غریب خیالات لاتے ہوئے اُن کے پاس چلاآیا،لیکن یہ کیا... ابا جان تو اپنے آنسو پونچھ رہے تھےجبکہ باقی گھر والے یعنی امی جان ،چھوٹا بھائی،حمیرااور چھوٹی بہن حنا سب قریب ہی خاموش بیٹھے تھے ۔
 ’’یااللہ خیر...‘‘عاصم کے منہ سے بمشکل نکلا۔’’کیا ہوا ،خیر یت توہے        ابا جان؟‘‘
ابا جان نے رومال سے آنکھیں صاف کیں اور کہنے لگے : ’’بیٹا!آج میراسارا مال چوری ہوگیا ۔پورے آٹھ ہزار روپے کا... وہ ... وہ کوئی تین چارشرارتی ہلکی عمر کےلڑکے تھے۔‘‘
 اباجان نے بتایا تو عاصم کے پائوں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی ہو۔پھر اگلے ہی لمحےوہ غصے سے دانت پیسنے لگا۔’’ میں چھوڑوں گا نہیں ،جنھوں نے میرے ابا جی کو دکھ دیا ۔‘‘
’’بیٹا!میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ؟کیوں کوئی میرے بچوں کارزق چھین کرلے گیا ؟میں اللہ سے شکایت کروں گا۔‘‘ابا جان نے رومال آنکھوں پر رکھتے ہوئے بے بسی سے کہا ،تو ایک دم عاصم کی آنکھوں کے سامنے آم والاآدمی آگیا۔ اُسے لگا کہ ابا کے بجائے آم والا شخص رو،رو کر اللہ سے اُس کی شکایت کررہا ہے۔
 یہ خیال آتے ہی وہ سر سے پائوں تک کانپ گیا ۔ اُسے غلطی کا جب احساس ہوا، تو اپنے آپ پر بہت غصہ آیا ۔اگلے ہی لمحے وہ کاشف اور حماد کی طرف روانہ ہو چکا تھا تاکہ وہ لو گ آم والے کو تلاش کرکے اپنی غلطی کی تلافی کرسکیں ۔ 
 

مضمون 225 مرتبہ پڑھا گیا۔

خدیجہ رحیم

NA

Advertisements