اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 20:43
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی
Advertisements

محمد احمد رضا انصاری

NA

Advertisements

ہلال کڈز اردو

میرے بکرے...

جون 2024

امی جان زوہیب کو تلاش کرتے ہوئے اس کے کمرے میں پہنچیں تو دیکھا کہ وہ کھڑکی کے ساتھ کھڑا نیچے جھانک رہا ہے۔ عید کا دن تھا۔ نمازِ عید کے بعد مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ زوہیب کے گھر بھی چند جانوروں کی قربانی کی جا رہی تھی۔ 



امی جان نے دیکھا کہ زوہیب دھوپ کا چشمہ لگائے بالکل گم صم سا کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ 
”بیٹا!یہاں کیوں کھڑے ہو۔ چلونیچے آ جاؤ۔ تمہاری خالہ ملنے آئی ہیں اور تمہارے دونوں دوست بھی تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔“
ان کی آواز سن کر زوہیب چونک گیا۔ اس نے مڑ کر انھیں دیکھا پھر دوبارہ سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔ امی جان کو اس کا رویہ عجیب لگا۔ 
”کیا بات ہے زوہیب! کیا ہوا ہے ؟“
زوہیب نے آنکھوں سے چشمہ ہٹایا۔ امی جان نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ وہ جلدی سے امی جان کے پاس آیا اور ان سے لپٹ کر سسکیاں بھرنے لگا۔
وہ یک دم پریشان ہوگئیں۔ 
”ارے بیٹا کیا ہوا۔ رو کیوں رہے ہو۔ عید تو خوشی کا تہوار ہے۔اسے ہنستے مسکراتے منانا چاہیے۔تم عید کے دن بھی اتنے اداس ہو۔ آخر وجہ کیا ہے؟“
کچھ دیر پہلے تک زوہیب بہت خوش اور پُرجوش تھا۔نئے کپڑے،جوتے، نیلگوں پٹے والی گھڑی اور سیاہ چشمہ لگا کر وہ ابو جان اور بڑے بھائی کے ساتھ نماز پڑھنے عید گاہ گیا تھا۔ان کی واپسی کے فوراً بعد قصائی بھی اپنے مددگار لڑکے لے کر ان کے گھر آگیا تھا۔امی جان باورچی خانے میں چائے اور ناشتہ بنانے لگیں تاکہ قصائی کام سے پہلےپیٹ پوجا کر سکے۔زوہیب اس وقت خوشی سے جھومتا ہوا پورے گھر میں چکرلگا رہا تھا۔ اس نے بھیا اور ابو سے عیدی جمع کی اور اپنےنئے بٹوے میں رکھ لی۔ اس نے سوچاتھاکہ جب اس کے خالہ زاد آئیں گے تو وہ ان کے ساتھ دکان پر جائے گا اور اپنی عیدی سے خوب مزے کرے گا۔
پھر وہ صحن میں آگیا۔ وہاں دو سفید بکرے بندھےتھے۔کونےمیںایک گائے بھی بندھی تھی۔ وہ مسلسل منہ چلاتے ہوئے جگالی کر رہی تھی۔ بیس دن پہلے جب ابو اور بھیا اسے گھر لائے تھے تو زوہیب گائے سے بہت خوفزدہ تھا اور اس کے قریب بھی نہ جاتا تھا۔دھیرے دھیرے اس کا ڈر ختم ہوتا چلا گیا اور وہ اپنے ہاتھ سے اسے مزے دار گھاس کھلانے لگا تھا۔چارہ کھانے کے بعد گائے کھونٹے کےپاس بیٹھ جاتی اور منہ چلانے لگتی۔زوہیب بڑے غورسے اس کی حرکات دیکھتا تھا۔ اسے حیرت ہوتی کہ گائے کے سامنے گھاس بھی نہیں پڑی ہوئ لیکن پھر بھی منہ ایسے چلا رہی ہے جیسے گھاس کھا رہی ہو۔بھیا نے اس کا تجسس دیکھا تو اسے بتایا کہ کچھ جانور چارہ کھانے کے بعد سکون سے بیٹھ کر جگالی کرتے ہیں اس سے ان کی خوراک آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے۔ 
اس سال عیدسے پندرہ دن پہلے ابو جان گاؤں سے دو سفید بکرے بھی لے آئے۔ایک بکرا بھیا کا تھا اوردوسرا زوہیب کا۔ان کے گھر میں ہرعید پر عموماََ بڑا جانور قربان کیا جاتا تھا۔ پہلی بار ابو جان نے قربانی کے لیے دو بکرے خریدے تھے ۔زوہیب کو اس بات کا علم نہیں تھا۔وہ سمجھا کہ یہ بکرے صرف میرے لیے لائے گئے ہیں تاکہ میں ان سے کھیل سکوں۔
زوہیب نے بکروں کی خوب خدمت کی۔سکول کے بعد کا وقت وہ اپنے بکروں کے ساتھ گزارتا تھا۔ شام کو وہ بھیا کے ساتھ بکروں کی رسی تھامے محلے میں نکل جاتا۔وہ پڑوسیوں کے بچوں کے ساتھ گھومتے پھرتے اور مغرب کے وقت گھر لوٹ آتے۔
 10 ذوالحجہ کوعیدالالضحیٰ کا تہوارآنے والا تھا اورسب اسے منانے کی تیاریاں شروع کرچکے تھے۔ہر گلی محلے میں بھانت بھانت کے جانور دیکھنے کوملتے۔دن ہو یا رات، زوہیب کا پورا محلہ گائے، بیل، بکری، بھیڑ اور بکروں کی آوازوں سے گونجتا رہتا۔زوہیب کو یہ رونق بہت پسند تھی۔ وہ حسب ِمعمول خوشی اور جوش کے ساتھ اپنے دونوں بکروں کی خدمت کرتا رہا۔تازہ گھاس لینے بھی وہ اکثر بھیا کے ساتھ چلا جاتا تھا۔
آخر عید کا پر مسرت دن آ ہی گیا۔ عید کی نماز کے بعد زوہیب عیدی جمع کرنے کے بعدگھر کے پچھلے صحن میں چلاگیا جہاں بھیا اور ابو قربانی کے انتظامات کر رہے تھے۔ قصائی چارپائی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا اوراس کا سامان ساتھ ہی میز پر رکھا تھا۔یہ کیا ہورہا ہے؟ زوہیب کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ چونکہ ابھی چھوٹا تھا اسی لیے جانور کو ذبح ہوتے نہیں دیکھتا تھا۔ وہ پھرتی سے واپس اوپر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ 
باہرسے مختلف آوازیں سن سن کر اسے پتا چل رہا تھا کہ باہر کیا ہورہا ہے۔ ایک کے بعد ایک بکرا ذبح کر دیا گیا تھا۔ وہ باہر آیاتواس کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اور پھر پتا نہیں کہاں سے ڈھیر سارے آنسو اس کی آنکھوں میں اُمڈ آئے۔وہ سسکیاں بھرنے لگا۔اسی دوران امی جان اس کے کمرے میںچلی آئیں اور اسے روتا دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔
”کیا بات ہے بیٹا۔ رو کیوں رہے ہو؟“
”وہ ...  میرے بکرے !“ زوہیب مشکل سے بول پایا۔
” بیٹا وہ قربانی کے لیے تھے۔ کیا آپ نہیں جانتے تھے ؟“امی جان نے حیرانی سے پوچھا ۔
”لیکن وہ بکرے تو صرف میرے تھے۔ ابو میرے لیے لائے تھے تاکہ میں انھیں پال سکوں اور اچھے دوست کی طرح اپنے ساتھ رکھوں۔“زوہیب نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
”دیکھو بیٹا! تم نے اتنے دن ان کی دیکھ بھال کی، وقت پر انھیں چارہ اور پانی دیا۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا۔کچھ دنوں میں ہی آپ کو ان سے الفت ہوگئی تھی۔ قربانی کا مطلب بھی یہی ہے کہ اپنی من پسند چیز اللّہ کے راستے میں قربان کی جائے۔ آپ کے بکرے جنت کا مکین بن گئے ہیں،آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔“امی جان نے اسے پیار سے سمجھایا۔ دھیرے دھیرے زوہیب کی سوچ بدلنے لگی اور اس کے چہرے پر چھائی اداسی دور ہونے لگی۔
”اب ڈرائنگ روم میں آجاؤ اور اپنے خالہ زاد بھائیوں سے ملو۔ وہ کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔“امی جان نے مسکرا کر کہا۔ زوہیب بھی مسکراتا ہوا کمرے سے باہرآگیا۔ اس نے سب کے ساتھ مل کر بڑے جوش و خروش سے عید منائی۔
 

مضمون 216 مرتبہ پڑھا گیا۔

محمد احمد رضا انصاری

NA

Advertisements