اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:51
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

رابعہ رحمٰن

Advertisements

ہلال اردو

خاندانی منصوبہ بندی 

جون 2024

کسی بھی ملک کی ترقی اور سلامتی میں آبادی ایک اہم کردار اداکرتی ہے۔ 80اور90کی دہائی کے مسائل اور آبادی کے گھمبیر معاملات آج کی  بیسویں صدی سے کچھ مختلف تھے۔ اگر ہم غور کریں تو گزشتہ ایک صدی میں دنیا کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھی ہے اور اس کے اثرات ہرشعبۂ زندگی پر نظرآرہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی سے وسائل کی کمی اور اہم قومی امور بھی مصلحت کاشکار ہوجاتے ہیں اورتوازن کے پلڑے الٹ جاتے ہیں۔



ماضی میں جائیں تو پتہ چلے گاکہ صدر ایوب خان نے خاندانی منصوبہ بندی کو اس وقت منشور کا حصہ بنایا تھا جب تقریباً آبادی پانچ کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ اس سے متعلق جو کام اس وقت ہوا تھا اگر اس کو جاری رکھاجاتا تو آج ہم اس گھمبیرصورتحال کا سامنا نہ کررہے ہوتے۔
خاندانی منصوبہ بندی، روز افزوں آبادی کو کم کرنے کا ایک مصنوعی طریقہ کار سمجھا جاتاہے۔حکومتِ پاکستان بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل کے پیش نظرنہ صرف اقدامات کررہی ہے بلکہ اس کے لئے علیحدہ محکمے کا قیام بھی عمل میں آچکاہے جو لوگوں کوضبط تولید کے متعلق مشورے اور ادویات مہیاکرتاہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگہی کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے باوجود اکثر پاکستانی خاندان اسے ایک حساس موضوع سمجھ کر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور جو بہبود آبادی کے لوگ ان تک پہنچتے ہیں ان سے تعاون نہیں کرتے اوران معاملات کو بالکل ذاتی سمجھ کر اس پہ تبادلۂ خیال نہیں کرتے، نہ گھر کی عورتوں کوکرنے دیتے ہیں۔یہ صورتحال زیادہ ترپاکستان کے پسماندہ اور دور دراز کے علاقوں میں، مختلف صوبوں کی مختلف روایت کے مطابق، جہاں مردوں کی اجارہ داری ہوتی ہے، وہاں دیکھنے کو ملتی ہے اور وہاں بھی جہاں مرد،خاندانی زندگی کے بہت سے پہلوئوں پرمکمل اختیار رکھتے ہیں۔ان اختیارات میں مالیات سے لے کر ازدواجی تعلقات تک آتے ہیں۔
 خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کرنے کے لیے اور تمام معلومات کو سمجھنے سازگار ماحول پیداکرنے اور معلومات بہم پہنچانے والوں سے تعاون کرنے کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے اپنی حکمت عملی میں مذہبی رہنمائوں کو خاص طور پر شامل کیاہے۔ ان کی شمولیت کا مقصد بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بڑھنے والے مسائل اور کم ہونے والے والے وسائل سے باخبر رکھنا ہے، خاندانی منصوبہ بندی کو آگہی پروگرام کے ذریعے تیزکرناہے۔ یہ تمام کارروائی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے جو کہ تمام صوبائی حکومتوں اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیارکیاگیاہے۔ مختلف صوبوں میں اس حکمت عملی کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔2022 میں50لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے ضلع گوجرانوالہ  کے ڈسٹرک پاپولیشن ویلفیئرآفیسر نے خوبصورت مثال پیش کی۔ اُن کی ایماء پر صحت اور آبادی کی بہبود کے محکموں نے کام کرنے کا بیڑا اٹھایاکہ مساجد سے لے کرمختلف سیمینارز تک خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مثبت پیغامات پھیلائے جاسکیں۔اسی ضمن میں پوپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے خاندانی منصوبہ بندی پر ایک وکالت سیشن رکھاجس میں حیرت ناک طور پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے تیس سے زائد مذہبی رہنمائوں نے شرکت کی۔
آبادی کے دھماکہ خیز مسائل کی سنگینی کے متعلق کہاگیا کہ ہم بحیثیت معاشرہ سماجی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے گزر رہے ہیں جو آبادی میں بے تحاشا اضافے سے مستقبل کو مزید پیچیدہ بنادیںگے، پھر علماء اور آئمہ کرام سے درخواست کی گئی کہ وہ اس مسئلے پر نمازجمعہ اور دیگرمذہبی سیمینارز جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کی پیدائش کے فرق کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور اسے مذہبی خطبات کا باقاعدہ حصہ بنائیں۔
اجلاس میں شریک مذہبی رہنمائوں نے زچہ وبچہ کی صحت کو بہتر بنانے پر خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقوں کے اثرات پرغورکرتے ہوئے اسلامی قوانین کی روشنی میں گفتگو اور بحث ومباحثہ کرتے ہوئے مثبت اور پرجوش کردار اداکیا۔ وہاں موجود مختلف ماسٹرز ٹرینرز اور مذہبی سکالرز نے کچھ یوں کہاکہ
''اسلام ماں اور بچے کی صحت اور تندرستی پر بہت زور دیتاہے، بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ ماں اور بچے کی بہترین صحت اور آنے والی نسلوں کی  نشودنما میں اہم کردار اداکرتاہے اس سلسلے میں خاندانی منصوبہ بندی میں خواتین کی رائے کو انتہائی اہمیت دی جانی چاہیے''۔خاندانی منصوبہ بندی کو وسائل سے ہم آہنگ کرنے کی تلقین بھی کی گئی۔
آج دستیاب وسائل اور آبادی کے درمیان توازن پیداکرنے کا وقت ہے۔ وسائل کی کمی کے نتیجے میں معاشی ترقی میں کمی ہوگی۔علمائے کرام کو اسلامی معاشرے کا اہم ستون سمجھاجاتاہے لہٰذا انہیں معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو اپنانے کیلئے بیداری پیدا کرنا ایک اہم شعبہ اور فریضہ ہے۔
ایسے وکالت سیشنز کا انعقاد ہر علاقے میں صوبائی اور ضلعی سطح پر ہونا ضروری ہے جہاںمذہبی رہنما اپنے خطبات میں خاندانی منصوبہ بندی کے پیغامات پہ زور دینے میں تعاون کا یقین دلائیں،پاپولیشن ویلفیئرڈیپارٹمنٹ مقامی مذہبی رہنمائوں کی ذہنی سرگرمیوں اور کیمپوں میں اپنے منصوبے کا اشتراک کرے تاکہ علاقے میں مذہب سے متعلق خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکیاجاسکے اور ذہنی خلفشار دور ہوسکے۔ مذہبی رہنمائوں کا شعوری منصوبہ بندی کاپیغام پھیلانے کا اعتماد دلانا خوش آئند ہے اسی عمل سے ایک بہتر تعلیم یافتہ قوم بن سکے گی۔
تہذیب وروایت کے علاوہ مذہب کا انسانی رویوں پر بہت اثرہوتاہے۔ اس بات کا سب کو پختہ یقین ہے کہ مسلسل کوششوں سے ہم ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے غلط فہمیوں اورانتظامی رکاوٹوں جیسی مشکلات پر قابو پالیں گے اس میں علمائے کرام کا کردار  اہم کڑی ثابت ہوگا۔
 ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پاکستان کی فلاح وبہبود تعلیم ،روزگار کے مواقع اور صحت کی دیکھ بھال کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔
آبادی کا ناگ جس طرح ہمیں ڈس رہاہے اس سے متعلق زمینی حقائق ہمیں خطرناک صورتحال سے آگاہ کررہے ہیں، معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ جو انتشار معاشرے کی صحت مند آب وہوا کو زہریلا کررہاہے اس کے لیے ہمیں اپنی آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنالازم ہوچکاہے۔ ہسپتالوں میں فرش پہ بیٹھے درد سے چلاتے ہوئے افراد، دوائیوں کی بروقت فراہمی سے محروم مریض اور ان کی اموات، ہرگیارہ ماہ کے بعد جنم دینے کے لیے تیار ایک عورت لاغر اور بیمار بچوں کو جنم دے کر موت کے راستے کا مسافر ہوتی ہے۔ 



بڑھتی ہوئی آبادی میں ایک گھر کے دس افراد ایک کمانے والامزدور اور شام کونشہ کرکے زندگی کے تکلیف دہ حقائق سے نظریں چرانے والا ایک بے بس مرد، بچوں کا بلکنا، عورت کا روٹی کپڑے کا مطالبہ کرنا، پھر لڑائی جھگڑا، بچوں کے اندر پیدا ہونے والا خوف اور نجانے کیاکچھ! شاید اتناکچھ کہ ہم اندازہ بھی نہیں لگاسکتے کہ ایسے گھرانوںمیں سانس لینے والوں پہ کیاکیا قیامتیں گزرتی ہیں۔ شرح اموات میں اضافہ، بیماری کی طوالت اورمعذوری کی شرح میں اضافہ، تعلیمی پسماندگی اور شعور کی کمی سے روزگار حاصل کرنے کے مسائل نے غیراخلاقی اور غیرشرعی قدم اٹھانے کے اسباب پیدا کیے، مجرم بنے اور عزت دار گھرانے کے ماتھے پہ کلنک کا  ٹکہ  بن گئے، دھتکار دیئے گئے اور مستقل نشئی یا مجرم بن کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاپہنچے، یوں زندگی بے کار وبرباد ہوتی چلی گئی۔
 ہمارا معاشرہ انسان دوست معاشرہ بھی اس لیے نہیں رہا کہ ہرکوئی آبادی بڑھنے کے مسائل سے لڑرہاہے۔ وسائل پیداکرنے کی جنگ میں حرص و ہوس کاجوار بھاٹا کہیں تھمنے کانام نہیں لے رہا۔ کل کی فکر نے انسان کو انسان دوست نہیں رہنے دیا۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے بسا اوقات ہماری نوجوان نسل پاکستان سے باہرکسی بھی ملک میں جانے کے لیے کوئی بھی غلط غیرقانونی راستہ اپناکر اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے نہیں ڈرتی۔ یاد رکھیے کہ جب تک ہم خاندانی منصوبہ بندی کی حکمت عملی پر حکومتی سطح، معاشرتی سطح  اور خاندانی سطح پر ایک سوچ  اورعقیدے کے ساتھ عمل پیرا نہیں ہونگے تو بیان کردہ حقائق سے ہماری نوجوان نسل میں مایوسی پیدا ہوتی رہے گی۔
پاکستان کا شمار اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں ہوتاہے لیکن یہاں آبادی میں کمی کے بجائے اضافے کانمایاں رجحان نظرآتاہے اور ہرسال چھتیس لاکھ افراد کا اضافہ ہورہاہے۔عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات مثلاً رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار فراہم کرنے کے لیے جتنے بھی منصوبے بنائے جاتے ہیں اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ آبادی کا دیوملکی وسائل کو تیزی سے نگلتاجارہاہے۔شاعر نیاز سواتی نے شعری انداز میں کیا خوبصورت مثال پیش کی ہے کہ
دوسرے شعبوں میں ہم جُزرس بھی ہیں اور سست بھی
پر نہیں پیدائشِ اولاد میں ہرگز بخیل
قومی یکجہتی کا ہوگا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت
کردیا ہے ہم نے بچوں میں وطن کو خود کفیل


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔
[email protected]  

مضمون 232 مرتبہ پڑھا گیا۔

رابعہ رحمٰن

Advertisements