اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:21
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات

جون 2024

انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی) ایک ایسا رنگین شہر ہے کہ جس میں الگورتھمز سرگوشیاں کرتے ہیں اور پکسلز کی چہل پہل سے اس کی رنگینیاں برقرار ہیں۔پروگرامنگ کوڈز کی لائنیں خوابوں کو تعبیر دے رہی ہیں جوکہ ملکی اقتصادی ومعاشی خوشحالی کی پیشواہیں۔ اس شہر میں ایس آئی ایف سی ایک انقلابی سفر کی قیادت کر رہا ہے جو آئی ٹی سے منسلک کاروباری و پیشہ ور افراد میں عمل کی روح پھونکتا ہے ۔ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کو فروغ دینے سے لے کر نوجوانوں کو  تربیت یافتہ بنانے تک ایس آئی ایف سی ہرممکنہ کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ چیلنجز کونہ صرف حل کرے بلکہ مستقبل کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے ۔



آئی ٹی سیکٹر میں بحالی کااحساس کووڈ19-کے دور ان شدت سے محسوس ہوا تو پاکستان میں سپیشل ٹیکنالو جی زون اتھارٹی ایکٹ 2021 کواس مقصد کے ساتھ منظور کیا گیاکہ ملک میں تمام موزوں علاقوں میں ٹیکنالوجی زون قائم کیے جائیںگے۔ جو آئی ٹی کمپنیوں اور سٹارٹ اپس کو مراعات فراہم کریں گے جس میں ٹیکس کی چھوٹ، جدید انفراسٹرکچر اورتیز ترین انٹرنیٹ جیسی سہولیات شامل ہوں گی ۔ تاہم پاکستان میں آئی ٹی کمپنیوں اورپیشہ ور افراد کو کئی مسائل درپیش ہیں۔ ان میں اہم ترین تعلیمی و تربیتی پروگرامز کا فقدان ہے جس کے باعث نوجوان عالمی معیار پر پورا نہیں اتررہے، اس کے علاوہ جدید تحقیق و ترقی کے شعبے میں مناسب فنڈنگ اور سہولیات کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔نوزائیدہ آئی ٹی کمپنیوں کوبیوروکریسی ، ریڈٹیپ ازم (سرخ فیتہ سرکاری معاملات میں تاخیر) اور غیر مستحکم پالیسوں کی وجہ سے کاروبار کا آغازکرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
 ان مسائل کے پیش نظر ایس آئی ایف سی(سپشل انوسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل) ، ابھرتے ہوئے روشن پاکستان کی ضامن اور امید کی کرن ہے ۔اس میں منافع بخش سیکٹرز کا انتخاب کیا گیا ہے۔جن میں آئی ٹی سیکٹرایک ریڑھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتاہے جو نہ صرف خود بلکہ دوسرے سیکٹرز کی ترقی کا بھی ایک اہم جزو ہے۔ اس ادارے کے زیر اثر آئی ٹی سیکٹر میں کیے جانے والے اقدامات میں ٹیکنالوجی زونز اور ٹیکنالوجی پارکس کو فروغ دیناہے جن میں جدید فنی تعلیم کے مراکز ، تحقیق کے مراکز،جدید طرز کی ٹیک لائیبریریز، آئی ٹی کمپنیوں کے لیے خصوصی مراعات، ٹیکنالوجی پروڈکٹس کی نمائش اورفری لانسرز کے لیے جگہ فراہم کرنا شامل ہے ۔ علاوہ ازیں آئی ٹی سے منسلک ادارے اور منسٹریز کی آپس میں شراکت داری اور حمایت،جدید تربیتی پروگرامزاور  چِپ مینوفیکچرنگ اور ٹیسٹنگ شامل ہے۔ ایس آئی ایف سی کی ان کاوشوں کے ذریعے سے پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر نہ صرف  قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی الگ پہچان بنائے گا جو کہ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میںمثبت کردار ادا کرے گا۔ 
پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی موجودہ صورت حال کا جائرہ لینے سے ان اقدامات کو باآسانی دیکھا جا سکتاہے۔ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سافٹ وئیر ہاؤ سز، آئی ٹی فرمز اور فری لانسرز مل کر ملکی معیشت میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ خاص طور پر سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ، ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلیکیشنز اور بزنس پروسیس آئوٹ سورسنگ (BPO) میں پاکستان نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس ضمن میں ایس آئی ایف سی کی انتھک کوششوں کی وجہ سے نئی حکومتی پالیسیوں اوراقدامات سے آئی ٹی ایکسپورٹ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 
ایس آئی ایف سی کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کو ایک سنگل ونڈو پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے کاروباری امور کے لیے تما م ضروری اجازت نامے،سرٹیفیکیٹس اور لائسنسز حاصل کر سکیں۔ اس کونسل کے تحت سرمایہ کاری کے عمل کو سادہ اور شفاف بنایا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید برآں ایس آئی ایف سی  ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مختلف ما لی اور غیر مالی مراعات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہوسکیں۔
آئی ٹی سیکٹر کے حوالے سے کونسل نے آئی ٹی کمپنیوں کو مختلف ٹیکسز میں رعایتیں، کاروباری عمل میں آسانیاں اور مالی امداد فراہم کرنے کے لیے پالیساں بنائی ہیں ۔ نئے سٹارٹ اپس کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے لیے انکیو بیشن سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کی وجہ نوجوانوں کے لیے روزگارکے مواقع پیدا کرنااور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کاطریقہ کارنہایت سہل بنایا دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ، سرمایہ کار کو ایس آئی ایف سی کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہونا ہوتا ہے وہاں پر ابتدائی کنٹریکٹ کے مرحلے میں اپنا بزنس پلان شیئر کرنا ہوتا ہے جس کو اگلے مرحلے میںایس آئی ایف سی کے ماہرین اس بزنس پلان کواس کسوٹی پر پرکھتے ہیں کہ اس میں کتنی سرمایہ کاری کتنے عرصے کے لیے کی جائے گی اور کتنا منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس مرحلے کوآگے بڑھا نے کے لیے جائزہ لینے کے بعد سرمایہ کار کے ساتھ انفرادی طور پر میٹنگ کی جاتی ہے تا کہ سرما یہ کار کے ساتھ اس کے تمام پہلوئوں کواجاگر کر کے اس پر باریک بینی کے ساتھ غور و فکر کیا جا سکے ۔ پھر آخری مرحلہ میں ہینڈ ہولڈنگ سپورٹ فراہم کی جاتی ہے تاکہ مستقبل میں کاروبار میں ہر مرحلہ پر ہر طرح کی معاونت فراہم کی جائے۔ مثال کے طور پر ایس آئی ایف سی کی ٹیم مکمل جائزہ لینے کے بعد سرمایہ کار کو درآمداتی ڈیوٹیزکی معافی، ٹیکس میں چھوٹ اور قانونی امداد جیسی سہولیات دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کار کو دوسرے حکومتی محکموں سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ کونسل تمام متعلقہ امور خود ہی سنبھال لیتی ہے۔     
کونسل اپنے قیام سے لے کر اب تک کی قلیل مدت میں درج ذیل مقاصد حاصل کر چکی ہے۔
  مورخہ10 مئی 2024 کو سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی( ایس ٹی زی اے ) اور نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن( این آر ٹی سی )نے ٹیکنالوجی زون ڈویلپمنٹ کے لیے12.5 بلین پاکستانی روپے کا کنٹریکٹ کیا ہے۔ جس میں ہائی ٹیک پروڈکشن پرخاص توجہ دی جائے گی تاکہ تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بناکر علاقائی اور عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس معاہدے نے ایس آئی ایف سی ، ایس ٹی زی اے اور این آرٹی سی کے مابین ایک بنیادی اتحاد قا ئم کیا ہے جو کہ قومی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی جدت اور ارتقاء کے لیے کوشاں ہیں۔ 
 کونسل کی معاونت سے 'بک می'  پاکستان کی ایک معروف ٹریو ل ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ نے  مورخہ09 مئی 2024 کو ریاض ، سعودی عرب کی مارکیٹ میں آپریٹ کرنے کے لیے تاریخی معاہدے کیے ہیں۔ ریاض میں منعقدہ حالیہ پاکستان انویسٹمنٹ روڈ شو کے پس منظر میں یہ معاہدے اقتصادی ترقی اور دو طرفہ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔ 'بک می' نے مرسول کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی ہے جو پاکستان کے سٹارٹ اپس اورعالمی منصوبو ں کے درمیان ایک رابطہ قائم کرتی ہے۔ مرسول آن ڈیمانڈ ڈیلیوری ایپ ہے جس کے آٹھ ملین(80 لاکھ) سے زائد صارفین ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی سیاحت کی وزارت کی جانب سے بک می کو آن لائن ٹریول ایجنسی(OTA) پارٹنر کے طور پر منتخب کرنا بھی کونسل کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔کونسل کی ان تمام تر کوششوں کے باعث جلد ہی پاکستان کا کاروباری ایکو سسٹم عالمی سطح پراپنا مقام پیدا کرے گا۔
 آٹھ ارب روپے کی مالیت کاایک تاریخی معاہدہ ، ایس آئی ایف سی کی معاونت سے مورخہ25اپریل 2024 ایس ٹی زی اے اور خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڑ(KPITB) کے درمیان طے پایا تا کہ سپیشل ٹیکنالو جی زون قائم کر کے پاکستان ڈیجیٹل سٹی کا آغاز کیا جاسکے۔ اس پروجیکٹ کو ہری پور میں 11ایکٹر رقبے پر تعمیر کیا جائے گا جو 2026تک مکمل طور پر آپریشنل ہوگا۔ اس منصوبے کے ذریعے سے سٹارٹ اپس کا آغاز کیا جائے گا جوکہ نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھا کر تقریباً چار ہزارسے زائد روزگار کے مواقع فراہم کرے گا اور سالانہ 25سے 50ملین امریکی ڈالرز تک کی برآمدات کے امکانات ہیں۔پاکستان ڈیجیٹل سٹی خطے میں ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے جو ایک ٹیکنالوجی حب کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
اپریل میں آئی ٹی سی این (Information Technology Commerce Network) ایشیا کا چوبیسواں ایڈیشن منعقد ہوا جس میں چھ سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔ محمد عمیر نظام ، ای کامرس گیٹ وے پاکستان کے نائب صدر اور ایونٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ ایونٹ ملک میں تکنیکی ایکوسسٹم میں تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار کرے گا جس میں آئی ٹی سیکٹر میں خصوصی حصہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایونٹ عنقریب آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹرز کے لیے مختلف مقاصد حاصل کرے گاجن میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی آمد ، برآمدی وصولیوں میں اضافہ ، سٹارٹ اپس کلچر کو مضبوط کرنا، ملک میں اے آئی(مصنوعی ذہانت) کو اجاگر کرنا شامل ہے۔ وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ، شازہ فاطمہ خواجہ نے اس ایونٹ کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی مہارت اور مصنوعات کو اجاگر کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے انڈسٹری اکیڈمی بریج پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت یونیورسٹیوں میں آئی ٹی کے طلباء نجی شعبے کے ساتھ مل کر عملی تربیت حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی نوکریاں محفوظ کر سکتے ہیں۔ 
پاکستان کے سٹیٹ میڈیا کے مطابق ، بارہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار  اس ایونٹ میں شامل ہو رہے ہیں جن سے پانچ سو ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔  
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ، پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ اور ایس آئی ایف سی کی مشترکہ کوششوں سے Ease-of-doing business کا ماحول پید ا کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدی ترسیلات میں 14.94% کا قابل ذکر اضافہ ہوا ہے اور یہ 1.9 بلین ڈالرز تک پہنچ گئیں ہیں جو کہ گزشتہ سال 1.7بلین ڈالرز تھیں۔ 
 مارچ 2024کے آخری ہفتہ میں ایس آئی ایف سی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد  کے  G-10سیکٹر میں آئی ٹی پارک قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جس میں 3.3 ایکڑ کے وسیع رقبے پر جدید طرز کا تحقیقاتی مرکز، لائبریری، سافٹ وئیر ہاوسز، کانفرنس رومزاور فری لانسرزکے لیے مخصوص جگہ اور آئی ٹی مصنوعات کی نمائش کے لیے الگ جگہ مختص کی جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق چھ ہزار فری لانسرز کو بہترین سہولتوں تک رسائی حاصل ہوگی تاکہ وہ پاکستان کی اقتصادی خوشحالی میں اپنا اپنا حصہ ڈال سکیں۔
ریاض ، سعودی عرب میںمارچ کے آغاز میں لیپ 2024ٹیک کانفرنس و نمائش منعقد ہوئی۔ جس میں تین طرفہ (پاکستان اور امریکہ) کی کمپنیوں کا سعودیہ کی کمپنی کے ساتھ ایم او یو سائن ہوا۔ جس کے تحت سعودی کمپنی اوبیکان انویسٹمنٹ گروپ کے ساتھ انفو ٹیک گروپ پاکستان اور ویلیرین سسٹمز امریکہ کے کمپنیوں نے ڈیجیٹل صحت پلیٹ فارم کے عالمی بڑھائو کے لیے کا م کریں گے اور صحت کی فراہمی کو انقلابی بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں اس نمائش میں 1800مقامی اور انٹرنیشنل، 1000ٹیکنیکل ایکسپرٹ اور 600سٹارٹ اپس نے حصہ لیا۔پاکستان سافٹ وئیر ہاوئسز ایسوسی ایشن(پاشا) کے چیرمین محمد زوہیب خان کے مطابق اس  نمائش میں 70پاکستانی سافٹ وئیر اور آئی ٹی کمپنیوں اور 800وفود نے اپنی اپنی آئی ٹی مصنوعات کی نمائش کی اور انہوں نے مختلف سعودی عرب کے نمایاں کمپنیوں کے ساتھ معاہدے طے کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاشا نے آئی ٹی ایسوسی ایشن بحرین کے ساتھ تاریخ ساز ایم او یو سائن کیا جس کا مقصد کارپوریشن اور بزنس ٹو بزنس معاملات کو بڑھانا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تمام مثبت اقدامات اور کامیاب پروجیکٹس کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں ابھی بھی  چیلنجز موجودہیں جن میں تعلیم اور تربیت کا فقدان،تحقیق اور ترقی کی کمی، ریڈ ٹیپ ازم اور بیوروکریسی، انفراسٹرکچر کے مسائل،فنانسنگ اور سرمایہ کاری شامل ہیں۔ مگر آئی ٹی سیکٹر میں بے پنا ہ مواقع بھی موجودہیںجس میں بین الاقوامی آؤٹ سورسنگ،فری لانسنگ،سپیشل ٹیکنالوجی زونز،گورنمنٹ سپورٹ،ڈیجیٹل پاکستان ویژن،جدید تعلیمی پروگرامز،جدید ٹیکنالوجیز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے کورسز،انٹرن شپ اور آن جاب ٹریننگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری،بین الاقوامی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ، نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز،کانفرنسز، ورکشاپس اور نیٹ ورکنگ ایونٹس جن میں معلومات اور تجربات کا تبادلہ بھی شامل ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جس میں نصف سے زائد 30سال سے کم عمر ہیں۔ اور ہرسال تقریباً دس ہزار آئی ٹی گریجویٹس کی مستقل سپلائی مل رہی ہے۔ کونسل کے اقدامات نے ان نوجوانوں کے لیے انکیوبیشن سینٹرز اور ایکسلریٹر پروگرامز اور مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی مہارت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کے لیے مزید ترقی کے دروازے بھی کھلے ہیں۔
پاکستانی آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کونسل کے اقدامات نے ملک کے آئی ٹی سیکٹر میں مثبت تبدیلیاں لائی ہیں۔ پروفیسر احمد خان، ایک معروف آئی ٹی ماہر، کا کہنا ہے کہ کونسل کے اقدامات نے نوجوانوں کو جدید تربیت فراہم کرکے ان کی مہارتوں میں اضافہ کیا ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔
دور حاضر کے ڈیجیٹل انقلاب نے تمام دنیا کو یکسر تبدیل کر دیا ہے تو اس لمحے  پاکستان ترقی کے اس موڑ پر کھڑا ہے کہ جہاںصرف آئی ٹی ہی معیشت کو گرداب سے نکالنے کے لیے کارگر ہے۔ ہمارے نوجوان پرعزم ہیں اور بہترین صلاحیتوں کے حامل ہیں جو کہ ملکی ترقی و خوشحالی کا وژن رکھ کر یکسوئی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ایس آئی ایف سی کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے آئی ٹی سے منسلک سرکاری و نجی اداروں کو ہم پلہ ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اب ایک ایسا مستقبل بنانے کا وقت آگیا ہے جیسا کہ احمد ندیم قاسمی کے دعائیہ اشعار ہیں کہ
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے 
وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے، کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو  


مضمون نگار الیکٹرونک انجینیئر ہیں اور ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]


 

مضمون 288 مرتبہ پڑھا گیا۔