اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 16:08
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ڈاکٹر شوکت علی

مضمون نگار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

Advertisements

ہلال اردو

گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل

جون 2024

پاکستان کی بگڑتی ہوئی معیشت کے پیش نظر سول اور عسکری قیادت نے محسوس کیا کہ پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے  ہیں جن سے معیشت کو فوری طور پر سنبھالا دیا جا سکے ۔ اس مقصد کے لیے  خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ایس آئی ایف سی کا ایک مقصد یہ تھا کہ زراعت ، معدنیات و کان کنی، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداور جیسے پانچ اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں ۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا جائے  تاکہ سرمایہ کاری کے ضوابط اور طریقہ کار میں آسانی پیدا  کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے سہولت پیدا کی جا سکے۔  ماہرین کے مطابق یہ اقدامات قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔



 ایس آئی ایف سی میں خصو صی توجہ  کے مستحق قرار دئیے  جانے والے پانچ شعبوں میں سے دفاعی پیداوار کا شعبہ ملٹری کے سپردکر دیا گیا جبکہ باقی چار شعبے ایس آئی ایف سی کو سونپ دیے گئے ۔ گزشتہ ایک برس سے ان تمام شعبہ جات  کی ترقی کے لیے خاطرخواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن آج ہم زرعی شعبے کے حوالے سے گفتگو کریں گے ۔ 
زرعی شعبے کی تعمیرو ترقی کے لیے'' گرین پاکستان انیشی ایٹو''  پروگرام  لانچ کیا گیا ۔ اعدادو شمار کے مطابق  وطنِ عزیز کا جغرافیائی رقبہ 79 ملین ہیکٹر ہے جس  میں سے 15.7 ملین ہیکٹر رقبہ زیر کاشت ہے جبکہ 8.2 ملین ہیکٹر سے زائد رقبہ غیر آباد ہے۔  اور اس میں سے لاکھوں ایکڑ  رقبہ ایسا ہے جو کاشت کے قابل ہے لیکن ابھی تک اس کو زیر کاشت نہیں  لایا جا سکا۔  لہٰذا غیر آباددشت و صحرا کی صورت میں پڑی ہوئی دو سے تین ملین ایکڑ اس زمین کو زیر کاشت  لا کر صحرا کو سرسبز و شاداب  بنانے کا اہم مقصد ایس آئی ایف سی کی ترجیح ہے۔اس مقصد کے حصول کے  لیے  ابتدائی طور پر 40 لاکھ ایکڑ زمین جو زیادہ تر چولستانی علاقہ جات اور ریلوے کے رقبہ جات پر مشتمل تھی ایس آئی ایف سی کو مہیا کر دی گئی ۔ ایس آئی  ایف سی نے اس زمین کے ایک ایک ہزار ایکڑ کے بلاک بنائے اور یہ اصولی فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی سرمایہ کار کو کم از کم ایک ہزار ایکڑ زمین دی جائے گی تاکہ وہ اس زمین پر سرمایہ کاری کر کے اسے آباد کرے اور پھر اس زمین سے زرعی پیداوار حاصل کر کے ملک کی مجموئی قومی پیداوار  میں  اضافہ کرے۔ گرین پاکستان انیشی ایٹو کے مطابق یہ زمین بدستور حکومت پنجاب کی ملکیت رہے گی اور سرمایہ کاروں کو یہ زمینیں محض 30 سال کے لیے لیز پر دی جا رہی ہیں۔
 گرین پاکستان انیشی ایٹو کو لانچ کیے ہوئے تقریباً ایک سال  کا عرصہ ہونے کو ہے۔ آج سے ایک سال قبل جب اس پروگرام کو آگے بڑھایا گیا تو اس میں بہت سی  پیچیدگیاں  اور عملی مسائل  درپیش تھے ۔ خاص طور پر قانونی معاملات ایسے تھے جن کو حل کیے بغیر گرین پاکستان  کے ایجنڈے کو موثر طور پر آگے بڑھانا مشکل تھا ۔ لہٰذا نہایت احتیاط کے ساتھ قانونی معاملات کا جائزہ لیا گیا اور مختلف قانونی فورمز  سے منظوری کے بعد انہیں سرمایہ کاروں کے  لیے آسان بنا دیا گیا۔ گزشتہ ایک سال  کے دوران زیادہ تر قانونی پیچیدگیاں حل کر لی گئی ہیں اور اب امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں  گرین پاکستان انیشی ایٹو کامیابی  سے آگے بڑھے گا۔
 گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت کیے گئے  اب تک کے اقدامات میں سے لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم  ایک قابل ذکر پیش رفت ہے۔ اس سسٹم کے تحت پاکستان بھر میں دستیاب مواد کو جمع کر کے ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم بنا دیا گیا ہے جس سے کاشتکاروں کو نہ صرف اپنی زمینوں کی زرخیزی کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں بلکہ وہ اپنے  مخصوص علاقے میں موسم کے بارے میں بھی درست معلومات  حاصل کر سکیں گے۔ جب کاشتکار لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم  کی ویب سائٹ پر رجسٹر ہو تا ہے تو یہ سسٹم کاشتکار کو ہفتہ وار رپورٹ مفت فراہم کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ کاشتکار کی فصل کو کتنے پانی کی ضرورت ہے،  کون سی کھاد کتنی مقدار میں چاہیے ، یہ سسٹم ان تمام معاملات میں کاشتکار کی رہنمائی کر تا ہے ۔ 
 گرین پاکستان انیشی ایٹو  میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ زرعی ترقی کے  اہداف ، زرعی ایکو سسٹم اور  حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کو ڈسٹرب کیے  بغیر حاصل کیے جائیں۔ مزید یہ کہ اس پروگرام کے تحت بہتر بیجوں کی پیداوار کے لیے بھی کام ہو رہا ہے۔ 
گرین پاکستان انیشی ایٹو کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو  اس پروگرام کے تحت پاکستان میں 50 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت کی گئی ہے جس سے گندم کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ 50 ہزار ایکڑ لق و دق صحرا اور غیر آباد زمینوں پر مشتمل تھے جس کی نئی آباد کاری کر کے  زرعی پیداوار حاصل کی گئی ہے۔  اگلے سالوں میں یہ رقبہ بڑھے گا جس سے زرعی پیداوار میں مزید اضافہ ہو گا۔
گرین پاکستان انیشی ایٹو میں قدرتی وسائل کے منصفانہ استعمال کے  لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ نئے آباد کاروں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ کھلا پانی دینے کی بجائے  اپنی فصلوں کو  قطرہ قطرہ آبپاشی (Drip Irrigation)سے ہی سیراب کریں گے۔ اس سے پانی  جیسے قدرتی وسائل  کے ساتھ ساتھ کھاد کی بھی بچت ہوگی ۔ سرمایہ کار کاشتکاری کے جدید طریقوں کو بروئے کا لا رہے ہیںجس سے لاگت کم اور پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ کم لاگت سے حاصل ہونے  والی زیادہ پیداوار ، زیادہ منافع کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی قومی کمپنیاں اب زرعی سرمایہ کاری کے اس دائرے میں شامل ہو رہی ہیں۔ یہ ادارے پچاس پچاس ہزار ایکڑ تک زمین حاصل کر کے بے آباد زمینوں کو آباد کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو اس میں اس بات کا تذکرہ  ضروری ہے کہ یہ معاہدے افریقی طرز کے معاہدوں کی طرح نہیں ہیں جہاں بین الاقوامی کمپنیاں ابتدائی لاگت کے بعد سالہا سال منافع جمع کر کے ملک سے باہر لے  جا رہی ہیں۔ ظاہر ہے اس سے کسی بھی ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ پاکستان میں آنے والے سرمایہ کاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایک حد سے زیادہ منافع پاکستان سے باہر نہیں لے جا سکتے اور منافع کا ایک قابل ذکر حصہ پاکستان میں خرچ کریں گے۔
 چولستان میں آباد چولستانی لوگوں کا ذریعہ روزگار صحرا اور صحرا کے نباتات کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔  زمینوں کی آباد کاری سے ان لوگوں کے ذرائع روزگار متاثر ہو رہے ہیں لیکن ان کو مناسب زر تلافی دیا جا رہا ہے اور انہی دوسری جگہوں پر آباد ہونے میں ان کی مناسب معاونت کی جا رہی ہے۔
ضروری ہے کہ چولستانی لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے حکومت خصوصی اقدامات کرے تاکہ سرمایہ دار ان کے ساتھ زر تلافی طے کرتے ہوئے منصفانہ طرز عمل اختیار کریں۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں گرین پاکستان انیشی ایٹو پاکستان کی زرعی ترقی اور مجموعی قومی پیداوار میں قابل ذکر اضافہ کرنے میں  اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔


مضمون نگار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد  میں ایسوسی ایٹ پروفیسرکے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
 

مضمون 281 مرتبہ پڑھا گیا۔

ڈاکٹر شوکت علی

مضمون نگار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

Advertisements