اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 16:40
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین

مئی 2024

صوبہ گلگت بلتسان دنیا بھر کے 20 بہترین اور مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہے

''سیر و سیاحت'' محض دو الفاظ کا مجموعہ نہیںبلکہ ایسے خوش نما و سنسنی خیز تجربے کا نام ہے جو رگ و پے میں اِک سرور اور ترو تازگی بھر دے۔ چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے، سیر و سیاحت ہر کسی کو زندگی کے نئے مفہوم اور فطرت کے انوکھے مگر دل نشین روپ سے متعارف کرواتی ہے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ وطن عزیز قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ بالخصو ص ارضِ پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع گلگت  بلتستان کی دیومالائی سرزمین روئے زمین پر قدرت کے ایک بے مثال قدرتی شاہ کار کے طور پر جانی مانی جاتی ہے۔



گلگت  بلتستان کو دنیا بھر کے بیس بہترین اور مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہو چکاہے۔آنکھیں خیرہ کرنے والا فطری حسن، فلک بوس سنگلاخ پہاڑی سلسلے اور دِل موہ لینے والے حسین و جمیل نظاروں سے بھرپور صوبہ گلگت  بلتستان درحقیقت پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کا اہم باب بھی ہے۔ بنیادی طور پر گلگت  بلتستان دو خطوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ '' بلتستان'' جب کہ دوسرا ''گلگت'' کہلاتا ہے۔ سحر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی جغرافیائی حیثیت بھی خوب اہمیت کی حامل ہے۔ کوہِ قراقرم، کوہِ ہمالیہ اور کوہ ِہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کے سنگلاخ و د ل فریب قدرتی حصار میںکسی انمول ہیرے کی طرح جگمگاتا گلگت  بلتستان کا خطہ پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے مشہور تھا۔ 
 تقریباً پندرہ لاکھ آبادی اور چودہ اضلاع پر مشتمل یہ صوبہ حسین وادیوں،دل موہ لینے والے میدانوں، برف پوش پربتوں، قدرت کی رعنائیوں،نایاب پھولوں اور رسیلے پھلوں سے لدے خوب صورت باغات کی بدولت جنت نظیر کا درجہ رکھتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح ہر برس گلگت  بلتستان کے خوب صورت ترین مقامات کی سیر و سیاحت اور تفریح کے لیے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں۔ صوبے کے اہم سیاحتی مقامات میں دیوسائی، شنگریلا،  فیری میڈوز، کچورا جھیل، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، خلتی جھیل،ستپارا جھیل، راما، سرد صحرا، پھنڈر، شندور وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ موسمِ گرما کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سمیت دنیا بھرکے لوگ سیر و سیاحت کی غرض سے یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ چند ہی برسوں میں یہ صوبہ اپنی مبہوت کر دینے والے حسن و دل کشی، سحر انگیزپربتوں اور بے پناہ قدرتی وسائل کی بدولت اپنی الگ شناخت بنا چکا ہے۔



دُنیا کا بلند ترین سرد صحرا''سرفا رنگا''
گلگت  بلتستان کا صدر مقام اسکردو ہے۔ قراقرم کے فلک بوس پہاڑوں کے نرغے میں یہ پتھریلا، سرد خشک، ریتلا اور تاحد نگاہ تک پھیلا علاقہ ہے۔ اسکردو سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر کٹپانا گاؤں ہے۔یہاں ریت کے ہیت بدلتے اورفریب نظر دیتے پہاڑ ہیں۔ سیاچن گلیشیئر کے لیے راستہ بھی یہیں سے جاتا ہے۔ دُنیا کے سب سے بڑے سرد صحرا سرفا رنگا کو کٹپانا ڈیزرٹ، سترنگی اور کولڈ ڈیزرٹ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے سرد ترین شہر اسکردو میں شیر دریا،دریائے سندھ اور دریائے شگار کے سنگم پر واقع یہ سرد صحرا، وادی خپلو سے وادی نبرہ لداخ اور شگار سے مقبوضہ کشمیر کی وادی تک پوری آب و تاب سے اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔بہر کیف سرد صحرا کا بڑا حصہ اسکردو اور وادی شگار میں پھیلا ہے۔  
کٹپانا صحرادر حقیقت سطحِ سمندر سے تقریباً دس ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دُنیا کا بلند ترین صحراہے۔ اس کی من موہنی پراسراریت کے سامنے باقی سرد صحرائوں کی خوب صورتی ہیچ لگنے لگتی ہے۔ ِاس قدر اونچائی پر ہونے کے باعث یہاں شب بسری اور آسمان کے نظارے کا الگ ہی سحر اور فسوس خیزی ہے ۔ اِک جانب پرسکون شب معنی خیز سرگوشیاں کرتی ہے تو ساتھ ہی ساتھ رات کے آنچل پر جھلملاتے ستاروں سے پھوٹتی مقناطیسی چمک اور غیر معمولی حجم سیاحوں کو مبہوت کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِس صحرا کی شان ہیںریت کے وہ بلند و بالا ٹیلے جو تیز ہوا کی تال پر رقص کناں رہتے ہوئے اپنی ہئیت اور مقام دیکھتے ہی دیکھتے یوں بدلتے ہیں کہ فریب نظر ہونے لگے۔ موسمِ سرما میں سرد صحرا کا درجہ حرارت منفی پچیس ڈگری سینٹی گریڈ تک گرجاتا ہے۔اسی لیے اِس صحرا کی سرد خاک چھاننے کے لیے سیاح موسمِ گرما کو موزوں سمجھتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے یہاں باقاعدگی سے شان دارجیپ ریلی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملکی و غیر ملکی خواتین و حضرات ڈرائیور سمیت سیاحوں کی کثیر تعداد اِس رنگا رنگ ریلی میں جلوہ افروز ہوتی ہے۔ 
سیاحوں کی جنت ''وادی شنگریلا''
سیاحوں کی جنت کہلانے والی ''وادی شنگریلا'' بلاشبہ گلگت  بلتستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ وادی شنگریلا کی مسحور کن خوب صورتی اور ہوش ربا قدرتی مناظر کی سحر انگیزی کے باعث اِس مشہورزمانہ سیاحتی مقام کو زمین پر جنت کے لقب سے نوازا گیا ہے جہاںاپنے آپ میں بے مثال وادیٔ شنگریلا سے قریباً ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر کچورا گاؤں ہے جہاںاپنے سحر میں جکڑ لینے والی نیلے پانی کی قدرتی جھیل کچورا جھیل کہلاتی ہے۔ وادی کی پر سکون آغوش میں دھیرے دھیرے ہمکتی کچورا جھیل میں سانس لینے والی لذیذ ٹرائوٹ مچھلی سیاحوں کے لیے باعثِ کشش ہے۔ اِس خوب صورت قدرتی جھیل کی دل کشی اور سحر آفرینی سے محظوظ ہونے کے لیے کشتی رانی سیاحوں کی اولین ترجیح ٹھہرتی ہے۔ 
دُنیا کا بلند ترین پہاڑی میدان'' دیو سائی'' 
دیوسائی دنیا کی چھت کہلانے والا اہم تر سیاحتی مقام گلگت  بلتستان کی خاص پہچان بن چکا ہے۔ دیوسائی دو الفاظ دیو اور سائی کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے دیو کا سایہ۔ ایسا پراسرار خطہ جس کے بارے میں صدیوں سے کہانیاں مشہور ہیں کہ یہ میدان مافوق الفطرت مخلوق کا دیس ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی مقامی آبادی پختہ یقین رکھتی ہے کہ اِس حسین وادی میں دیو بستے ہیں۔یہاں آن کی آن میں موسم کے تیور شرارت پر اتر آتے ہیں۔ موسم سرما میں اچانک کالی گھٹائیں وادی کو لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور شدید ژالہ باری ہونے لگتی ہے ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بادل اوجھل ہونے لگتے ہیں اور دھوپ چھاؤں کی آنکھ مچولی شروع ہو جاتی ہے۔ہمالیہ کے وسیع دامن میں دنیا کے بلند ترین اور اپنی نوعیت کے منفرد پہاڑی میدان دیوسائی کی بلندی کسی بھی مقام پر چار ہزار میٹر سے کم نہیں۔ سال کے کم و بیش آٹھ ماہ تک یہ پراسرار میدان برف کی دبیز چادر اُوڑھ کرخواب خرگوش کے مزے لوٹتا رہتا ہے۔ یخ بستہ جھکڑ، تند و تیز برفانی ہوائیں اور نادر ونایاب جنگلی جانوروں کے مسکن دیوسائی میں زندگی گزارنے کا تصورآج بھی ممکنات سے باہر ہے ۔ اِس خطے میںآج تک کوئی بھی انسان مسکن بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
 موسمِ گرما کے چار مہینے دیو سائی کو موسمِ بہار مکمل طور پر اپنے رنگین آنچل میں چھپالیتا ہے۔تنگ و تاریک گھاٹیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر مشتمل تین ہزار مربع کلومیٹر کے قدرے ہموار دیو سائی میدان بیش بہا قدرتی رنگوں کے نایاب اور شوخ و چنچل جنگلی پھولوں کاشان دار مسکن بن جاتا ہے۔ دیومالائی میدان کا دامن معطر و دل کش رنگوں کے پھول بوٹوں سے کھچا کھچ بھر جاتا ہے جیسے یہاں سے کبھی خزاں کا گزر ہوا ہی نہ ہو۔ سرسبز وشاداب میدان میں آنے والے نایاب نسل کے انتہائی خوب صورت پرندے اور پھول بوٹے سیاحوں کو مبتلائے حیرت کر دیتے ہیں۔ اِس میدان میں پائے جانے والے بھورے ریچھ کا شمار دُنیا کے نایاب جانوروں میں ہوتا ہے۔ دیو سائی میںبہتے صاف پانی کے جابجا چشمے، شتونگ نالہ اور اِس میں پائے جانے والی سنہری ٹراؤٹ مچھلیاں سیاحوں کو بہت بھاتی ہیں۔ دیو سائی نیشنل پارک اور دُنیا کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک، شیوسر جھیل بھی دیوسائی کا حسن ہے۔ مقامی زبان میں شیوسر کا مطلب ہے اندھی جھیل ۔جھیل کے گہرے نیلے پانی میں اِک عجیب سا ذومعنی ٹھہراؤ روح تک اُترنے والاسکون طاری کر دینے کی قوت رکھتاہے۔ دِل کی شکل جیسی دکھائی دیتی شیوسر جھیل کو بلاشبہ دیوسائی کا دل کہا جا سکتا ہے، جس کا نظارہ دَم بخود کر دیتا ہے۔
پریوں کا مسکن''فیری میڈوز''
سطح سمندر سے قریباً تینتیس سو (3300)میٹرز کی اوسط بلندی پر پریوں کا دیس یعنی فیری میڈوز پوری شان و شوکت سے آباد ہے۔ گلگت  بلتستان کی مشہور زمانہ قاتل چوٹی، نانگا پربت کے ایک جانب دیوسائی کا میدان ہے تو دوسری جانب پریوں کا دیس ۔ پریوں کی اِس حسین وادی پر قدم دھرنے کے لیے بارہ کلو میٹر پر محیط پتھریلے راستے کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ یہ راستہ دُنیا کا دوسرا خطرناک ترین جیپ ٹریک تصور کیا جاتا ہے۔پرشوق نگاہوں کو ٹھنڈک پہنچاتی تاحدِ نگاہ سرسبز زمین کی دل کشی، میٹھے پانی کے جا بجا چشمے، اور اِن کے کناروں پر اُگے رسیلے پھل پریوں کے دیس کی انوکھی پہچان ہیں۔ یہاں تاریکی میں ڈوبے پہاڑوں کے ساتھ گھنا جنگل، خوش گوار ٹھنڈی ہوا، چہار سو ہریالی، معطر فضا ،بے فکری سے جگالی کرتے چرند، خوب صورت پرندے اور تارڑ جھیل بھی پائی جاتی ہے۔گو کہ یہاںتک پہنچنے کے لیے کوئی پکی سڑک نہیں پھر بھی ہر برس کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح یہاں ہری بھری چراگاہیں، خوب صورت جھیلیں، گھنے جنگل، شفاف پانی کے جھرنے  اور نانگا پربت کے سحر انگیز نظارے سے لطف اندوز ہونے کے لیے کھچے چلے آتے ہیں۔
فلک بوس پربتوں کا خطہ
بلند وبالا پہاڑی سلسلے کی بدولت گلگت  بلتستان کا خطہ ملکی و غیر ملکی کوہ پیماؤں اور سیاحوں کی توجہ کا خصو صی مرکزبن چکا ہے۔ گلگت  بلتستان میں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش پائے جاتے ہیں۔ ایک محتاط عالمی اندازے کے مطابق دنیا کے قریباً ساٹھ سے سترفیصد پہاڑ گلگت  بلتستان میں پائے جاتے ہیں۔دنیا کی دوسری اور پاکستان کی سب سے بلند چوٹی کے ٹو اور قاتل پہاڑ نانگا پربت، گلگت  بلتستان کی جان ہیں۔ دنیا کی آٹھ ہزارمیٹرسے بلند چودہ چوٹیوں میں سے پانچ گلگت  بلتستان میں پائی جاتی ہیں جیسے کے ٹو، نانگا پربت، راکاپوشی وغیرہ جسے سر کرنے کے لیے آنے والے ہزاروں ملکی وغیرملکی کوہ پیما اِس خطے کے قدرتی حسُن کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ دُنیا کے بلند ترین پہاڑوں مثلاً کے ٹو، براڈ پِیک اور گاشابروم تک پہنچنے کا راستہ گلگت  بلتستان سے ہی نکلتا ہے۔  
دُنیا کا بلند ترین ''شندور پولو گراؤنڈ'' 
سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر دُنیا کا بلند ترین شندور پولو گراؤنڈ واقع ہے۔ یہاں جولائی کے پہلے ہفتے میں شندور میلا سجتا ہے جسے دیکھنے کی خاطر دنیا بھر سے سیاح شندور پہنچتے ہیں۔ شندور میلے کی وجہِ شہرت یہاں کھیلا جانے والا فری سٹائل پولو اور دل موہ لینے والے قدرتی نظارے ہیں۔ گلگت اور چترال کی ٹیمیںفری سٹائل پولو میںایک دوسرے کے حریف کے طور پر شرکت کرتی ہیں۔ یہ کھیل اتنا دل چسپ ہوتا ہے کہ سارا سال اِس میلے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ لاکھوںکی تعداد میں پولو کے شائقین اَپنے اَپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کا جوش و جذبہ بڑھانے کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ شندور فیسٹیول میں پولو کے علاوہ پیراگلائڈنگ سمیت دیگر سرگرمیوں کے شان دار مظاہرے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سیاحوں کی دل چسپی کی ایک اہم وجہ پولو گرائونڈ کے ساتھ واقع شندور جھیل ہے جس کی دل کشی اور اس میں اُترنے والے نایاب پرندے فطرت کی مدح سرائی پر مجبور کر تے ہیں۔ 



دُنیا کی بلند ترین پختہ سڑک''شاہراہِ قراقرم'' 
شاہراہِ قراقرم جیسی عظیم الشان سڑک پاکستان اورہمسایہ دوست ملک چین کے مابین واحد زمینی راستہ ہے۔ 1978ء میں تکمیل پانے والی یہ عظیم شاہراہ پاکستان اور چین کے مابین رابطہ استوار کرنے کے لیے کوہ ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالاپہاڑی سلسلوں کو کاٹ کر تعمیر کی گئی۔ پچاسی پلوں پر مشتمل دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہلانے والی شاہراہِ قراقرم کی کُل لمبائی تقریباً تیرہ سو کلو میٹر ہے، جس میں سے 887 کلو میٹر پاکستان اور 413 کلو میٹر چین میں ہیں۔ خنجراب پاس پر 4,693 میٹر کی حدِ اونچائی کو چھو لینے والی اِس سڑک کی بدولت دُنیا کی رسائی دور دراز کے ان خوب صورت پہاڑی علاقوں تک ممکن ہو پائی جو قیمتی ثقافتی ورثے اور تہذیبوں کو اپنی آغوش میں چھپائے ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں واقع شاہراہِ قراقرم کے ساتھ ساتھ چلاس کی سنگلاخ پہاڑی چٹانیں ششدر کر دینے والے نقوش اور زمانہ قدیم کی تحریروں سے مزین ہیں جو اِس علاقے کی منفرد شناخت گردانی جاتی ہیں۔ انسانوں، جانوروں، اور مہاتما بدھ کی شبیہ کے علاوہ یہاں بدھ مت تہذیب اور شکار کے ایسے مناظر بھی پتھروں پرکندہ ہیں جن میں جانور شکاری سے حجم میںکئی گنا بڑے دکھائے گئے ہیں۔ تقریباً انتیس سوسال پُرانی یہ چٹانیں آثارِ قدیمہ کا نادر و نایاب حصہ ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق گلگت  بلتستان کے اِس انمول تار یخی خزانے کی چٹانوں پر قریباًپچاس ہزار تصاویر اور پانچ ہزار سے زائد تحریریں قدیم زبانوں مثلاً براہمی، خروستھی، سوگڈہن، پروٹوثرادا، اور چینی زبان میں رقم ہیں۔ چٹانوں پر کندہ نقوش اور تحریریں نویں صدی قبل از مسیح سے سولہویں صدی بعد از مسیح تک کی مانی جاتی ہیں۔منفرد نقش و نگار اور لکھائی کا نمونہ یہ چٹانیں کئی صدیوں کے تہذیبی اِرتقا کو اُجاگر کرتی ہیں بالخصوص شتیال اور رائے کوٹ پل کے درمیان تقریباً سو کلومیٹر پر محیط علاقے میں پانچ ہزار سے زائد چٹانیں مبہوت کر دینے والی نقش و نگاری کی ایک جیتی جاگتی نمائش گاہ کی حےثیت رکھتی ہیں۔خطے کی علاقائی اہمیت سمیت یہ چٹانی نقش و نگار سیاحوں کو مختلف اَدوار کے تاریخی، سماجی، ثقافتی، مذہبی اور معاشرتی پس منظر سے بھی روشناس کرواتے ہیں۔
صوبہ گلگت  بلتستان کا چپہ چپہ سیر وسیاحت اور قدرتی مناظر کے حوالے سے اَپنی مثال آپ ہے۔ غذر کی حسین ترین وادی پھنڈر کی رعنائی زمین پرجنت کے کسی ٹکڑے سے کم نہیں۔دل موہ لینے والے میدان، دودھیا پانی کی آبشاریں، سحر انگیز جھیلیں اور فلک بوس پہاڑی سلسلے دُنیا بھر کے سیاحوں کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ رسیلے اور مزے میں یکتا پھلوں جیسا کہ خوبانی اور چیری کی متعدد اقسام سمیت پاکستان کی چوڑی ترین آبشار گلگت  بلتستان میں پائی جاتی ہے۔ گلگت  بلتستان روئے زمین پر ایسی جنتِ نظیر سرزمین کا درجہ رکھتی ہے جو جغرافیائی طورپر نہایت اہمیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحتی اعتبارسے بھی پوری دُنیا میں اپنا آپ منوا رہی ہے۔ اِس خطے کی مبہوت کردینے والی دلکشی کو اپنی آنکھوں سے سراہنے کے لیے ہر برس لاکھوں سیاح یہاں کے فطری حسن سے لطف اندوز ہونے کی خاطر حسین وادیوں میں پڑائو ڈالتے ہیں۔


[email protected]


 

مضمون 485 مرتبہ پڑھا گیا۔