اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:09
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

گمنام سپاہی 

مئی 2024

دشمن کے خلاف ایک آپریشن میں ''مسنگ بلیوڈ کِلڈ'' قرار دیئے جانے والے سپاہی عدالت حسین کی کہانی
عدالت حسین، لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد افضل کے والد گرامی تھے

بہت سے گمنام ہیروز کی داستانیں ماضی کے جھروکوں میں پڑی ہیں۔ان میں  سے ایک داستان عدالت حسین کی بھی ہے۔زندگی کی عدالت لگی تو  عدالت حسین کا ایک ہی خواب تھا کہ وہ فوج میں جائے کیونکہ عدالت حسین نے1935میں جہلم کے علاقے حاجی آئمہ میں جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ  ایکفوجی پس منظر رکھنے والا گھرانہ تھا۔ ان کے والد چوہدری محمد خان خود ایک سپاہی تھے  جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر مختلف محاذوں پر جنگ لڑی۔چوہدری محمد حسین برطانوی فوج سے بطور رسالدار میجر ریٹائرڈ ہوئے تھے ۔ 



 عدالت حسین کواگرچہ اپنے والد کے ساتھ  بہت زیادہ عرصہ گزرا نے کا موقع نہیں ملا تھا مگربچپن سے ہی وہ  اپنے والد سے  جنگ عظیم دوم کے قصے سنا کرتے تھے۔ چوہدری محمد خان نے چونکہ برطانوی فوج میں ایک اچھا خاصا وقت گزارا تھا اس لیے وہ ان کے ڈسپلن اور کمانڈ کے معترف تھے۔ باپ سے جنگ  کے قصے سن کروہ بہت پرجوش ہو جاتے تھے اور یہی سوچ عدالت حسین کو فوج میں لے آئی۔
عدالت حسین نے ابتدائی تعلیم آزاد کشمیر ضلع میر پور کے علاقے افضل پور سے  حاصل کی جہاں وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے، عدالت حسین کو اپنے والد کی نسبت والدہ کے ساتھ رہنے کا زیادہ عرصہ میسر آیا۔ عدالت حسین نے میٹرک کا امتحان پاس کر کے فوری فوج میں بھرتی کے لیے درخواست دی تو تب تک وہ ایک کڑیل جوان بن چکا تھا۔ان کو جہلم میں پنجاب رجمنٹ میں1955 میں بھرتی کیا گیا۔
واقفان حال بتاتے ہیں کہ عدالت حسین  ایک  رعب دار شخصیت کے مالک تھے ۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو سکتی ہے لیکن عدالت حسین اپنی بات سے ہل جائے ایسا ممکن نہیںیعنی  زندگی میں جو ٹھان لی وہ کر گزرے۔ عدالت حسین ذہنی اور جسمانی طور پر ایک مضبوط دماغ سپاہی تھے۔ ان کی جسمانی مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ گاؤں میں ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا۔ لوٹ مار سے گائوں کا صفایا کر کے جب ڈاکو واپس جا رہے تھے  توکسی نے عدالت حسین کو خبر کر دی۔ پھر کیا تھا۔ ڈاکو آگے آگے اور عدالت حسین ان کے پیچھے پیچھے تھے۔16کلومیٹر تک بہادر نوجوان نے بھاگتے ہوئے ڈاکوئوں کا پیچھا کیا۔ ڈاکوئوں نے کئی بار عدالت حسین کو چکما دینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ آخر کارڈاکوئوں نے تنگ آکر اپنی جان بچانے  کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ مگر سامنے عدالت حسین تھا۔ وہ بھی جان کی پرواہ کیے بغیر دریا  میں کود پڑا اور لوٹا ہوا تمام سامان لے کر ہی گائوں واپس آیا۔جس پر اس کی بہادری کے قصے آس پاس کے گائوں  میں بھی زبان زدعام ہوگئے۔
عدالت حسین کی شادی1958میں اپنی کزن سے ہوئی تھی، ان کی بیوی عزیزالنسا بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کو اگر چیراٹ سے اٹک کسی کو ملنے جانا ہوتا تو بنا  رُکے دوڑ لگا کر پہنچ جاتے تھے، یہ فاصلہ19کلومیٹر سے زیادہ بنتا ہے۔
برسوں تک فوج میں جانے کا خواب دیکھنے والے عدالت حسین کا جب خواب پورا ہوا تو اس نے ٹریننگ کے دوران دن رات ایک کر دی۔یہی وجہ تھی کہ پنجاب رجمنٹ   یونٹ میں 3سال ہی گزرے تھے کہ وہ افسران کی نظروں میں آ گئے۔ان کی جسامت اور محنت کو دیکھ کر انہیں ایس ایس جی گروپ میں شامل کر لیا گیا، عدالت حسین  چیراٹ میں   سپیشل سروسز گروپ میں شامل ہوئے اورکمانڈو بٹالین کا حصہ ہے۔ ٹریننگ کے بعد وہ ان 68لوگوں میں شامل تھے جو ٹرین دی ٹرینر گروپ میں  جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے، اس گروپ کو امریکی کمانڈوز نے تربیت دی تھی۔
1965میں عدالت حسین کوفوج میں بھرتی ہوئے لگ بھگ10سال  ہو چکے تھے تو ان کی عمرمحض 30سے32سال کے درمیان  تھی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان  جنگ چھڑی نہیں تھی لیکن  خبریں پہلے ہی  آنا شروع ہو گئیں کہ دشمن کسی بھی وقت جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے۔حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے  فوج کوہر دم الرٹ  رہنے کا  حکم دیا گیا۔
فوجی جوان عدالت حسین اگست1965میں آخری مرتبہ چھٹی پر اپنے گائوں  آئے۔ وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی پر آئے لیکن اس مرتبہ چھٹی کے دوران وہ ہر کسی سے گرمجوشی سے ملتے رہے،  وہ عزیز رشتہ داروں کے گھر جاتے اور انہیں فخر سے  بتاتے کہ ایسے مشن پر جا رہا ہوں جہاں سے شاید واپس نہ آسکوں۔عدالت حسین ملتے وقت جب سب کودعا کے لیے کہتے توان کی آنکھیں شہادت کی لگن سے چمک اٹھتیںکیونکہ وہ جانتے تھے کہ جس سفر پر وہ رواں دواں ہیں اس کی منزل اور انجام کیا ہے۔پھر وہ دن آگیا جس کا انہیں پچھلے کئی روز سے انتظار تھا یعنی چھٹی ختم ہوتے ہی عدالت حسین اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔
6ستمبر کوبھارت نے  سفاک دشمن کی طرح رات  کے اندھیرے میں یہ سوچ کر حملہ کر دیا کہ صبح ہونے تک پاکستان کے کافی رقبے پر بھارتی ترنگا  لہرا  دے گا مگر اسے کیا پتا تھا کہ پاکستان پہلے ہی اپنے دشمن کی سازشوں سے آگاہ ہے۔عدالت حسین جیسے نوجوان فوجیوں کی وجہ سے بھارت  کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
بھارتی جارحیت پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا تو پاک فوج کی طرف سے دشمن فوج سرحدوں سے پہلے ہی ان کے اپنے علاقے میں روکنے کے احکامات دیے گئے۔ 7ستمبر کو پیرا ٹروپرز کو بھارت کے علاقوں ہلواڑہ اور آدم پور پٹھان کوٹ مشن پر روانہ کیا گیاجن میں عدالت حسین بھی شامل تھا۔
بہرطور جن جوانوں کو ابتدائی طور پر بھارتی علاقے میں اُتارا گیا ان نوجوانوں میں عدالت حسین کا نام بھی تھا۔عدالت حسین بھی باقی فوجی جوانوں کی مانند پورے جذبے اور جوش کے ساتھ مشن کی تکمیل کے لیے سرگرداں تھے لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا اور بدقسمتی سے  لینڈنگ کے دوران عدالت حسین کی  ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ ان چار کمانڈوز نے بھارتی علاقے میں اتر کر اسلحہ ختم ہونے تک ڈٹ کرمقابلہ کیا ،تین فوجی لڑتے ہوئے شہیدہوگئے جبکہ چوتھے زخمی سپاہی کو بھارت کی ائیرفورس نے جنگی قیدی بنا لیا۔اس چوتھے سپاہی کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ عدالت حسین ہی تھا۔ مگر بھارت نے کبھی باضابطہ اس بارے میں پاکستان کے ساتھ معلومات شیئر نہیں کیں۔
جنگ اوراس مشن کے بہت عرصہ بعد بھی عدالت حسین کی کوئی خیر خبر نہیں آئی  تو انہیں ۔۔''مسنگ بیلیوڈ کلڈ ڈکلئیر''کر دیا گیا ۔
گمنام راہوں کے سپاہی عدالت حسین کی اولاد میں دو بیٹے اورایک بیٹی شامل ہے۔ بڑے بیٹے کا نام محمد صفدر تھا جو55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ایک بیٹی ہے جو اپنے شوہر اور بچوں سمیت برمنگم (برطانیہ) میں مقیم ہے جبکہ دوسرے بیٹے لیفٹیننٹ جنرل (ر)  محمد افضل ہیں جوسابق چیئرمین این ڈی ایم اے اور انجینئرانچیف بھی رہے ہیں۔
1965 کی جنگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جو جذ بہ اس قوم میں اس جنگ کے دوران موجود تھا وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ درست ہے کہ جنگوں میں صرف ملک ہی نہیں بلکہ وہاں پر بسنے والی قومیں بھی مل کر لڑتی ہیں، پاک بھارت 1965کی جنگ بھی کچھ اسی قسم کا معرکہ تھا۔
عام شہری جس جنگ میں اس جذبہ کے ساتھ شریک ہوں  وہاں ان کے جذبے کا کیا بیان ہو گا جو اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت اپنی جان کی بازی لگا کر کرنا جانتے ہوں۔ عدالت حسین اسی فوج کا حصہ تھے جو دشمن کی صفوں کے اندر گھس کر ملک و قوم کی بقا کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا گئے۔
عدالت حسین ہمارے ان جانباز سپاہیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے گمنامی کی چادر تو اوڑھ لی لیکن ملک کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی۔ ان کی گمنامی اپنی جگہ لیکن ان کی قربانی کو قوم اور ریاست خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔


مضمون نگارایک اخبار کے ساتھ بطورایسوسی ایٹ ایڈیٹرمنسلک ہیں۔
[email protected]


 

مضمون 388 مرتبہ پڑھا گیا۔