اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 21:17
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

مضمون نگار ہاشمانی گروپ آف ہاسپٹلز میں بہ حیثیت مائکرو بیالوجسٹ وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم نگار ہیں۔ [email protected]

Advertisements

ہلال اردو

ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت

مئی 2024

بیماریوں کی تقسیم مختلف معاشرتی اور عوامی عناصر پر مشتمل ہوتی ہے جن میں انسانی آبادی کی کثافت اور رویہ، کمیونٹی کی قسم اور حیثیت، پانی کے ذرائع، سیوریج کا نظام، زمین کا استعمال او ر نظام آبپاشی، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی، عام ماحولیاتی صفائی اور موسمی عوامل ،درجہ حرارت، نمی اور بارش جو متعدد بیماریوں کی شدت پر اثرانداز ہوتے ہیں، شامل ہیں۔ عوامی عناصر جیسے آبادی کی نشوونما، شہری بنیاد، امیگریشن، زمین کا استعمال اور زرعی عمل، جنگلات کی کٹائی اور بین الاقوامی سفر نے حال ہی میں منتقل ہونے والی متعدد بیماریوں کی دوبارہ افزائش کے لیے بڑی حد تک ذمہ داری اٹھائی ہے۔ 



کسی ایک علاقے کی آب و ہوا اُس کے کئی سالوں کے موسم کا اوسط ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اس اوسط میں تبدیلی کو کہتے ہیںاور ہماری زمین بہت تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ۔آب و ہوا کی تبدیلی ہمارے طرز زندگی کو یکسر تبدیل کر دے گی جس سے عالمی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہو گی اور خوراک پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا۔کچھ خطے خطرناک حد تک گرم ہو سکتے ہیں اور دیگر سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس کے علاوہ موسم میں شدت کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات جیسے گرمی کی لہر، بارشیں اور طوفان بار بار آئیں گے اور ان کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا یہ لوگوں کی زندگیوں، ان کی صحت اور ذریعہ معاش کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی پینل کی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اگر گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو مزید خطرات درپیش ہوں گے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت اور فضا میں نمی کے تناسب میں اضافہ مچھروں اور دیگر حشرات کی افزائش نسل کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے، اس وجہ سے ان کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں نہ صرف حشرات کی تقسیم کو متاثر کرتی ہے بلکہ ان میں موجود وائرس کی تعداد اوربیماریوں کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
درجہ حرارت اور بارشوں میں اضافہ، خصوصاً گرمیوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے آلودہ پانی کے ذریعے انفیکشنز کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔علاوہ ازیں اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ کرہ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت سیلاب اور طوفانوں سے مزید تباہی لائے گا۔
اکثر سائنسدانوںکے مطابق فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی گلوبل وارمنگ کی ذمہ دار ہے جو ہوا کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوکر سانس کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔علاوہ ازیں فضائی آلودگی کی وجہ سے دمہ، پھیپھڑوں اور دل کے امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
 جنگلات زمین کے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سماجی جنگلات ایسے جنگلات ہوتے ہیں جو مقامی لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس میں دیہی، ماحولیاتی اور سماجی ترقی کو بہتر بنانے کے مقصد کے ساتھ ساتھ جنگلات کا انتظام،  تحفظ اور جنگلات کی کٹائی والی زمینوں کی شجرکاری جیسے پہلو شامل ہوتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لکڑی ،خوراک، ایندھن کی بڑھتی ہوئی مانگ کے حوالے سے لوگوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درختوں اورپودوں کو اگانا ہے تاکہ روایتی جنگلاتی علاقوں پر دباؤ اور انحصار کو کم کیا جاسکے۔سماجی جنگلات کا مقصد ماحولیات کو بہتر بناکر، قدرتی حسن میں اضافہ اور مقامی استعمال کے لیے جنگلاتی پیداوار کی فراہمی کو بڑھا کر زراعت کو منفی موسمی حالات سے بچانا ہے۔گلوبل وارمنگ کے اثرات کے خلاف جنگ میںدرخت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  جوں جوں درخت بڑھتے جاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائڈ استعمال کرتے ہیں اور اس طرح اسے ماحول سے دور کرتے ہیں،سماجی جنگلات کو شہری ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کو کم کرنے کا بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں، خاص طور پر گرمی کی لہروں، طوفانوں، سیلابوں، خشک سالی وغیرہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اور شدت کے حوالے سے کئی طریقوں سے انسانی صحت پر منفی اثر پڑنے کے امکانات ہوتے ہیں۔موسم کی تبدیلی انسانی صحت کے لیے کئی طریقوں سے اہم خطرات پیدا کرتی ہے ۔موسم کی تبدیلی جسمانی ،حیاتیاتی اور ماحولیاتی نظاموں میں خلل سے متاثر ہوسکتی ہے جس میں یہاں اور دیگر جگہوں پر پیدا ہونے والے خلل بھی شامل ہیں ۔ان رکاوٹوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات میں سانس اور قلبی امراض میں اضافہ ، شدید موسم کی تبدیلی سے متعلق بیماری، قبل از وقت اموات، خوراک اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ،  جغرافیائی تقسیم میں تبدیلیاں اور ذہنی صحت کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
موسم کی تبدیلی اور درجہ حرارت میں انتہا، بڑھتی ہوئی آلودگی، ماحولیاتی زہریلے مادوں اور غذائی تحفظ میں تبدیلیاں، یہ سب جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق موسم کی تبدیلی کے اثرات سے 2030 سے 2050 کے درمیان ہر سال تقریباً 250,000 اموات  ہو سکتی ہیں۔



موسم کی تبدیلی اور قدرتی آفات ان لوگوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ اور دباؤ کا باعث ہوسکتی ہیںجو بے گھر، اپنے مال و اسباب کے نقصان یا اپنے پیاروں کے نقصان سے گزر سکتے ہیں۔ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق خودکشی کی شرح میں زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور زیادہ درجہ حرارت ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کی صورتحال پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
ڈبلیو ایچ اوکے مطابق موسم کی تبدیلی سے کیڑوں سے پھیلنے والے انفیکشن اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں اضافے کابھی امکان ہے کیونکہ آب و ہوا میں تبدیلیاں ان موسموں میں اضافہ کر سکتی ہیں جن کے دوران کیڑے انفیکشن منتقل کرتے ہیں۔بڑھتا ہوا درجہ حرارت صحت کے شدید مسائل کی ایک وسیع رینج کا سبب بن سکتا ہے۔ شدید گرمی میں پیدا ہونے والے ہیٹ سٹروک، گرمی کی تھکاوٹ، پٹھوں میں کھنچاؤ اور سانس اور دل کی بیماریاں شامل ہیں۔اس کے علاوہ فضائی آلودگی میں اضافہ صحت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے ۔ہوا میں دھول ،اوزون اور باریک ذرات یہ سب ہوا کے معیار کو کم کر سکتے ہیں اور صحت کے مسائل کو بڑھا سکتے ہیںجن میںدمہ، پھیپھڑوں کی بیماری، کھانسی اور گلے میں جلن اورپھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ قابل ذکر ہیں۔
گرم درجہ حرارت پولن کی پیداوار میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے جس سے لوگوں میں الرجی کے بارے میں زیادہ حساسیت ، شدید دمہ کے طویل یا زیادہ بار ہونے والے دورے اور سانس کا بگڑنا شامل ہیں ۔گرم موسم اور زیادہ بارش کا امتزاج گھر کے اندر  نمی اور پھپھوندی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ حالات سانس لینے میں پریشانی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
موسم کی تبدیلی فصلوں اور خوراک کی پیداوار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کھانے پینے کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے لوگ کم صحت مند غذا اپنا سکتے ہیں۔ ناقص غذا، بھوک اور غذائی قلت کا باعث بن سکتی ہے۔ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے بعض غذاؤں کی غذائیت میں بھی کمی آ سکتی ہے جبکہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی سطح میں اضافہ اور مٹی میں غذائی اجزاء میں تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت سی فصلوں میں غذائی اجزاء کم ہوجائیں گے۔جڑی بوٹیوں اور کیڑوں میں ممکنہ اضافے کی وجہ سے کسانوں کو زیادہ مقدار میں کیڑے مار ادویات کے استعمال کی ضرورت ہے۔ یہ مادے فصلوں پرکام کرنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ انہیں کھانے والوں کے لیے بھی زہریلے ہو سکتے ہیں۔
حالیہ ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی بیماریاں تمام بیماریوں کا 24فیصد ہوگئی ہیں جبکہ مجموعی اموات میں ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی اموات کی شرح 23فیصد ہو گئی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی بیماریوں کا حصہ 15گنا زیادہ ہے۔ ماحولیاتی خطرات انسانی صحت پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ گلوبل ہیلتھ سکیورٹی کانفرنس نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک میں صحت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیاہے، دنیا کے ایک ارب بچے موسمیاتی بحران کے باعث ہائی رسک پر ہیں، پاکستان کی معیشت کو موسمیاتی تبدیلی سے سالانہ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی سے سیلاب، وبائی امراض اور دیگر بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ملیریا، ڈینگی، ٹائیفائیڈ، انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریاں، ڈی ہائیڈریشن، خوراک کی کمی سمیت دیگر مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بچے جن مسائل سے دوچار ہوتے ہیں، ان کے بنیادی اسباب میں ماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور غذائی قلت جیسے عناصر شامل ہیں۔ تشویش کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ردعمل میں بچوں کی ضروریات کو نظر انداز کرنا بھی ہے۔اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کلائمیٹ فنڈنگ کا محض 2.4% بچوں پر مرکوز سرگرمیوں کے لیے وقف ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے وابستہ بچوں کے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے مسائل کے مقابلے میں بہت کم شرح ہے۔
پاکستان میں 2022 کے تباہ کن اور بھیانک موسمیاتی بگاڑ سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور گرد ونواح مییں شعبہ صحت کے حوالے سے بہت سنگین بحران پیدا ہوگئے ہیں۔ صحت کے تقریباً 1400 سے زائد مراکز تباہ ہوئے تھے۔ کیمپس میں رہنے والے پناہ گزین پینے کے صاف پانی سے محروم رہے اور وبائی امراض نے علاقے کو لپیٹ میں لے لیا۔ سیلاب کے ٹھہر ے ہوئے پانی مچھروں کی افزائش گاہ بن گئے جو ابھی تک ملیریا اور ڈینگی کا باعث بن رہے ہیں ۔سیلاب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان نے غذائی قلت بھی پیدا کی ہے جس سے پاکستان میں شدید غذائی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ پاکستان بھی دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو پینے کے صاف پانی کی ناکافی سہولت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ خواتین اور بچیاں موسمیاتی آفت سے مردوں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے 2022 کے سیلاب میں ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ حاملہ خواتین طبی سہولیات ، ادویات اور لاکھوں بچیاں بنیادی اشیاء سے محروم رہیں۔
 ماحولیاتی تبدیلیا ں یا درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے تھکاوٹ، خشک سالی کی وجہ سے غذائیت کی کمی، وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے ڈینگی بخار، ملیریا، کانگو وائرس،ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بڑھنا لوگوں کے کام کرنے اور روزی کمانے کی صلاحیت پر بھی ثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں جیسے زرعی پیداوار میں کمی، ساحلی کٹاؤ اور سمندری پانی کی دراندازی میں اضافہ جن کی وجہ سے زیر آب آنے والی بستیوں کے رہائشی نقل مکانی پر مجبور ہورہے ہیں۔
پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ہم موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات کے نشانے پر ہیں۔ دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں نے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار کو تیز کردیا ہے، جس کی وجہ سے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) اور نیچے کی طرف آنے والے سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں سات ہزار سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں جب کہ ہمالیہ اور ہندوکش پہاڑی سلسلے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔گلگت  بلتستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں تقریباً تین ہزارگلیشیئرز جھیلیں بن چکی ہیں جن میں سے تین درجن کے قریب ایسی نہریں ہیں جو کسی بھی وقت سیلاب کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کی طرف پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اجتماعی اقدامات اور ہر فرد کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ موسم اور بیماری کے درمیان تعلق پیچیدہ ہوتا ہے اورعالمی آب و ہوا تبدیلی ایک غیر معمولی امر ہے جو اب انسانی صحت سے متعلق شدید طور پر منسلک سمجھا جاتا ہے۔ 
 پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور براہ راست عوام کو اس کے بارے میں آگاہ کرنا اور انسانی صحت کو فروغ دینے کے لیے کاربن کی کمی کی حمایت کر نابہت اہم ہیں۔ مقامی پودوں کا استعمال اور درخت لگانا گرمی کے اثر کو کم کرسکتا ہے۔ پودے عمارتوں کے قریب زمینی درجہ حرارت کو کم کرنے کے ساتھ گرین ہاؤس گیس کے انبار کو کم کرتے ہیں جس سے زمینی سطح پر سموگ کی تشکیل کم ہونیسے انسانی صحت میں بہتری آتی ہے۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی سے متعلق بیماریوں اور نگرانی کے لیے ضلعی سطح کی تربیت بہت اہم ہے۔ 


مضمون نگار نجی ہسپتال میںبہ حیثیت مائکرو بیالوجسٹ وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم نگار ہیں۔
[email protected]


 

مضمون 604 مرتبہ پڑھا گیا۔

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

مضمون نگار ہاشمانی گروپ آف ہاسپٹلز میں بہ حیثیت مائکرو بیالوجسٹ وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم نگار ہیں۔ [email protected]

Advertisements