اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 16:42
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

فریال رشید

مضمون نگار صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ [email protected]

Advertisements

ہلال اردو

مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج

مئی 2024

شمالی بھارت کے کسانوں کے احتجاج سے دارالحکومت دہلی ایک بار پھر لرز رہا ہے۔ پنجاب اورہریانہ کے سرحدی علاقے پکڑ دھکڑ اور قتل وغارت کا نمونہ بن گئے ہیں۔ ہزاروں کسان زرعی شعبے کے کالے قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔۔ یہ وہی کسان ہیں جو چار سال قبل سال بھر سے زیادہ کے احتجاج میں بھی شریک تھے۔ اس وقت اِن کا خود کو آزمائش میں ڈالنا اس لیے فائدہ مند ثابت ہوا تھا کیوں کہ حکومت نے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کردیا تھا مگر جو وعدے ان سے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ورنہ اس احتجاج کی ضرورت نہ پیش آتی۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں کم سے کم سپورٹ پروگرام کے تحت فصلیں خریدنے کی قانونی گارنٹی دی جائے ۔ مظاہرین نے مودی کی پالیسوں کے خلاف فروری میں یوم سیاہ بھی منایا۔ ٹریکٹروں اور ٹرالیوں پر ریلیاں نکالیں۔ سیاہ جھنڈے لہرائے ۔ اپنی پگڑیوں پر سیاہ کپڑا باندھا۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کا پُتلا جلایا اورمودی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔''دہلی چلو مارچ'' کے دوران کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کئی جانیں جا چکی ہیں ۔ اس ظلم وستم کی گونج بھارت کے ایوانوں میں بھی سنائی دی ۔اپوزیشن جماعتوں نے بھی کسانوں کے مطالبات پرغور کرنے میں ناکامی پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار جمہوری ملک میں حقیقی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مودی کے بھارت میں آج کا کسان اپنے بچے کو کسان نہیں بنانا چاہتا۔ وہ مودی کی من کی بات سن سن کر پک چکا ہے۔ 15 کروڑ کسانوں کی تکلیف زیادہ بڑی ہے یا ایک سرکار کی ناک؟۔ لیکن مودی سرکار کسانوں کے مطالبات تسلیم کرنے پر ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ ادھر کسان بھی کالے قانون کو ماننے سے صاف انکاری ہیںاور اپنے مقصد پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ 



بھارت میں کسانوں کا یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا ہے جب لوک سبھا کے انتخابات ہونے والے ہیں ۔ وزیرِ اعظم نریندرمودی تیسری بار وزارتِ عظمی کا تاج سر پر سجانے کی بھرپور تیاریوں میں مگن ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کے ساتھ کسی بڑے تصادم سے بچنا چاہتی ہے اور کسانوں کے تھکنے کا انتظار کر رہی ہے۔ مودی حکومت کے پیش نظر یہ منصوبہ بھی ہوسکتا ہے کہ عام انتخابات کے اعلان تک کسانوں کو احتجاج کرنے دیا جائے۔ الیکشن کا اعلان ہوجائیگا تو یہ کس سے بات کریںگے، مجبوراً انہیں گھر واپس جانا ہی پڑے گا۔  رہا سوال ان کے مطالبات کا تو دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ان پر نئی حکومت بننے کے بعد ان سے نمٹنے کی نئے سرے سے کوشش ہوگی۔ادھرکسانوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کی منظوری میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد بھارتیوں کا روزگار زراعت سے جڑا ہے۔ آج بھارتی جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ رکھنے والا یہ شعبہ بھارت کی سڑکوں پر پس رہا ہے۔ پنجاب سے دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنے والوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ 90 کی دہائی اور بعد کے ادوار میں ان علاقوں سے مقامی آبادی نے تیزی سے نقل مکانی کی ۔ ان کی جگہ دیگر صوبوں کے غریب لوگوں نے پُر کی ۔اصل مسئلہ وہاں زرعی کاروبار سے جڑے چھوٹے دیہاڑی دار مزدوروں کا ہے جو زیادہ تر دوسری ریاستوں بہار اوراڑیسہ سے آتے ہیں۔ کچھ واپس چلے جاتے ہیں اور کچھ اپنے خاندانوں کے ساتھ یہاں بس جاتے ہیں۔ انہیں بروقت تنخواہ نہیں دی جاتی اور زیادہ تر سرمایہ بڑے کسان لے جاتے ہیں۔ 
احتجاجی کسانوں نے 13 فروری کو دہلی کی طرف مارچ شروع کیا تو مودی سرکار کی ٹانگیں کانپنے لگیں ۔ ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ہریانہ پولیس نے دہلی جانے کی کوشش کرنے والے کسانوں کو پنجاب کے ضلع سنگرور میں کھنوری سرحد پر(دارالحکومت دہلی سے شمال میں تقریبا 200 کلومیٹر دور) روک دیا۔ انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح نام نہاد  جمہوریت کمزور پڑی۔ کسان پیچھے نہ ہٹے توحکومت نے دکھاوے کے مذاکرات کر ڈالے لیکن کسان باتوں میں نہ آئے۔ اپنے مؤقف پرڈٹ گئے ۔ صاف کہہ دیا کہ اس بار مطالبات منوا کر ہی گھر لوٹیں گے۔ کسانوں کے مطالبات ہیں کہ کم سے کم سپورٹ پروگرام پر فصلوں کی خریداری کی ضمانت دی جائے ۔ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ نافذ کی جائے۔ تمام فصلوں کو ایم ایس پی (زرعی پیداوار کے لیے کم ازکم امدادی قیمت)کے تحت لایا جائے نہ کہ چند منتخب فصلوں کو اس میں شامل کیا جائے اورباقی کو چھوڑ دیا جائے۔ کسانوں کو فصل اگانے پر آنے والی لاگت پر 50 فیصد منافع دیا جائے۔ قرض معاف کیے جائیں ۔ تحریک کے دوران درج مقدمات واپس لیے جائیں ۔ مودی حکومت نے کسانوں کو 5 سالہ معاہدے کے تحت اناج خریدنے کا لالچ بھی دیا لیکن کسانوں نے اس آفر کوبھی مسترد کر دیا۔ پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کسانوں کا مؤقف ہے کہ جب منڈی سے باہر ہی نجی کمپنیاں فصل خرید کرذخیرہ کرلیں گی تو کسانوں کو ان کی محنت کا پھل نہیں مل سکے گا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب کسانوں نے اپنے حق کی آواز اٹھائی ہے۔ 2018 میں بھی کسانوں نے دہلی کا رخ کیا تھا ۔اس وقت بھی کسان قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کے لیے آئے دن خودکشیاں کر رہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق بیس برس میں 3 لاکھ کسانوں نے اپنی جانیں گنوائی تھیں۔ اس وقت بھی کسانوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ زرعی قرضے معاف کیے جائیں اور قومی اسمبلی میں پڑا زرعی اصلاحات کا بل منظور کیا جائے، جس میں کسانوں کو ان کی فصل کا جائزاوربہتر معاوضہ دلوانے کی بات کی گئی تھی۔ 2016 میں بھی مودی حکومت نے زرعی شعبے میں کسانوں کو سہانے خواب دکھا کرسرمایہ کاری بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا مقصد 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنا تھی لیکن وہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا۔ کسانوں کی شکایت تھی کہ کاشت کے اخراجات میں اضافہ جب کہ آمدنی کم ہو گئی ہے جس سے کاشت کاری خسارے کا شعبہ بن رہا ہے۔


 بھارتی فوجی بھی مودی کی پالیسیوں سے نالاں ہیں ۔ حاضر سروس بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد "دہلی چلو مارچ "میں شامل ہورہی ہے۔ مارچ میں شامل ایک بھارتی فوجی کا کہنا ہے کہ وہ کسان کا بیٹا ہے، احتجاج چھ مہینے جاری رہے یا چھ سال  ،وہ  ملازمت سے استعفیٰ دے دیگا، اس کے لیے انڈین آرمی ضروری نہیں ہے۔ایک اور بھارتی فوجی کا کہنا تھا کہ سرحد کے بجائے بھارت کے اندر اپنے ہی شہری کسان مارے جا رہے ہیں ۔"دہلی چلو مارچ'' روکنے کے لیے جتنا مضبوط بارڈر مودی سرکار نے بنایا ہے ،اتنا مضبوط ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی نہیں بنایا گیا ۔ جب تک احتجاج جاری رہے گا ہم اس مارچ کا حصہ رہیں گے۔ 


کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصاراس ملک کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ  رویوں پربھی ہوتا ہے۔ بھارتی فوجی بھی مودی کی پالیسیوں سے نالاں ہیں ۔ حاضر سروس بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد "دہلی چلو مارچ "میں شامل ہورہی ہے۔ مارچ میں شامل ایک بھارتی فوجی کا کہنا ہے کہ وہ کسان کا بیٹا ہے، احتجاج چھ مہینے جاری رہے یا چھ سال  ،وہ  ملازمت سے استعفیٰ دے دیگا، اس کے لیے انڈین آرمی ضروری نہیں ہے۔ایک اور بھارتی فوجی کا کہنا تھا کہ سرحد کے بجائے بھارت کے اندر اپنے ہی شہری کسان مارے جا رہے ہیں ۔"دہلی چلو مارچ " روکنے کے لیے جتنا مضبوط بارڈر مودی سرکار نے بنایا ہے ،اتنا مضبوط ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی نہیں بنایا گیا ۔ جب تک احتجاج جاری رہے گا ہم اس مارچ کا حصہ رہیں گے۔ 
بیلجیئم، فرانس، نیدر لینڈ، جرمنی، اسپین اور دیگر ملکوں میں بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف کسانوں کا احتجاج ہوا مگر چند ہی دنوں میں ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا لیکن مودی کے نئے بھارت میں ایسا نہیں ہورہا۔ 'اچھے دن آنے والے ہیں' کا نعرہ لگانے والے نریندر مودی کے بھارت میں غربت دھبہ بن چکی ہے۔ اس وقت بھارت میں بائیس کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 8.7 فی صد ہے۔ جس نے لاکھوں کروڑوں زندگیوں کو تباہ کردیا۔ یہ اعدادو شمار دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کے دعویدار ملک بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بھارتی حکومت کسانوں کے احتجاج کو سنجیدہ نہیں لے رہی ۔ بھارتی حکومت کی کوشش ہے کہ کھیت تو رہیں کسان نہ رہیں ۔ کسان کیونکہ موجودہ حکومت پراعتماد نہیں رکھتے لہٰذا قانون میں واضح تبدیلی چاہتے ہیں جس میں منڈیوں اور کم سے کم قیمت کی وجہ سے انہیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔دوسری جانب بڑی بڑی کمپنیوں کو ایسا کسان نہیں چاہیے جو فصل کی معقول اُجرت کا مطالبہ کرنے لگا ہے ۔مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں سڑکیں جام کردیتا ہے، دھرنا دیتا ہے اور نرمی سے مگر سخت باتیں کرتا ہے، اس کے لہجے میں غصہ ہے، اس کے تیور مزاحمتی ہیں اور اس میں احساس خودی جاگ چکا ہے۔  جوش نے اپنی طویل نظم 'کسان' میں کسانوں کو کئی القاب سے نوازا ہے۔ یہ بھی کہا کہ
 خون جس کا بجلیوں کی انجمن میں باریاب 
جس کے سر پر جگمگاتی ہے کلاہ آفتاب   
شعرا ء و ادبا کے دلوں میں کسانوں کے لیے یہی جذبہ تھا مگرمودی کے بھارت میں کسانوں کے حقوق سے متعلق چشم پوشی برتی جا رہی ہے۔ بڑی بڑی کیلیں گاڑھ کر ان کے راستے مسدود کرنا ضروری اور ان پر آنسو گیس چھوڑنا مجبوری بنتا جا رہا ہے۔ کسانوں کے احتجاج نے مودی سرکارکو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ لوگ جن کی زندگیاں کھیتوں میں گزرتی ہیں، موسموں کی تبدیلیوں ہی کے عادی نہیں ہوتے، حالات کی سختی کو بھی ہنستے کھیلتے سہہ جاتے ہیں۔


مضمون نگار صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔
[email protected]

 

مضمون 473 مرتبہ پڑھا گیا۔

فریال رشید

مضمون نگار صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ [email protected]

Advertisements