اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:17
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش ! 

مئی 2024

15 اگست 1947 میں اپنی آزادی کے بعد سے بھارت نے خاصے طویل عرصے تک بڑی کامیابی سے دنیا کو یہ تاثر دیے رکھا کہ اس کے ہاں تمام طبقات اور شہریوں کو مساوی انسانی حقوق میسر ہیں اور اگر کہیں کسی اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کا کوئی واقعہ پیش آتا بھی ہے تو اس کی نوعیت بڑی حد تک انفرادی ہوتی ہے اور ایسے متشدّد  ہندو عناصر کو حکومت یا اداروں کی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی۔عالمی برادری کا ایک حلقہ ان بھارتی دعوؤں پر آنکھیں بند کر کے بڑی حد تک یقین کرتا رہا مگر یہ امر خوش آئند ہے کہ اب دنیا بھر میں بھارتی مذموم روش پر کھل کر بات کی جانے لگی ہے۔ غیر ملکی سرزمین پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ٹارگٹڈ آپریشنز پر دی گارڈین کی رپورٹ ہو ،ہردیپ نجر کے سفاکانہ قتل سے متعلق آسٹریلیا  براڈکاسٹنگ کمپنی کی ڈاکومینٹری ہو ، گجرات فسادات پر بی بی سی کی دستاویزی فلم ہو یا بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کا اعترافی بیان، دنیا بھر میں بھارتی توسیع پسندانہ عزائم اور عالمی امن پر اسکے اثرات پر کھل کر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ 



بھارتی حکمران نہ صرف کشمیریوں کے خلاف بھیانک انسانی جرائم میں ملوث ہیں بلکہ تمام عالمی ضابطوں اور بین الاقوامی قوانین اور روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں مسلح مداخلت کے بھی مرتکب  ہوتے رہتے ہیں ۔16دسمبر 1971 کو پاکستان کو قوت اور سازشوں کے بل پر دو لخت کرنا ، 13 دسمبر 2001 میںبھارتی پارلیمنٹ پر خود ساختہ حملہ کرانا اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے پر مبنی من گھڑت خبروں کی ترویج اس امر کی سنگین ترین مثالیں قرار دی جا سکتی ہیں۔بھارت کے سبھی ہمسائے بشمول نیپال، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستان ہمیشہ سے اس کی ریشہ دوانیوں کا شکار رہے اور بھارت کے اپنے ان تمام پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اکثر و بیشتر انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے کہ سری لنکا بھارتی سازشوں کے نتیجے میں ہی بیس سال سے زیادہ عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا اور ''تامل ٹائیگرز'' کے ذریعے دہلی کے حکمرانوں نے سری لنکا میں ہر طرح کی سازشوں اور تخریب کاریوں کو اپنا روزمرہ کا معمول بنائے رکھا اور یہ سلسلہ تاحال کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ 1988 میں بھارت سرکار نے جس طرح نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی، وہ اس خطے کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ اس کے بعد بھی نیپال میں  2015 میں ''مدھیشی'' باشندوں کے نام پر جس طرح نیپال کو تختہ مشق بنایا گیا وہ بھی مودی سرکار کے کارناموں کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جون 2001 کے پہلے ہفتے میں بھارتی شہہ پر جس انداز میں نیپال کے شاہی خاندان کا تقریباً خاتمہ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ چونکہ نیپال مکمل طور پر خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے اور اپنی تمام تر تجارت اور معیشت کے لیے بھارت کا محتاج ہے اور اپنے اس وصف کو بھارتی حکمرانوں نے نیپال میں دخل اندازی اور اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ۔ مالدیپ کے صدر ''عبداللہ یامین'' کی حکومت کے خلاف بھارتی ایما پر بغاوت کا ڈرامہ رچایا گیا اور تاحال سازشوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مالدیپ میں اس سے پہلے بھی بھارت ایک سے زائد مرتبہ فوج کشی کا مرتکب ہو چکا ہے اور مالدیپ کی مختلف حکومتیں مثلاً کبھی ''مامون عبدالقیوم'' اور کبھی ''محمد نشید'' دہلی سرکار کا شکار بنتے رہے اور پھر سابقہ مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھارت کا جو کردار رہا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ بھارت کے سبھی ہمسائے مودی سرکار کے توسیع پسندانہ عزائم اور جارحیت سے تنگ ہیں۔ 
بات یہاں تک ہی محدود نہیں رہی، جوں جوں بھارتی حکمرانوں کے توسیع پسندانہ عزائم بڑھتے چلے گئے، بھارت نے دوسرے ملکوں کے اندورنی معاملات میں مداخلت اور وہاں تخریب کاری کے فروغ کو روش کے طور پر اپنا لیا۔ 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ مودی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف مختلف محاذوں پر قتل و غارت گری شروع کر دی ۔ اب حال یہ ہے کہ ہندو دہشتگردوں کا جب دل کرتا ہے وہ مسلمانوں ، سکھوں ، عیسائیوں و دیگر مذہبی اکائیوں کے خلاف قتل و غارتگری میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ان انتہا پسندوں کو بھلا ڈر بھی کس کا ہے؟ کیونکہ ان قبیح جرائم میں ملوث ہندوئوں کو اعلیٰ اعزازات اور انعامات سے نوازنا بی جے پی کی گویا پالیسی بن چکی ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس استبدادیت میں تمام بھارتی ادارے یکساں کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس تین مئی سے منی پور میں عیسائی کش فسادات جاری ہیں۔  آر ایس ایس کی طرف سے ہندو انتہا پسند میتئی قبائل کو منی پور میں بھرپور پشت پناہی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج اور سکیورٹی فورسز بھی وہاں انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر مسیحیوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔ اسی لیے منی پور کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں لوک سبھا الیکشن نہیں چاہیے، صرف امن چاہیے۔ 
سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے۔ بھارت ہمیشہ اپنے طرزِ عمل سے ثابت کرتا آیا ہے کہ وہ ایک دہشتگرد ریاست ہے۔ سکھ مذہب کے پیروکاروں کو بھارت نہ صرف پنجاب میں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رہا ہے بلکہ انکے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے عالمی سکھ رہنمائوں کی ٹارگٹ کلنگ بھیبھارت کی روش بن چکی ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ سکھوں نے اس بھارتی استبدایت اور انتہا پسندی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے بلکہ وہ انتہائی منظم انداز میں عالمی سطح پر '' خالصتان ریفرنڈم'' کا انعقاد کر رہے ہیں تا کہ سکھ اپنے مستقبل کے بارے میں یہ فیصلہ لے سکیں کہ انھیں بھارتی تسلط سے آزادی چاہیے یا بھارتی غلامی کو ہی اپنا مقدر مان لینا چاہیے۔ 18 جون 2023 کو کینیڈا کے صوبے  ''برٹش کولمبیا'' میں سکھ فار جسٹس کے رہنما '' ہردیپ سنگھ نجر'' کو نامعلوم قاتلوں نے گردوارے کے باہر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ ہردیپ نجر کا قتل بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایما پر کیا گیا۔ اسی طرح 15 جون 2023 کو برمنگھم میں انڈین ایجنٹس نے سکھ رہنما اوتار سنگھ کھنڈا کو زندہ رہنے کے بنیادی انسانی حق سے محروم کر دیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انڈین سی آر پی ایف نے نیو یارک میں' سکھ فار جسٹس' کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی بھرپور سازش کی۔ نکھل گپتا نامی ہرکارے کے ذریعے ایک لاکھ ڈالر میں پنوں کی موت کا سودا کیا گیا مگر امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اس منصوبے کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی بے نقاب کر دیا ۔ آسٹریلیا  براڈکاسٹنگ کمپنی  نے ہردیپ نجر و دیگر کے قتل پر باقاعدہ دستاویزی فلم ریلیز کی جسے مودی سرکار نے فی الفور دیگر حقائق پر مبنی رپورٹس اور دستاویزی فلموں کی مانند بین کر دیا۔ 
بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کی سازشوں اور جارحیت پر بین الاقوامی برادری میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں برطانوی روزنامے' دی گارڈین' نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان میں مختلف افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے نہ صرف غیر ملکی سرزمین پر مختلف افراد کو قتل کیا، بلکہ بھارتی میڈیا فخریہ طور پر اسکا کریڈٹ بھی لیتا رہا۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 2020کے بعد سے بھارت نے بیرون ملک 20 افراد کو قتل کیا۔عالمی جریدے نے  یہ انکشاف بھارتی اور پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کیا  اور ہردیپ نجر، اوتار سنگھ کے قتل اور گرپتونت سنگھ پنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی سازش کا ذکر بھی کیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس رپورٹ کے ردعمل میں نیوز 18 کے ایڈیٹر انچیف راہل جوشی کو انٹرویو دیا جس میں انھوں نے فخریہ طور پر اعتراف کیا کہ بھارت پاکستان میں لوگوں کو قتل کروارہا ہے اور مودی سرکار اپنی اس روش کو جاری رکھے گی۔ بھارت کا پاکستان و دیگر ممالک میں ٹارگٹ کلنگ کا دعویٰ واضح طور پر اعتراف جرم اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ 
سنجیدہ حلقوں کے مطابق بھارت میں 2014 سے آر ایس ایس برسراقتدار ہے۔ بالفرضِ محال اگر پاکستان میں کوئی مذہبی جماعت کبھی انتخابات میں جیت جاتی تو دنیا بھر کا میڈیا اور سبھی تجزیہ نگار قیاس کے ایسے ایسے گھوڑے دوڑا رہے ہوتے جنہیں دیکھ اور سن کر یوں لگتا گویا زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان گر پڑا ہو اور اس صورتحال میں عالمی امن کو درپیش بے شمار خطرات کی نشان دہی سامنے آ چکی ہوتی مگر اسے عالمی رائے عامہ کی چشم پوشی کہیں یا تجاہلِ عارفانہ کا نام دیا جائے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بھاری اکثریت سے چھٹی بار اقتدار میں آنے کے لیے پر تول رہی ہے مگر عالمی امن کے ٹھیکیدار حلقوں نے اس حوالے سے ذرا سی بھی تشویش ظاہر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔اس صورتحال کو بین الاقوامی مؤثر قوتوں اور عالمی رائے عامہ کے دوہرے معیاروں کے علاوہ غالباً کوئی بھی نام نہیں دیا جا سکتا ۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ RSS نے 1925 میں اپنے قیام سے لے کر آج تلک اس مؤقف کو کبھی راز نہیں رکھا کہ اس کا ہدف برِصغیر جنوبی ایشیاء کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا اور یہاں رام راجیہ قائم کرنا ہے۔ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی نے بھی خود کو کبھی ہندو انتہا پسندی کے نظریات سے لا تعلق قرار نہیں دیا بلکہ اس کا ہمیشہ سے ہی اعلانیہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ایک سیاسی حادثہ تھا جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ایسے میں دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ یہی وقت ہے کہ عالمی قوتیں مودی حکومت کو ان سنگین انسانی جرائم کے لیے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]  

مضمون 426 مرتبہ پڑھا گیا۔