اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 20:40
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

سلمان عابد

Advertisements

ہلال اردو

انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج

مئی 2024

پاکستان کی ریاستی بقا کا ایک بڑا چیلنج انتہا پسندی اور دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے ۔ کوئی بھی ریاست یا اس کا ریاستی نظام سیاسی اور معاشی سطح پر استحکام کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے او راسی بنیاد پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر اپنی سیاسی ساکھ بھی قائم کرتا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی نئی خارجہ پالیسی یا علاقائی پالیسی کی بنیاد پر جیو معیشت  یا جیو اسٹرٹیجک کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے او رکسی بھی سطح پر وہ خود کو جنگوں اورتنازعات میں الجھائے بغیر معاشی ترقی کے اہداف کو بنیاد بنانا چاہتا ہے۔ اگر ہم اس نقطہ کو بنیاد بناتے ہیں تو ہمیں اپنے داخلی محاذ پر ایک مضبوط ،مربوط اور شفاف سیاسی ومعاشی نظام درکار ہے ۔اس لیے داخلی استحکام کی بنیاد ہی ہمیں سکیورٹی سمیت معیشت کی ترقی کی طرف لے کر جاسکتی ہے اور یہی ہماری اہم ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے ۔



لیکن اس تناظر میں دیکھیں تو ہمیں پچھلی کچھ دہائیوں سے بطور ریاست، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی محض مذہبی نوعیت کی ہی نہیں بلکہ اس کی بنیاد سیاسی ، لسانی اور علاقائی معاملات سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ پچھلے دنوں نوشکی میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا جہاں زبان کی بنیاد پر لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا وہ سنجیدہ نوعیت کا واقعہ ہے اور بڑے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں ہم نے لسانی بنیادوں پر یا مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی یا انتہاپسندی کا بڑی جرأت سے مقابلہ کیا ہے ۔ اس پوری جنگ میں ہمیں فوج سمیت تمام سکیورٹی اداروں اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل رہی ۔کیونکہ حمایت یامدد کے بغیر دہشت گردی کی جنگ میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہ تھا ۔لیکن پچھلے کچھ برسوں سے ہم ایک بار پھر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اہم واقعات کا نشانہ بنتے جارہے ہیں ۔ 
پاکستان  کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت سب کا ایک ہی مؤقف ہے کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے او راس پر ہماری بطور ریاست زیرو ٹالرینس ہوگی لیکن اس کے باوجود ہمیں تسلسل کے ساتھ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس عمل نے ہمارے پورے  سکیورٹی نظام کو بھی چیلنج کیا ہوا ہے ۔اس وقت ہماری کوشش ہے کہ ہم سیکورٹی اداروںاور حکومت سے جڑے دیگر اداروں کی حمایت اور مدد سے حالیہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روک سکیں اور جو بھی عناصر اس کھیل میں شریک ہیں ان کو ہر سطح پر قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ کیونکہ اگر ہم نے اس موقع پر مصلحت یا سیاسی سمجھوتوں کو بنیاد بنا کر معاملات سے نمٹنے کی کوشش نہ کی تو دہشت گرد اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کی مدد سے ریاستی نظام کو مزید کمزور کرنے یا اس میںاور زیادہ خرابیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ۔
ہم نے ریاستی سطح پر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کئی اہم پالیسیوں اور قانون سازی کی طرف پیش رفت کی ہے ان میں ہماری نیشنل سکیورٹی پالیسی،نیشنل ایکشن پلان ، پیغام پاکستان ، دختران پاکستان شامل ہیں ۔ ان تمام پالیسیوں کی بنیاد ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ او رایک پرامن بیانیہ کی طرف پیش رفت ہے۔ اسی طرح ہم نے نیکٹا سمیت اپنے موجودہ سکیورٹی اداروں اور پولیس کے نظام میں بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں اور سرمایہ کاری بھی کی ہے ۔ ہم نے مجموعی طور پر امن امان کی صورتحال اور دہشت گردی کو علیحدہ علیحدہ سمجھنے کی کوشش کی ہے تاکہ بہتر حکمت عملی کے تحت مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے ۔ سارے تناظر میں وفاقی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔ ان کمیٹیوں میںانتظامی اور سکیورٹی اداروں کے تمام اہم سربراہان کی شمولیت اور مؤثر اقدامات پر مبنی ایکشن کی مدد سے دہشت گردی کے خاتمہ کا علا ج تلاش کیا گیا ۔ مدارس کی اصلاحات اور خاص طور پر نفرت انگیز اور تعصب پر مبنی اشاعتی مواد ، رسمی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر منفی مہم کے خاتمہ پر بھی زور دیا گیا یا دیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود ہم ابھی بھی اس جنگ سے باہر نہیں نکل سکے ۔
پاکستان اس وقت معاشی بنیادوں پر آگے بڑھنے کے لیے نئے معاشی امکانات کو تلاش کررہا ہے ۔ کوشش کی جارہی ہے کہ برادراسلامی ممالک سمیت، عالمی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سمیت سرمایہ کاروں کو ہم اپنی طرف متوجہ کرسکیں تاکہ یہاں بڑی سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوں۔لیکن کوئی بھی یا کوئی بھی عالمی ادارہ یا سرمایہ کار کسی بھی ایسے ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرتے ہیں جہاں امن وامان کی صورتحال میں خرابی سمیت سکیورٹی اور دہشت گردی کا خطر ہ موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ بردار اسلامی ممالک ہوں یا علاقائی سمیت عالمی ممالک، سب ہی ہمیں اسی نقطہ کی طرف لارہے ہیں کہ ہمیں دہشت گردی سے خو دکوبھی بچانا ہے اور سرمایہ کاروں کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو بھی باہر سے سرمایہ کاری یا ملکی سطح پر کاروبار ہوگا اس کا براہ ارست تعلق ملک کی داخلی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے اور اس مسئلہ کو حل کیے بغیر معاشی ترقی یا اس کے اہداف کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
داخلی سکیورٹی کا ایک براہ راست تعلق  ملکی استحکام سے بھی جڑاہوتا ہے ۔دوسری جانب ایک بڑا چیلنج ہمیںنئی نسل یا نوجوانوں کی سطحپر ہورہا ہے جو سوشل میڈیا کو بنیاد بنا کر ایسی مہم کا حصہ بن رہی ہے جو ریاستی نظام میں بھی مشکلات کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ ہماری نئی نسل میں غصہ ، تعصب اور نفرت کا عمل نمایاں ہے ۔ اگرچہ ہم نے سابئر کرائم کی بنیاد پر کچھ پالیسیوں کو ترتیب دیا ہوا ہے مگر اس کے عملی نتائج وہ نہیں مل رہے جو ہمیں ملنا چاہیے تھے ۔ایک دوسرے کے خلاف مذہبی فتوے جاری کرنا او رلوگوں پر ملک دشمنی یا غداری جیسے الزامات سے باہر نکلنا ہوگا اور مسائل کا حل جذباتیت کے بجائے عملی و فکری بنیادوں پر تلاش کرکے ایک مؤثر حکمت عملی کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔اہل دانش کی سطح پر اس نقطہ پر غوروفکر ہونا چاہیے کہ نئی نسل میں کیونکر انتہا پسندی پر مبنی رجحانات بڑھ رہے ہیں او راس کے پیچھے کیا اصل اسباب ہیں ۔کیونکہ جب تک ہم سیاسی حکمت عملی سے آگے نہیں بڑھیں گے مسائل میں اور زیادہ شدت کا پیدا ہونا فطری امر ہوگا۔
 انتہا پسندی اور دہشت گردی کایہ بیانیہ محض اسٹیبلشمنٹ تک محدود نہیں ہونا چاہیے او رنہ ہی اس کی ذمہ داری بھی محض ان ہی پر عائد ہو بلکہ اس کی کامیابی تمام فریقوں سے جڑی ہوئی ہے ۔ میڈیا ، علمی و فکری ادارے ، شاعر ، ادیب، مصنف، صحافی استاد یا وکلاء سمیت دیگر ادارے جو رائے عامہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، سب کو مل کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا اور یہی ہماری حکمت عملی ہونی چاہیے ۔کیونکہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے خلاف بیانیہ اسی صورت میں بنے گا جب ہم قومی سطح پر تمام فریقوں کی مدد سے اس کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرسکیں گے ۔لیکن اگر اس کے برعکس ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ الجھاؤ، ٹکراؤ کا رویہ اپنانا یا ایک دوسرے پر سبقت کے لیے نیچا دکھانا ہے تو پھر کھیل خراب ہی ہوگا۔
یہ بات سمجھنا ہوگی کہ جو بھی انتہا پسند عناصر ہیں یا جو دہشت گردی کو اپنے ایجنڈے کے لیے بطور ہتھیار استعما ل کرتے ہیں ان کی سب سے بڑی طاقت ریاستوں کے داخلی مسائل او رانتشار ہوتے ہیں ۔جب کوئی خلاء رہ جاتا ہے تو اس کا فائدہ  ملک دشمن عناصر اٹھاتے ہیں یا یہ عناصر کسی دیگر ممالک کے آلہ کار بن کر داخلی استحکام کو چیلنج کرتے ہیں ۔ 


مصنف معروف سیاسی تجزیہ نگار اور کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں ۔کئی اہم تھنک ٹینک سے وابستگی رکھتے ہیں اور قومی و علاقائی موضوعات پر دسترس رکھتے ہیں۔
[email protected]


 

مضمون 478 مرتبہ پڑھا گیا۔

سلمان عابد

Advertisements