اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:05
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

علی جاوید نقوی

Advertisements

ہلال اردو

انتشار سے استحکام تک کا سفر

مئی 2024

عوام کواداروں سے لڑانے کی سازش بری طرح ناکام ہوگئی،عوام آج بھی ریاست اورریاستی اداروں کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قوم ہر مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں  افواج پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کاغلط استعمال روکنے ، آزادی صحافت  اورپروپیگنڈے کے فرق کوواضح کرنے کی ضرورت ہے



9 مئی کا سانحہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی، اس سانحے کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے چل رہی تھی، پہلے انتشار پھیلایا گیا، پھر لوگوں کے جذبات کو اشتعال دلا کر  اداروں  کے خلاف اکسایا گیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ اور مبالغہ آرائی پر مبنی بیانیہ  پھیلایا گیا۔انتہائی  شرانگیز  بیانیے سے لوگوں کی ذہن سازی کی کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے  بہت سے شواہد مل چکے ہیں، یہ دن  پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔جو کام ہمارا  ازلی دشمن  نہ کر سکا وہ افسوسناک کام مٹھی بھر شرپسندوں نے کردیا۔ شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی۔وہ شہدا جنہوں نے ہماری خاطر اپنی زندگیاں  اس ملک وقوم پرقربان کردیں۔ بدقسمتی سے 9مئی 2023ء کو طاقت کے ذریعے ریاست کودبانے کی کوشش کی گئی ۔سازش کا جال بچھانے والے چاہتے تھے کہ عوام ریاست کے خلاف بغاوت کردیں اور قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں ۔ ہم جانتے ہیں کسی جمہوری ریاست میں ایسا ممکن نہیں۔
سیاسی مقاصد کے لیے اپنے ہی قومی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا، لوگوں کواشتعال دلا کر توڑپھوڑ اورآگ لگانے کے لیے اکسانا،کس جمہوری ملک میں ایساہوتاہے؟ کیاامریکہ،برطانیہ اوریورپ میں عوام اورسیاسی جماعتوں کویہ آزادی حاصل ہے؟ معاف کیجیے گا یہ آزادی اظہارکامعاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اورآئین کے خلاف عوام کوبغاوت پراکساناہے۔نومئی کو اقتدار کی ہوس نے آئین وقانون کوپاؤں تلے روندڈالا ۔ہمیں معلوم ہوناچاہیے معاملات کوہمیشہ فہم وفراست اورشعورکے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔توڑپھوڑ سے معاملات اورالجھ جاتے ہیں،اپنے جذبات کوکنٹرول میں رکھناچاہیے۔اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ملک کوبہت پیچھے لے جاتی ہے۔کیاہمیں یہ معلوم نہیں؟
اُس وقت کی نگران وفاقی حکومت نے  سانحہ 9مئی سے متعلق کابینہ اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے سانحہ کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا۔ اِن واقعات میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) لاہور جلانے اور جی ایچ کیو میں توڑ پھوڑ کے علاوہ میانوالی، مردان اور کراچی سمیت دیگر کئی شہروں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، پشاور ریڈیو سٹیشن کو بھی جلا دیا گیا جس میں بہت سانادر سامان موجود تھا۔
کسی بھی قوم کے شہدا اس کافخرہوتے ہیں،شہدا ہمارے ماتھے کاجھومر ہیں اورہم ان کے مقروض۔وطن پراپنی جان قربان کرنیوالوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کسی قیمت پرقبول نہیں کی جاسکتی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گھناؤنی سازش تھی جس کامقصد ہی شہدا کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرناتھا۔ شہادت ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جس کے دل میں ایمان اوروطن سے سچی محبت ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شہید کو بے شمار اعزازات سے نوازا ہے۔ قرآن پاک میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتا، بلکہ وہ  تا ابد زندہ رہتا ہے ،  وہ  اپنے پروردگار کا مقرب ہے، اسے اپنے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے، وہ  جنت کی ابدی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ قرآن و سنت میں شہید کے مقام و مرتبے کے حوالے سے جو احکامات ملتے ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ شہید کی عظمت اور شہادت کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے۔ان شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی سمجھ سے بالاترہے۔ریاست کوایسے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے اورقانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہیے۔یہ پوری قوم کامطالبہ ہے ۔
اس دن جو بھی ہوا بہت افسوسناک ہے۔اس کے بہت سے ذمہ داروں نے ان واقعات پرافسوس اورشرمندگی کااظہارکیا۔بہت سے سزا بھگت رہے ہیں اورکئی کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ سیاست وجمہوریت کوعوام کی خدمت سمجھنے کی بجائے اسے ہرقیمت پر اقتدار حاصل کرنے کاذریعہ سمجھتے ہیں۔ مفادپرستوں کے لیے ہرچیز ان کی ذات سے شروع ہوتی ہے اورانکی ذات پرہی ختم ہوجاتی ہے۔انھیں ملک وقوم کے مفاد سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اورنہ وہ آئین وقانون کی بالادستی کے لیے مخلص ہوتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ آئین وقانون کوموم کی ناک کی طرح ان کے حق میں موڑ دیاجائے۔ ہم سب جانتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ماں کواس کی ساری اولاد پیاری ہوتی ہے۔بچوں میں آپس میں اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ماں سب کوایک نظرسے دیکھتی ہے۔تمام ریاستی ادارے آئین وقانون کے پابند ہیں۔ اب اگرکوئی ادارہ کوئی غیرقانونی، غیر آئینی کردار ادا کرنے سے انکار کرتاہے تو اس کے خلاف مہم شروع کرنا اوراپنے حامیوں کواداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کی طرف لے جانا کہاں کاانصاف اورحب الوطنی ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے سیاسی استحکام بے حد ضروری ہوتاہے۔ پالیسیاں چاہے بہت اچھی ہوں لیکن اگرکوئی ملک سیاسی عدم استحکام اورانتشار کاشکارہوگا تووہاں معاشی ترقی اورغیرملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابرہوگی۔ پاکستان میں بعض افراد کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ٹکرائو کی پالیسی کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی۔اس پالیسی اوررویے کوختم ہوناچاہیے۔پاکستان مزید کسی انتشاروخلفشار کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ہمیں اس بات کویاد رکھناچاہے کہ ہم ایک کشتی کے سوار ہیں،کشتی کونقصان پہنچتا ہے تویہ نہیں  ہوسکتا کہ ہمیں نقصان نہ پہنچے۔ مختلف ایشوز پرسوچ اوررائے کامختلف ہونا اور بات  ہے جبکہ ٹکرائو اورانتشار بالکل مختلف اورخطرناک چیزیں ہیں۔ہمارا ایک بڑا مسئلہ ایک دوسرے پراعتماد کی کمی بھی ہے۔بعض اوقات کسی معاملے کویا چھوٹی سی بات کورائی کاپہاڑ بنادیاجاتاہے،بس اب توسب کچھ ختم ہے۔ہماری سیاست کاالمیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں میں برداشت اورسیاسی پختگی  نہیں ہے،ہم میں سے ہرایک یہ سمجھتاہے کہ وہ جوکہہ رہاہے صرف وہی بات ٹھیک  ہے۔ جواس سے آگے پیچھے ہے وہ غلط ہے۔اپنے مخالفین سے ہاتھ ملانے اورمفاہمت کے لیے ہم تیارہی نہیں۔ ہم اپنے کام کوتوٹھیک طرح کرتے نہیں دوسروں کونصیحتیں کرنے اورانکی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کمربستہ رہتے ہیں۔ہم کچھ غلطیاں توخود کرتے ہیں اورکچھ لاشعوری طورپرہوجاتی ہیں۔ہم جانتے ہیں قوم ہر مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں  فوج کی طرف دیکھتی ہے۔قوم کی تمام امیدیں اورتوقعات فوج سے وابستہ ہیں۔ 
سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی نے بھی ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے ،ہمارا سوشل میڈیا جتنا آزاد ہے امریکہ اوریورپ میں اس کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ ملک میں سیاسی انتشار اورافراتفری پھیلانے والوں میں  وہ نام نہاد تجزیہ نگار بھی شامل ہیں جنھیں سیاست، معیشت،خارجہ امور کی الف بے کانہیں پتہ لیکن پاکستان سمیت دنیا بھرکے مسائل کاحل ان کے پاس ہے ۔ماضی میں حکومت کی جانب سے آنکھیں بند کرنے کی پالیسی اورقوانین نہ ہونے کی وجہ سے بھی ان غیرذمہ دار عناصر کوحوصلہ ملا۔ہمارے سامنے بہت سے جمہوری ممالک کی مثالیں ہیں جہاں پہلی ترجیح قومی مفاد ہے۔وطن عزیز کوجوچیلنجز درپیش ہیں ان کاتقاضاہے کہ ملک میں انتشار پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔  
افواج پاکستان اورقانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف جو جنگ لڑرہے ہیں ہمارے سامنے ہے۔ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ہوں یابلوچستان میں دہشت پھیلانے والے گروپ۔سکیورٹی فورسز کے جوان ان کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان ملک وقوم پرنچھاور کررہے ہیں۔ کوئی دن نہیں گذرتا کہیں سے دہشت گردوں کے حملے،فورسز کی جوابی کارروائی اور جوانوں کی شہادت کی خبر نہ آتی ہو۔ہم سکون کی نیند اس لیے سورہے ہیںکیونکہ یہ جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ پوری قوم بہادر سپوتوں اور اْن کے لواحقین کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی قیمتی جانیں ملک کے امن و سلامتی کی خاطر قربان کر دیں۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قربانیوں کایہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔پوری قوم اپنے شہدا پرفخر کرتی ہے اوران کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
یہ ان شرپسند اور ملک دشمن عناصر کی خام خیالی تھی کہ ایسا کرکے وہ عوام کے دلوں سے افواج پاکستان کی محبت کو ختم کردینگے مگر تاریخ نے ایک مرتبہ پھر دیکھا کہ اللہ کی مدد سے ریاست پاکستان اور اس کے محافظ کی عزت و تکریم پوری دنیا میں کم نہیں ہوئی اور الٹا شرپسند اور ان سے جڑی جماعت کو ہی جگ ہنسائی اور شدید تنقیدکا سامنا کرنا پڑا۔
اگر موزانہ کیا جائے پاک فوج نے مخصوص سیاسی جماعت کی قیادت اور اس کے شرپسندوں کے پروپیگینڈوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملکی سلامتی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سوچ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عوامی فلاح کے منصوبوں پر جاری کام پر اپنی توجہ مرکوز رکھی، آرمی چیف کی سربراہی میں پہلے نگران حکومت اور اب منتخب حکومت کے ساتھ ان منصوبوں کو عملی شکل دینے کیلئے مضبوط حکمت عملی تیار کی گئی۔اللہ کے کرم سے آج ریکوڈک منصوبے اور گرین انیشیٹیوپروگرام کے ذریعے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تعاون سے غیر ملکی سرمایہ کارپاکستان میں معاہدے کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بیرون ملک دوروں جن میں سعودی عرب، ایران، ترکی، چین، متحدہ عرب امارات، ازبکستان، کویت، بحرین، برطانیہ، آذربائیجان اور امریکا کے دورے نے نہ صرف ملکی وقار اور قومی تشخص میں اضافہ کیا بلکہ ان دوست ممالک کی جانب سے آرمی چیف کا پرتباک استقبال کیا گیا۔ اسی طرح سعودی و ایرانی وفود کی پاکستان آمد کامیاب خارجہ پالیسی اور ملٹری ڈپلومیسی کی اعلی مثال ہیں۔
دوسری طرف ترقی کی راہ پر گامزن ایک اہم سنگِ میل دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو فعال کرنے کے سلسلے میں نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) نے اسلام آباد اور کراچی سے کاشغر اور شنگھائی تک باقاعدہ کارگو سروس کا آغاز کر دیاگیا۔اس کارگو سروس کے اجرا سے مستقبل میں چین، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے مابین چار ملکی ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدیاور بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ(ٹی آئی آر)کنونشن کے عملی نفاذ کے لیے راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔یہ دونوں معاہدے علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے واضح روڈ میپ متعین کرتے ہیں جو خطے کی مجموعی معاشی ترقی کا ضامن ثابت ہوگا۔
کوئی بھی حکومت یاادارہ کسی کو بھی ریاستی رٹ کوچیلنج کرنے کی اجازت نہیں دیتا،ریاستی رٹ کامطلب ہے آئین و قانون کی حکمرانی ۔اب ذرا تصورکیجیے جس ملک میں قانون کی حکمرانی یاعمل داری نہیں ہوگی وہ ایک جنگل یاوحشی معاشرہ تصور ہوگاجہاں طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پراپنی مرضی کرتاپھرے گا۔ نو مئی کوصرف جلاؤگھیراؤ نہیں کیاگیابلکہ ریاستی رٹ کوچیلنج کیاگیا۔اس کے پیچھے سیاسی مقاصد تھے کہ حکومت کودباؤمیں لاکرمن مانی کی جائے۔دنیا بھرمیں احتجاج ہوتاہے تحریکیں چلتی ہیں لیکن کہیں بھی ریاستی رٹ کوچیلنج نہیں کیاجاتا۔احتجاج کرنا جمہوری حق ضرور ہے لیکن کسی کوبھی احتجاج کرنے کاحق آئین وقانون کے اندر رہ کرحاصل ہے۔اگرریاستی رٹ کوقائم نہ رکھاجائے توملک انتشار کاشکارہوجائے گا۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیوں ہورہاہے؟اس لیے کہ دہشت گرد ریاستی رٹ کوچیلنج کررہے ہیں۔ وہ پاکستان کے آئین وقانون کونہیں مان رہے اپنی مرضی چلاناچاہتے ہیں ،اب اگرکوئی گروپ سیاسی جماعت کے لبادے میں ملک پرقبضہ کرنے اوراپنانظام رائج کرنے کی کوشش کرے توکیاریاست کوخاموش تماشائی کاکردارادا کرناچاہیے؟ پوری دنیا میں یہ ہی جواب ہوگا، ہرگز نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ قانون شکنی کرنیوالوں سے نمٹے اورانہیں کچل دے۔اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کادستوربھی یہی کہتاہے کہ چند افراد طاقت کے بل بوتے پرکسی ریاست یامعاشرے کویرغمال نہیں بناسکتے،دوسروں کی آزادی سلب نہیں کرسکتے ۔9 مئی کاسانحہ ریاستی رٹ کوچیلنج کرنے کامعاملہ تھا ،جولوگ بھی اس میں ملوث ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔پوری قوم ریاست اورریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

مضمون 725 مرتبہ پڑھا گیا۔

علی جاوید نقوی

Advertisements