اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 12:12
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

چولستان۔ایک قیمتی ورثہ

اپریل 2024

چولستان میں روہی کلچرل فیسٹیول اور 19ویں انٹرنیشنل جیپ ریلی کا انعقاد

 گزشتہ 19 سال سے ہر سال فروری کے مہینے میں پاکستان کی سب سے بڑی جیپ ریلی صحرائے چولستان میں قلعہ دراوڑ کے نزدیک منعقد ہوتی ہے ۔اب اس ریلی کو 5روزہ '' روہی فیسٹیول '' کا نام دے دیا گیا ہے ۔  20فروی سے شروع ہونے والی انٹرنیشنل جیپ ریلی اورر وہی کلچرل فیسٹیول 5روز تک جاری رہا ۔ ریلی کا آغاز قلعہ دراوڑ کے قریب '' دلواش سٹیڈیم ''سے ہو ا جبکہ روہی فیسٹیول کا آغاز بہاولپور لائبریری کمپلیکس میں غلام فرید سیمینا رسے ہوا ۔ پہلے مرحلے میں ٹی ڈی سی پی ریزورٹ پر گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیااور بعد میں ٹیکنیکل انسپکشن کے مرحلے سے ہر گاڑی کو گزارا گیا۔ اس کے بعد ریسرز اور نیو یگیٹرز کی کانفرنس اور طبی معائنہ کیا گیا۔ جس کے بعد جیپ ریلی کا با قاعدہ آغاز ہوا ۔ ریس کے دوران کچھ گاڑیوں کو حادثے سے بھی دوچار ہونا پڑا اور کچھ گاڑیاں حادثے کا شکار ہو کر مقابلے سے باہر بھی ہوئیں۔ یاد رہے کہ اس جیپ ریلی کا ٹریک تقریباً500کلو میٹر طویل ہے جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹریک ہے ۔ اس جیپ ریلی اور روہی کلچرل فیسٹیول میں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں نے شر کت کی اور لطف اندوز ہو ئے ۔ اس ریلی کا مقصد صحرا میں دھول اڑانا اور مہنگی جیپیں دوڑانا نہیں ہے بلکہ پاکستان کے اس سب سے بڑے صحرا اور اس کے منفرد کلچر ،آثار قدیمہ اور صحرائی کھیلوں سے دنیاکو متعارف کروانا بنیادی مقصد ہے۔ 



اس جیپ ریلی کی کامیابی کو دیکھتے ہو ئے اب تھل ریلی ،حب ریلی، تھر ریلی اور بلتستان میں سرفارنگا ریلیوں کا انعقاد بھی باقاعدگی سے ہونے لگا ہے ۔ چولستان ڈیزرٹ ریلی میں شامل ہو نے کے لیے سیاح بڑی تعداد میں اندرون و بیرون ممالک سے چولستان آتے ہیں اور صحرائی ثقافت، بود و باش ، آثار قدیمہ اور یہاں کی جنگلاتی زندگی سے متعارف ہو تے ہیں ۔ ایک ہفتہ جاری رہنے والے اس فیسٹیول کی کا میابی اس بات سے عیاں ہے کہ جب یہ فیسٹیول شروع ہوتاہے تو پورے ملک کی نظریں صحرائے چولستان پر مرکوز ہو جاتی ہیں لیکن بد قسمتی سے بہت کم لوگ اس صحراسے متعلق مکمل معلومات رکھتے ہیں ۔ 
پاکستان کو جہاں قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازاہے وہیں پہاڑوں ، دریائوں ، جھیلوں اور سمند ر کے سا تھ ساتھ چمکتے دمکتے پانچ وسیع و عریض صحرائوں سے بھی نوازا ہے۔ان صحرائوں میں خاران ،تھل ، تھر، سرفارنگا اور چولستان شامل ہیں ۔ چولستان پاکستان کا سب سے بڑا صحرا ہے جو25ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔ چولستان کا نام ترکی زبان کے لفظ ''چول''سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ''ریت'' ۔ اس صحرا کا شمار دنیاکے بڑے صحرائوں میں ہوتا ہے۔ اس صحراکا طول چار سو اسی کلو میٹر جب کہ عرض ایک سو بانوے کلو میٹر ہے ۔ صحرائے چولستان پاکستان کے مشرقی حصے سے لے کر مغرب تک پھیلی ہوئی ایک قوس کی مانند ہے۔ اس کے شمال میں دریائے ستلج ، جنوب میں دریائے سندھ جبکہ مشرق اور جنوب میں اس کے آخری کنارے بھارت کے زیر انتظام صحرائے راجستھان سے جا ملتے ہیں ۔ صحرائے چولستان کا مکمل رقبہ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یارخان کی اضلاع کی حدود میں آتا ہے ۔ یہ صحرا بہاولپور سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے لیکن اس صحرا میں داخل ہو نے کے آٹھ مختلف راستے ہیں۔ یہ تمام راستے کچے اور زرعی علاقوں سے شروع ہو تے ہیں۔ ان آٹھ راستوں میں سے پہلا راستہ فورٹ عباس سے نکل کر پھلٹرہ اور شکار گاہ سے ہوتا ہوا چولستان میں داخل ہوتا ہے ، دوسرا راستہ بھی فورٹ عباس سے ہی شروع ہو کر لان اور لارن سے ہوتا ہوا چولستان میں داخل ہوتا ہے ، تیسرا راستہ مروٹ سے نکل کر رانا بھانا سے ہوتا ہو ا چولستان کی طرف جا نکلتا ہے، چوتھا راستہ بہاولپور سے نکل کر کڈوالا سے ہوتا ہوا چولستان کی طرف نکلتا ہے ، پانچواں راستہ منڈی یزمان سے ہوتا ہوا چنن پیر اور دراوڑ قلعے کو ملاتا ہو ا چولستان جا نکلتاہے، چھٹا راستہ منڈی یزمان سے نکل کر بجنوٹ سے ہوتا ہوا چولستان کی طرف جا نکلتا ہے ، ساتواں راستہ احمد پور شرقیہ اور شاہی والا سے ہوتا ہوا چولستان داخل ہوتا ہے ، آٹھواں راستہ رحیم یار خان سے گلمرگ کے راستے اسلام گڑھ کی جانب سے چولستان میں داخل ہوتا ہے ۔ 
ان تمام راستوں پر 29 قدیمقلعے ایک زنجیر کی مانند واقع ہیں۔ ان قدیم قلعوں میں سے لوگ زیادہ تردراوڑ فورٹ سے ہی متعارف ہیں جس کے نزدیک سے چولستان جیب ریلی شروع ہو تی ہے لیکن بہت کم لوگ جا نتے ہیں کہ اس دراوڑفورٹ کے قریب ہی جیپ ریلی روٹ پر دو مزید اہم قلعے دین گڑھ اور عمر فورٹ بھی واقع ہیں۔ ان کے علاوہ قلعہ پھلٹرا، قلعہ مروٹ ، قلعہ جام گڑھ ، قلعہ مو ج گڑھ ، قلعہ مبارک پور ، قلعہ فتح گڑھ امروکہ ، قلعہ میر گڑھ، قلعہ خیر گڑھ، قلعہ بہاول گڑھ، قلعہ سردار گڑھ، قلعہ مچھلی، قلعہ قائم پور، قلعہ میرہ والا، قلعہ چانڈہ کھانڈو، قلعہ خان گڑھ، قلعہ رکن پور، قلعہ لیارا صادق آباد، قلعہ کنڈیرا، قلعہ سیوارہی، قلعہ صاحب گڑھ، قلعہ ونجھروٹ، قلعہ دھویں، قلعہ اوچ، قلعہ تاج گڑھ، قلعہ اسلام گڑھ، قلعہ مئو مبارک اورقلعہ ٹبہ جیجل بھی اسی صحرائے چولستان میں واقع ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ بہت سی تاریخی عمارتیں، محلات اور مزارات آج بھی موجود ہیں اور بہت سی عمارات کا وجود اب ختم بھی ہو چکا ہے ۔ چولستان میں سب سے متبرک مقام قلعہ دراوڑ کے قریب ایک مزار موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے وہاں بعض صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم مدفون ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ چاروں صحابہ کرام تبلیغ دین کے لیے رسول پاکۖ کی زندگی میں اس علاقے میں آئے اور ایک معرکے میں چاروں شہید ہو گئے ۔
صحرائے چولستان میں متعد دمقامات پر ایسے ٹیلے موجود ہیں جنہیں مقامی لوگ''ٹھیٹر'' کہتے ہیں۔ ان ٹیلوں سے چولستانی، بارشوں اور آندھیوں کے بعد قدیمی سکے ، برتن اور نایاب اشیاء ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ قلعہ دین گڑھ یزمان شہر سے 25کلو میٹر کے فاصلے پر صحرا کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ یہ ایک ایسا قلعہ ہے جس پر بارشوں کے بعد چولستانی بڑی تعدا د میں کھدائی کر تے نظر آتے ہیں ۔ قلعہ دین گڑھ اور عمر کوٹ فورٹ کی کھنڈارت ہو تی عمارات شاندار ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ ماضی میں دین گڑھ قلعے کو مقامی لوگ ''تر ہاڑ'' کہا کرتے تھے جو بعد میں بگڑ کر دین گڑھ بن گیا۔ اسے 1757ء میں بہادر خاں حالانی نے بنایا جبکہ دوسری روایت میں اسے معروف کہرانی کے بیٹے نے 1765ء میں تعمیر کیا تھا اور اس کے مرنے کے بعد اس کے چچا زاد خدابخش نے مکمل کروایا تھا ۔اس کی اندرونی دیواریں کچی مٹی سے بنی ہوئی ہیں جبکہ بیرونی دیواریں پکی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں۔ اس کا صدر دروازہ ابھی باقی ہے جسے محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ ایک شاندار قلعہ تھا جس کی دیواریں 28فٹ تک بلند اور چاروں کونوں پر گول خوبصورت برج بنے ہو ئے تھے۔ اب صرف دو برج کسی حد تک باقی ہیں جب کے باقی دو تباہ ہو چکے ہیں۔ اس قلعے کے اند ربڑی تعداد میں پختہ کمروںاور تہہ خانوں کے آثار آج بھی مو جود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قلعہ کسی زمانے میں رہائش اور فو جی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے ۔ 
کہاجاتا ہے کہ کسی زمانے میں دریائے ہاکڑہ ان دونوں قلعوں کے نزدیک بہتا تھا جس کی وجہ سے یہاں تجارتی قافلے دور دراز سے آتے تھے ۔ دریائے ہاکڑہ کے خشک ہونے کے باعث یہ دونوں قلعے اُجڑ گئے جبکہ دین گڑھ  قلعے کے ساتھ ہی ''دین گڑھ'' گائوں آج بھی آباد ہے ۔ اگر حکومت توجہ دے تو اس قلعے کو ازسرنو تزئین و آرائش کر کے اسے سیاحت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ سیاحوںاور نئی نسل کو چولستان کے قدرتی مناظر،  معاشرتی اور ثقافتی ورثے سے روشناس کروانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس جانب ٹھوس اقدامات کرے تاکہ یہ قیمتی ورثہ تباہ ہونے سے بچ سکے ۔ 


مضمون نگار سماجی اور علاقائی موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]