اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 21:57
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

وادیٔ شوال اور معرکہ انگور اڈہ کاہیرو

اپریل 2024

کمانڈو میجر شجاعت حسین شہید (ستارہ بسالت)
انہوں نے'' ایس ایس جی ضرار ''کی شاندار روایت برقرار رکھی

شہید ِراہ وفا میجر شجاعت حسین وطن عزیز کے ایک ایسے جانبازاور سبزہلالی پرچم کے رکھوالے تھے جنہوں نے میدانِ کارزار میں وہ کارہائے نمایاںسرانجام دیئے جن پر قوم کوہمیشہ فخررہے گا۔ان کا نام بھی ''شجاعت'' تھا اور انہوں نے اپنے کردار سے بھی شجاعت ثابت کی۔بلاشبہ ان کی داستانِ شجاعت کو محفوظ کرنے کے لیے دوچار صفحات نہیں ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔میں یہ بات محض رسمی طور پر نہیں بلکہ حقائق کی بنیادپر کہہ رہاہوں کہ ایسے بہادر بیٹے مائیں روز روزپیدانہیں کرتیں۔ ایس ایس جی( ضرار )اپنے اس مایہ ناز سپوت پر قیامت کی صبح تک فخرکرتی رہے گی اور اس کے جنگی کارناموں سے نئے آنے والے کمانڈوز کو آگاہ کر کے ان کی صلاحیتوں کو نکھارتی رہے گی۔



 انگور اڈہ میں جب وہ اکیلے دہشت گرد وں کے گھیر ے میں آئے تو انہوں نے بزدلی دکھانے کے بجائے ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کافیصلہ کیا۔ ڈرون آپریٹر کہتا ہے کہ ابھی QRFکچھ پیچھے ہے آپ کو تنہا ہی ان سے نمٹنا ہوگا۔انہوں نے کمال مہارت اور جرأت سے 9دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا اور دیگر کو د ُم دباکربھاگنے پر مجبور کردیا۔ جب کیو آر ایف میجر شجاعت کے پاس پہنچی تو دیکھا کہ ان کے سرپر گولی لگ چکی تھی ،وہ زندہ تھے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے، ایک ہاتھ میں گن تھی اور دوسرا ہاتھ زخم کے او پر رکھا ہوا تھا۔دودہشت گردوںکی لاشیں ان کے قریب اور باقی دہشت گردوںکی لاشیں کچھ فاصلے پرپڑی ہوئی تھیں ۔یہ دہشت گرداسی مرد مجاہد کی ''ضرب ِ کاری''کانشانہ بنے تھے۔ یوں انہوں نے دوبدوایک موذی دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کا خاتمہ کیا اور اپنی جان دھرتی پر فدا کردی۔انہوں نے ہیڈ انجری کے باوجود خون کے آخری قطرے تک دہشت گردوں سے مقابلہ جاری رکھا۔
انہیں بہادری ورثے میں ملی تھی اورجب وہ پاک فوج کے قافلہ سخت جاں ''سپیشل سروسز گروپ'' میں شامل ہوئے توپاک فوج نے اس ہیرو کی فطری صلاحیتوں میں مزید نکھارپیدا کردیا۔ دھرتی کے اس خوبصورت جوان نے مورخہ30مارچ 1992ء کو چک نمبر 270( گ ب) کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں طالب حسین کے آنگن میں آنکھ کھولی۔میجر شجاعت حسین شہید کے والد گرامی اور عظیم ماں جب اپنے اس لاڈلے کی داستان بیان کرتے ہیں تو ان کے جذبہ حب الوطنی کو سلام ِ عقیدت پیش کرنے کوجی چاہتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جس گھڑی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بیٹا عطا فرمایا ایسا محسوس ہوتا تھاکہ ہمارے آنگن میں ایک چاندسا اتر آیاہو۔
شہید کے والد جناب طالب حسین نے ''ہلال ''سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے بیٹے کانام رکھنے کے لیے بہت مشورے  کیے تھے ۔استخارہ کیا اورپھر اس کا نام شجاعت حسین رکھا۔میجرشجاعت شہید کی شادی ڈاکٹرلاریب ماروی کے ساتھ ہوئی جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی عطا فرمائی۔ میجر شجاعت نے ابتدائی تعلیم کمالیہ میں سردار تعمیر ملت سکول سے حاصل کی۔ ان کے تایابر یگیڈیئر غلام قادر کیڈٹ کالج پٹارو کے تعلیم یافتہ تھے 'چنانچہ انہوں نے اسے آٹھویں جماعت میں کیڈٹ کالج پٹارو میں داخل کروادیا۔ جہاں سے انہوں نے ایف ایس سی پری  انجینئرنگ میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کی ۔وہ کیڈٹ کالج پٹاروکٹ نمبر 5179 کے تحت بہترین ایتھلیٹ،کرکٹر،فٹ بالر، کمانڈر گارڈ اور کیپٹن رائیڈ نگ ٹیم تھے ۔شجاعت حسین نے 2010میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا ۔ان کا تعلق 126پی ایم اے لانگ کورس سے تھا۔ پاس آؤٹ ہونے کے بعدوہ سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پروزیرستان میں اپنی یونٹ ، بلوچ رجمنٹ کا حصہ بنے۔ انہوں نے آپریشن ضرب عضب میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔بعد میں انہوں نے ایس ایس جی کو ترجیح دی اور کمانڈو ٹریننگ کے بعد ''ایس ایس جی کمانڈ و یلغار'' میں شامل کر لیے گئے ۔ان دنوں وادی شوال میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے جوان سینہ سپر تھے اور انہیں خطرناک دہشت گردوں کاسامناتھا۔اس تنگ اور پُرپیچ وادی کا آدھا حصہ شمالی وزیرستا ن اورآدھا حصہ جنوبی وزیرستان میں واقع ہے۔اس دشوار گزار علاقے میں آئے روز پاک فوج کے افسر اور جوان شہادتیں پیش کررہے تھے۔ یہاں دو پہاڑی سلسلے ''پر ے غر ''اور ''پشن زیارت''میں واقع خطرناک غاروں اور ندی نالوں میں دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ ا ن حالات میں عسکری قیادت نے سپیشل سروسز گروپ کو یہ ٹاسک سونپا اور اس مشن کی کمانڈ میجر شجاعت حسین کو دی گئی کہ وہ اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کروائیں۔انہوں نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنے 30 کمانڈ وز کے ہمراہ یہ علاقہ دشمنوں کے قبضہ سے چھڑانے کا فیصلہ کیا۔ انہیں انفنٹری کے 300 جوانوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ان فوجی دستوں میں انفنٹری کی دویونٹس  اور ایک آرٹلری یونٹ موجود تھی۔
واضح رہے کہ وادی شوال کا معرکہ'' جنگ ضرب عضب ''کا آخری فیصلہ کن معرکہ تھا ۔ دونوں اطراف سے سخت جنگ کی تیاریاں مکمل تھیں، موسم بہت سخت تھا۔ دہشت گردو ںنے پہاڑوں پر جانے والے تمام راستوں کو بارودی سرنگوںکے ذریعے اپنے لیے محفوظ کیا ہوا تھا اور پہاڑی کے نیچے تمام راستوں پر پہرہ دار بٹھائے ہوئے تھے تا کہ مقابلہ کی صورت میں پہاڑی چوٹی پر موجود دہشت گردوں کو پتہ چل جائے کہ پاکستان آرمی ان کی طرف آرہی ہے۔ شجاعت حسین کو آرڈر دیا گیا کہ اس علاقے کو طالبان سے خالی کروانا ہے۔اس آپریشن کی کمانڈ شجاعت حسین کو سونپی گئی۔انہوں نے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے جنگی حکمت عملی ترتیب دی اور عام راستوں سے بالکل ہٹ کر مشکل ترین راستوں کے ذریعے ان بلند و بالا پہاڑوں پر چڑھ کر مورچہ زن دشمن کی جانب بڑھنے لگے ۔انہوں نے کئی کلومیٹر کایہ کٹھن اور مسلسل چڑھائی کا سفر رات کے اندھیرے میںطے کیا اور دہشت گردوںکے سرپر جاپہنچے اور کسی شاہین کی طرح جھپٹ کر 60سے زائد دہشت گردو ں کوہلاک کردیا۔ ان کایہ وار اس قدر اچانک اور کاری تھا کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔انہوں نے اپنے جری صفت جوانوں کے ہمرا ہ ایک مشکل جنگ لڑتے ہوئے یہاں سے دشمنوںکامکمل صفایا کردیا اورتقریباً 650مربع کلومیٹر کاعلاقہ دہشت گردوںکے چنگل سے آزاد کروایا۔ پورے آپریشن میں کمانڈوز ، جوانوں کے ہاتھوں700کے قریب دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے۔ شجاعت حسین اورا ن کے بہادر جوانوں نے وطن دشمنوں کو ندی نالوں، غاروں میں گھس کرجہنم واصل کیا اورا نہیں چن چن کرنشانہ بنایا۔ ایک رات چند دہشت گرد پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان نکلنا چاہتے تھے۔شجاعت حسین نے انہیں رو کا ، زبردست لڑائی ہوئی جس کے نتیجہ میں آٹھ ملک دشمن مارے گئے اور ایک سپاہی شہید ہو گیا۔شجاعت اپنے سپاہی کے جسد پاک کو اٹھا کر واپس لائے توانہیں کہاگیاکہ آپ نے میدان جنگ سے جوان کا جسد خاکی اٹھا کر ایک بہت بڑا رسک لیا اس سے آپ کی اپنی جان بھی جا سکتی تھی۔ان کاجواب تھا کہ میرے ضمیرنے گوارا نہیں کیاکہ میں اپنے سپاہی کا جسد خاکی دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑدوں اور وہ اس کی بے حرمتی کرے۔ ''
وادی شوال کی فتح کے بعد پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے شجاعت حسین کی عمدہ کارکردگی کوسراہتے ہوئے انہیں'' ایس ایس جی ضرارکمپنی''میں شامل کرلیا۔ واضح رہے کہ ضرار کمپنی کے کمانڈو زدنیا بھر میں اپنی بے پناہ دلیری کی وجہ سے مشہورہیں۔ ایس ایس جی ضرار کے نڈر سپوت ''فتح یا شہادت''کا نعرہ لگاتے ہوئے دشمن کی جانب بڑھتے ہیں اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔شجاعت حسین نے'' ایس ایس جی ضرار''  کے مختلف کورسز میںنمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ وہ ہمیشہ خطرات سے کھیلتے اور دہشت گردوں کے خلاف ہر کارروائی میں آگے رہتے ۔ میجر شجاعت کے ساتھی ان کے جو کارنامے بیان کرتے ہیں وہ سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن بہت سی باتیں ایسی ہیں جنہیں وطن کے مفاد کی خاطرمنظرعام پر نہیںلایا جاسکتا۔میجر شجاعت حسین نے دہشت گردوںکے اس بیس کیمپ میں جانبازی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ 27اگست2015ء کو وادی شوال کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروایا گیا۔ اس سے تین دن بعد میجر شجاعت اورنائیک نزاکت حسین گھاس پر سوئے ہوئے تھے کہ نائیک نزاکت نے پہلو بدلا اور ایک بارودی سرنگ بلاسٹ ہو گئی جس سے نائیک نزاکت موقع پر جام شہادت نوش کر گیا۔یوں موت کئی مرتبہ میجرشجاعت کو چھو کر گزر گئی لیکن انہیں خوفز دہ نہ کر سکی ۔ان کے فوجی ساتھی بتاتے ہیں کہ میجر شجاعت شہید کو انٹیلی جنس رپورٹ ملی کہ16 دہشت گردوں کا ایک گروہ 11اور12اپریل2022ء کی درمیانی شب انگور اڈہ کے قریب بارڈر باڑ کو کاٹ کر پاکستان میں داخل ہونے کی تیاری کررہاہے۔میجر شجاعت شہید اس وقت نزدیک ترین ''چیک پوسٹ '' کے انچارج تھے،انہوں نے ان دہشت گردوں کاراستہ روکنے کافیصلہ کیا۔شہیدمیجرنے اپنے کمانڈوزکوتیارکیا۔تین کوچوکی کی حفاظت کے لیے چھوڑا،تین کمانڈو زاپنے ساتھ لیے اور باقی دس کمانڈوز کو اپنے فا لواَپ میں رکھا۔ اس خطرناک آپریشن میں میجر شجاعت حسین کو رات کے اندھیرے میں ڈرون گائیڈ کر رہا تھا۔ انہیں بتایا جا رہاتھا کہ انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد تین تین کی لائنوں میں ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے پہلی قطار کے تینوں دہشت گردوںکو جہنم واصل کیا۔اس دوران میجر شجاعت کو بتایا کہ باقی دہشت گردی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں میجر شجاعت نے ان کاپیچھا کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کافیصلہ کیا۔اب دشمن پسپا ہور ہاتھا اور میجر شجاعت ان پر شاہین کی طرح جھپٹ رہے تھے۔یہ کل 16دہشت گرد تھے جن میں سے 9کو میجر شجاعت حسین نے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا اورباقی سات دہشت گردزخمی حالت میں فرار ہوئے۔ان کے ساتھی نے بتایا کہ میجر شجاعت حسین اپنی جان بچاناچاہتے اوردشمن کوجانے دیتے تو وہ بھاگ چکاہوتا اور میجر کی جان بھی بچ جاتی لیکن انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ دشمنو ں کویوں آسانی کے ساتھ فرار ہونے کا موقع دیاجائے۔ انہوں نے اپنی وردی اور بہادر فورس'' ایس ایس جی ضرار''کی شاندار روایت کو برقرار کھا اور پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا۔بلاشبہ میجر نے وہی فیصلہ کیا جو ہمیشہ عظیم جنگجو اپنی دھرتی کی بقا کی خاطر کیا کرتے ہیں۔شہید کے والدجناب طالب حسین،والدہ محترمہ ثریا پروین ، بیوہ ڈاکٹر لاریب ماروی اور ان کی معصوم بیٹی کا دُکھ دیکھا نہیں جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑے صبر اور استقامت سے بھی نوازا ہے ۔شہید کا یہ خاندان آج بھی فخر کرتاہے اور جب بھی ان کے سامنے کوئی میجر شجاعت کاتذکرہ چھیڑتاہے تو وہ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سپوت کی داستانِ شجاعت کو بڑی وارفتگی کے ساتھ بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔دعاہے اللہ تعالیٰ پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے اور شہید کے درجات بلند فرمائے۔آمین  
شہید ِ وطن میجر شجاعت حسین کی نمازجنازہ12اپریل2022ء کو آبائی گائوں چک نمبر270(گ ب)کمالیہ میں اداکی گئی اور پاک فوج کے مستعد دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔شہید کی جرات ِ رندانہ اوربہادری کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں'' ستارہ بسالت'' عطا کیا۔23مارچ2023ء کو شہید کی بیوہ ڈاکٹر لاریب (ماروی) نے یہ اعزاز وصول کیا۔
مضمون نگار شعبہ صحافت کے ساتھ منسلک ہیں
[email protected]