اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 11:23
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

ہوئے جو وطن پہ نثار

اپریل 2024

وقت کے ساتھ ساتھ ہر جذبے اور احساس میں تبدیلی رونما ہوئی ہے لیکن جذبہ حب الوطنی ایسا جذبہ ہے کہ زندگی کتنی بھی مشکل یا مشینی کیوں نہ ہوجائے اس جذبے کی شدت اور اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے، جتنی صدیوں پہلے تھی۔ یہ جذبہ کسی قوم کو ایک لڑی میں پرو کر ہرمشکل کو آسانی سے گزار سکتا ہے۔ اسی جذبے سے جنگیں جیتی جاتی ہیں اور اگر یہی جذبہ انسانوں میں ناپید ہو جائے توملک ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت ہم نے اپنے سے دو گنا بڑے دشمن کا مقابلہ 1965 میں کیا اور اسی جذبے کو لے کر ہم آج دہشت گردی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ آج بھی ہمارے لوگ اور افواج اسی جذبے کے ساتھ ان دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں اور شہادت جیسے عظیم مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں۔ اس جنگ میں ہماری افواج پہلی صف میں کھڑی ہیں اور ان افواج میں ہمارے جوان کسی طور پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہ نوجوان فوجی ہر جذبے کو پس پشت ڈال کر جذبہ حب الوطنی پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔



کیپٹن محمداحمدبدربھی ایک ایسے ہی نوجوان آفیسرتھے جنہوں نے اپنے ملک و قوم کو بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا نہ کی اور اس فرض کی راہ میں شہادت کو اہمیت دی۔ اس وقت یہ بھی نہ سوچا کہ وہ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں اور والدین کا آخری سہارا ہیں، وہ بوڑھے والدین جنہوں نے کئی سال ان کی پیدائش کا انتظارکیا، جو بہت دعائوں کے بعد ان کی جھولی میںآیا تھا،جس کی پیدائش پر ان کے والد جو کہ خود بھی آرمی آفیسر تھے کو ہر ایک نے مبارک باد دی۔ یہ بیٹا اپنی ماں کا اس قدر لاڈلا تھا کہ وہ چھٹی جماعت تک اُسے خود جوتے پہنا کر سکول بھیجتیں ، اس پر سختی نہ کبھی ماں نے کی اور اور نہ کبھی باپ نے کی۔ 



اُنہیں فوج میں جانے کا جذبہ اپنے باپ سے ورثے میںملا۔ احمد بدر نے اپنی زندگی میں فوجی بننے کے علاوہ اور کوئی آپشن رکھا ہی نہیں تھا۔ ان کا مقصد صرف فوج میں جانا تھا۔اسی لیے تعلیم بہت محنت سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم اے پی ایس راولپنڈی سے حاصل کی۔ 2015 میں میٹرک کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا اور 2017 میں ایف ایس سی کیا۔2018میں141ویں لانگ کورس میں شامل ہوئے اور2020 میں پاس آئوٹ ہوئے ان کی پاسنگ آئوٹ کی تقریب میں والدین کرونا کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے جس پر احمد بدر کو بہت افسردگی ہوئی، ان کی خواہش تھی کہ ان کے والدین پی ایم اے میں آتے اور اس جگہ کو دیکھتے۔ ان کی بہن عزیٰ بدرجو کہ آرمی میڈیکل کور میں لیفٹیننٹ کرنل ہیں، نے بتایا کہ احمدبدر کہتا تھا کہ میں امی ابو کوپاسنگ آئوٹ کے موقع پر پی ایم اے لے کر جائوں گا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔عزیٰ بدر نے بتایا کہ احمدبدر ہمارا ایسا بھائی تھا جسے اپنے گھر سے بھی بہت لگائو تھا۔جب بھی چھٹی ملتی فوراً گھر آتا ۔ میں اگر اُسے کہتی بھی کہ احمد کبھی دوستوں کے ساتھ بھی کوئی پروگرام بنایا کرو، کہیں گھومنے جایا کرو تو ہمیشہ کہتا کہ نہیں مجھے گھر ہی جانا ہے، امی سے ملنا ہے، ان کے ہاتھ کے بنے کھانے کھانے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گھر کے اتنے کام ہیں وہ بھی کرنے ہیں۔ احمد بدر کی بہن کہتی ہیں کہ اسے ہر وقت گھر کے کاموں کی فکر ہوتی کہ فلورنگ کروانی ہے، ڈرائنگ روم کے صوفے تبدیل کرنے ہیں وغیر ہ۔ گھر میں موجود گاڑیوں کی بھی ہر ممکن دیکھ بھال کرتا، گاڑیوں اور الیکٹرونکس کا بہت شوق تھا اپنے والد کو بلاناغہ کال کرتا ۔ احمد بدر کی  سب سے چھوٹی بہن مریم بدر کے ساتھ بہت دوستی تھی۔ دن میں ایک بار اسے ضرور کال کرتا۔ اپنی ہر بات مریم سے ہی شیئر کرتا۔



مریم بدر اپنے بھائی کے پی ایم اے کے دنوں کو یاد کرکے بتاتی ہیں کہ شروع میں انہیں یہ بتایا گیا کہ پی ایم اے کی ٹریننگ بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ فوج جوائن نہیں کرے گا۔ فوج میں جانے کا اسے شوق ہی نہیں جنون تھا۔ بچپن میں بڑی بہن احمد بدر کو پڑھاتی تھیں۔ جب ان کی شادی ہوگئی تو احمد انہیں کہتا کہ آپ میرے پاس آکر بیٹھ جائیں پڑھ میں خود لوں گا، مریم بتاتی ہیں کہ محلے کے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب سے دوستی تھی۔ احمد کے شوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے مریم نے بتایاکہ بھائی کو فوٹو گرافی کا بہت شوق تھا، جب وقت ملتا قدرت کے شاہکاروں کو اپنے کیمرے میں قید کرتا۔ اس کے علاوہ گیمز اور موبائل فونز میں بھی کافی دلچسپی تھی۔
احمدبدر شہید کی والدہ کہتی ہیں کہ بدر میرے بنائے ہوئے کھانے بہت شوق سے کھاتا تھا۔خاص طور پر لال لوبیا اور ماش کی دال اسے بہت پسند تھی۔ میٹھے میں سویاں بہت پسند تھیں۔ کولڈڈرنکس بالکل نہیں پیتا تھا، کہتا یہ صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ والدہ نے بتاتاکہ میرا بیٹا کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوا۔ کوئی بات بُری لگتی بھی تو بُرا نہیں مانتا تھا، بہت جلدی بھول جاتا۔ عزیٰ بدر بھی کہنے لگیں کہ میں اگر فون پر اُسے ڈانٹ دیتی اور فون بند کردیتی تو فوراً دوبارہ کال کرکے بات کرتا۔ ہمیں کبھی ناراض نہیں رہنے دیتا تھا۔ کچھ عرصے سے شہید ہونے کی باتیں بھی زیادہ کرنے لگا تھا۔ اکثر کہتا کہ مرنا تو سب نے ہے اگر شہادت کی موت مل جائے تو اس سے زیادہ اچھی کیا بات ہے۔
ایک دن اس کے دوست لیفٹیننٹ سالار کی کال آئی تو اس نے آنے کا پوچھا تو کہنے لگا کہ میں جہاں ہوں وہاں سے شہید ہو کر ہی آئوں گا۔ عزیٰ بدر کہتی ہیں اسے ہرکام کی جلدی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے سارے کام جلدی جلدی ہو جائیں۔ ابھی اس کی چیزوں میں سے اس کی ایک ڈائری بھی ملی جس یں اس نے ایک Things To Do کی لسٹ بنائی ہوئی تھی۔ اس لسٹ میں بیس کام لکھے ہوئے تھے جن میں سے چار اس نے اس آخری چھٹی میں مکمل کیے تھے۔ عزیٰ نے بتایا کہ یونٹ میں سب اسے بدر کے نام سے بلاتے تھے۔ میر علی میں پوسٹنگ کے دوران احمد بدر پر دو بار پہلے بھی حملہ ہوا تھا جن میں اُس نے نہ صرف خود کو بچایا بلکہ حملہ آور کو ٹارگٹ بھی کیا۔ 16 مارچ 2024کی صبح میر علی پوسٹ پربارود سے لدی گاڑی دیوار سے ٹکرائی جس سے یونٹ کے کمرے تباہ ہوگئے۔ وہاںموجود کچھ لوگ ملبے تلے دب گئے جبکہ لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی اور کیپٹن احمد بدر وہاں سے نکل کر دہشت گردوں کے آگے سینہ سپر ہوگئے اور کافی دیر اپنی فائرنگ سے دہشت گردوں کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ اسی فائرنگ کے تبادلے میں یہ دونوں آفیسر شہید ہو ئے۔ شہید کیپٹن احمد بدر کو سینے پر گولیاں لگیں جن سے ان کی شہادت ہوئی۔
کیپٹن احمد بدر شہید کے والد لیفٹیننٹ کرنل(ر) بدر بتاتے ہیں کہ میں پنوں عاقل میں تھا جب میرے ایک دوست بریگیڈیئر عرفان بٹ نے کال کرکے بتایا کہ ٹی وی پر ایک خبر چل رہی ہے جس میں کیپٹن احمد بدر کے شہید ہونے کا بتایا جارہا ہے۔ مجھے کنفرم نہیں کہ یہ آپ کے بیٹے کے بارے میں ہے یا کوئی اور احمد بدر ہے۔ احمد بدر کے والد کہنے لگے کہ میں نے فوراً اپنے کزن کرنل فواد کو کال کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ خبردرست ہے۔ میرے لیے یہ ایک دل دہلا دینے والی خبر تھی لیکن میں ایک فوجی تھا مجھے اپنے جذبات  پر قابو رکھنا تھا۔ میں نے ہی ہمت دکھانی تھی اور باقی سب کو سنبھالنا تھا۔ لہٰذا دل کو مضبوط کرکے گھر والوں کو اطلاع دی۔ احمد بدر شہید کے والد ایک مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، انہوں نے کمال ہمت سے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا اس ملک کا بیٹا تھا، وہ سندھ میں پیدا ہوا پنجاب میں بڑا ہوا، کے پی کے میں اپنی جان دی اور پورے پاکستان کے لوگوں نے میرے بیٹے کے لیے دعائیں کیں۔ اسے اﷲ نے عزت کی موت دی اور لوگوں نے اسے اس دنیا میں عزت دی۔ بہت لوگوں نے آکر میرا  حوصلہ بلند کیا، لیکن پھر بھی میں ایک انسان ہوں، جذبات رکھتا ہوں، اسے یاد بھی کرتا ہوں، میں نے تو اس کے ساتھ زیادہ وقت بھی نہیں گزارا تھا، ابھی تو بہت باتیں کرنی تھیں لیکن قسمت سے کون لڑ سکتا ہے۔انہوں نے پرعزم انداز میں کہا کہ ظاہر ہے میں باپ ہوں، بیٹے کے جانے کا غم ہے لیکن جس طرح اُس نے پاک دھرتی کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی ہے اس سے میرا تو کیا پورے خاندان کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔