اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 20:29
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements

ہلال اردو

بانگِ درا کے سو سال (1924-2024)

اپریل 2024

الحمدللہ شاعر مشرق،ترجمان حقیقت،دانائے راز،حکیم الامت،مفکر اسلام اور مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کی معرکة ا  لآرا اور معروف ترین کتاب "بانگ درا" کی اشاعت کے سو سال پورے ہو گئے۔ یہ علامہ اقبال کا پہلا اردو مجموعہ کلام ہے جو 1924 میں شائع ہوا اور جس نے منصہ شہود پر آتے ہی مقبولیت کی بلندیوں کو چھو لیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔متعدد معروف شعراء کے مجموعہ ہائے کلام کی طرح بانگ درا کو امتداد زمانہ کی گرد چھپا سکی اور نہ ہی اس کی شاعری اور پیغام کو دھندلا سکی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی آب و تاب اور تعلیمات کی معنویت کھلتی اور بڑھتی ہی جا رہی ہے۔



یہ ایک ایسا گراں قدر مجموعہ ہے کہ جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اس میں علامہ اقبال نے اپنی بلند آہنگ آواز سے قوم کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔یہی اردو کا وہ پہلا مجموعہ شاعری ہے کہ جس نے اردو شاعری کو لب و رخسار اور گل و بلبل کے خیالی اور بازاری قصوں سے نکال کر اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کے لیے آزادی کی منزل کی جانب رہنمائی کا ذریعہ بنا دیا۔جو شاعری افراد کو محبوب کے راستے کی دھول اور اس کی دہلیز کا پتھر بن کر ذلیل و رسوا ہونے کا سبق دے رہی تھی،علامہ نے اس کتاب میں اسی شاعری کو، خاک راہ بن جانے والی قوم کو، راز ہائے الوندی سے آگاہ کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔علامہ اقبال نے اس کتاب میں اپنی بلند آہنگ آواز سے غفلت کی نیند میں ڈوبی ہوئی قوم کو جگانے کی کوشش کی۔یہی وہ کتاب ہے کہ جسے غلامی کی ذلت اور نکبت و ادبار کی پستیوں میں گری ہوئی قوم نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور پھر یہی کتاب اس قوم کے درد کا درماں بن گئی۔
علامہ اقبال نے اپنے تمام فارسی اور اردو مجموعوں کے نام بھی بالکل نئے نرالے اور منفرد انداز کے رکھے ہیں کہ شعری مجموعوں کے ایسے نام نہ تو پہلے کبھی رکھے گئے اور نہ ہی بعد میں کوئی ایسے نام رکھ سکا۔ ان کے اس پہلے مجموعے کا نام "بانگ درا" بھی ایک ایسا ہی نام ہے کہ جس کے معنی جاننے کے بعد قاری عش عش کر اٹھتا ہے اور داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
"بانگ" کے معنی آواز کے ہیں جبکہ "درا" گھنٹی کو کہتے ہیں،وہ گھنٹی جو قافلے کے کُوچ یعنی روانگی کا اعلان کرنے کے لیے بجائی جاتی ہے تاکہ سوئے ہوئے اور غافل لوگ بیدار ہوں اور قافلے کے ساتھ مل کر منزل کی جانب روانہ ہو جائیں۔لہذا "بانگ درا" کے معنی ہوئے قافلے کے سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے والی گھنٹی کی آواز۔علامہ اقبال نے اپنے پہلے شعری مجموعے کا نام "بانگ درا" رکھا تو اس سے ان کی یہی مراد ہے کہ اس کتاب کی شاعری قوم کے سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے، انہیں ان کا مقصد یاد دلانے اور قوم کے ساتھ مل کر آگے سے آگے بڑھنے پر تیار کرنے والی شاعری ہے۔اقبال نے اس بات کا اظہار اسی کتاب کے ایک شعر میں یوں کیا ہے 
اقبال کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا 
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
"جادہ پیما" کے معنی ہیں چلنا یا روانہ ہونا یعنی اقبال کی شاعری نے بانگ درا کا کام کیا ہے اور اس کی وجہ سے قوم کا قافلہ بیدار ہو کر اپنی منزل کی جانب چل پڑا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ کتاب قوم کے درماندہ کارواں کے لیے واقعی بانگ درا ثابت ہوئی اور غفلت کی نیند میں ڈوبا ہوا قوم کا قافلہ اس کی آواز سے یکبارگی جاگ اٹھا اور اپنی منزل کی جانب چل پڑا ۔
"بانگ درا" ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جسے رنگا رنگ اور دلکش پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ کہا جا سکتا ہے کہ جس میں سیکڑوں قسم کے رنگ برنگے پھول اپنی مسحور کن مہک کے ساتھ جلوہ فگن ہیں۔اس مجموعہ میں جہاں ایک طرف حب الوطنی سے لبریز ترانے جیسے" سارے جہاں سے اچھا" اور "ہمالہ" وغیرہ شامل  ہیں، وہیں ترانہ ملی،خضر راہ، شکوہ اور جواب شکوہ جیسی لازوال نظمیں بھی شامل ہیں جو ملت اسلامیہ سے پختہ وابستگی اور اسلامیت کا گہرا رنگ لیے ہوئے ہیں۔اس میں جہاں بچوں کے لیے نظمیں جیسے؛ "لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری"، "ایک مکڑا اور مکھی"، "ایک گائے اور بکری"، "ایک پہاڑ اور گلہری" وغیرہ، وہیں "خفتگان خاک سے استفسار" ،"شمع اور پروانہ"، "عقل اور دل"،"گل پژ مردہ"، 'حقیقت حسن"، "سوامی رام تیرتھ"، "حسن و عشق"، جلوہ حسن"،"شمع"، "ماہ نو"، "انسان اور بزم قدرت"، "رات اور شاعر" اور "ارتقا" جیسی فلسفیانہ نظمیں بھی پوری عالمانہ شان سے جلوہ فشاں ہیں۔قوم کے درد میں لکھی جانے والی نئی طرز کی نظموں کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور دلکش غزلیں بھی اپنی رعنائیاں دکھا رہی ہیں۔ اس میں جہاں بعض مسلم اور غیر مسلم مشاہیر پر تحسینی نظمیں ہیں وہاں سرکار دو عالمۖ سے، علامہ کی لازوال عقیدت اور بے پایاں عشق میں ڈوبی ایسے نورانی نظمیں بھی ہیں کہ جو قاری کے قلب وذہن کو عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے  منور کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر صرف ایک نظم پڑھیے اور ایمان تازہ کیجیے 
شفا خانہ حجاز 
اک پیشوائے قوم نے اقبال سے کہا
 کھلنے کو جدہ میں ہے شفاخانۂ حجاز
 ہوتا ہے تیری خاک کا ہر ذرہ بے قرار
 سنتا ہے تو کسی سے جو افسانۂ حجاز
 دستِ جنوں کو اپنے بڑھا جیب کی طرف
 مشہور تو جہاں میں ہے دیوانۂ حجاز
 دارالشفا حوالیئِِ بطحا میں چاہیے
 نبضِ مریض پنجۂ  عیسیٰ میں چاہیے
 میں نے کہا کہ موت کے پردے میں ہے حیات
 پوشیدہ جس طرح ہو حقیقت مجاز میں
 تلخابۂ اجل میں جو عاشق کو مِل گیا
 پایا نہ خِضر نے مئے عمرِ دراز میں
 اوروں کو دیں حضور یہ پیغامِ زندگی
 میں موت ڈھونڈتا ہوں زمینِ حجاز میں
 آئے ہیں آپ لے کے شفا کا پیام کیا؟
 رکھتے ہیں اہلِ درد مسیحا سے کام کیا؟

علامہ اقبال نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:
حصہ اول: ابتداسے 1905 تک کا کلام 
حصہ دوم: 1905 سے 1908 تک کا کلام 
حصہ سوم: 1908سے 1924 تک کا کلام
پہلے حصے میں ابتدا سے لے کر 1905 یعنی یورپ جانے سے پہلے تک کا کلام شامل ہے۔اس دور میں علامہ اقبال پر حبِ وطن اور اتحاد وطن کا جذبہ غالب تھا۔ اس دور کی نظمیں ہمالہ، صدائے درد، تصویر درد، آفتاب، ترانہ ہندی اور نیا شوالہ انہی جذبات کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ اس دور میں علامہ اقبال مطالعہ مناظر فطرت اور کائناتی حسن  کی جانب بہت متوجہ ہیں اور اس حوالے سے ان کا اضطراب، جستجو اور تذبذب بہت نمایاں ہے،جو خوبصورت منظر نگاری کا روپ دھار لیتا ہے۔ہمالہ، گل رنگین، آفتاب صبح، چاند، اختر صبح، ابر رنگین، ابر کوہسار، ماہ نو اور پیام صبح میں ان کی فطرت پسندی ،دلکش منظر نگاری کی صورت میں اپنے جلوے دکھا رہی ہے۔اس دور میں علامہ نے بچوں کے لیے بھی خوبصورت نظمیں لکھیں جن میں ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، بچے کی دعا ماں کا خواب پرندے کی فریاد اور ہمدردی نمایاں ہیں۔ نوجوان شاعر کے اس ابتدائی دور کی نظموں میں گہرے فلسفیانہ خیالات بھی ملتے ہیں۔ اس ضمن میں نظموں؛ گل رنگین، خفتگان خاک سے استفسار، شمع، ماہ نو، انسان بزم قدرت بچہ اور شمع، جگنو اور دل میں؛ مستقبل کے ایک بڑے فلسفی شاعر کی شاعری کے نقوش صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ 
بانگ درا کا دوسرا حصہ 1905 سے 1908 تک کے عرصے کی شاعری پر مشتمل ہے۔یہ علامہ کے قیام یورپ کا دور ہے۔ وہاں انہوں نے مغربی تہذیب و سیاست کو قریب سے دیکھا اور مغربی نظریہ قومیت و وطنیت کے مفاسد کھل کر ان کے سامنے آ گئے جس نے ان کے قلب و نظر میں عظیم انقلاب پیدا کر دیا۔لہذا اس دور کی نظموں میں کہیں وطن پرستی نظر نہیں آتی بلکہ وہ وطنیت کے تصور کو خیر باد کہہ کر اسلامی ملت کی جانب بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمارۖ نے بنایا 
بنا ہمارے حصارِ ملت کی اتحادِ وطن نہیں ہے 
 اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یورپ میں اسلامی اصولوں، اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کے خلاف اہل مغرب کی چیرہ دستیوں کا قریب سے مطالعہ کیا اور اپنی ملت سے ان کا تعلق اور بھی استوار اور مضبوط تر ہو گیا۔لہذا انہوں نے اپنی شاعری کو اسلام کی اشاعت اور ملت اسلامیہ کے لیے وقف کرنے کا واضح اعلان کر دیا۔
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو 
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہو گا
اس دور میں ان کے ہاں اضطراب اور تذبذب ختم ہو چکا ہے اور یقین،اعتماد،پختگی اور ملت کے لیے پیغام کا رنگ واضح ہو گیا ہے۔اب انہوں نے خدمت اسلام اور ملت کی سربلندی  کا مصمم ارادہ کرتے ہوئے اسے اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔اس حصے کی نظم "عبدالقادر کے نام" نہ صرف ان کے ان ارادوں پر مکمل روشنی ڈالتی ہے بلکہ ان کے ذہنی ارتقا کا ایک اہم موڑ بھی ہے۔

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر 
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں 
اس چمن کو سبق آئین نو کا دے کر
قطرہ شبنم بے مایہ کو دریا کر دیں 
دیکھ یثرب میں ہوا ناقہ لیلیٰ بیکار 
قیس کو آرزئو ں سے شناسا کر دیں 
شمع کی طرح جییں بزم گہ عالم میں
 خود جلیں، دیدہ اغیار کو بینا کر دیں
بانگ درا کا تیسرا حصہ علامہ اقبال کی یورپ سے واپسی یعنی 1908 سے لے کر 1924 تک کے کلام پر مشتمل ہے۔ اب علامہ کے خیالات میں یکسر تبدیلی آ چکی ہے اور "ترانہ ہندی" لکھنے والا شاعر اب "ترانہ ملی" لکھنے لگا ہے اور یورپ جانے سے پہلے 
'ہندی ہیں ہم، وطنہے ہندوستاں ہمارا '
کے گیت گانے والا شاعر اب
'مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا '
کے راگ الاپنے لگا ہے۔
شاعر کے موضوعات میں اب انتہائی وسعت آ چکی ہے اور اب اس کے موضوعات بادل،چاند دریا،ستارہ اور ابر وغیرہ نہیں بلکہ ذات باری تعالی، حیات، کائنات،خودی،بیخودی،یقین، عقل،عمل، جہد مسلسل اور عشق قرار پاتے ہیں۔ اب وہ پوری قوت کے ساتھ افراد قوم کو یہ پیغام دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ
تو راز کن فکاں ہے اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا 
خودی کا راز داں ہو جا،خدا کا ترجماں ہو جا 
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے 
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی عقیدت و محبت بہت بڑھ گئی ہے اور اس حصے کی نظموں اور غزلوں میں یہ پاکیزہ محبت جگہ جگہ اپنے جلوے دکھا رہی ہے۔
کرم اے شاہ عرب و عجم کے کھڑے ہیں منتظر کرم 
وہ گدا کہ تو نے عطا کیا ہے جنہیں دماغِ سکندری
اس حصے کی نظموں میں علامہ اقبال انگریز سامراج کی مسلم دشمنی کی جانب بھی اشارے کرتے،اس کے خلاف آواز اٹھاتے اور مسلمانوں کو اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑا ہونے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
 کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اب شاعر کے جذبات میں شدت،احساسات میں تدبر، خیالات میں وسعت اور تخیلات میں بلند پروازی پیدا ہو چکی ہے۔ اب وہ شاعر سے بلند ہو کر پیغام بر بن چکا ہے اور اس کا سینہ ملت کے سوز سے گداز ہو چکا ہے اور وہ ملت کی کشتی کو منج دھار سے نکال کر منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔اس دور کی معرکة الآرا نظمیں خضر راہ،خطاب باجوانان اسلام، مسلم، شعاع آفتاب، نوید صبح، تعلیم جدید، مذہب،شمع اور شاعر ، شکوہ، جواب شکوہ  اور طلوع اسلام، شاعر کے ایسے ہی ولولہ انگیز جذبات سے مملو ہیں۔ یہ ایسی غیر فانی اور لاجواب نظمیں ہیں کہ ان کا جواب اردو ادب تو کیا دنیا کی کسی زبان کی شاعری میں نہیں مل سکتا۔
بانگ درا کی یہی ولولہ انگیز شاعری تھی کہ جس نے قوم کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔یہی وہ کتاب ہے کہ جس کی تعلیمات نے برصغیر کی پژمردہ مسلم قوم کو اس کے وجود  کا احساس دلایا اور یہ قوم اک نعرۂ مستانہ بلند کر کے اٹھ کھڑی ہوئی اور آزادی کی منزل کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہو گئی۔ جس طرح غلامی کے کڑے دور میں علامہ کی عظیم الشان کتاب نے برصغیر کے مسلمانوں کے لٹے ہوئے درماندہ کارواں کے لیے واقعی بانگ درا کا کام کیا بالکل اسی طرح آج بھی دنیا کے اس عظیم مفکر کی یہ عظیم کتاب ہماری سستی و کاہلی کو ہوشیاری میں بدل سکتی ہے اور بھٹکے ہوئے آہو کو راہ راست پر لانے کی طاقت رکھتی ہے۔ضرورت اسے پڑھنے سمجھنے،سمجھانے اور اس پر عمل کرنے کی ہے۔
شاعرِ دل نواز بھی بات اگر کہے کھری
 ہوتی ہے اس کے فیض سے مزرعِ زندگی ہری
 شانِ خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاں
 کرتی ہے اس کی قوم جب اپنا شِعار آزری
 اہلِ زمیں کو نسخۂ زندگیِ دوام ہے
 خونِ جگر سے تربیت پاتی ہے جو سخنوری
 گلشنِ دہر میں اگر جوئے مئے سخن نہ ہو
 پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو


مضمون نگار ایک معروف ماہر تعلیم ہیں۔ اقبالیات اور پاکستانیات سے متعلق امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
[email protected]
 

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements