اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 12:12
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

عبدالباسط علوی

مضمون نگار قومی و بین الاقوامی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ [email protected]

Advertisements

ہلال اردو

بھارتی سپریم کورٹ ہندوتوا کی سہولت کار

اپریل 2024

مثالی معاشروں کی تمام خصوصیات کے برعکس بھارت جو ایک سیکولر ملک ہونے کا نام نہاد دعویٰ کرتا ہے، اپنے تمام شہریوں کو مساوی، منصفانہ اور فوری انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے پر ہندو انتہا پسندوں کی قیادت میں ظلم و ستم کے بادل چھائے ہوئے ہیں جو مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر بھارتی مسلم اقلیت اور کشمیر کے لوگوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ مودی کی حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ انسانی حقوق کی بے دردی سے خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے اور ہندوتوا کے نظریے کی پیروی کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔



مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے فرقہ وارانہ اور مذہبی کشیدگی میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ انصاف ناپید ہے۔ ایک واضح مثال 18 اکتوبر 2022  کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران گھنائونے جرائم پر عمر قید کی سزا پانے والے 11 افراد کی رہائی کی منظوری ہے۔ ان فسادات میں تقریباً 2,000 جانیں گئی تھیں، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ یہ مذہبی تشدد اس وقت ہوا جب مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ 19 اکتوبر 2022  کوبھارت کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے ملک میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
بھارت اس وقت ہندوتوا کے نظریے کو اپنائے ہوئے ہے جو ہندو قوم پرستی کی ایک شکل ہے جس کی ابتدا 1923 میں ہوئی تھی۔ یہ اصطلاح ونائک دامودر ساورکر نے وضع کی تھی اور اس کی تائید مختلف تنظیموں نے کی ہے جسے اجتماعی طور پرسَنگھ پریوار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے حامی عناصر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) وشو ہندو پریشد (VHP) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) شامل ہیں۔ ہندوتوا کی تحریک کو یکساں اکثریت اور ثقافتی بالادستی کے تصور پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہندوتوا نظریے کے پیروکار مودی، بھارت اور ہندوئوں کی بالادستی پر زور دیتے ہیں۔ تاہم اس نظریاتی مؤقف نے انسانی حقوق کے مسائل بالخصوص اقلیتوں کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ہندوتوا نظریے کے جھنڈے تلے بھارتی حکومت خطے اور پڑوسی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
جموں و کشمیر کا خطہ تنازعات کی ایک طویل تاریخ اور بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم سے بھرا پڑا ہے۔ بھارت اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے درمیان پیچیدہ اور متنازع تعلقات نے خطے کے سیاسی منظر نامے، سماجی تانے بانے اور بین الاقوامی حیثیت پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت کی جڑیں 1947 میں تقسیم ہند کے ہنگامہ خیز واقعات سے ملتی ہیں۔جیسے ہی برصغیر نے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کی، شاہی ریاستوں کو ان کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت کی بنیاد پربھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دیا گیا۔ کشمیر کی ریاست مہاراجہ ہری سنگھ کے جابرانہ کنٹرول میں تھی۔ بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ غیر یقینی اور کشیدگی سے بھرا ہوا تھا۔ اس غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت نے کشمیرمیں فوج داخل کردی اور مہاراجہ ہری سنگھ سے اکتوبر 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کروانے کا ڈھونگ رچایا۔
تاہم بھارت کی مداخلت پر مقامی کشمیری رہنمائوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو خطے کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے زیادہ جمہوری اور جامع انداز فکر کی وکالت کرتے تھے۔ تنازع کشمیر پر تین پاک بھارت جنگیں ہو چکی ہیں۔ کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے نام سے پہچانے جانے والے ایک ڈی فیکٹو بارڈر کا قیام عمل میں آیا، جس نے اس خطے کوبھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کے درمیان تقسیم کیا۔ کشمیر کی اس تقسیم نے ایک طویل علاقائی اور سیاسی تنازع کو جنم دیا جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت انسانی حقوق کی پامالیوں سے بھری پڑی ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، گمشدگیوں، من مانی حراستوں اور بھارتی سکیو رٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات شامل ہیں۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) خطے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات دیتا ہے اور اسے استثنیٰ کو فروغ دینے اور احتساب میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔ان الزامات نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے۔ بھارت پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ان خدشات کو دور کرے اور متنازع علاقے میں شہریوں کی فلاح و بہبود کی حفاظت کرے۔
جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت کے مسئلے نے نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کیا بلکہ جنوبی ایشیا کے وسیع جغرافیائی سیاسی منظر نامے پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ دونوں ممالک متعدد جنگوں اور جھڑپوں کا سامنا کر چکے ہیں اور مزید مسلح تصادم کے خدشات بدستور موجود ہیں ۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ثالثی اور تنازع کشمیر کے پرامن حل کی تلاش سمیت بین الاقوامی کوششوں کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور خاص طور پر بھارت کے سخت اور بے لچک مؤقف کی وجہ سے معاملات پیچیدہ ہیں۔ یہ معاملہ خطے کو عدم استحکام کا شکار بنا رہا ہے اور عالمی سلامتی کے لیے وسیع تر مضمرات رکھتا ہے۔
5 اگست 2019 کو بھارت نے ایک انتہائی متنازع فیصلے پر عمل درآمدکیا جس سے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی برادری میں بھی تشویش پیدا ہوئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور اس طرح جموں و کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا۔ اس اہم اقدام نے خطے کی سیاسی رفتار کو ایک ایسے اہم موڑ پر لا کھڑا کیا جس نے جموں اور کشمیر کے باشندوں، بھارت کے وفاقی ڈھانچے اور اس کے عالمی تعلقات پر اثرات کے بارے میں وسیع بحث و مباحثے کو جنم دیا۔
آرٹیکل 370، ایک آئینی شق ہے، جس نے ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی۔اس خصوصی حیثیت نے ریاست کو اپنا آئین،  داخلی معاملات پر خود مختاری (دفاع، خارجہ امور، اور مواصلات کو چھوڑ کر) اور ریاست کے معاملات کے مختلف پہلوئوں کو کنٹرول کرنے والے قوانین کا ایک الگ سیٹ دینے کا اختیار دیا۔ اس انتظام کا مقصد خطے کے ثقافتی، مذہبی اور سیاسی تنوع کا احترام کرنا تھا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو مبینہ طور پر مودی کی زیرقیادتبھارتیحکومت نے جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی طرف ایک قدم کے طور پر تیار کیا تھا۔ تاہم، اس فیصلے کو بھارت کے اندر اور عالمی برادری دونوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، ناقدین نے اسے جموں و کشمیر کی مخصوص شناخت کی خلاف ورزی اور اس کے آبادیاتی اور ثقافتی تانے بانے کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھا۔
منسوخی کے بعد خطے میں کافی تبدیلیاں آئیں۔ ریاست کی تشکیل نو دو مراکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں کی گئی۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے نتیجے میں وہ خصوصی خودمختاری ختم ہو گئی جو کئی دہائیوں سے خطے کی خصوصیت تھی۔ بھارتی حکومت نے اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور مواقع کا وعدہ کیا تھا مگر اس فیصلے کے نتیجے میں مواصلاتی بلیک آئوٹ، نقل و حرکت پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین واقعات سامنے آئے۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، بھارت نے ایک ایسا عمل شروع کیا جسے لوگ آبادی کی اکثریت کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فلسطین کے ماڈلز اور اسرائیل کی طرف سے استعمال کی گئی حکمت عملیوں سے متاثر ہو کر بھارت نے طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کارروائیاں کیں۔ ان کوششوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور میڈیا پر پابندیوں کی مسلسل رپورٹس خطے میں جاری چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں جس سے کشمیر کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کے بارے میں خدشات بڑھتے ہیں۔
حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے 5 اگست 2019 کو ہندو انتہا پسند مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے متنازع فیصلے کی توثیق کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی وکالت کرنے والی درخواستوں کو بھی خارج کر دیا۔بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں داخلی خودمختاری کا فقدان ہے اور آرٹیکل 370 کا اطلاق عارضی تھا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جموں و کشمیر اسمبلی کا مقصد ایک الگ ادارہ بنانے کا نہیں تھا اور آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کے انضمام کو منجمد نہیں کرتا ہے۔ عدالت نے مودی حکومت کے 5 اگست 2019 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ صدر کے پاس کسی بھی آئینی شق کو منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔
 بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔مزید برآں، عدالت نے 30 ستمبر 2024 تک مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد لازمی قرار دیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ان درخواستوں میں آرٹیکل 370 اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جبکہ اس خطے کی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی قیادت میں 5 رکنی بنچ نے 16 دن روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت کی۔
بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں خودمختار کشمیر کے نام نہاد حامیوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے۔بھارتی حکومت اور اس کی سپریم کورٹ پر انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں اور ہندوتوا نظریے کے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا الزام ہے۔ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی  اس کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی ایک کڑی ہے۔ سلامتی کے نقطہ نظر سے بھارت کبھی بھی ایک خودمختار کشمیر کو رہنے کی اجازت نہیں دے گا۔ پاکستان کے ساتھ مذہب، ثقافت، زبان اور دیگر خصوصیات کی ہم آہنگی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو سب سے زیادہ قابل عمل حل بناتی ہے۔ بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اور اس کی اپنی سرحدوں کے اندر اقلیتی گروہوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی عیاں ہے۔ بھارت کے برعکس پاکستان میں بسنے والے کشمیری ملک بھر میں کہیں بھی رہنے اور کام کرنے میں آزاد ہیں۔ کشمیر کا فطری اتحاد اور الحاق صرف اور صرف پاکستان سے ہی بنتا ہے۔ خودمختار کشمیر کے حامیوں کو اس حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔
قارئین، مہذب معاشروں میں عدالتوں اور عدالتی نظاموں سے انسانی حقوق کی آبیاری اور پائے جانے والی خرابیوں کی درستگی کی توقع کی جاتی ہے۔ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور نہ ہی رہے گا۔ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے مایوس کن ہے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ مودی حکومت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھنے کا کھلا اختیار دے رہا ہے۔ مزید برآں یہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہے جو واضح طور پر جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقہ قرار دیتی ہیں اوربھارت کو کہتی ہیں کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت کا اختیار دے۔ بھارتی سپریم کورٹ اس تناظر میں، خود کو ہندوتوا کے اس نظریے سے ہم آہنگ کرتی نظر آتی ہے جس کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کو دبانا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے، جموں و کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت دینے اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی مذموم اقدامات کو ترک کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔


مضمون نگار قومی و بین الاقوامی موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

عبدالباسط علوی

مضمون نگار قومی و بین الاقوامی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ [email protected]

Advertisements