اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 18:05
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی اداریہ۔جولائی 2024ء یادگار چھٹیاں آئوبچّو! سیر کو چلیں موسم گرما اور اِ ن ڈور گیمز  خیالی پلائو آئی کیوب قمر  امید کا سفر زندگی کا تحفہ سُرمئی چڑیا انوکھی بلی عبدالرحیم اور بوڑھا شیشم قہقہے
Advertisements

ہلال کڈز اردو

سفید شیراورہاتھی دانت

مارچ 2024

چھٹی کا دن تھا۔ گھرمیںکافی چہل پہل تھی۔سارے بچے بہت خوش تھےکیونکہ ابّونےوعدہ کررکھا تھا کہ وہ آج انہیں چڑیا گھرکی سیرکروائیں گے۔ 
صبح سویرے ناشتہ کرنے کے بعد سبھی بچے چڑیا گھرجانے کے لیے تیار تھے۔ آمنہ،حنااوراُن کے بھائی حمزہ کی خوشی دیدنی تھی۔اتنے میں امی جان نےایک ٹوکری میں کچھ کھانے پینےکا سامان رکھا اور پھر وہ سب گاڑی میں  چڑیا گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔



چڑیا گھران کے گھرکےقریب ہی تھا۔ اگلےدس منٹ میںوہ وہاں پہنچ گئے۔ابونے سب کے لیے داخلہ ٹکٹ خریدے اور وہ سب اندرداخل ہوگئے۔
آمنہ،حنااورحمزہ چڑیا گھر میں موجود جانور اور پرندے دیکھ کربہت خوش ہوئے۔چلتے چلتےان کی نظر ایک سفید شیرپرپڑی۔ وہ تیزی سےاس کے پنجرے کی طرف بڑھے۔ 
حمزہ نے پہلی بارسفیدشیردیکھا تھا۔ اس لیے وہ بہت زیادہ پُرجوش تھا۔  اس نے تجسس سے  پوچھا۔ ’’ابو! کہیں اس شیر پر سفید رنگ تو نہیں کیا گیا؟‘‘
ابو نے اس کی بات سنی تو وہ مسکرا دیے۔’’بیٹا!دراصل یہ اسی رنگ کا ہوتاہے۔ یہ شیروں کی ایک نایاب نسل ہےجوجنگلوں میں بہت کم پائی جاتی ہے،کیونکہ لوگ اس کا شکار کرلیتے ہیں۔ یہ بہت قیمتی ہے۔‘‘
 بچوں نے سفید شیر کی خوبیاں سنیں تو اس کے ساتھ سیلفیاں لینے کی ضد کرنے لگے۔ابو نے انہیں وہاں لکھی ہوئی ہدایات پڑھ کرسناتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ بچے خاموش ہو گئے تو وہ سب آگے بڑھے۔ وہاں ایک بڑا سا پنجرہ تھا جس میں بے شمار بندر اٹھکیلیاں کررہے تھے۔ ان کی شرارتیں دیکھ کر بچے بہت خوش ہوئے۔   
 حمزہ نے بندر کو آنکھیں دکھائیں تو اُس نے بھی نقالی کرتے ہوئے حمزہ کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں، گویا غصے کا اظہار کررہا ہو۔یہ دیکھ کر ابو کہنے لگے: 
’’بندرایک ایسا جانور ہے جو ہوبہو انسانوں کی نقل کرسکتا ہے۔آپ اس کے ساتھ جیسا رویہ اختیار کریں گے یہ بھی ویسا ہی کرے گا۔‘‘
ان کا اگلا ہدف مور کا پنجرہ تھا۔ یہاں ایک موراپنےخوبصورت پنکھ پھیلائے کھڑا تھا۔ یہ بہت دلکش منظر تھا۔ بچے مور کو دیکھ کربہت خوش ہوئے۔
اس کے دوسری جانب پانڈے کا پنجرہ تھا۔ حمزہ نے اسے دیکھا تو اس طرف دوڑ لگا دی۔ اسے دیکھنے کے بعد وہ زیبرے کی طرف بڑھے اور پھرریچھ دیکھا۔
اگلی باری طوطے دیکھنے کی تھی۔ وہ ایک پنجرے کے پاس آئے جس میں خوبصورت رنگ برنگے طوطے میٹھی بولیاں بول رہے تھے۔ ساتھ ہی کبوتروں کا پنجرہ تھا۔اتنے معصوم اور خوبصورت پرندوں کو وہ حیرت سے دیکھتے ہی رہ گئے۔ آگے چلے تو ایک زرافہ اپنی لمبی گردن لیے گھوم رہا تھا۔آمنہ نےاپنے ابّو سے اس کی لمبی گردن کے بارے میں سوال کر دیا کہ اس کی گردن باقی جانوروں کی نسبت اتنی لمبی کیوں ہوتی ہے۔ ابو کہنے لگے، ’’بیٹا! اللہ تعالیٰ نے زرافے کی لمبی گردن بنا کراس کو یہ خوبی عطا کی ہے کہ وہ اس سے درختوں کی اونچی شاخیں توڑ کرکھا سکتاہے۔اس کےعلاوہ یہ اپنی لمبی گردن کی بدولت دورتک دیکھ سکتاہے۔‘‘ 
کافی سارے جانور دیکھ لینے کے بعد بچے تھک چکے تھے اورانہیں بھوک بھی لگی تھی۔ امی ابو نے قریب ہی ایک جگہ منتخب کی،وہاں دسترخوان لگایا اوروہ سب کھانا کھانے لگے۔ 
کھانا کھانے کے بعد بچے ہاتھی کی سواری کی ضد کرنے لگے۔آمنہ نے ہاتھی دیکھا تو کہنے لگی،’’ابو جان! یہ ہماری کتاب میں تو بہت چھوٹا نظر آتا ہے،یہاں توبہت بڑا ہے؟‘‘ اس کی بات پر سب مسکرا دیے۔ سب بچوں نے ہاتھی کی سواری کی۔نیچے اترے تو ابو انہیں ہاتھی کی کچھ خصوصیات بتانے لگے: 
’’بچو!کیا آپ جانتے ہیں کہ ہاتھی کا وزن ٹن کےحساب سےہوتاہے۔یہ زیادہ ترافریقہ کے جنگلوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہاں لوگ ان کی ہڈیوں اور دانتوں سے مختلف زیورات اور برتن بناتے ہیں۔ ہاتھی دانت کے بنے ہوئے زیورات نہایت قیمتی اور دنیا بھر میں مشہور ہیں۔‘‘ ابونے ہاتھی کی  طرف اشارہ کرکے انہیں بتایا کہ ہاتھی دانت کا مطلب ہے سامنے والے دو دانت۔ یہ اس کے کھانے کے دانت نہیں ہوتے بلکہ قدرت نے اسے خوبصورت بنانے کے لیے یہ دانت لگائے ہیں۔   
ہاتھی کے دانتوں کو دیکھتے ہی آمنہ کو ایک محاورہ یاد آگیا۔ وہ فٹ سے بولی:’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور...‘‘
’’بھئی بہت خوب!‘‘ابو سے داد ملنے پر آمنہ پھولے نہیں سما رہی تھے۔
چڑیا گھر میں آئے ہوئے انہیں کافی وقت گزر چکا تھا۔ بچےمختلف جانوروں اور پرندوں کو دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوئے۔ اس طرح ان کی سیر ہو گئی اور انہیں مختلف پرندوں اور جانورں کے بارے میں بہت سی معلومات بھی مل گئیں۔ وہ چڑیا گھر کی معلوماتی اور تفریحی سیر ختم کر کے خوشی خوشی گھر کی طرف چل دیے۔