اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 11:35
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

اُمِ ایمن

مضمون نگار خصوصی و بین الاقوامی امور سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔

Advertisements

ہلال اردو

عسکری سفارت کاری کی اہمیت

مارچ 2024

تاریخی اعتبار سے فوجی سفارتکاری کو کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو گردانا جاتا ہے۔ جنگی محاذوں اور عسکری مستقروں سے نکل کر بیرون ممالک کے حکومتی اور عسکری نمائندوں سے میل جول فوجی قیادت کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ پاکستان کے مخصوص جغرافیائی اور سیاسی حالات کے پیش نظر عسکری سفارتکاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت ملکی خارجہ پالیسی کے قواعد و ضوابط کی حدود میں رہتے ہوئے ہمیشہ بہترین فوجی سفارتکاری کرتے ہوئے نظر آئی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ  ہی ملکی سلامتی ایک چیلنج  کے طور پر سامنے آئی۔ ملکی بقا کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عسکری اداروں کے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کردار کی اہمیت اجاگر ہوئی۔ یہ کردار دنیا کے بیشتر ممالک کی افواج کی طرح ہمیشہ ایک اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پاکستانی افواج نے اپنی قومی امنگوں کے عین مطابق عسکری سفارتکاری کے ذریعے مختلف چیلنجز سے انتہائی پیشہ وارانہ طریقے سے نمٹا۔ یہ عسکری سفارتکاری ملٹری ٹو ملٹری تعلقات، ملٹری ایکسرسائزز اور عسکری سازو سامان کی خرید و فروخت جیسے اقدام کے ذریعے انجام دی جاتی رہی ہے۔ مزید براں افواج پاکستان نے دوست ممالک کی قدرتی آفات میں مدد کے ذریعے بھی باہمی تعلقات کی بہتری میں مدد کی۔افواج پاکستان اقوام متحدہ کی زیر نگرانی امن مشنز میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جو پاکستان کے عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی جانب ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ 
چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے آرمی کی کمان سنبھالتے ہی فوجی سفارتکاری کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے۔ ملک کو درپیش مخصوص سکیورٹی خطرات اور دگرگوں معاشی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے آرمی چیف نے  ملٹری ٹو ملٹری تعلقات کا ایک انتہائی مؤثر سلسلہ شروع کیا جس سے پاکستان کو سفارتی سطح پر بڑے پیمانے پر کامیابیاں ملیں۔ آرمی چیف کی جانب سے تمام دوست ممالک بشمول چین، خلیجی ممالک، یورپی ممالک، ترکی اور خاص طور پر امریکہ کے دورے کیے گئے۔  ان دوروں کا بنیادی مقصد عسکری معاملات میں تعاون اور تعلقات کو نئی جہتوں پر استوار کرنا تھا تا ہم اس کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش معاشی اور سفارتی چیلنجز کو کم کرنے میں بھی مدد ملی۔ آرمی چیف کے ان تمام دوروں کے اغراض و مقاصد اور ان کی افادیت بیان کرنا شاید ان صفحات پر ممکن نہ ہو تاہم چیف آف آرمی سٹاف کا دورہ متحدہ ہائے امریکہ ملک کو درپیش معروضی مسائل کے پیش نظر میں کثیرجہتی اہمیت کا حامل ہے۔ آرمی چیف کے اس دورے پر ہونے والی چند ملک دشمن عناصر کی تنقید سے ایسے دوروں کی سفارتی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس دورے کے دوران زیر بحث آنے والے امور کا جائزہ لیا جائے تو ذیل میں دیئے گئے عوامل  اہمیت کے حامل ہیں۔ 
روایتی طور پر پاکستان اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تعلقات زیادہ ترفوجی نوعیت کے ہی رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک مسلسل ایک جیسے دفاع و سلامتی کے مسائل سے دوچار رہے ہیں خاص طور پر افغانستان پر روسی حملے کے دوران اور بعد میں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران  بھی اس کے تانے بانے پاکستان کے پڑوس میں جا کر ہی ملتے ہیں۔ جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ 
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے دورے میں بیشتر توجہ ملکی دفاع و سلامتی، علاقائی امن و استحکام اور خاص طور پر افغانستان سے نمودار ہونے والے  خطرات پر مرکوز رہی۔ امریکہ جس نے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں، پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عبوری افغان حکومت  کے کیے گئے وعدے پورے کروائے۔ پاکستان کے تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے افغان سرزمین استعمال کرنے کے خدشات اس بات کے غماز ہیں کہ افغان حکومت نے دوحہ میں جو معاہدہ کیا تھا اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔  چونکہ امریکہ نے اس معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اس لیے اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ افغانوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان سے ان کے وعدے پورے کروائے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے یقینی طور پر افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے خطرات کو اجاگر کیا کیونکہ ان حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے(2020 میں 49،2021 میں 198، 2022 میں 237 اور 2023 میں یہ تعداد 317  حملوں تک پہنچ گئی ہے۔)جو امریکہ کے لیے چشم کشا ہیں، قبل اس کے کہ یہ اثرات اس کی اپنی قومی سلامتی پر پڑنے شروع ہو جائیں۔
امریکہ جو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی حلیف بھی ہے، کو پاکستان کے ایس آئی ایف سی  جیسے اقدامات ، جو تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کے لیے اٹھائے گئے تھے ،سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔  ایس آئی ایف سی کا  ایک مقصد یہ بھی ہے کہ  پاکستان میں، زراعت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، معدنیات، توانائی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ بیرونی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کو لایا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ کا تعاون درکار ہوگا۔ 
معدنیات کے شعبے میں پاکستان میں پائے جانے والے وسیع مواقع کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ امریکی اداروں سے منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ (ایم ایس پی) میں  جگہ پانے اور اپنی حیثیت منوانے پر تعاون بڑھایا جائے۔  ایس آئی ایف سی کا یہ قدم  توانائی کے لئے استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی مختلف النوع اور ماحول دوست  رسد کے سلسلے میں اٹھایا جانا ضروری تھا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیل کے ظلم کی روک تھام کے لیے امریکہ کا اثر و رسوخ اہمیت رکھتا ہے۔ 
پاک فوج کی فلسطینی جدوجہد کے لئے حمایت کا اظہار کور کمانڈرز کی کانفرنس  اور آرمی چیف کی فلسطینی سفیر کے ساتھ ملاقات سے ہوا جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں غزہ کی موجودہ صورت حال پر بھی بات چیت ہوِئی۔  خطے میں پائیدار امن کے حصول اور قیام کے لیے پاکستان کا اصولی موقف ایک بار پھر واضح کیا گیا جو او آئی سی، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے بھی  مطابقت رکھتا ہے ۔ اس سلسلے میں فلسطینی جد و جہد کے لیے پاکستان کی غیر مبہم حمایت بارے منیر اکرم کے بیان نے امریکی اداروں کے ساتھ اس سنگین معاملے پر بات کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔
اس دورے کو پاک چین دوستانہ تعلقات سے جوڑ کر دیکھنا بالکل غلط ہو گا۔ یہ غلط فہمی پاک چین دوستی اور تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ یہ انہی عناصر کا ایجنڈا ہو سکتا تھا جو ہمیشہ ایسے منفی مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔  پاکستان چین کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات استوار کرنے کی راہ پر مکمل آزادی کے ساتھ گامزن ہے۔ معیشت اور دفاع کے میدانوں میں  استوار یہ تعلقات نہ صرف ہر طرح کے گرم و سرد موسم سے گزر چکے ہیں بلکہ ہر طرح کے ریاستی و غیر ریاستی منفی پراپیگنڈے کی بھی نفی کرتے ہیں۔ 
گزشتہ چند ماہ کے دوران ،  پاکستان اور چین کے درمیان  معدنیات کی تلاش اور تیاری، ماحولیات کے تحفظ، صنعتی پیداوار، تجارت، مواصلات، نقل و حمل ، ربط کاری، غذائی تحفظ، میڈیا، خلائی تعاون، شہری ترقی، استعداد بڑھانے اور ویکسین بنانے  جیسے مختلف شعبوں میں تعاون کے   30  سے زائد ایم او یوز پر دستخط ہو ئے ہیں۔ امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں  پاکستان ان دونوں طاقتوں کے مابین  ایک ثالث کے کردار کی حیثیت سے کھڑا ہے۔ پاکستان کے دونوں ممالک سے تعلقات کی اپنی اہمیت ہے اور آرمی چیف نے یقینا اس امر کی انتہائی مؤثر طریقے سے وضاحت کی۔ 
آرمی چیف کا یہ دورہ بھی دیگر ممالک کے دوروں کی طرح انتہائی کامیاب رہا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی سمت کا تعین کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ منفی سوچ کے حامل عناصر کے لیے یہ دورہ عسکری سفارتکاری کی ایک عمدہ مثال تھا جس کے دوران آرمی چیف نے اپنے ہم عصر امریکی حکام سے باہمی امور اور پاکستان کو درپیش ملکی سلامتی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک کے باہمی مفادات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ حکمت عملی کا غماض تھا۔ 
یہ دورہ پاکستان کی عسکری قیادت سفارتکاری کے فوائد اور اہمیت کا مکمل ادراک رکھتا ہے۔ اس نوعیت کی سفارتکاری بین الاقوامی ڈپلومیسی میں ملک کے سفارتی تعلقات کی بہتری میں ہمیشہ ممد ثابت ہوئی ہے۔


 مضمون نگار خصوصی و بین الاقوامی امور سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔
 

مضمون 735 مرتبہ پڑھا گیا۔

اُمِ ایمن

مضمون نگار خصوصی و بین الاقوامی امور سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔

Advertisements