اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 09:27
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی
Advertisements

ہلال کڈز اردو

بوند بوند  زندگی

فروری 2024

شام کا کھانا کھانے کے بعد جب سب اپنے اپنے لحاف میں گھس گئے تو فرہاد نے اپنا ٹیبلٹ اُٹھایا اور ایک کونے میں دبک گیا۔ وہ کافی دنوں سے کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح ایک ای میل ایڈریس بنا لےکیونکہ اس کے بغیر وہ اپنا کام نہیں کر سکتا تھا۔ 
فرہاد کی عمر بارہ برس تھی۔ وہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔اپنی تعلیم پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ دیگر ادبی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا تھا۔ اسے مضمون لکھنے کا بہت شوق تھا۔اسکول لائبر یری کا رسالہ چھپنے میں چند دن باقی تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس میں ’’پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور صاف پانی کی کمی‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھے۔ اس سلسلے میں وہ کتابوں سے ہٹ کر ایک ایپلی کیشن استعمال کرنا چاہتا تھاتاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات ذخیرہ کر سکے۔اس طرح اس کا ٹارگٹ دو چیزیں تھیں۔ ایک مضمون نگاری اور دوسرا ایک نئی ایپلی کیشن کا استعمال سیکھنا۔ وہ Chatgpt  کے ذریعے یہ کام کرنا چاہتا تھاتاکہ اپنی ذہانت کا موازنہ مصنوعی ذہانت سے کرسکے۔ اسے اکائونٹ بنانے کے لیے ایک ای میل کی ضرورت تھی۔ آج وہ اسی کوشش میں تھا اور بالآخر وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔  
  اب اس کا اصل کام شروع ہونے والا تھا۔ اس نے اپنا ٹیبلٹ سیدھا کیا اورتکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ Chatgpt کا      ویب ورژن اس کے سامنے سکرین پر نمایاں تھا جس کے نیچے ایک باکس بنا ہوا تھا۔ اس نے فوراً اپنا پہلا سوال وہاں لکھ دیا۔
دنیا کی کل آبادی کتنی ہے؟
Chatgpt کو حکم ملنے کی دیر تھی ، اس نے فوراً جواب لکھنا شروع کر دیا۔ جواب دیکھ کر فرہاد حیرت زدہ ہو گیا کیونکہ وہاں اس کے جواب کے ساتھ دیگر تفصیلات بھی درج تھیں۔ 
فرہاد نے کاپی، پنسل اٹھائی، اپنے مضمون کا انٹرو بنا یا اور ساتھ ہی اس میں دیگر معلومات درج کرنے لگا۔ 
اقوام متحدہ کے جاری کردہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی آٹھ ارب تک پہنچ چکی ہے جس میں سے تقریباً تین فیصد پاکستان کی آبادی پر مشتمل ہے۔ 2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی  2.55فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ بڑھ کر 241.49 ملین ہو گئی ہے۔ بھارت،چین،امریکہ اورانڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ آبادی کے لحاظ سےپاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔
فرہاد کے لیے یہ معلومات نئی تھیں۔ اس نے سوچا کہ Chatgpt سے یہ بھی پوچھ لیا جائے کہ آبادی کوکیسے کنڑول کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے وہاں ایک اور سوال لکھ دیا۔ جواب آیا تو فرہاد اسے اپنے الفاظ میں کچھ یوں لکھنے لگا۔
’’ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے ہمیں فوری طور پر ایک مشترکہ سوچ اورجامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی ترقی اوراس کےعوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ آبادی کو ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ملکی سطح پر عوام کے اندر زیادہ سے زیادہ شعورپھیلانے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ 
فرہاد کے مضمون کا ایک حصہ مکمل ہوچکا تھا۔ اب وہ صاف پانی کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا تھا تاکہ اس کے بارے میں بھی اپنے مضمون میں کچھ لکھ سکے۔ اس نے ایک بار پھرChatgpt کی طرف دیکھا جو کسی روبوٹ کی طرح اس کے ہر سوال کا جواب دینے کے لئے تیار تھا۔
 فرہاد نے اس سے صاف پانی کی اہمیت کے بارے میں جاننے کے لیے سوال کیا تو اس کا جواب تھا:
’’صاف پانی بنی نوع انسان اور دیگر جانداروں کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے مگر ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں اس وقت 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جن میں پاکستان کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ‘‘ فرہاد نے جلدی سے یہ تمام معلومات نوٹ کیں اور اگلے سوال کے لیے خود کو تیار کرنے لگا۔ 
’’صاف پانی کی کمی کی وجوہات کیا ہیں؟ ‘‘
Chatgpt نے سوال پڑھا اور فٹ سے لکھنے لگا۔ 
’’اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہے۔ پانی کی کمی کی دوسری بڑی وجہ گلوبل وارمنگ ہے جس کے باعث گلیشئیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس طرح سمندر کی سطح بلند اور پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ تیسری بڑی وجہ دنیا میں صاف پانی کی مقدار میں کمی ہے۔ دنیا کا ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے مگر پینے یا استعمال کے قابل پانی صرف تین فیصد ہی ہے۔ اس پانی کا بھی بیشتر حصہ پہاڑی تودوں اور چٹانوں کے نیچے موجود ہے ۔ وہاں سے صاف پانی نکالنا کافی دشوار ہوتا ہے۔ پانی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بے جا اسراف اور پانی کا ضیاع ہے۔‘‘  
فرہاد نے اہم معلومات اپنے مضمون کا حصہ بنائیں تو اسے یاد آ گیا کہ انہوں نے کلاس میں معاشرتی علوم کی کتاب میں          سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پڑھا تھا۔ اس نے فوراًکتاب کھولی اور اس کے بارےمیں پڑھ کر پانی کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی لکھ دی:
’’پاکستان کو پانی کے بدترین بحران کا سامنا اس لیے بھی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو اس کے حصےکےپانی سے محروم کرنےکےلیے دریائے سندھ پر کئی متنازعہ ڈیم تعمیر کر رہا ہے ۔ ‘‘
فرہاد اس مسئلے کو سلجھانے کے لیے اپنی رائے دینا چاہتا تھا۔ اس نے Chatgpt کی بھی رائے لی اوراسے اپنی سمجھ کے مطابق لکھنے لگا۔
’’ پاکستان کو پانی کے بحران سے بچانےکے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیرکیے جائیں۔حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں کئی اقدامات بھی اُٹھائے ہیں۔جن میں دیامربھاشا ڈیم اورمہمند ڈیم کی تعمیر قابل ذکر ہیں۔ دریائے جہلم پر منگلا ڈیم اور دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم  پانی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔اگرچہ تربیلا ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہے اور اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بھی کافی زیادہ ہے مگر ایک ڈیم ملک بھر میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ نئے ڈیم تعمیر کرکے ملک کو پانی کے بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔‘‘
فرہاد کا مضمون مکمل ہونے کو تھا۔ اس نے اس کا آخری حصہ مکمل کرتے ہوئے لکھا:
’’پاکستان کو درپیش اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم کے اندر شعوروآگہی پھیلائی جائے۔ صاف پانی قدرت کی طرف سے انسانوں کے لیے ایک بیش قیمت اورانمول عطیہ ہے۔ ہمیں صاف پانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ضائع کرنےسے گریز کرنا چاہیے۔ پانی کی ری سائیکلنگ بھی ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک جن میں چین بھی شامل ہے،سمندری کھارے پانی کوری سائیکل کر کے اسے پینے کے قابل بنا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر ہم بھی اس طرف توجہ دیں تو سمندری پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد قابل استعمال بنا یا جاسکتا ہے جس کے ذریعے ہم زرعی ضروریات اور دیگر اجناس کی پیداوار کو بڑھا کر پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوراک میں خودکفیل بناسکتے ہیں۔ 
فرہاد اپنا یہ کام مکمل کرکے بہت خوش تھا۔ تاہم رات کو سوتے وقت اسے باربار یہی خیال ستا رہا تھا کہ پانی کی کمی کے حوالے سے ہمارے پاس معلومات اور مضامین تو بہت ہیں مگر ہم عملی طورپر کچھ نہیں کررہے ۔اگر پاکستان کا ہر فرد اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور پانی کی بوند بوند کو بچانے کا عزم کرلے تو اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے ۔