اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 01:18
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق 

فروری 2024

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق ایک منظم منصوبے کی تکمیل تھی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی اسمبلی کی تحلیل سے لے کر صدر راج تک اگر ان تمام اقدامات کو دیکھا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مودی حکومت کا ایک طے شدہ منصوبہ تھا جس پر سلسلہ وار عملدر آمد کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2015 میں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہوئی اور محبوبہ مفتی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ بعد ازاںبھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی حمایت واپس لے لی جس کی وجہ سے 19 جون 2018 کو محبوبہ مفتی نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفٰی دے دیا۔ مقبوضہ کشمیر کے گورنر نے حکومت سازی کی مہلت دیئے بغیر اگلے ہی دن 20 جون کو مقبوضہ کشمیر کے آئین کی دفعہ 92 کے تحت گورنر راج نافذ کر دیا حالانکہ محبوبہ مفتی کا یہ دعویٰ تھاکہ وہ حکومت دوبارہ بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔یہ گورنر راج قانونی طور پرصرف 6 ماہ کے لیے تھا ۔


بھارت کے  5اگست 2019اور اس کے بعد کے اقدامات سے بھارت کے خلاف جموں و کشمیر میں نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے یہ دعوے کہ حالات معمول پر ہیں، بھی حقائق پرمبنی نہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بھارت نے قابض فوج کی تعداد میں ایک سپاہی کی بھی کمی نہیں کی۔ بلکہ حال ہی میں پونچھ میں سورن کوٹ میںچارکشمیری نوجوانوں''سفیر حسین ،  محمد شوکت ، شبیر احمد اور محمد صدیق''  پر تشد د اور ان کی مسخ شدہ لاشوں نے باشعور کشمیریوں کے ذہنوں میںبھارت سے آزادی کے جذبے کو مزید اجاگر کیا ہے۔



5 اگست   2019 کوبھارت کے صدر نے آرڈر(C.O.272) جاری کیا۔  جس میں کہا گیا کہ اس سے پہلے کے تمام آئینی حکم نامے جن سے آئین کی مخصوص دفعات ترمیم یا بلا ترمیم جموں و کشمیر پر لاگو ہوئی ہیں، کی جگہ بھارت کے آئین کی تمام  دفعات جموں و کشمیر  پر لاگوہوں گی اور آرٹیکل 370(3) میں آئین ساز اسمبلی کے بجائے لفظ قانون ساز اسمبلی استعمال ہو گا۔ 5 اگست 2019 کو ہی بھارتی پارلیمنٹ نے ریاست جموںو کشمیر کی اسمبلی  کے طور پر کارروائی کرتے ہوئے جموں وکشمیری آرگنائزیشن بل 2019 کی منظوری دی۔ پھر 6 اگست  2019 کو اسی پارلیمنٹ نے بھارتی پارلیمنٹ کے طور پر قانون سازی کرتے ہوئے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل منظور کیا۔بل کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو کم کرتے ہوئے دو یونین علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا گیا ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا آئین ختم کرتے ہوئے بھارت کا آئین مکمل طور پر لاگو کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 1927سے لاگو باشندہ ریا ست کا قانون جس کوبھارتی آئین کے آرٹیکل  35اے کے تحت تحفظ دیا گیا تھا، کو بھی ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میںبھارتیوں کی آبادکاری کے لیے  نیا ڈومیسائل قانون بنایا گیا۔
بھارت کے اس اقدام کے خلاف بھارتی سپریم  کورٹ میں مختلف اپیلیں دائر کی گئیں جن پر بعد از سماعت 5 رکنی بنچ  نے مورخہ 11 ستمبر 2023 کو فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ 352 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس سنجے کشن کول نے 121 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ اور جسٹس سنجیو کھنا نے 3 صفحات پرمشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہبھی بھارت کی عدالتوں کے دیگر متعصبانہ  فیصلوں کی طرح ہے۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میںکہا تھا کہ بابری مسجد کو گرانا درست عمل نہیں ہے لیکن جنہوں نے یہ جرم کیا ان کوبابری مسجد کی جگہ پر قبضے کا حق بھی دے دیا گیا ۔اسی طرح  افضل گوروکیس میں سپریم کورٹ نے کہاکہ افضل گورو کے خلاف کوئی براہِ راست شہادت موجود نہیں ہے تا ہم عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔ اسی طرح اس مقدمے کا فیصلہ بھی بھارت کی حکومت کو مطمئن کرنے اور اس کے غیر آئینی اقدام کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ اور بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 میں ترمیم اور بعد کے اقدامات کے حوالہ سے دو سوال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
 پہلا سوال، کیا ان اقدامات سے تنازع کشمیر کی حیثیت  بدل جائے گی ؟نہیں ہرگز نہیں۔تنازعہ کشمیر پر ان منصوبہ جات کاکوئی اثر نہیں ہوگا۔
اور دوسرا سوال جب جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے آئین کو ہی نہیں مانتے تو ان ترامیم پر احتجاج کیوں؟ دوسرے سوال کا جواب ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام نے دیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت قیادت کو بار ہابھارت کے آئین  کے اندر رہتے ہوئے اور زیادہ اندرونی خود مختاری کے لییبھارتی حکومتوں کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کی گئی جس کو کشمیری قیادت نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہبھارت کے آئین کے اندر رہتے ہوئے وہ کو ئی مذاکرات نہیں کریں گے۔
بھارت کے  5اگست 2019اور اس کے بعد کے اقدامات سے بھارت کے خلاف جموں و کشمیر میں نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے یہ دعوے کہ حالات معمول پر ہیں،  بھی حقائق پرمبنی نہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بھارت نے قابض فوج کی تعداد میں ایک سپاہی کی بھی کمی نہیں کی۔ بلکہ حال ہی میں پونچھ میں سورن کوٹ میں4کشمیری نوجوانوں''سفیر حسین ،  محمد شوکت ، شبیر احمد اور محمد صدیق''  پر تشد د اور ان کی مسخ شدہ لاشوں نے باشعور کشمیریوں کے ذہنوں میںبھارت سے آزادی کے جذبے کو مزید اجاگر کیا ہے۔اس طرح کے غیر انسانی اور سفاکیت سے بھر پور وحشیانہ اقدامات سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبایا نہیں جا سکتا،جبکہ  باشعور کشمیری ا نڈین سپریم کورٹ کے اس متازع فیصلے کو کشمیر کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت اور حیثیت کے تناظر میں دیکھ کر درج ذیلحقائق سامنے آتے ہیں۔
•  انڈین سپریم کورٹ نے محدود نکات پر بحث کر کے بھارتی حکومت کے اقدامات کو قانونی جواز فراہم کیا ہے جبکہ تنازع کشمیر ساری بحث سے باہر رہا۔ 
•   انڈین پارلیمنٹ کو کشمیر کے مستقبل کا اختیار دے کر کشمیری عوام کی رائے اور خواہشات کو نظر انداز کرنے کو جائز قرار دیا۔
370 lکو عبوری قرار دیا مگر اس کے متبادل قانون یا طریقہ جس میں کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ ہو سکے کے بارے میںسپریم کورٹ خاموش ہے۔
•   باقی ریاستوں کو حاصل خصوصی سٹیٹس کا ذکر نہ کر کے کشمیر کے لوگوں پر انڈین حکومت کے جبری کنٹرول کو قانونی قرار دیا ہے۔
• کشمیر کی سٹیٹ اور اس کی حدود اور تنازعات بشمول آزاد جموں و کشمیر اور اکسائی چن(Aksai Chin) کا ذکر کیے بغیر ادھوری ریاست کو زیر بحث لایاگیا جو کہ بے معنی قانونی بحث سے زیادہ اورکچھ نہیں۔
•   انڈین حکومت کے اقدامات میں موجود واضح بدنیتی جس کا مقصد کشمیری عوام کی رائے کو بُری طرح سے رَد کرنا تھا، کو سراسر نظر انداز کیا گیا۔
•    فیصلہ کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکا مگر انڈین حکومت کی بدنیتی کو آشکار کر گیا ہے۔بھارت میں موجود اقلیتوں کا مستقبل کیا ہے؟
•    اگریہ سب قانون اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہے تو اتنی فوج اور سکیورٹی فورسز کشمیر میں کیا کر رہی ہیں؟ حکومت کاایک گورنرمرکز کا نمائندہ کیوں ہے ؟
انڈین سپریم کورٹ، انڈین ریاست کا ذیلی ادارہ ہے ۔اس سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف فیصلہ دے گا۔
جدوجہد اور جنگ جاری رہے گی۔۔۔ بھارت کے زیرِ تسلط غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام ایک دن ضرور سُرخرو ہوں گے۔


مضمون نگار قومی و عالمی امور پر لکھتے ہیں۔

 

مضمون 892 مرتبہ پڑھا گیا۔