اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 11:36
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

ماں

فروری 2024

ابواء کی پتھریلی زمین اور کالے پہاڑ بھی اُس دن افسردہ تھے۔ وجہِ تخلیقِ کائنات حضرت محمدۖ چھ سال کی عمر میں اپنی ماں بی بی آمنہ کو دفنانے کے بعد حضرت اُمِ ایمن کے ہمراہ روتے ہوئے والدہ کی قبر سے اُتررہے تھے۔ یکا یک اُمِ ایمن کا ہاتھ چھڑا کر واپس ماں کی قبر پہ پہنچے۔ جو منظر اُمِ ایمن نے دیکھا اُسے دیکھ کر یقینا آسمان بھی رویا ہوگا۔ آپۖ اپنی والدہ کی قبر سے لپٹے روتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ''ماں تو جانتی ہے میرا دُنیا میں تیرے سوا کوئی نہیں پھر بھی تُو مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔''بیشک ماں کی وفات کادُکھ ایک ایسا دُکھ ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
خالقِ کائنات نے ارض و سماء کی رعنائیاں، رنگ و بُو ، خوبصورتی ، حسن ،کشش الغرض سب کچھ جوڑ کر اِک حسین رشتے کی صورت میںزمین پہ اُتارا جسے لوگ ماں کہتے ہیں۔ بے غرض اور والہانہ پیار کی انتہا اور انمول محبت کی معراج ، مالکِبحر وبر نے صرف ماں کو ہی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ پیدائش سے لے کر نزع کے وقت تک انسان اپنے ہر غم، ہر بیماری، ہر پریشانی، ہر خوشی ،ہر راحت اور ہر کامیابی پر جس ہستی کو یا دکرتا ہے وہ ماں ہے۔ ماں کا وجود سراسررب کے نور کی جھلک ہے۔ ماںکے قدموں تلے جنت کا تصور ہماری تعلیمات میں شامل ہے۔ ماں کے لبوں پہ دعا مستجابی کی اِک ایسی ضمانت ہے جس سے کوئی ذی روح انکار نہیں کرسکتا۔
خدا کے نور سے عورت کا روپ دھارا تو
صداحترام زبانِ خلق پکاری، ''ماں''
انسان کی فطرت میںشامل ہے کہ وہ جتنا بھی تھکا ہوا ہو، جیسے بھی مصائب سے دوچار ہو، ماں کی آواز سے اس کی سب پریشانیاں زائل ہو جاتی ہیں۔ماں کی آغوش میں اُسے وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیںدے سکتی ۔ دنیا کی بڑی سے بڑی خوشی انسان کو وہسکوننہیں پہنچا سکتی جو اُسے ماں کی گود میں آکر میسر ہوتا ہے۔ عمر کی قید سے ماورا، انسان چاہے خود بوڑھا ہو جائے، ماں کی آغوش ایک گھنا، سایہ دار درخت بن کر اُسے پھر سے بچپنے کی معصومیت اور لڑکپن کی خوشگوار یادوں سے جوڑ دیتی ہے۔ یقینا یہ منظر دیکھ کر فرشتے بھی انسان کی قسمت پہ رشک کرتے ہیں۔
رشک کرتے ہیں فرشتے بھی مِری قسمت پر
ماں کی آغوش میں جنت کا گماں ہوتا ہے
جنت کی طلب اپنی جگہ مگر ماں کا ساتھ میسر ہو تو دنیا بھی جنت ہے اور اگر اس قرب کو فرمانبرداری اور اطاعت کی سعادت میںڈھال دیا جائے تو یقینا آخرت میں بھی کامیابی اورسرفرازی ہی مقدر ہوگی۔ ماں کو ایک مرتبہ پیار سے دیکھ لینا ایک مقبول حج کے متبادل ہے ، تو سوچئے جن کے سروں پہ یہ گھنیری چھائوں اپنی بانہیں پھیلائے کھڑی ہے، ان کے لیے حصولِ جنت کتنا آسان ہوگا۔ ماں کی ایک مُسکان انسان کے رگ و پے میں روشنی اور اُجالے کی نوید بن جاتی ہے۔ ماںوہ ہستی ہے جسے ربِّ کائنات اولاد کے حق میں ہاتھ اٹھاتے ہی مستجابی کا پیغام سنا دیتا ہے۔ یقینا اولاد کے لیے ماں کی مسکراہٹ سے قیمتی اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔
سب سے حسین چیز رُخِ کائنات پر
ہے وہ ہنسی جو صرف ماں کے پاس ہے
جسے ماں کا سایہ اور لمس میسر ہو اُسے چاہیے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کا شکر ادا کرے کیونکہ اس کی منزل چاہے کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو، زندگی میں اُسے جتنے بھی مشکل مراحل کا سامنا کیوں نہ ہو، ماںکی دعا کی برکت سے ہر پریشانی اُس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہوجاتی ہے۔ ماں کا وجود کسی بھی گھر کو جنت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماں کے دم سے بہن بھائی ایک مضبوط حصار میں بندھے رہتے ہیں اور جب اتنی بڑی نعمت انسان کے سرپرسلامت ہو تو اس کا اپنے پروردِ گار کی بار گاہ میں شکر ادا کرنا ایک فطری عمل ہے۔
گود ماں کی جسے میسر ہو
اس پہ واجب ہے روز شکرانہ
ماں گئی رب نے کہہ دیا موسیٰ
اب جو آنا تو سوچ کر آنا
ہم جس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں ہم لڑکپن میں ہی اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک کی خدمت کے جذبے سے نکل پڑتے ہیں۔ گویا ہماری مثال اس پرندے جیسی ہے جسے ماں کی آغوش اس وقت تک ہی میسر رہتی ہے جب تک وہ گھونسلے میں رہتا ہے اور  خود اڑنا نہیں سیکھ لیتا۔ جیسے ہی اُسے اپنا گھونسلہ چھوڑنا پڑتا ہے ویسے ہی اُسے آغوشِ مادر  سے دور ہونا پڑتا ہے۔ ہم میں سے بہت تھوڑے لوگ اپنی ماں کی خدمت کا حق ادا کرپاتے ہیں۔ بے شک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا جذبہ ہماری نس نس میں شامل ہے اور عین عبادت ہے اور ہم اﷲ کے سپاہی ان چند خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اتنی عظیم سعادت حاصل ہوئی۔ مگر ہماری ذمہ داری ہے کہ جن کے سروں پہ ماں کا سایہ قائم ہے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے کہیں دُور تعینات ہیں، روزانہ کم از کم ان سے فون پر ضرور بات کریں۔ اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ نکال کر ماں کو ہر مہینے بھیجیں۔ چاہے ماں کو ہمارے ایک روپے کی بھی ضرورت نہ ہو۔ مائوں کے لیے اپنی اولاد کی جانب سے بھیجا گیا ہر تحفہ دنیا کا سب سے حسین تحفہ ہوتا ہے اور وہ مدتوں اُسے سینے سے لگائے جب جب بھی دیکھتی ہے تو بے اختیار دعائوں کا ورداس کی زبان  پہ جاری ہوجاتا ہے اور جسے ماں کی دعا ئوں کا آسرا ہو، اسے بھلا دنیا کی کسی تکلیف ، دھوپ ، پریشانی یا آزمائش کا کیا ڈر۔اسلامی تاریخ میں روزِ روشن کی طرح اِک نام جو ہمیشہ جگمگاتا ہے وہ حضرت اویس قرنی کا ہے۔ اویس قرنی  قرن کے رہائشی تھے اور ان کی والدہ نابینا تھیں۔ آپ والدہ کی بیماری کی وجہ سے نبی ٔ کریمۖ کی زیارت نہ کرسکے، یہاں تک کہ آپۖ کے وصال کا وقت آن پہنچا۔ ماں کی اس اعلیٰ خدمت کے صلے میں حضرت اویس قرنی کو وہ مقام حاصل ہوا ، جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یقینا ماں کی خدمت اِک ایسا عمل ہے کہ جو  اویس قرنی جیسے تابعی  کوبھی انسانیت کی اس معراج پہ پہنچا سکتا ہے کہ ایک دن حضرت عمر اورحضرت علی کو اﷲ کے نبیۖ حکم دے رہے  تھے ''میرے بعد میرا اُمّتی اویس آئے تو اُس سے اپنے لیے دُعا کروانا۔''یہ معراج ، یہ مرتبہ یقینا انہیں ماں کی خدمت کے صلے میں نصیب ہوا تھا۔
ماں کے سائے کا ہی کرشمہ ہے
دھوپ ملتی ہے احترام کے ساتھ
اور پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ یکا یک سر سے یہ گھنیرا سایہ ہٹا لیا جاتا ہے۔ بہار کا موسم اچانک سے خزاں میں بدل جاتا ہے۔ دھوپ، جاڑا، پت جھڑ ہر سمت سے انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ وہ سہارے ڈھونڈ تا ہے۔ سب سہارے ''نفسی نفسی '' کا ورد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماں کی آغوش کا سکون اور اس کی ممتا کی تڑپ سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ عنبر کی خوشبو سے زیادہ ماں کے آنچل کی مہک، ماں کے وجود کی خوشبو، ماں کی گود میں بسی دنیا تب یاد آتی ہے۔ وہ مضبوط حصار  جو اُسے گرمی کی حدت اور سردی کی کپکپاہٹ سے بچا کررکھتا تھا، تب سمجھ میں آتا ہے۔ دعاوئوں والے ہاتھ رخصت ہوتے ہیں تو انسان خود کو بے سرو سامان اور بے آسرا پاتا ہے۔
ماں گئی ہے تو یہ احساس ہوا ہے راشد
سر سے جبریل کاپر چھن سا گیا ہو جیسے
وہی گھر جہاں بہن بھائی پیار کے بندھن میں بندھے تھے، مائوں کے جانے کے بعد اُجڑ جاتے ہیں۔ فکر یں اپنا روپ بدل لیتی ہیں اور اولاد فکرِ فردا، فکر معاش اور مادی طرزِ فکر میں ایسے گم ہوتی ہے کہ نہ وہ گھر یاد رہتا ہے، نہ ہی وہ پیار کے بندھن، نہ ماں کے گھر کی وہ رونقیں یا درہتی ہیں اور نہ ہی بچپن میں ماں کے ہاتھ سے بنے لذیذ پکوان۔
سایہ دیتی ہیں مگر خود سے جلے جاتی ہیں
اپنی اولاد کی فکروں میں ڈھلی جاتی ہیں
رونقیں ان کے ہی سائے سے ہیں ملحق راشد
گھر اُجڑ جاتے ہیں جب مائیں چلی جاتی ہیں
نبی کریم ۖ نے ایک دن صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے فرمایا '' کاش میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز کے لیے جائے نماز پہ کھڑا ہوتا اور میری ماں مجھے آواز دیتی ''محمد'' ۔ میں اپنی نماز توڑ کے جواب دیتا''جی ماں جی میں حاضر ہوں۔'' گویا مقصد ہماری تربیت تھی کہ ماں کا درجہ کتنا عظیم ہے۔ مگر مائیں ہمیشہ کب ساتھ رہتی ہیں۔ شاید یہ بھی زندگی کا ایک دور ہے جسے ہم میں سے اکثریت کو دیکھنا ہے۔ ماں کے جانے کے بعد ماں کے حقوق اولاد کے ذمے ہیں، انہیں خوش اُسلوبی سے انجام دیناانتہائی ضروری ہے۔ ماں کے چلے جانے کے بعد ماںکے رشتے داروں سے حُسنِ سلوک، بہن بھائیوں سے پیار، ماں کی مغفرت کے لیے دعائیں، ماں کے اپنی زندگی میں کیے گئے اچھے کاموں کا جاری رکھنا یہ سب اولاد کے ذمے چند ضروری حقوق ہیں جنہیں جاری رکھنا اولاد کی اولین ترجیحات میں شامل رہنا چاہیے۔
 دعا ہے فاطمہ زہرا کی یاوری ہو نصیب
درِ خدیجة الکبریٰ کی حاضری ہو نصیب
تیری قبر پہ ستاروں کی کہکشاں اُترے
اے مری ماں تجھ زینب کی چاکری ہو نصیب
ماںکے دنیا سے چلے جانے کا دُکھ ایک ایسا دکھ ہے جس کا ازالہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔دیر ہو جائے تو بس پچھتاوا ہی باقی بچتا ہے اور اگر ابھی آپ کو گھنیری چھائوں میسر ہے تو اس کی قدر کیجئے  اور ماں کی خدمت کرکے جنت کمایئے اور اگر آپ اس عظیم نعمت سے محروم ہو گئے ہیں تو بعد از وفات ماں کی مغفرت کی دعائوں سے اپنی ماں سے رابطہ رکھیئے۔ ماں سے ملنے جایئے تو ماںکے قدموں میں سر رکھ کر اُس کا شکریہ ادا کیجئے کہ ہم  آج جو کچھ بھی ہیں اُسی کی دعائوں کی بدولت ہیں۔
راشد مرے لیے تو ہے جنت وہی مقام
مٹی کے ڈھیر پر جہاں لکھا ہے ماں کا نام


مضمون نگار معروف شاعر اور تین کتابوں کے مصنف ہیں اور اخلاقی اقدار سے لکھی گئی شاعری اور نثر کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔