اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 11:55
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ڈاکٹر فاروق عادل

مضمون نگار معروف صحافی اور کالم نگار ہیں۔

Advertisements

ہلال اردو

کشمیری تہذیب کا قتل

فروری 2024

کشمیری تہذیب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، یعنی عہدِموسیقیت، رومانویت اور حقیقت پسندی، لیکن یہ باتیں پرانی ہوئیں، یہ متنوع تہذیب موجودہ عہد میں بھی ایک دور سے گزر رہی ہے جس کا کوئی عنوان ابھی تک تجویز نہیں کیا جاسکا۔


حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے بچوں کی مصوری کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ ان بچوں نے جو تصاویر بنائی ہیں، ان میں تشدد، سڑکوں پر بکھرے پتھر اور جلتے ہوئے گھر دکھائی دیتے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں جو ڈر ان بچوں کے ذہن میں بیٹھ گیاہے، وہ سب ان تصویروں میں دکھائی دیتا ہے۔
جواں سال گلو کار علی سیف الدین اعتراف کرتے ہیں کہ کشمیر کی اصل موسیقی تو وہی ہے جس نے صدیوں کی گود میں پرورش پائی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ اب وہ اس روایت پر قائم نہیں رہ سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں ایک لڑکے کو گولی لگتے ہوئے دیکھوں یا اپنے کسی پیارے کے لاپتہ ہونے کی خبر سنوں تو میرے گانے میں بھی یہی چیخ و پکارہی سنائی دے گی۔



کشمیر کا عہدِ موسیقیت صرف موسیقی کے لیے معروف نہیں، کیوں کہ اس عہد کے لوگوں کا ذوقِ جمال زندگی کے ہر شعبے سے جھلکتا ہے جسے دیکھ کرایسی ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جیسی کوئی پھڑکتا ہوا شعر یا سریلا گیت سن کر کسی صاحب ذوق میں پیدا ہوسکتی ہے۔ عہد ِ رومان کو توازن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایک لاپروا اور الہڑ جذبہ اپنی تمام تر زور آوری کے بعد جب توازن کی کیفیت اختیار کرتاہے تو عشق بلاخیز کو دوام مل جاتا ہے۔ ارضِ کشمیر کا حیران کردینے والا طرز تعمیر اور اس کی تمام تر تفصیلات کشمیری تہذیب کے دوسرے عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔
مغلیہ عہد میں کشمیر کا تہذیبی سفر جذبات اور توازن کے مرحلوں سے گزر کر پختگی کی منازل طے کر چکا تھا، لہٰذا اسے حقیقت پسندی (Realism) کے عہد سے تعبیر کیا گیا جس میں وہ صدیوں کے تجربات کے بعد یہ سمجھنے کے قابل ہوا کہ منہ زور جذبے اور توازن کے درمیان ایک نقطۂ اتصال بھی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ ارضِ ہند میں جن دنوں اسلامی تہذیب کی روشنی میں ایک نئے ثقافتی عہد کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی، اہلِ کشمیر یہ مرحلہ پہلے ہی طے کرچکے تھے۔ 

کشمیر اس تہذیبی معراج پر کیسے پہنچا؟ عہد رسالت ۖکے بعد تقریباً 80 برس کے دورانیے میں اسلام کا پیغام دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل چکا تھاجن میں وسط ایشیا بھی شامل تھا۔ کشمیر میں اسلام کی روشنی اسی راستے سے پہنچی۔ اسلام کی برکت سے ذات پات کے غیر انسانی نظام میں جکڑے ہوئے سماج میں مساوات، برابری، محبت اور برداشت جیسی اعلی اقدار فروغ پائیں جن کے زندگی کے ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
کشمیری زبان و ادب کی نشوونما کا زمانہ بھی یہی ہے۔ یہاں کی ادبی تاریخ کم از کم چھ سو برس پرانی ہے۔ یہ کشمیری ادب اور اس کا لوک ورثہ ہی تھا جس کی عظمت کا اعتراف معروف مستشرق ہنٹن نولز نے یہ کہہ کر کیا کہ دنیا کی کسی زبان میں اس اعلیٰ پائے کا لوک ادب نہیں پایا جاتا جس قدر یہ کشمیری زبان میں پایا جاتا ہے۔
کشمیر میں باقاعدہ شاعری کی ابتدا  لِلا عارفہ سے ہوتی ہے جو کہتی ہیں    
ترک کر یہ ماسوا
ترک کر حرص و ہوا
نور ہی میں ڈوب جا
دیکھ اس کے نور کو
ہے وہ تیرے ہی قریب
کچھ نہیں اس کے سوا
کشمیر کی اس منفرد شعری روایت کی اگلی کڑی کشمیری گیت کی بانی حبہ خاتون ہیں۔ انہوں نے اپنے گیت میں کشمیر کے حسین نظاروں، شجر وحجر اور آبشاروں کے بیان میں نسوانی محسوسات ایسے فنکارانہ انداز میں سموئے ہیں کہ پڑھنے والا پڑھے اور سر دُھنے۔ انھیں بلاوجہ رومان اور غنائیت کی ملکہ نہیں قرار دیا جاتا۔ ان کی ایک بھرپور شناخت  ہے جو دور تک پھیلی ہوئی ہے۔
لدے ہوئے پھولوں کے سبزہ زار
ڈوب گئیں پھولوں میں یکسر
میرے دیس کی جھیلیں اور کہسار
تو نے سنی بھی میرے دل کی پکار؟
آؤ لوٹیں جلوہ حسنِ بہار
1857 کی جنگِ آزادی نے برصغیر میں بیداری کی ایک نئی لہر پیداکی، یوں خطہ کشمیر میں بھی آزادی کی تمنا نے زور پکڑا۔ یہی زمانہ غلام احمد مہجور کی فکری تگ وتاز کا ہے۔ وہ کہتے ہیں   
چمن والے چمن میں اب نئی ایک شان پیدا کر
کھِلیں گل، ہوں فدا بلبل، تو وہ سامان پیدا کر
مسلم برصغیر کا یہ حصہ بدقسمتی سے برصغیرکے دیگر حصوں کی طرح آزادی کی منزل نہ پاسکا جس کے نتیجے میں یہاں کے لوگوں میں عمومی طور پر یاس کی کیفیات پیدا ہوئیں۔ 1989 ء میں شروع ہونے والی تحریکِ آزادی کی نئی لہر، گزشتہ چند برس کے دوران میں اس کی نوعیت کی تبدیلی اور اس جذبے کو دبانے کے لیے قابض غیر ملکی قوت یعنی بھارت کی طرف سے اختیار کیے جانے والے ظالمانہ ہتھ کنڈوں کے نتیجے میں جو تباہی پھیلی، عمومی زندگی پر اس کے نہایت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کشمیر کا شاعربھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکا، یوں مزاحمتی شاعری پیدا ہوئی۔ شاعری کی یہ صورت مقامی روایت سے بیگانہ نظر آتی ہے۔ رنج و الم کی یہ کیفیات تہذیبی اعتبار سے اِس خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کہیں یہ صورت حال کشمیر کے اس روایتی رنگ ہی کو گوشہ گمنامی میں نہ دھکیل دے جو کبھی اس کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا۔ نسرین نقاش کے یہ شعر دیکھئے  
فنا کے تیر ہوا کے پروں میں رکھے ہیں
کہ ہم گھروں کی جگہ مقبروں میں رکھے ہیں
ہمارے پاؤں سے لپٹا ہے خواہشوں کا سفر
ہمارے سر ہیں کہ بس خنجروں میں رکھے ہیں
بچے بھی دکھ اور خود رحمی کی اِس تکلیف دہ صورت حال سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ چودہ برس کی ایک مصنفہ ربائیتہ کی کئی کہانیاں شائع ہوکر مقبول ہوچکی ہیں۔ اِ ن دنوں وہ جس ناول پر کام کررہی ہیں، اس کا عنوان ہے Blood Rain۔ یہ عنوان مقبوضہ کشمیر کی نئی نسل کی ذہنی وجذباتی کیفیات کو واضح کرتا ہے۔


کشمیر کے اس المیے کو صرف ثقافتی حوالے سے دیکھنے کے علاوہ ایک اور زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا تعلق جنگی جرائم سے ہے۔ جنگی جرائم کیا ہیں؟غیر مسلح شہری آبادیوں کو تہہ تیغ کر دینا۔شہریوں سے بے گار لینا اور انھیں غلام بنا لینا۔ تکنیکی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ فہرست طویل ہو سکتی ہے لیکن کسی خطے اور اس میں بسنے والی قوم کے ورثے اور شناخت کو تباہ کر دینا، اسے اس کے ماضی سے کاٹ دینا اور اس قسم کے حالات پیدا کر دینا کہ لوگوں کی نفسیات اور انداز فکر تک بدل جائے، آخر یہ بھی تو کسی قسم کا جرم ہوگا۔


انسانی حقوق کی انجمنیں تسلیم کرتی ہیں کہ بھارت کی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے حریت پسندوں کے خلاف عوامی املاک کو تباہ کرنے کا مقصد آبادی کو اجتماعی سزا دینا ہے۔ یہ صورت حال شاعری پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ مدہوش بالہامی کا ایک شعر ہے   
ایسی بات نہیں ہے کہ قد اپنے گھٹ گئے
چادر کو اپنی دیکھ کر ہم ہی سمٹ گئے
برطانیہ کا وکٹوریہ البرٹ میوزیم اپنے حیران کن عجائبات کے لیے معروف ہے۔ یہاں کشمیری مصوری کے جو نمونے محفوظ ہیں، وہ اس صنف لطیف کے ایک منفرد اسلوب کے نمائندہ ہیں۔ یہ 16 ویں صدی عیسوی کے وسط کی بات ہوگی جب کشمیر میں مصوری کے ایک نئے مکتبہ فکر کی بنیاد پڑی۔ اس عہد کے مصور، مصور سے کچھ بڑھ کر ہی تھے، یوں کہہ لیجیے کہ جادوگر رہے ہوں گے۔ انہوں نے سوت کے کپڑے پر مصوری کے تجربات کیے۔ کہنے کو یہ مصوری تھی مگر مؤرخ کی آنکھ سے دیکھئے تو تاریخ تھی، ادیب کی آنکھ سے دیکھئے تو ادب۔ یہ مصور اپنے مو قلم سے رنگوں کی ایسی جوت جگاتے کہ بہار کیا جگاتی ہوگی۔
ان مصوروں نے کشمیری لوک کہانیاں مصور کیں، جنگوں کے مناظر کی منظر کشی کی، باغات اور محلات نِک سک سے ایسے درست بنائے کہ نقل پر اصل کا گماں گزرے۔ اس میوزیم میں محفوظ کشمیری مصوروں کی یہ جادوگری آج بھی نگاہوں کو خیرہ کرتی ہے۔ مصوری کی ایسی زندہ جاوید روایت رکھنے والایہ خطہ جب سے آزمائش سے دو چار ہوا ہے، اس کی مصوری کا رنگ ڈھنگ ہی بدل گیا ہے۔
حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے بچوں کی مصوری کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ ان بچوں نے جو تصاویر بنائی ہیں، ان میں تشدد، سڑکوں پر بکھرے پتھر اور جلتے ہوئے گھر دکھائی دیتے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں جو ڈر ان بچوں کے ذہن میں بیٹھ گیاہے، وہ سب ان تصویروں میں دکھائی دیتا ہے۔
بچوں کی طرح تجربہ کار اور معروف مصور بھی ڈپریشن میں ہیں۔ کشمیری آرٹ کا اپنا مزاج اور اس کے جغرافیے کی مناسبت سے اپنے رنگ تھے لیکن آج کشمیر کا مصور مایوسی کے عالم میں ہے۔ شوخ و شنگ رنگوں کا استعمال ماضی کا قصہ ہوا۔ نامور مصور مسعود حسین کہتے ہیں، یہ اس لیے ہے کہ ایک سچا مصور وہی کچھ پینٹ کرسکتا ہے جو اسے اپنے اطراف میں دکھائی دیتا ہے، لہٰذا آج کا مصور سیاہی مائل رنگوں سے تصویریں بناتا ہے جو غم اور تباہی کو اجاگر کرتا ہے۔
پرندوں کی چہکارسن کر بیدار اور ندی نالوں کی جل ترنگ میں دن اور رات گزارنے والے اہل کشمیر کا موسیقی کے ساتھ تعلق فطری ہے۔کشمیر میں ساز و آواز کی یہ روایت ہمیشہ توانا رہی جسے ہند اسلامی تہذیب نے فراخ دلی سے پروان چڑھایا لہٰذا اس خطے نے اپنے راگ اور راگنیاں ہی تخلیق نہیں کیں بلکہ یہاں کے لوگوں نے اپنے آلات موسیقی بھی ایجاد کیے جن میں گِچک (Gichak) اور صد تارا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان سب تخلیقی کاوشوں کے نتیجے میں موسیقی کی وہ شکل ابھری جس کا انتہائی گہرا تعلق صوفی روایت سے ہے۔ اہل کشمیر کے اس وصف کی آئین اکبری میں بھی دل کھول کر داد دی گئی۔ جواں سال گلو کار علی سیف الدین اعتراف کرتے ہیں کہ کشمیر کی اصل موسیقی تو وہی ہے جس نے صدیوں کی گود میں پرورش پائی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ اب وہ اس روایت پر قائم نہیں رہ سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں ایک لڑکے کو گولی لگتے ہوئے دیکھوں یا اپنے کسی پیارے کے لاپتہ ہونے کی خبر سنوں تو میرے گانے میں بھی یہی چیخ و پکارہی سنائی دے گی۔
تو آج اہلِ کشمیر کی تہذیب، معاشرت، ادب و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی بھری پری روایت اس مقام پر آٹھہری ہے جس کے بعد جو لے اٹھے گی، رنج و الم میں ڈوب کر اٹھے گی جو نالہ بلندہو گا، فریاد کنا ں ہوگا۔ کاش! احترام آدمیت اور تہذیب انسانی کواس کی بہترین شکل میں برقرار رکھنے کے خوش کن دعوے کرنے والی دنیا تک اہل کشمیر کی یہ آوازبھی پہنچ سکے۔
کشمیر کے اس المیے کو صرف ثقافتی حوالے سے دیکھنے کے علاوہ ایک اور زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا تعلق جنگی جرائم سے ہے۔ جنگی جرائم کیا ہیں؟غیر مسلح شہری آبادیوں کو تہہ تیغ کر دینا۔شہریوں سے بے گار لینا اور انھیں غلام بنا لینا۔ تکنیکی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ فہرست طویل ہو سکتی ہے لیکن کسی خطے اور اس میں بسنے والی قوم کے ورثے اور شناخت کو تباہ کر دینا، اسے اس کے ماضی سے کاٹ دینا اور اس قسم کے حالات پیدا کر دینا کہ لوگوں کی نفسیات اور انداز فکر تک بدل جائے، آخر یہ بھی تو کسی قسم کا جرم ہوگا۔
فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس تنزیل الرحمٰن مرحوم کہا کرتے تھے کہ صرف محفوظ قرار دی گئی عمارات جیسے ہسپتال، مساجداور مفاد عامہ کے دیگر مقامات کو زک پہنچانا ہی جنگی جرائم کی تعریف میں نہیں آتا بلکہ تہذیب مظاہر کی تباہی اور ایسے حالات پیدا کردینا جن میں لوگ اپنے ثقافتی ورثہ سے صرف محروم نہ ہو جائیں بلکہ ان کا تخلیقی سفر ہی مختلف زاویے کی طرف جا نکلے، اسی تعریف میں آتا ہے اور یہ جرم چونکہ تہذیب اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، اس لیے اس کی شدت دیگر جرائم سے بھی بڑھ کر ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ظلم ، تشدد اور قتل و غارت گری بھی کریہہ جنگی جرائم ہیں لیکن تہذیب کو مٹا دینا اس لیے زیادہ سنگین جرم ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک خطہ اور اس میں بسنے والی قوم اپنی شناخت سے محروم ہو جاتی ہے۔ جسٹس تنزیل الرحمن کی یہ دلیل متاثر کن ہے ۔ اگر اقوام متحدہ کی طرف سے ورثہ قرار دی گئی عمارت پر جارحیت جرم کی ذیل میں آتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ تہذیبی مظاہر کی تباہی کو جنگی جرم تصور نہ کیا جائے۔ وہ وقت دور نہیں جب عالمی ضمیر بھارتی جارحیت کے اس ثقافتی پہلو کو بھی ہدف تنقید بنائے اوراہل کشمیر کو ان کے ثقافتی اور تاریخی ورثے سے محروم کردینے والے بھارت کے ان جرائم کو بھی جنگی جرائم قرار دے کر اسے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔  انشاللہ!!


مضمون نگار معروف صحافی اور کالم نگار ہیں۔


 

مضمون 1074 مرتبہ پڑھا گیا۔

ڈاکٹر فاروق عادل

مضمون نگار معروف صحافی اور کالم نگار ہیں۔

Advertisements