اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 01:27
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر

فروری 2024

افغان امور کے ماہر ،معروف صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر

حکومت پاکستان نے اکتوبر 2023 کے دوران اعلان کیا کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین سمیت تمام غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تارکین وطن کو ان کے ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔اس مقصد کے لیے  تمام تارکین وطن کے لیے پالیسی بنائی گئی کہ وہ یکم نومبر سے قبل یعنی ایک مہینے کے اندر رضا کارانہ طور پر پاکستان سے نکل جائیں۔اس فیصلے کو پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت نے ایک رسمی اجلاس کے دوران نہ صرف یہ کہ سراہا بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ فورسز اس مقصد کے لیے سول اداروں کی بھرپور معاونت بھی کریں گی۔متعلقہ اداروں نے تمام غیر ملکی باشندوں کی سکروٹنی شروع کی اور ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ پاکستان افغانستان کے مہاجرین کو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں پناہ دینے والا واحد ملک ہے جہاں گزشتہ 40 برسوں سے 25 سے 40 لاکھ تک مہاجرین قیام کرتے رہے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ ان میںسے تقریباً 68 فی صد بوجوہ غیر قانونی طور پر نہ صرف یہ کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر ہیں بلکہ وہ یہاں برسوں سے کاروبار بھی کررہے ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ لاتعداد مہاجرین دہشت گردی کے واقعات اور حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔اس ضمن میں سکیورٹی اداروں نے جو رپورٹس جاری کیں ان کے مطابق سال 2022 اور 2023 کے دوران پاکستان میں ہونے والے تقریباً 35 دہشت گرد حملوں میں افغان باشندے ملوث رہے ہیں۔ان میں 13 خودکش حملے بھی شامل بتائے گئے۔یہ بھی پتہ چلا کہ تقریباً 22 فی صد جرائم کے واقعات سمیت منی لانڈرنگ اورسمگلنگ میں بھی افغان باشندے ملوث ہیں۔



ایک ڈیٹا بیس رپورٹ کے مطابق سال 2023 کے دوران پاکستان میں 37 لاکھ افغان مہاجرین قیام پذیر تھے۔ان کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر بتائی گئی جو کہ تقریباً کل مہاجرین کی 71 فی صد تھی۔اگر چہ ان میں سے اکثر کے پاس حکومت اور یو این ایچ سی آر کی طرف سے جاری کردہ کارڈز یا دستاویزات موجود تھیں تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی موجود تھی جو کہ برسوں سے بغیر دستاویزات کے یہاں رہائش پذیر تھے۔تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر بلوچستان، تیسرے نمبر پر پنجاب اور پھر سندھ رہے جہاں مہاجرین لمبے عرصے سے رہائش پذیر بتائے گئے۔مہاجرین کی واپسی کے لیے پاکستان نے چاروں صوبوں میں رجسٹریشن اور پراسیس کے لیے تقریباً 11 مراکز قائم کیے جہاں ان کی نہ صرف یہ کہ رہنمائی کی جاتی تھی بلکہ ان کو ضروری اشیاء اور ادویات کے علاوہ مناسب رقم بھی دی جاتی رہی۔اس تمام پراسیس میں عالمی اداروں نے عملاً پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ صرف لاتعلق رہے بلکہ انہوں نے الٹا پاکستان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
دوسری جانب افغانستان کی عبوری طالبان حکومت سمیت پاکستان کی بعض قوم پرست جماعتوں نے بھی حکومت پاکستان کے اس قانونی اقدام کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آنے والا پراسیس ہے۔بیشتر ممالک کا رویہ یہ رہا کہ یہ ان افغان باشندوں کو بھی ویزے دینے سے گریز کرتے رہے جو کہ 20 سالہ امریکی قیام کے دوران ان کے ساتھ افغانستان میں کام کرتے رہے اور ایک طریقہ کار کے مطابق طالبان رجیم کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان کو اپنے ہاں پناہ دینی تھی۔سال2021- 2022 کے دوران پاکستان نے اُن افغان باشندوں کو ویزے جاری کیے جو کہ پاکستان کے راستے دیگر ممالک میں جانے والے تھے۔ تاہم امریکہ اور دیگر ان کو ویزے جاری کرنے سے گریز کرتے رہے اور یوں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد پاکستان میں ویزا پراسیس کا انتظار کرتے رہے۔ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان رجیم کے اقتدار لینے کے بعد تقریباً 6 لاکھ مزید مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے جن میں اکثریت غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کی تھی۔یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ ریاست پاکستان کو مزید بوجھ اور مسائل سے بچنے کے لیے پہلے سے موجود غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغانیوں کو نکالنے کا فیصلہ بھی کرنا پڑا۔
اس فیصلے کی ایک اور بڑی وجہ غالبا ًیہ رہی کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرنے کے اپنے وعدے میں نہ صرف یہ کہ ناکام رہی تھی بلکہ ان کا کنٹرول لینے کے بعد پاکستان پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ہونے والے حملوں میں پچھلے برسوں کے مقابلے میں تقریباً 50 سے 60 فی صد تک اضافہ بھی دیکھا گیا۔افغان حکومت جہاں ایک طرف پاکستان کے ساتھ اس سنگین مسئلے پر تعاون کرنے سے انکار کرتی رہی، وہاںبسا اوقات کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرکاری سرپرستی بھی کرتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف 2023 کے دوران پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تقریباً 600 حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز سمیت تقریباً 1000 افراد شہید اور 2300 زخمی ہوگئے۔اس برس تقریباً 29 خودکش حملے بھی کیے گئے جن میں سے 13 حملوں میں افغان باشندے ملوث پائے گئے۔اس صورت حال کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں غیر معمولی طور پر کشیدگی پیدا ہوئی اور حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ 6 ستمبر 2023 کو تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروپ نے جہاں افغانستان کی مبینہ سرپرستی میں صوبہ نورستان کے راستے ضلع چترال پر تین مقامات سے حملے کیے، وہیں اسی روز افغانستان کی سرحدی فورسز نے طورخم پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں سرحد 5 روز تک بند رکھی گئی۔حملوں کا یہ سلسلہ بلوچستان کے چمن بارڈر پر کچھ زیادہ جاری رہا جہاں سال 2023 کے دوران افغان فورسز اور کالعدم گروپوں نے پاکستان پر تقریباً 11 حملے کیے مگر پاکستان تحمل سے کام لیتا رہا۔افغان فورسز اور اس کی زیر سرپرست گروپوں نے، ایک رپورٹ کے مطابق 2022- 23 کے دوران خیبر پختونخوا کے 5 قبائلی اضلاع میں تقریباً 29 حملے کیے۔ وزیرستان کے 3 اضلاع ان حملوں کا بار بار نشانہ بنتیرہے۔
دوسری جانب سال 2023 کے دوران انکشاف ہوا کہ امریکہ نے 4 لاکھ کے قریب جو جدید اسلحہ اپنے انخلاء کے وقت افغانستان میں چھوڑ رکھا تھا اس میں سے تقریباً 25 فی صد کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر کے ہاتھ لگا یا اور پاکستان پر ہونے والے اکثر حملوں میں یہ جدید اسلحہ استعمال کیا جاتا رہا۔اس تمام تر صورتحال نے تعلقات کو انتہائی خراب کردیا اور پاکستان سخت پالیسی بنانے پر مجبور ہوا جس میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغانیوں کی بے دخلی کا فیصلہ بھی شامل رہا تاہم اس کے باوجود پاکستان نے دستاویزات رکھنے والے مہاجرین پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالا بلکہ اس آپریشن کے دوران بھی پاکستان نے تقریباً 7000 افغان باشندوں کو ویزے جاری کیے، دوسری جانب مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیڈ لائن میں توسیع بھی کرتا رہا۔ ایک اندازے کے مطابق 5 جنوری 2024 تک پاکستان سے تقریباً 5 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغانیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔کسی بھی موقع پر نہ تو زبردستی سے کام لیا گیا اور نہ ہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔اکثر مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے اور پاکستان نے ان کو عالمی اداروں اور افغانستان کی حکومت کے برعکس ایک پرامن اور منظم طریقہ کار کے مطابق نہ صرف سہولیات فراہم کیں بلکہ اس تمام پراسیس کے دوران یکطرفہ پروپیگنڈے کے باوجود تحمل کا رویہ بھی اپنایا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے اس فیصلے کو ایک کٹھن فیصلہ قرار دیا گیا ہو، تاہم پاکستان کو اپنے مسائل اور چیلنجز کے تناظر میں یہ اقدام اٹھانا پڑا اور اس سلسلے کو بتدریج آگے بڑھانے کی مستقل پالیسی بھی تشکیل دی گئی۔ اس تمام معاملے کا ایک مثبت پہلو یہ بھی رہا کہ جو مہاجرین واپس جاتے گئے وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بر عکس پاکستان کی برسوں کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے پائے گئے۔اس سے بھی اچھی بات یہ رہی کہ پاکستان نے نہ صرف متعدد خدشات اور چیلنجز کے باوجود قانونی طور پر پاکستان آنے والے افغانیوں کے لیے ویزا پراسیس کو مزید بہتر اور تیز کیا بلکہ 2023 کے آخر میں پاکستان نے افغانستان کے سیکڑوں سٹوڈنٹس کے لیے ایجوکیشن سکالر شپ کے ایک اور بڑے پیکج کا بھی اعلان کیا جس کی ابتدائی سلیکشن کے دوران ہزاروں افغان سٹوڈنس نے حصہ لیا۔


 [email protected]


 

مضمون 1211 مرتبہ پڑھا گیا۔