اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 10:33
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

جعفر شاہ کاظمی

Advertisements

ہلال اردو

گلگت بلتستان اور سیاحت

جنوری 2024

 اگرآپ کا دل شہروں میں بنے مصنوعی تفریح گاہوں، پارکس، فارم ہاؤسز سے اکتا گیا ہو تو گلگت  بلتستان آئیے جہاں آپ قدرت کے عظیم شاہکار،اللہ کے بنائے ہوئے تفریحی مقامات کا مشاہدہ کریں گے۔ جہاں کی ہر وادی کو اللہ نے اپنی خوبصورتی کا مظہر بنایا ہے۔یہاں آکرآپ اللہ کے جمال، شان اور عظمت کوسبزہ زاروں، بہتے چشموں، گرتے آبشاروں، چہچہاتے پرندوں،بل کھاتے دریاؤں، صاف شفاف نیلی جھیلوں،جھرنوں،صحرا کی ٹھنڈک اور اونچے اونچے برف پوش دیو ہیکل پہاڑوں کی شکل میں دیکھیں گے۔یہ سر زمین سراپا امن ہے،محبت ہے، ادب ہے، تہذیب ہے،اور سب سے بڑھ کر مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کا پرخلوص جذبہ رکھتی ہے۔



حال ہی میں ایک برطانوی ٹریول ایجنسی نے گلگت  بلتستان کو دنیا کے 20 سیاحتی مقامات میں سب سے بہترین قرار دیا ہے۔ یہاں آپ قدیم روایات، تہذیب، آثار قدیمہ، جھیلیں، فلک پوش پہاڑی سلسلے،جن میں ہمالیہ، قراقرم،ہندوکش شامل ہیں کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ بلندی پر موجود دوسرے بڑے میدان دیوسائی کے خوبصورت، حیرت انگیزاور طلسماتی نظاروں سے بھی محظوظ ہوسکیں گے۔
گلگت  بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ہے۔انتظامی طور پر گلگت  بلتستان کو تین ڈویژنز(گلگت، دیامر استور اور بلتستان)اور دس اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دارالحکومت گلگت اور سب سے بڑا شہر سکردو ہے۔شینا، بلتی اور بروشسکی یہاں کی مقامی زبانیں ہیں جبکہ لوگوں کی اکثریت اردو زبان بھی بول سکتی ہے۔بہت سے نوجوان انگریزی سمیت دوسری بین الاقوامی زبانیں بھی سمجھتے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد پاک فوج سے منسلک ہے ، یہاں نوجوان پاک فوج کا حصہ بن کر نشانِ حیدر جیسا بڑا قومی اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں اور نشان حیدر کا اعزاز اس علاقے کے لوگوں کی وطن سے غیر مشروط محبت، عقیدت اور لگاؤ کا منہ بولتاثبوت ہے۔مذہبی رواداری، بھائی چارہ، اخلاقی اقدار یہاں کے لوگوں کا خاصہ ہے۔
یہاں کے لوگ ملنسار، سادہ، اور مہمان نواز ہیں۔لوگوں کاجذبہ ایثار قابل دید ہے۔ ملکی یا غیر ملکی سیاح اور کوہ پیما اپنے آپ کو یہاں بالکل محفوظ تصور کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیاحت، کوہ پیمائی یا کسی بھی حوالے سے آنے والے مہمان یہاں سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے جس کا اظہار قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں ہوتا رہتا ہے۔
گلگت  بلتستان کی تخلیق میں رب العزت نے اپنی فیاضی دکھائی ہے۔یہاں کا جداگانہ لینڈسکیپ اس کامنہ بولتا ثبوت ہے۔گلگت  بلتستان میں تین عظیم پہاڑی سلسلے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش آپس میں ملتے ہیں۔
دنیا کے8000  میٹرسے بلند 14عظیم پہاڑوں میں سے 5 گلگت  بلتستان میں پائے جاتے ہیں۔جن میں کے۔ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک،گشہ بروم I اور گشہ بروم II شامل ہیں۔دنیا کے تین گلیشیئرز میں سے دو یہیں پائے جاتے ہیں۔
گلگت  بلتستان قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں معدنی ذخائر، زرخیز زمین، سبزیاں اور پھل خصوصاً سیب،ناشپاتی، خوبانی، چیری، انگور، سمیت دوسرے پھلوں کے باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔سہولیات بہم پہنچائی جائیں تو گلگت  بلتستان خوبانی برآمد کرنے والی تیسری بڑی مارکیٹ کے طور پہ سامنے آ سکتا ہے جبکہ ہر طرح کی سبزیاں بھی اگائی جاتی ہیں۔قدرت نے گلگت  بلتستان کو معدنی ذخائر خصوصاً قیمتی پتھروں سے بھی نوازا ہے۔اب تک کی معدنیات اوربیش قیمت پتھروں کی دس قسمیں دریافت ہوچکی ہیں۔ 
جس طرح وطن عزیز کا حکومتی مرکز اسلام آباد، ثقافتی، علمی مرکز لاہور اور معاشی مرکز کا درجہ کراچی کو حاصل ہیںاسی طرح سکردو کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سیاحتی مرکز کے طور پہ جانا جاتا ہے۔سکردو بلتستان ریجن کاانتظامی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اورتعلیمی مرکز ہے۔مشہور صحافی و مصنف رضاعلی عابدی نے سکردو کو پیالے میں موتی سے تشبیہ دی ہے۔سکردو کے چاروں طرف آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں کی فصیل ہے۔جہاں ایک طرف قلعہ کھرفوچو اور گنگوپی ہرکونگ سکردو کے شاندار ماضی کی گواہی دے رہے ہیں تو دوسری طرف سدپارہ جھیل جو کہ اب ڈیم میں تبدیل ہوچکی ہے، سکردو کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے جس سے آبپاشی اور توانائی کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔  
 سکردو،  بلتستان میں واقع تمام بلند و بالا چوٹیوں،گلیشیئرز، سبزہ زاروں، قدرتی حسن سے مالا مال تفریح گاہوں،سیرگاہوں اور کولڈ ڈیزرٹ کا گیٹ وے ہے۔ بلتستان کے لیے سفر بھی کسی ایڈونچر سے کم نہیں ہے۔اسلام آباد سے سکردو کا فاصلہ لگ بھگ 700 کلو میٹر ہے۔اگر آپ بائی روڈ سفر کرنا چاہتے ہیں تو راولپنڈی کے پیر ودھائی بس اسٹینڈ سے بسز، کوچز، ویگنیں اور کاریں مناسب کرائے پر دستیاب ہیں۔بائی روڈ سفر کی صورت میں آپ دنیا کے آٹھویں عجوبے شاہراہ قراقرم پر سفر کریں گے۔شاہراہ قراقرم جو پاک چائنہ دوستی کی علامت ہے،  سنگلاخ چٹانوں کو کھود کراور پہاڑوں کے دامن کو چیر کر بنائی گئی ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر میں پاک فوج کے سیکڑوں جوانوں کا خون بھی شامل ہے۔ایک طرف بل کھاتی اوپر نیچے جاتی سڑک تو دوسری طرف دریائے سندھ کا بہاؤاور اس کا مسلسل شور۔ اہل ذوق بائی روڈ سفر سے بھی بہت محظوظ ہوں گے۔
لیکن اگر آپ فضائی سفر کرنا چاہتے ہیں تو اسلام آباد سے گلگت اور سکردو کے لیے روزانہ فلائٹس جاتی ہے۔فلائٹ کا دورانیہ بالترتیب 30 منٹ اور 50 منٹ ہے۔ بائی ائیر سفر کی صورت میں آپ وادیِ کاغان، وادیِ ناران خاص طور پر کوہ  ہندوکش، کوہ ہمالیہ اورقراقرم کے عظیم پہاڑی سلسلے کا فضائی نظارہ کریں گے۔ خاص کر نانگا پربت کا کہ جس کے ایک نظارے کی خاطر لوگ ہفتوں ہوائی سفرکا انتظار کرتے ہیں۔جس کا اعلان فلائٹ کا ہر کپتان کرتا ہے اور مسافروں کو اسی اعلان کا  انتظار رہتا ہے۔اور سب بے صبری سے اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ونڈو پر جھک جاتے ہیں۔سکردو میں قیام و طعام کے لیے مناسب قیمت پر ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز ہمہ وقت دستیاب ہیں ۔
سکردو قلعہ کھرفوچو کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے۔دفاعی اہمیت کے پیش نظرسکردو کے طاقتورحکمران مقپون نے اسے تعمیر کیااور سکردو کوپایہ تخت بنایا۔ اس سے پہلے شگری پایہ تخت ہوا کرتا تھا۔اسی قلعہ کے دامن میں علی شیرخان انچن کی ملکہ نے پانچ منزلہ محل تعمیرکرایااور رانی کے نام کی مناسبت سے میندوق کھر مشہور ہوا۔قلعہ کھرفوچو آج بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہے اور یہاں سے سکردو شہر کے دلفریب منظر کو الفاظ میں ڈھالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
سکردو سے 28 کلو میٹر کے فاصلے پر لوئرکچورا لیک(Heart shaped) اور اس پر بنے ہوٹل نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنے قدرتی حسن، دلکش مناظر، اوردلفریب لینڈ سکیپ کی وجہ سے زمین پہ جنت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر سیاح اس کی بناوٹ اور حسن و رعنائی میں کھو جاتے ہیں۔جبکہ یہاں سے کوئی ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پر اپر کچورا لیک سیاحوں کی دلچسپی کا محور ہے۔کچورا کی ان دونوں جھیلوں میں ٹرائوٹ مچھلی بکثرت پائی جاتی ہے۔ سیاح یہاں کی یخ بستہ مگر صاف و شفاف پانی میں کشتی رانی سے بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ ان دونوں مقامات کے لیے سکردو سے کاریں، جیپ،ویگنیں مناسب قیمت پرہمہ وقت دستیاب ہیں۔
سکردو آمد کے بعد سدپارہ جھیل اور دیوسائی میدان کا نظارہ کیے بغیر شاید ہی کوئی سیاح واپس لوٹے۔ جی ہاں اگر آپ دنیا کے دوسرے بلند اور بڑے سبزہ زار میں جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو دیوسائی حاضر ہے۔ ساڑھے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس سبزہ زار کی وسعت 580  مربع میل ہے۔ جہاں آپ شیوسر لیک کا نظارہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمالیہ کا بادشاہ براؤن بئیر،سنو ٹراؤٹ، گولڈن ایگل اور سنو ٹائیگرکا مشاہدہ بھی کرسکتے ہیں اور اسی دیوسائی کے اوپر واقع برگے لا سے دنیا کا سب سے حسین، دلفریب اور ہیجان خیزپہاڑی منظر کے۔ٹو، براڈپیک،گشہ بروم، مشہ بروم اور چوغو لیزا کو ایک ہی صف میں دیکھنے کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔ 
سکردو سے لگ بھگ 30 کلو میٹر کے فاصلے پر وادی شگر کی سرزمین واقع ہے۔ یہاں شگر فورٹ، کولڈ ڈیزرٹ، حشوپی باغ، جربہ ژھو(Blind Lake)سمیت اہم اور خوبصورت سیرگاہیں موجود ہیں۔ یہاں آپ قدیم بلتی ثقافت اور زمانے کی جدت کوایک ساتھ محسوس بھی کرسکتے ہیں اور لطف اندوز بھی ہوسکتے ہیں۔یہاں حال ہی میں بننے والے کھوج ہوٹل نے سیاحوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کررکھا ہے۔وادی کھرمنگ سکردو سے 60 کلو میٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔کھرمنگ میں منٹھوکھہ آبشار، خاموش آبشار اور دیگر تفریحی مقامات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔خاص کر منٹھوکھہ آبشاراور وہاں تک پہنچنے کے لیے ندی کنارے سفر کے لطف کو الفاظ  میں ڈھالناناممکن ہے۔یہاں بھی قیام و طعام اور استراحت کے لیے ریسٹورنٹ موجود ہیں۔جبکہ دوسری طرف سکردو سے کھرمنگ جاتے ہوئے اگر آپ اُلٹے ہاتھ ہمایوں پل کے اس پار جائیں گے تو بلتستان کا دوسرا بڑا ضلع گانچھے آپ کو خوش آمدید کہے گا۔گانچھے،خپلو کے نام سے بھی مشہور ہے۔خپلو میں گرمیوں میں "گنگ گلیشئیر'' پگھلنے سے بہنے والے نالے کی مناسبت سے گانچھے کانام سامنے آیا۔ خپلوضلع گانچھے کا صدر مقام ہے اورسکردو سے 103 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسی طرح خپلو فورٹ ملکی اور غیرملکی سیاحوں کے لئے ایک اہم پکنک پوائنٹ ہے۔جو اپنی شاہانہ عظمت،شاندار ماضی اور اہم تاریخی صفحات سے پردہ اٹھانے کو بے تاب ہے۔ یہ محل 1840  میں یہاں کے حکمران یبگوراجہ دولت علی خان نے تعمیر کیا۔اس محل کی تعمیر میں بلتی، کشمیری اور وسط ایشیائی کاریگروں نے حصہ لیا اسی لیے یہ محل ان تینوں علاقوں کے فن تعمیر کا شاہکار ہے۔محل کے اندر بلتی اشیا کی ایک نمائش گاہ یا میوزیم اورشائقین کی دلچسپی کے کافی سامان موجود ہیں۔
خپلو میں ایک ہزار فٹ کی بلندی پر ایک اور قلعہ تھوقسی کھریا تھرہرژے کھر بھی ہے۔یہاں سے آپ نہ صرف خپلو شہر بلکہ مشہ بروم کی بلند و بالا برف پوش پہاڑی سلسلے کا دلکش نظارہ بھی کر سکتے ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ فلک بوس پہاڑوں کے بیچوں بیچ بل کھاتا تاحد نظر ریتلے میدان میں پھیلا ہوا دریائے شیوک کا منظرخپلو کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا ہے۔G.T.VIGNE نے اپنی کتاب Travels in Kashmir, Ladak' Iskardo   میں جس انڈس کا ذکر کیا ہے حقیقت میں یہ دریائے شیوک ہے جو کریس کے مقام پہ دریائے سندھ میں جا گرتاہے۔خپلو کی قدیم جامع مسجد چقچن بھی سیاحوں کے لیے خاص کشش کا باعث ہے۔ کہا جاتاہے مبلغ اعظم امیر کبیر سید علی ہمدانی نے 1381  میں اس مسجد کی بنیاد رکھی۔لیکن زیادہ تر مورخین کے مطابق سید محمد نوربخش 1446  میں  بلتستان تشریف لائے۔اس وقت خپلو میں راجہ شاہ اعظم کی حکومت تھی۔ انہی کے دور حکومت میں آپ نے ہی جامع مسجد چقچن کی بنیاد رکھی۔
دنیا کا سب سے اونچا، سرد ترین اور مشکل ترین محاذ جنگ سیاچن اور گیاری بھی اسی ضلع میں واقع ہیں۔جہاں وطن عزیز کے بہادر بیٹے اپنے وطن کی حفاظت کے لیے عظیم قربانیاں دے کر تاریخ رقم کررہے ہیں۔
بلتستان کی وادیِ روندو بھی اپنے بے پناہ قدرتی حسن کی وجہ سے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ روندو کے سیاحتی مقامات میں طورمک، تھورچے بلامک، استک، تلو اور تلو بروق کو خاص مقام حاصل ہے۔بلتستان کے ان تمام علاقوں کے لئے سکردو سے روازانہ کی بنیاد پہ گاڑیاں جاتی ہیں اور یہ تمام علاقے ہر طرح سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ ملکی و غیر ملکی سیاح ان علاقوں میں بے خوف و خطرقدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔خاص کرسکردو سے57 کلومیٹر کے فاصلے پردریا کنارے واقع اپنے نام کی طرح خوبصورت گاؤں باغیچہ میں گھنے پیڑوں کے سائے تلے ناشتے کا لطف قسمت والے ہی اٹھا سکتے ہیں۔۔۔۔


مضمون نگارماہرتعلیم اورکالم نویس ہیں۔
[email protected]

 

مضمون 2448 مرتبہ پڑھا گیا۔

جعفر شاہ کاظمی

Advertisements