اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 08:55
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی
Advertisements

ہلال کڈز اردو

قہقہے

جنوری 2024

باپ :’’بیٹا! تم نے مرغی کے انڈے کیوں توڑے ؟‘‘
بیٹا:’’میں نے سوچا کہ بچے دم گھٹنے سے مر جائیں گے۔‘‘
............
مریض : ’’ڈاکٹر صاحب آپ ہمیشہ میراغلط دانت نکال دیتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر :’’آج میں صحیح دانت نکالنے میں کامیاب ہو جائوں گا۔‘‘
مریض :’’وہ کیسے ؟‘‘
ڈاکٹر :’’کیوں کہ آپ کےمنہ میں صرف ایک ہی دانت بچا ہے۔‘‘
 ............
ایک لڑکا(دوسرے سے):’’ اپنے بال دیکھو جیسے گھاس اُگی ہوئی ہو ۔‘‘
دوسرا لڑکا: ’’میں اِسی لیے سوچ رہا ہوں کہ میرے پاس گدھاکیوں کھڑا ہے۔‘‘
  ............
گاہک :’’یہ ٹائی کتنے کی ہے؟‘‘
دکاندار : ’’ہزار روپے کی ۔‘‘
گاہک :’’ہزار روپے میں تو چپل کا جوڑا مل جاتاہے۔‘‘
دکاندار :’’ٹھیک ہے آپ چپل ہی خرید کر گلے میں لٹکا لیں۔‘‘
............
ماں :’’بیٹا !یہ چمچ اور پلیٹ صبح صبح کہاں لے کر جا رہے ہو؟‘‘
بیٹا :’’ابو نے کہا تھا کہ صبح کے وقت تازہ ہواکھانا صحت کےلیے مفید ہے۔وہی کھانے جارہا ہوں۔‘‘
............
فقیر (کنجوس آدمی سے ) : ’’دو روپے دو بابا، تین دن سے بھوکا ہوں ، کھانا لینا ہے۔‘‘
کنجوس آدمی :’’ میں تمہیں سو روپے دوں گا، پہلے یہ بتائو دو روپے میں کھانا کہاں ملتا ہے؟‘‘
............
دو مسافر گاڑی میں لڑ رہے تھے۔ ایک کہتا تھاکہ کھڑکی کھول دو، گرمی ہے، دوسراکہتا کھڑکی بند کر دو، سردی ہے۔ آخر ایک مسافر اٹھ کر ان کے پاس آیااور بولا :’’بھائیو! لڑتے کس بات پر ہو؟ کھڑکی میں تو شیشہ ہی نہیں ہے۔‘‘
............
استاد : (شاگرد سے)’’بتائو! سمندر میں روشنی کےمینارکیوں بنائے جاتے ہیں ؟‘‘ 
شاگرد :’’اس لیے کہ کہیں مچھلیاں راستہ نہ بھول جائیں ۔‘‘
............
ایک ہوٹل کا کھانا خراب تھا۔ گاہک نے بیرے سے کہا :’’تمہارامنیجر کہاں ہے؟‘‘
بیرا بولا : ’’جی!وہ ساتھ والے ہوٹل میں کھانا کھانے گئے ہیں۔‘‘
............
ایک لڑکا :’’ دنیا کا سب سے طاقتور انسان کون ہے ؟‘‘ 
دوسرا:ٹریفک کا سپاہی! وہ اس لیے کہ وہ ہاتھ کے صرف ایک اشارے سے کئی گاڑیاں روک لیتاہے۔‘‘