اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 10:44
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی
Advertisements
Advertisements

ہلال کڈز اردو

اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت

جنوری 2024

عنایہ مزے سے چاکلیٹ کھا رہی تھی کہ اچانک اس میں سے ایک بڑا سا کیڑا نکلا اور بولنے لگا:’’ مجھے بھوک لگی ہے مجھے تمہارے دانت چاہئیں۔‘‘
عنایہ ڈرتے ہوئے بولی:’ ’کک...کیا؟‘‘



اتنے میں اس کے پرس سے ٹافیاں چھلانگ لگا کر باہر آنے لگیں اور ان سے بھی کیڑے نکل کر بولنے لگے: ’’ہمیں بھی بھوک لگی ہے۔ عنایہ کے دانت ہم بھی کھائیں گے۔‘‘
عنایہ وہاں سے بھاگنے لگی مگر چاکلیٹ، ٹافیاں اور کیڑے بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگے۔
’’کوئی مجھے بچاؤ پلیز! ‘‘ عنایہ دوڑتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ سامنے مسواک اورٹوتھ برش سپرمین کی طرح کھڑے تھے اوران کے گلے سے لپٹا سرخ کپڑاہوامیں لہرا رہا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی کیڑے ڈرتے ہوئے رک گئے اور کہنے لگے: 
’’ارے بھئی !دوڑو یہاں سے، ورنہ یہ دونوں ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
عنایہ نے یہ دیکھا تو مسواک اور ٹوتھ برش سے پوچھنے لگی:’’ یہ آپ سے ڈر کیوں گئے؟‘‘
’’کیونکہ ہم دانتوں کوصاف رکھ کر ان کیڑوں سے محفوظ بناتے ہیں اور دانتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ جو بچے ہم سے دوستی کرتے ہیں ہم صبح و شام ان کے دانتوں کو جراثیم اور کیڑوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔‘‘
اتنے میں عنایہ کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اس بارے میں سوچنے لگی۔اچانک اُسے گزشتہ روز کا واقعہ یاد آگیا۔ ابو کو سکول سے کال آئی تھی کہ عنایہ کے دانتوں میں درد ہے، اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔
ابو کال سنتے ہی سکول کے لیے نکل پڑے۔ سکول پہنچے تو عنایہ کا درد سے بُرا حال تھا۔ابو اسے فوراًہسپتال لے گئے۔ جہاں ڈاکٹر نے چیک اَپ کے بعد پوچھا : ’’بیٹی! کیا آپ چاکلیٹ اور ٹافیاں خوب کھاتی ہیں؟‘‘
عنایہ ڈاکٹر کو بتانےسے ہچکچا رہی تھی۔ اسی دوران ابوبولے: ’’جی ڈاکٹر صاحب!‘‘  
’’اس کے دانتوں کو کیڑا لگ چکا ہے اور اس کی وجہ میٹھی چیزوں کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ ‘‘ڈاکٹر صاحب نے وضاحت کی۔
’’کیا آپ صبح و شام برش کرتی ہیں؟ ‘‘
ڈاکٹرصاحب کے پوچھنے پرعنایہ نے نفی میں سرہلایا۔
ڈاکٹر صاحب شفقت سے بولے:’’ بیٹی!برش کرنا تو بہت ضروری ہے ورنہ دانت خراب ہو جاتے ہیں اور پھر درد بھی ہونے لگتا ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں دوائی دیتا ہوں۔ اس سے درد کا آرام آئے گا لیکن یاد رکھیں،دانتوں کی روزانہ صفائی سے ہی آپ اس درد سے پوری طرح نجات حاصل کرسکتی ہیں۔‘‘
عنایہ نے گھر آکر دوائی لی تو اسے کافی آرام محسوس ہوا۔ ابو اور امی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو نے اسے سمجھایا کہ اچھی صحت کے لیے صاف ستھرے دانت کتنے ضروری ہیں۔
 ’’دیکھو بیٹا! ہم اپنا کھانا دانتوں سے چبا کر کھاتے ہیں۔ چبا کر کھانے سے کھانا جلدی ہضم ہوجاتا ہے۔ اس طرح دانتوں کی صفائی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ ہمیں مختلف بیماریوں سے بچاتی ہے۔ خوبصورت اور چمکتے دانت آپ کی شخصیت کو بھی پرکشش بنادیتے ہیں۔ مسواک کرنا اللہ کے آخری نبی ﷺ کی پیاری سنت ہے، اس سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔‘‘
عنایہ نے ابوکی نصیحت اور ڈاکٹر کی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے دانتوں کی صفائی کا خیال رکھنا شروع کردیا۔ اب کھانے کے بعد برش کرنا اس کا معمول تھا۔ وہ چاکلیٹ اورٹافیاں بھی کم استعمال کرتی۔اپنی اس عادت کی وجہ سے وہ بہت خوش تھی کیونکہ اب اس کے دانت صحت مند، مضبوط اور چمکدار تھے۔
 

مضمون 1447 مرتبہ پڑھا گیا۔
Advertisements