اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:54
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

قائد اعظم ۔ خوش پوشاک۔ خوش عادات

دسمبر 2023

اس کے لہجے میں تیقن بھی تھا تاثیر بھی تھی
 اس کی تقدیر میں شامل مری تقدیر بھی تھی
وہ نہ ہوتا تو یہ جنت نہیں مل سکتی تھی
اس کی آنکھوں میں جہاں خواب تھے تعبیر بھی تھی
کئی سال گزرے ۔ ریڈیو پاکستان کراچی نے قائد اعظم  کے یوم ولادت پر ایک کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ میں گلشن اقبال سے ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت کی طرف رواں ہوں۔ شہر قائد کے رہائشی اور تجارتی علاقے میرے دائیں بائیں گزر رہے ہیں۔ یہیں سے قائد اعظم بھی کبھی گزرتے ہوں گے۔ ان کی جائے پیدائش وزیر مینشن بھی اس ایم اے جناح روڈ سے آگے جاکر پرانے کراچی میں ہے۔ وہ ایم اے جناح روڈ کے نمائش والے علاقے میں ابدی نیند سورہے ہیں۔ میرا ذہن قائد اعظم کی قیادت کی شان کے مطابق مصرعے موزوں کرنے کی دھُن میں ہے۔
کتنی کتابیں۔ کتنی تقریریں میرے ذہن کے پردے پر آرہی ہیں۔ ابھر رہی ہیں۔ ان کی روشنی مجھے بار بار ایک ولولہ دے رہی ہے کہ قائد اعظم کی قائدانہ کامرانی کا اصل عنصر ان کا یقین محکم ہے۔ اپنے عزم پر، اپنے پروگرام پر یقین کامل اور پھر پورے خلوص نیت کے ساتھ اپنے ساتھیوں، حامیوں اور کارکنوں کو اس کے لیے قائل کرنا۔ جس شخصیت کو بھی یہ خصوصیت حاصل ہوجاتی ہے جو یقینا خالق بزرگ و برتر کی ودیعت ہوتی ہے۔ اس کے ہمدردوں، متفقوں، پیروکاروںمیں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پھر اس کی اپنی خوش نصیبی، ان تمام ہم نوائوں کا بھی مقدر بن جاتی ہے۔ 



پھر میرے خیالات قائد اعظم اور قائد ملت کے بعد آنے والے رہنمائوں کے ارد گرد گھومنے لگتے ہیں۔ ان کی بے وفائیاں۔ ان کی زر پرستی۔ ان کی اصول پامالی۔ ان کی قومی مفادات پر ذاتی مفادات کی بالادستی مجھے یہ احساس دلارہی ہے کہ اگر ہمیں تحریک پاکستان میں قائد اعظم جیسے بے لوث اصول پرست، بے خوف، قانون دوست رہنما کی قیادت میسر نہ ہوتی تو ہمیں ایک الگ وطن کبھی بھی نصیب نہ ہوتا۔ کیونکہ بعد میں آنے والے اکثر حکمرانوں کے دَور میں ہمیں ناکامیاں اور محرومیاں ہی ملتی رہی ہیں۔ 
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہا ہوں کہ اس نے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت سے نوازا اور ہمیں پاکستان جیسی وسائل سے مالا مال جنت عطا کی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ندامت بھی کہ ہم اس گرانقدر تحفے کی قدر نہ کرسکے، اس کی حفاظت نہ کرسکے۔
سب سے پہلے تو میں قائد اعظم کے حضور شرمندگی کا اظہار بھی کروں گا۔ اور یہ اعتراف بھی کہ ہمیں جس استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا وہ ہم نہ کرسکے۔ آپ جس قسم کا پاکستان چاہتے تھے، ہم وہ قائم نہ کرسکے۔ آپ نے اپنی تقاریر میں جن سماجی خصوصیات کی نشاندہی کی تھی، جن معاشرتی اصولوں کو رہن سہن کی اساس بنانے کو کہا تھا ہم نے ان سے روگردانی کی۔ آپ کے بتائے ہوئے راستوں کے انحراف کا نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔ آپ نے سب سے زیادہ زور دیا تھا کہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات غالب نہ ہوں۔ آپ نے بار بار کہا کہ سرکاری امور کی انجام دہی میں بد عنوانی نہ ہو۔ ذخیرہ اندوزی کرکے گرانی نہ پیدا کی جائے۔ کرپشن کو ملک کے لیے سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا،  مگر ہم سب ان ہی غلط کاریوں میں مبتلا ہوتے رہے اور اس وقت ہم ایک مقام عبرت بنے ہوئے ہیں۔
اب پھر 25 دسمبر آرہا ہے۔ ہمیں پھر بھولا ہوا سبق یاد کرنا ہے۔ قائد اعظم کے اصولوں کا اعادہ کرنا ہے۔ کوئی بھی فیصلہ کرنا ہے تو سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ زندگی ایک ڈسپلن کے تحت گزارنا ہے۔ اتحاد، یقین محکم، نظم و ضبط، عوام اور حکمرانوں کے نصب العین ہونے چاہئیں۔
قائد اعظم کو اگر اللہ تعالیٰ مزید زندگی عطا کرتے تو وہ خود اپنے اصولوں پر عمل کرواتے۔ انہی کی روشنی میں ہمارا دستور تشکیل پاتا۔ حکمرانوں، سرکاری ملازمین، مسلح افواج، عام لوگوں، تاجروں، صنعت کاروں، علمائے کرام، اساتذہ، وزیروں اور سفیروں سب کے لیے ان کی تقاریر میں واضح رہنمائی موجود رہی ہے۔
آیئے ہم کوشش کرتے ہیں کہ قائد اعظم کی زندگی کے واقعات سے جاننے کی کوشش کریں کہ وہ عملی طور پر ایک پاکستانی کی شخضیت کے لیے کیا پیغام دینا چاہتے تھے۔ ہر پاکستانی کے لیے ان کی سیاسی، سماجی اور نجی زندگی ایک رول ماڈل کا مقام رکھتی ہے۔
میرے سامنے ایک انگریزی کتاب ہے۔ مہر النسا علی کی مولفہ اور مرتبہ۔ پاکستان اسٹڈی سینٹر کراچی یونیورسٹی سے مطبوعہ۔
Facets of Jinnah,s Personality and Leadership:
A collection of Anecdotes 
اس حوالے سے بہت اہم کوشش ہے کہ حیات قائد کے واقعات سے مصنّفہ نے قائد اعظم کی شخصیت کے طاقت ور پہلو  اُجاگر کیے ہیں۔
''وائسرائے ہند کی 60 رکنی لیجسٹو کونسل میں جناح بمبئی سے منتخب ہوئے۔ انہوں نے کونسل میں اپنی نشست 25جنوری 1910 کو سنبھالی ۔25 فروری 1910 کو اپنی پہلی تقریر میں جناح نے جنوبی افریقہ میں ہندوستانیوں کے بارے میں برطانوی پالیسی پر سخت تنقید کی۔ جنوبی افریقہ میں انڈین محنت کشوں کی زبوں حالی پر ایک قرارداد کی  حمایت کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کے 'ظالمانہ رویوں' کی مذمت کی۔ جناح کے ان سخت تنقیدی جملوں پر اس وقت کے وائسرائے  ناراض ہوئے۔ انہوں نے کہا، میں معزز رکن کو یاد دلانا چاہوں گا کہ ''ظلم'' بہت زیادہ سخت لفظ ہے۔ معزز رکن کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سلطنت برطانیہ کے ایک دوستانہ حصّے کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔ اس لیے انہیں لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کرنے چاہئیں۔''
اس پر جناح نے جواب دیا۔'' مائی لارڈ۔ میں تو اس سے بھی سخت زبان استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن میں کونسل کے دستور سے با خبر ہوں۔ میں ایک لمحے کے لیے بھی اس سے تجاوز نہیں کروں گا، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہندوستانیوں کے ساتھ رویے درشت ترہیں۔ اس پر پورے ملک میں اتفاق رائے ہے۔''
یہ ان کی الفاظ پر گرفت تھی۔ دستور سے باخبری تھی۔ اور انگریز استعمار کے خلاف جرأت اظہار۔قائد اعظم نے کبھی بھی ظلم اور سفاکی پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ انگریز سامراج کے عین عروج کے موقع پر بھی انہوں نے غلط فیصلوں، ناروا اقدامات پر بے باکی سے اپنے خیالات ظاہر کیے۔
اپنی دیانت اور امانت داری کے لیے بھی قائد اعظم ایک مثالی کردار رکھتے تھے۔ اس کتاب میں مہر النساء علی واقعہ بیان کرتی ہیں کہ ایک نوجوان بیرسٹر کی حیثیت سے قائد اعظم کی فیس 500 روپے فی پیشی تھی۔ ایک صاحب ایک کمزور مقدمے کے ساتھ آئے اور پانچ ہزار روپے دینے کے لیے کہا  ۔قائد اعظم نے اس پیشکش سے تو انکار کیا لیکن یہ کہا کہ وہ اسے ڈیپازٹ کے طور پر رکھتے ہیں۔ تین پیشیوں کے بعد وہ مقدمہ جیت گئے۔ انہوں نے اپنے مؤکل کو بلایا جو اس وقت تک ڈیپازٹ کو بھول گیا تھا۔ اسے 3500/- روپے واپس کیے اور تین سماعتوں کے 1500/- روپے بطور فیس وصول کیے۔ 
ایک اور واقعہ اسی دیانتداری کے زیر عنوان ملاحظہ کیجیے۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران ہندوستانی حکومت نے ایک ہزار کا نوٹ ختم کردیا۔ جس کے بعد کالا دھن (Blackmoney)حکومت کو واپس ملنے لگا۔ البتہ اس پر باقاعدہ ٹیکس عائد کردیا گیا۔
میرٹھ میں ایک کینٹین کے مالک نے ایک ممتاز مسلم لیگی نواب اسماعیل خان سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ دس لاکھ میں سے پانچ لاکھ مسلم لیگ کو عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ بات یہ تھی کہ کسی پارٹی کو عطیہ ان دنوں ٹیکس سے مستثنیٰ تھا۔ مسلم لیگ کو اگر چہ رقم کی بہت ضرورت تھی لیکن قائد اعظم نے یہ عطیہ قبول کرنے سے انکار کیا اور واضح طور پر کہا کہ'' آپ اپنی دولت کا اعلان کریں ٹیکس ادا کریں ۔ہم آپ کے کالے دھن سے ایک آنہ بھی نہیں لینا چاہتے۔''
مصنّفہ نے قائد اعظم کی حاضر جوابی ا ور بذلہ سنجی کے ایک دو واقعات سے بھی قارئین کو نوازا ہے۔ 
سندھ چیف کورٹ کے ڈویژن بینچ میں ایک مقدمے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت میں جسٹس آربی ملن نے ایک مرحلے پر جناح صاحب سے کہا کہ ''بلند آواز سے بولیں''۔ جناح نے جواب دیا'' میں بیرسٹر ہوں اداکار نہیں ہوں۔''
جج نے پھرمداخلت کی اور پھر اونچا بولنے کو کہا۔
جناح نے جواب دیا۔''اگر آپ اپنے سامنے سے کتابوں کا یہ ڈھیر ہٹادیں تو شاید آپ اس قابل ہوجائیں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے اچھی طرح سن سکیں''۔
اس پر ظاہر ہے کہ پوری طرح بھرے کمرۂ عدالت میں قہقہے بلند ہونے لگے۔
ایک اور واقعہ سنیے۔
'' 1941میں جناح سندھ چیف کورٹ میں ایک اپیل کی وکالت کررہے تھے۔ چیف جسٹس ڈیوس نے دیکھا کہ کمرۂ عدالت کھچا کھچ بھر گیا ہے۔ انہوں نے کورٹ کے کلرک سے کہا کہ اب دروازے بند کردیے جائیں۔
جناح اٹھے اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ '' انصاف کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔''
مصنّفہ نے ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے کہ شملہ میں قائد سیر کے لیے نکلے، ان کی جیب میں مونگ پھلی کے کچھ دانے تھے۔ انہوں نے راستے میں بندروں کے لیے بکھیر دیے۔ وہ حیران ہوئے کہ ایک بھی بندر یہ دانے اٹھانے کے لیے آگے نہیں بڑھا۔ پھر ایک بوڑھا ذرا بھاری جسم والا بندر ایک درخت سے نیچے اترا اور دانوں کی طرف بڑھا۔ باقی بندروں نے اسے راستہ دیا اور خاموشی سے ایک قطار میں کھڑے رہے۔ دانوں کو اس وقت تک ہاتھ نہیں لگایا جب تک بزرگ بندر نے دانے نہیں کھالیے۔
جناح نے اپنے اے ڈی سی سے کہا '' دیکھا تم نے بندر بھی ڈسپلن کا خیال رکھتے ہیں۔''
ہم سب کو یاد ہے کہ قائد اعظم کام، کام اور صرف کام پر یقین رکھتے تھے۔ خود بھی کام کے وقت کام کرتے تھے اور دوسروں سے بھی توقع کرتے تھے کہ وہ کام کے وقت کام پر توجہ دیں۔
خالق دینا ہال کراچی میں حکومت پاکستان کے افسروں سے 11 اکتوبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
'' وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ذاتی ترقی کی فکر اور اعلیٰ مراتب کے حصول کے لیے دوڑ بھاگ نہیں بلکہ تعمیری کوششوں، بے لوث کام، ثابت قدمی اور لگن کے ساتھ فرائض ادا کیے جائیں۔ مگر مجھے یہ سن کر دکھ ہوا کہ ہمارے عملے کے بہت سے ارکان دلجمعی سے کام نہیں کررہے ہیں کہ اب تو پاکستان حاصل ہو ہی گیا ہے تو اب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ سکتے ہیں۔''
قائد اعظم نے افسروں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
'' اگر ان رجحانات کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ ہمارے بیرونی دشمنوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوگا اور ہمارے لیے تباہی کا پیغام لائیں گے۔ آج جو لوگ یہاں جمع ہیں  آپ سب کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا اہتمام کریں کہ اس ناسور کو جس قدر جلد ممکن ہو نکال پھینکا جائے۔ آپ کو اپنے عمل کے ذریعے وہ مثال قائم کرکے رفقائے کار میں نیا جذبہ بیدا رکرنا ہوگا۔ آپ کو انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ ایک مقصد کے لیے کام کررہے ہیں۔''
قائد اعظم کی یہ گفتگو ایک طرف تو حالات حاضرہ سے ان کی با خبری بھی ثابت کرتی ہے دوسرے یہ کہ ایسے عمومی رویوں کے خصوصی نتائج کیا برآمد ہوسکتے ہیں اور یہ خدشہ بھی کہ یہ رویے ایک نو آزاد ملک کی بنیادوں کو کس طرح کھوکھلا کرسکتے ہیں۔
 ان کی شخصیت میں مستقبل کے بارے میں بے یقینی نہیں تھی۔ انہیں پوری طرح اعتماد تھا کہ اگر قوم نے اور پاکستان کے رہنمائوں نے کام کی اہمیت کا احساس کیا، اور۔۔فرائض کی انجام دہی سے گریز نہ کیا تو ملک کا مستقبل بہت روشن ہوگا۔
یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں 30 اکتوبر 1947 کو ایک اجتماع سے خطاب میں بھی ان کی شخصیت کے اسی پہلوکا عکس ملتا ہے۔ 
وہ کہتے ہیں:
'' کام کی زیادتی سے گھبرایئے نہیں۔ نئی اقوام کی تاریخ میں کئی ایسی مثالیں ہیں جنہوں نے محض عزم اور کردار کی قوت کے بل پر اپنی تعمیر کی۔ آپ کی تخلیق ایک جوہر آب دار سے ہوئی ہے اور آپ کسی سے کم نہیں ہیں۔ اوروں کی طرح اور خود اپنے آبائو اجداد کی طرح آپ بھی کیوں کامیاب نہ ہوں گے۔ آپ کو صرف اپنے اندر جدو جہد کے جذبے کو پروان چڑھانا ہوگا۔ آپ ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ قابل، صلاحیت کے حامل، باکرداروں اور بلند حوصلہ اشخاص سے بھری ہوئی ہے۔ اپنی روایت پر قائم رہیے اور اس میں عظمت کے ایک اور باب کا اضافہ کردیجیے۔''
سبحان اللہ ۔ کیا ولولہ تازہ دے رہے ہیں۔ کیا توقعات ہیں اپنی قوم سے۔ جس طرح وہ اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود آخری سانس تک  مملکت نو آزاد کے استحکام کی لیے مستعد رہے،  وہ اپنے ساتھیوں سے بھی اسی استعداد کی امید رکھتے تھے۔
قائد اعظم کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ ان کے دفاع کے لیے ڈٹ جاتے تھے۔
ایک اور اہم تصنیف
 ''غیر جانبدارجناح اور پاکستان''وہ حقائق جن سے قوم ناواقف ہے۔
بھی میرے سامنے  ہے۔
اس کی مصنّفہ سلینا کریم ہیں۔ ناشر ہیں۔ پیرا مائونٹ بکس کراچی۔ بہت ضخیم کتاب ہے۔ سلینا کریم نے کوشش کی ہے کہ مختلف مغربی اور ہندوستانی مصنّفوں کی طرف سے قائد اعظم کی شخصیت پر جو الزامات اور اعتراضات عائد کیے گئے ہیں ان کو شواہد اور واقعات کی مدد سے غلط ثابت کریں۔ وہ 1970 میں قائد اعظم کی بیٹی ڈینا کے پروفیسر اکبر ایس احمد کے انٹرویو کے حوالے سے قائد اعظم کی ذات کے ایک اہم پہلو کو اُجاگر کررہی ہیں۔
''میرے والد کے چند نقاد کہتے تھے کہ وہ مغرور تھے۔ یہ بات غلط ہے۔ وہ بہت زیادہ میل جول رکھنے والے شخص نہ تھے۔ وہ میری طرح بہت نجی زندگی گزارتے تھے لیکن اصولوں کے معاملے میںہمیشہ ڈٹ جاتے تھے۔ وہ نہ خود کو دھوکہ دیتے تھے اور نہ ہی لوگوں کو ان کی نجی اور عام زندگی میں فریب دیتے تھے۔''
یہ بہت اہم عادت کی نشاندہی ہے کہ وہ نہ خود دھوکہ کھاتے تھے اور نہ کسی کو فریب دیتے تھے۔ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہر روز ایک دوسرے کو فریب دیے جاتے ہیں ۔
اس کتاب میں ''اقربا پروری'' کے زیر عنوان ایک باب میں کچھ اہم اور دلچسپ واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
''انہوں نے اپنی ہمشیرہ فاطمہ کی بجائے سر عبداللہ ہارون کی اہلیہ لیڈی ہارون کو مسلم لیگ کے شعبۂ خواتین کی سربراہ مقرر کیا۔
اسی طرح ایک نوجوان کی ملازمت کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ اس کے بارے میں سفارش کی گئی تھی کہ یہ سر سید احمد خان کے پڑ پوتے ہیں۔
جب علامہ اقبال کے بڑے صاحب زادے آفتاب اقبال نے جناح کو خط لکھا اور مسلم لیگ کا ٹکٹ جاری کرنے کی درخواست کی تو جناح نے ان کو مطلع کیا کہ وہ اس سلسلے میں مقرر کردہ طریقہ کار کو اپنائیں۔
جناح اس بات کے مخالف تھے کہ کوئی اثر ورسوخ یا فائدے کی خاطر کسی کی سفارش کی جائے۔
آج کل تو کلیدی عہدوں پر اپنے دوست اور رشتہ دار متعین کرنا عام سی بات ہے۔یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ وہ اس عہدے کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ جناح مقرر کردہ طریقۂ کار کے قائل تھے۔ آج کل ہر روز ہی طے شدہ طریق کار سے دانستہ اجتناب کیا جاتا ہے۔
سلینا کریم کی یہ کتاب اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔ قائد اعظم شناسی کے عشاق کو اس کا لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس سے قائد اعظم کی شخصیت بہت نمایاں طریقے سے اپنے خدو خال کے ساتھ ابھر کر آتی ہے۔
اپنی اس تحریر کا اختتام بھی قائد اعظم پر مسلسل تحقیق کرنے والے ممتا ز مصنّف، محقق اور شاعر خواجہ رضی حیدر کی ایک منفرد کتاب ''قائد اعظم شناسی'' کے ایک باب سے چند اقتباسات پر کرنا چاہوں گا۔ رضی حیدر صاحب نے اس باب کا عنوان 'قائد اعظم کی خوش پوشاکی اور نفاست' رکھا ہے۔
قائد اعظم اپنے عہد کی چند نفاست پسند ہستیوں میں سے تھے۔ مصنّف نے تحقیق کے ذریعے یہ عکاسی کی ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ '' لباس کسی شخص کے ذوق جامہ زیبی، نظریات اور رجحانات کی نہ صرف عکاسی کرتا ہے بلکہ اس شخص کے علاقائی تعلق اور ثقافت کا مظہر بھی ہوتا ہے۔ مشاہیر عالم نے ہمیشہ وہ لباس زیب تن کیا جو ان کی سر زمین پر آباد افراد کی روایت اور ثقافت سے ہم آہنگی رکھتا ہو۔ مگر بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ جب کسی رہنما نے خود کو عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کا آئینہ دار بنا لیا تو عوام نے اپنے رہنما کی عقیدت میں خود بھی وہی لباس اختیار کرلیا جو ان کے رہنما سے مخصوص تھا۔''
خواجہ رضی حیدر کی تحقیق کے مطابق ان دنوں وکیل، بزنس پیشہ افراد زیادہ تر انگریزی لباس کوٹ پتلون سے مانوس تھے۔ کراچی کے اسی ماحول میں قائد اعظم بھی نہ صرف بچپن سے ہی اس لباس سے آشنا تھے بلکہ اپنے زمانۂ طالب علمی میں بھی یہی لباس زیب تن کیا کرتے تھے۔ لندن میں تو اس لباس کی عادت اور زیادہ پختہ ہوئی۔ لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس بمبئی آکر اپنی عدالتی اور سماجی ضرورتوں کے پیش نظر کوٹ، پتلون ٹائی اور فلیٹ ہیٹ ہی استعمال کرتے رہے۔
 1916میں پہلی مرتبہ آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس بیک وقت ایک ہی مقام یعنی لکھنؤ میں منعقد ہوئے۔ پروگرام کے مطابق ان دونوں کا ایک مشترکہ اجلاس بھی ہونا تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر لوگوں کا والہانہ استقبال دیکھ کر مسلم لیگی رہنمائوں نے محسوس کیا کہ عوام کے جذبات کے پیش نظر مسلم لیگ کے اجلاس میں قائد اعظم شیروانی پہن کر شرکت کریں تو اچھا لگے گا۔  قائد اعظم نے ایسا کوئی لباس پہننے سے انکار کردیا جس کے روایتی آداب سے وہ واقف نہیں تھے۔ پھر یہ تجویز پیش کی گئی کہ قائد اعظم سوٹ کے ساتھ ٹوپی زیب کرکے اجلاس میں شریک ہوں۔ قائد اعظم نے اس تجویز پر رضا مندی ظاہر کی چنانچہ فوری طور پر کانپور کے مچھلی بازار کی ایک دکان سے ایک درجن سے زیادہ مختلف اقسام کی ٹوپیاں لائی گئیں۔ ان میں سے ایک ٹوپی جو ترکی کی تھی قائد اعظم نے منتخب کرکے سر پر رکھ لی۔ مسلم لیگی رہنما اور کارکنوں کو قائد اعظم کی اس ادا پر بہت خوشی ہوئی۔
خواجہ رضی حیدر نے قائد اعظم کے پرائیویٹ سیکرٹری مطلوب الحسن سید کا بیان نقل کیا ہے۔ 
''قائد اعظم محمد علی جناح 1936 کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طالب علموں سے بہت زیادہ مانوس ہوگئے تھے اور اکثر علی گڑھ جاتے رہتے تھے۔ ابتدا میں آپ نے علی گڑھ کاٹ شیروانی پہنی اور یہ شیروانیاں علی گڑھ کے ایک درزی کے پاس سے سل کر آتی تھیں۔
 ایک اور واقعہ تو بہت ہی دلچسپ ہے۔
ایک انگریز صحافی اور An Indian Summer کے مصنّف جیمزکیمرون نے قائد اعظم کی نفاست پسندی کا ایک ذاتی مشاہدہ اسی طرح بیان کیا ہے کہ 1945 میں وہ ان کا انٹرویو کرنے گئے ۔ انٹرویو کے لیے مقام قائد اعظم کے مطالعہ کا کمرہ طے ہوا تھا۔ جناح نہایت شاندار سوٹ میں ملبوس تھے۔ سوٹ کی سلائی کے ایک ایک ٹانکے سے نفاست عیاں تھی۔ استری اس انداز سے ہوئی تھی کہ ہر کریز تلوار کی سی دھار لیے ہوئے تھی۔ اعلیٰ قسم کے لینن کے سوٹ میں ان کی آہنی شخصیت بہت متاثر کن لگ رہی تھی۔
گفتگو کے آغاز کو ابھی شاید آدھاگھنٹہ ہی ہوا تھا کہ اچانک قائد اعظم خاموش ہوگئے اور ان کا چہرہ زرد ہوگیا۔ انہوں نے خود کلامی کے انداز میں معذرت چاہی اور اٹھ کر اندر گھر میں چلے گئے ۔میں نے محسوس کیا کہ شاید ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے میں ابھی گومگو کی صورت میں تھا کہ وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے اور پھر خود کلامی کے سے انداز میں معذرت کرتے ہوئے میرے مقابل بیٹھ گئے۔ 
انہوں نے میز پر رکھے ہوئے اپنے نوٹس اٹھائے اور پھر کہنے لگے '' میں معذرت خواہ ہوں اس تعطل کے لیے۔ میرے ملازم نے میری قمیض کی آستینوں میں غلط 'کف لنکس' لگادیے تھے۔ بہرحال کوئی بات نہیں اب درست ہوگئے ہیں۔''
اس واقعے سے اندازہ کرلیجیے کہ وہ اپنے لباس کے سلسلے میں جزئیات تک کا خیال رکھتے تھے۔ لباس میں نفاست، کردار میں دیانت، کام کے وقت کام، اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں۔ وائسرائے ہو، چیف جسٹس یا کوئی بھی، حق بات کہنے سے نہ ڈرنا۔ یہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کے ایسے پہلو ہیں جنہیں اپنا طرز عمل بناکر آج کے حکمراں بھی اپنے اہداف حاصل کرسکتے ہیںاور پاکستان کو کامیابی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]