اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 11:57
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

 چھتیس گڑھ میں الیکشن کا ڈرامہ ناکام 

دسمبر 2023

بھارت میں پانچ ریاستوں چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ، میزورام اور مدھیہ پردیش میں انتخابات جاری ہیں۔ بھارتی داخلی سیاست میں ان انتخابات کی وجہ سے بھونچال آیا ہوا ہے، کیونکہ اگلے برس کے اوائل میں بھارت میں لوک سبھا چنائو ہونا ہے۔ یوں ان ریاستی انتخابات کو بھارتی لوک سبھا چنائو کا '' سیمی فائنل'' قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان انتخابات میں بھارتی عوام کا سیاسی رجحان سامنے آئے گا۔ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان انتخابات میں کامیابی درج کرانے کے لیے اپنے '' ہندو توا ایجنڈے'' کی پوری شدت کے ساتھ دوبارہ تشہیر شروع کر رکھی ہے کیونکہ 26 اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد '' انڈیا '' کی بڑھتی مقبولیت بی جے پی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ 
پانچ ریاستوں کے انتخابات 


چھتیس گڑھ میں 7 نومبر اور 17 نومبر کو تمام 90 سیٹوںکے لیے پولنگ کی گئی مگر یہ امر قابل ذکر ہے کہ چھتیس گڑھ کی عوام نے ان انتخابات کو سرے سے مسترد کر دیا۔ چھتیس گڑھ میں راہل گاندھی کی انڈین نیشنل کانگرس ، نریندر مودی کی بی جے پی نے نوے نوے ، اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے 71 ، مایا وتی کی  بہوجن سماج پارٹی نے 53 ، ہیرا سنگھ مرکم کی گوڈوانا گنتنتر پارٹی نے 37 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ سات نومبر کو ہونیوالی پولنگ میں بھارتی حکومت کا الیکشن کا ڈرامہ پوری طرح ناکام ہو گیا۔


پانچ ریاستوں چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ، میزورام اور مدھیہ کی آبادی مجموعی طور پر یوکرین اور روس دونوں سے زیادہ ہے۔ تلنگانہ میں لوک سبھا کی 17 ، راجستھان میں 25 ، مدھیہ پردیش میں 29 ، چھتیس گڑھ میں 11 جبکہ میزورام میں لوک سبھا کی ایک نشست ہے۔ یوں ان ریاستوں میں لوک سبھا کی 83 جبکہ بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی '' راجیہ سبھا'' کی 34 نشستیں ہیں۔ بھارتی داخلی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کے مطابقبھارتی سیاسی جماعتیں ان انتخابات میں اپنی نمائندگی کو بڑھانے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں صوبائی نشستوں کی تعداد 230 ہے۔ 2018 میں کانگرس نے اس ریاست میں 114 سیٹیں جیتکر اپنی حکومت بنائی تھی۔ کانگرس نے سرکار بنائی جو محض ڈیڑھ سال چل پائی۔ بی جے پی، کانگرس کے متعدد ارکان کو توڑنے میں کامیاب رہی اور یوں کانگرس کی حکومت گرا کر برسر اقتدار آ گئی۔
 200 نشستوں والی ریاست راجستھان میں عموماً یہی رجحان رہا ہے کہ ایک کے بعد دوسری سیاسی جماعت اپنی حکومت بناتی رہی ہے۔ 2018 میں کانگرس یہاں سے بھی سنگل لارجسٹ پارٹی بن کر ابھری تھی مگر 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ کانگرس راجستھان میں وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کی دھڑے بندی کے باعث پارٹی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ دونوں رہنما اپنی وزارت اعلیٰ کو پکا کرنے کے لیے لابنگ میں مصروف رہے جبکہ راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار وسُندھرا راجے سندھیا کی بھی اعلیٰ کمان سے بگڑ چکی ہے۔ تلنگانہ کی بات کی جائے تو یہاں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 119 ہے۔ یہاں بی جے پی کی مقبولیت کا گراف خاصی تیزی سے گر رہا ہے جس سے بادی النظر میں کانگرس کے میدان مار لینے کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔ میزورام کی صوبائی نشستوں کی تعداد محض 40 ہے۔ تقریباً پچاسی فیصد مسیحی آبادی والی اس ریاست میں حالات دگردوں ہیں۔ میزورام میں سات نومبر کو پولنگ کی گئی تھی جسے بھارت کے مین سٹریم میڈیا نے کوئی کوریج نہیں دی۔ اس کی ایک وجہ پڑوسی ریاست منی پور میں 3 مئی سے جاری عیسائی کش فسادات ہیں جن کے باعث میزورام میں عدم استحکام انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تمام اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے یہاں پابندی عائد کر دی تھی کہ پادری کسی قسم کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے جبکہ خود آر ایس ایس کے انتہا پسند سنت سادھو دھڑلے سے عوام کو بی جے پی کو ووٹ ڈالنے کی تلقین کرتے رہے۔ اب بات کر لی جائے اس ریاست کی جہاں انتخابات کا ڈرامہ بری طرح ناکام ہو گیا اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والے بھارت کا چہرہ ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب ہو گیا۔ 
چھتیس گڑھ میں انتخابات کا ڈرامہ ناکام 
ایک لاکھ پینتیس ہزار 192 مربع کلومیٹر رقبے والی اس ریاست میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 90 ہے۔ یہاں کانگرس کی پوزیشن خاصی مضبوط ہے کیونکہ 2018 میں کانگرس اور اسکے وزارت اعلیٰ کے امیدوار بھوپیش بگھیل نے علاقائی پہچان اور سافٹ ہندوتوا کو بنیاد بنا کر یہاں انتخابی کامیابی حاصل کی تھی۔ رقبے کے لحاظ سے یہ بھارت کا 9 واں بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کی آبادی 3 کروڑ کے قریب ہے، یوں اسے بھارت کی 17 ویں سب سے زیادہ آبادی والی ریاست قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریاست کی نوے نشستوں پر انتخابات دو مراحل میں شیڈول کئے گئے تھے۔ چھتیس گڑھ میں 7 نومبر اور 17 نومبر کو تمام 90 سیٹوںکے لیے پولنگ کی گئی مگر یہ امر قابل ذکر ہے کہ چھتیس گڑھ کی عوام نے ان انتخابات کو سرے سے مسترد کر دیا۔ چھتیس گڑھ میں راہل گاندھی کی انڈین نیشنل کانگرس ، نریندر مودی کی بی جے پی نے نوے نوے ، اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے 71 ، مایا وتی کی  بہوجن سماج پارٹی نے 53 ، ہیرا سنگھ مرکم کی گوڈوانا گنتنتر پارٹی نے 37 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ سات نومبر کو ہونیوالی پولنگ میں بھارتی حکومت کا الیکشن کا ڈرامہ پوری طرح ناکام ہو گیا۔ خود ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سات نومبر کو ہونیوالی پولنگ میں کل ٹرن آئوٹ 23 فیصد سے بھی کم رہا جبکہ واقفان حال کاکہنا ہے کہ عوام سرے سے پولنگ کے لیے گھروں سے باہر نکلے ہی نہیں۔ 17 نومبر کو ہونیوالی پولنگ کے بعد مودی سرکار کے ایما پر بھارتی میڈیا کہتا رہا کہ چھتیس گڑھ میں 50 فیصد سے زیادہ ٹرن آئوٹ رہا جبکہ غیر جانبدار صحافتی اداروں کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ۔ حالات یہ ہیں کہ 17 نومبر کو بھی نیکسلائیٹ وادیوں کے آئی ای ڈی حملے میں انڈو تبتن بارڈر پولیس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا۔ 
نکسل تحریک کی مقبولیت میں اضافہ 
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہیں ۔ بھارتی پنجاب، ناگا لینڈ، چھتیس گڑھ، میزورام، میگھالیہ، منی پور، تری پورہ، ارونا چل پردیش (مقبوضہ تبت)، سکم اور آسام میں تو یہ باقاعدہ آزادی کی تحریکیں بن چکی ہیں۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران نکسل علیحدگی پسند 12000 سے زائد بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ بھارت کے 240 سے زائد اضلاع میں نکسلائٹ تحریک زوروں پر ہے اور ہزاروں افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے عوام میں اس غم و غصہ کی وجہ مودی سرکار کی جانب سے جبراً بھارتی عوام پر ہندوتوا پالیسیوں کا نفاذ ہے۔ 
2021 میں آر ایس ایس نے چھتیس گڑھ کی مسلمان اور مسیحی آبادی کیخلاف ایک متشدد مہم شروع کی جو دیکھتے ہی دیکھتے فسادات کا روپ دھار گئی تھی۔ یہ فسادات ہندو اتنہا پسند تنظیموں کے احتجاج کی صورت میں شروع ہوئے۔ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے گرگوں نے ہمیشہ کی مانند احتجاجی مظاہرے کے دوران قبائلی بستیوں پر حملہ کر دیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں بیسیوں قبائلی جان کی بازی ہار گئے جبکہ چھتیس گڑھ میں لاکھوں قبائلیوں کو حالات کی خرابی کے باعث نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔  ان فسادات میں ہندو انتہا پسندوں نے بڑے پیمانے پر گرجا گھروں اور مساجد کو نذر آتش کر دیا۔ اس غنڈہ گردی اور غیر انسانی روش پر قبائلی عوام میں بی جے پی سرکار اور ہندوئوں کے خلاف نفرت کی شدید لہر اٹھی۔ مودی سرکار کی ہمیشہ سے یہ روش رہی ہے کہ وہ نکسل وادی علیحدگی پسندوں کے نام پر قبائلیوںکو اپنی بربریت کا نشانہ بناتی رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ نکسل وادیوں کی جانب سے بھی ہندو انتہا پسندوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔ چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما رتن دوبے کو چار نومبر کو انتخابی مہم کے دوارن نکسل وادیوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ مقامی لوگوں نے نہ صرف انتخابات کو مسترد کر دیا بلکہ ماؤ نواز  علیحدگی پسندوں نے بھی بھارتی سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ چھتیس گڑھ میں علیحدگی پسند بھارتی سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں ۔انہوں نے رواں سال اپریل میں دس پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔چھتیس گڑھ میں اس وقت تقریباً دس ہزار علیحدگی پسند جنگجوبھارتی حکومت کیخلاف لڑ رہے ہیں جنہیں مقامی آبادی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ 
منی پور میں خانہ جنگی 
چھتیس گڑھ سمیت بھارت کی دیگر ریاستوں میں جاری علیحدگی پسند تحاریک کی مقبولیت میں اضافے کی بڑی وجہ منی پور میں کُوکی قبائل کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف بھرپور مزاحمت ہے۔ بھارتی داخلی سیاست میں عدم استحکام بڑھتے جانے کی ایک وجہ منی پور میں تین مئی سے جاری خانہ جنگی ہے، منی پور میں کُوکی قبائل تاحال ہندو انتہا پسند قبائل کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ فسادات میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھرہو چکے ہیں۔ قبائلی عوام نے حملہ کر کے پانچ ہزار سے زائد سرکاری ہتھیار لوٹے جبکہ 100 سے زائد پولیس اہلکار وں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ ایک لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کرنے کے باوجود حالات مودی سرکار کے قابو سے مکمل طور پر باہر ہیں ۔
 اس خانہ جنگی کے دور رس اثرات بھارتی سیاسی منظرنامے پرمرتب ہو رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کے دوغلے پن سے تنگ آ کر بالآخر منی پور کے باغی قبائل نے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ انھوں نے مودی سرکار کو دو ہفتے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات منظور نہ کئے گئے تو اپنی خودمختار حکومت قائم کر لیں گے۔ 


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]