اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:36
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

ایس آئی ایف سی۔ پا کستان کی معاشی بحالی کے لیے ایک روشن منصوبہ

اکتوبر 2023

حکومتی امور کو بہتر انداز میں چلانے اور معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان گزشتہ سالوں سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضوں پر منحصر ہے جس کے ساتھ ساتھ ناگزیر شرائط بھی منسلک ہیں۔ان کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان عوام الناس پر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حا ل سے نبردآزما ہونے کے لیے اور مہنگائی کے گرداب سے نکلنے کے لیے20جون 2023میں اکنامک ریوایول پلان کے تحت ایسی حکمت عملی وضع کی گئی کہ جس سے معاشی استحکام پیدا ہو سکے اورباہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ اندرون و بیرون ملک سرمایہ کاری ہی ایک واضح حل ہے جو کہ پاکستان کے معاشی اور معاشرتی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔  
اس ضمن میں موجودہ فوجی و سیاسی قیادت کی معاونت سے ایس آئی ایف سی ادارے کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد ملک میں اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ دینا اور ایسا ماحول فراہم کرنا جس میں ٹیکس کی آسان شرائط ہوںاور سنگل ونڈو سسٹم ہواور جو یقین کی فضاء قائم کر سکے۔ 



پاکستانی فوج ایک ایسا واحد ادارہ ہے جو قائد اعظم کے سنہری قول  " ایمان ، اتحاد اور تنظیم "  پر عمل پیرا ہے اورپاکستانی عوام جب بھی مشکلات میں مبتلا ہوئی خواہ وہ قدرتی آفات سے متعلق ہوں یا اندورنی و بیرونی دشمن کے حملوں کی صورت میں، ہر حال میں افواج پاکستان نے صف اول میں آ کراپنا مثبت کردار اداکیا اور امن و امان کی فضاء قائم کی۔ حالیہ معاشی عد م استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فوجی قیادت اپنا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے میدان عمل میں آئی اور معیشت کی بحالی کے لیے انہوں نے ہرطرح کی ممکنہ معاونت کی پیشکش کی۔


ایس آئی ایف سی کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سول وملٹری باہمی اشتراک کے ساتھ پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لیے کوشاں ہیں۔اس ضمن میں زراعت کے سیکٹرمیں گرین پاکستان کے وژن کے تحت24جولائی2023 کو خانیوال ماڈل ایگری کلچر فارم کاافتتاح کیا گیا اوریکم اگست2023کو منرل سومٹ کا انعقاد جس میں پاکستان کے معدنیات سے بھر پورقد رتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا مواقعوں کو نمایاں کیا گیا۔این اے ایس ٹی کانورخان بیس میں4اگست 2023کو افتتاح کرنے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹرکو اجاگر کیا گیا ۔ علاوہ ازیں لاہور اور کراچی کی کاروباری کمیونٹی کے ساتھ اور پاکستان کے بیرون ممالک نمائندگان سے و یبنار کے ذریعے ہائی اتھارٹی کی میٹنگ کی گئی جس میں ایس آئی ایف سی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔


ایس آئی ایف سی(سپشل انوسٹمنٹ فاسیلیٹیشن کونسل) ، ابھرتے ہوئے روشن پاکستان کا ضامن ہے۔ اسے چارٹر آف اکانومی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایسا منظم ادارہ ہے جس میں مکمل حکومتی حمایت اپروچ کے ذریعے کاروبا ر کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنا شامل ہے جس میں پاکستان آرمی کا تعاون ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔اس ادارے کے زیر اثر سرمایہ کاری کے لیے زراعت اور لائیو سٹاک کو گرین پاکستان ، کان کنی اور معدنیات کو پاکستان کے عجائب ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل پاکستان اور انرجی کو روشن مستقبل کے وژنز کے ساتھ منتخب کیا گیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے مینڈیٹ درج ذیل ہیں:
1۔ اوپربیان کردہ سیکٹرز میں سرمایہ کاری اور پرائیوٹائیزیشن پر توجہ دینا
2۔ سرکاری عوامل میں اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو دور کرنا
3۔ سرمایہ داروں کے لیے سنگل ونڈو سسٹم قائم کرنا
4۔ ایز آف ڈوینگ بزنس(کاروبار کرنے میں آسانی) کے تحت ٹیکس میں چھوٹ اور سپیشل اکنامک زون کی سہولت فراہم کرنا
5۔ پاکستان میں مخفی استعداد اورصلاحیتوں سے آگاہ ہونا
6۔ ادارے کے تمام تر معاملات میں پاک آرمی کی طر ف سے تعاون، شامل ہیں۔
 ایس آئی ایف سی کے بنیادی ڈھانچے میں تین طرح کی کمیٹیاں شامل ہیں۔ پہلی اپیکس کمیٹی جو کہ وزیر اعظم ، چیف آف آرمی سٹاف اور صوبو ں کے چیف منسٹرز پر مشتمل ہے ۔ ان کے زیر اثر ادارے کی کارکردگی کا ہر ماہ دو بارجائزہ لیا جائے گا۔ دوسری ایگزیکٹیو کمیٹی منسٹرز لیول سے متعلق ہے اورجس میں فوج کی طر ف سے قومی کوآرڈینیٹرشامل ہیں۔ تیسری امپلی مینٹیشن کمیٹی میں وزیراعظم کا مشیرخاص اور فو ج کی طر ف سے ڈائریکٹر جنرل کا تقر رکیا گیا ہے جن کے ماتحت ہر ایک سیکٹر کی ڈویژن ہے جواپنی فیلڈ میں ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ ،انوویشن اورحکمت عملی بنانے کے ساتھ ساتھ آپریشنزکو کنٹرول کریں گے۔ ان تمام تر کمیٹیوں کا اجتماعی طور پر یہ مقصد ہے کہ قومی و بین الاقوامی سطح پرپاکستان میں سرمایہ کاری کی آگاہی پیدا کرنا، بہترین حکمت عملی اورقومی مفاد کو بنیاد بنا کر پروجیکٹس کی منظوری دینا اور بغیر رکاوٹوں کے عملی لحاظ سے کامیاب کرنا شامل ہے۔
خوش آئند با ت یہ ہے کی اس ادارے کے قیام اور آپریشنزمیں سیاسی و فوجی قیادت ایک ہی پلیٹ فارم پر مل کر کام کر رہی ہیں۔ ایس آئی ایف سی کے ابتدائی ہدف میں پانچ ملین ڈالرز کی غیر ملکی بلاواسطہ سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) ہے اور آنے والے مزید پانچ سے دس سالوں میں سو ملین ڈالرز کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ایف ڈی آئی سے مراد ، ایسا فنانشل ٹول ہے جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کار یا حکومت کسی دوسرے ملک میں منافع، روزگار اور اقتصادی ترقی کی غرض سے سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارت کی طرف توجہ مرکوز کی گئی ہے تا کہ یہ ممالک پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے نا صر ف اپنے لیے منافع کو بڑھائیں بلکہ پاکستان کی معیشت کوبھی بہتر کر نے میں کارگر ثابت ہوں گے۔   


ایس آئی ایف سی(سپشل انوسٹمنٹ فاسیلیٹیشن کونسل) ، ابھرتے ہوئے روشن پاکستان کا ضامن ہے۔ اسے چارٹر آف اکانومی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایسا منظم ادارہ ہے جس میں مکمل حکومتی حمایت اپروچ کے ذریعے کاروبا ر کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنا شامل ہے جس میں پاکستان آرمی کا تعاون ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔اس ادارے کے زیر اثر سرمایہ کاری کے لیے زراعت اور لائیو سٹاک کو گرین پاکستان ، کان کنی اور معدنیات کو پاکستان کے عجائب ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل پاکستان اور انرجی کو روشن مستقبل کے وژنز کے ساتھ منتخب کیا گیا ہے۔


ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1965میں جنرل ایوب خان کے دورحکومت میں سب سے زیادہ ایف ڈی آئی ہوئی جو کہ پاکستانی ٹوٹل جی ڈی پی کا 22.7 فیصد تھی اور اس بڑھوتری کی شرع 5.81 فیصد تھی۔2023میں اب یہ صرف 13فیصد ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ اس کو بڑھا کر 15فیصد تک لے جایا جائے۔ 
اسی طرح ماضی میں پاکستان پر غیر ملکی دفاعی مصنوعات کی خریداری پر بھی پابندیاں عائد ہوئیں جس کی وجہ سے دفا عی سازوسامان کی اندرون ملک میں پروڈکشن کا آغاز ہوا ۔جس کا نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ پاکستان دفاعی مصنوعات میں اب دنیا بھرمیں اپنی بہترین کوالٹی کی وجہ سے مشہور ہے اور بہت سے ممالک دفاعی مصنوعات کی خریداری میں پاکستان کو ترجیح دیتے ہیں۔ بالکل اس طرح کی جدوجہد کی ابتداء اب معاشی طورپر خودکفیل ہونے کے لیے ہے۔ ماہرین نے پاکستان کے جغرافیہ اوراور اس کے مخفی وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے منافع بخش سیکٹرز کا انتخاب کیا ہے تاکہ اس سے جلد ازجلد معاشی بحالی ممکن ہو سکے۔ 
یہ ادارہ ایک روشن پاکستان کی ضمانت لے کر ابھرا ہے اور اس میں ایسا مثالی میکانزم متعارف کروایا گیا ہے کہ جس سے معاشی بحالی یقینی ہو سکے گی۔ اس ادارے کا مرکزی مقصد ایف ڈی آئی کو فروغ دینا ہے تو اس سے متعلق مشہور معیشت دانو ں نے اپنے نظریات پیش کیے ہیں جن میں سب سے زیادہ چار نظریات شامل ہیں۔ ان کو کسوٹی بنا کر اگر فوائد حاصل کئے جائیں تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تھیوری آف امپرفیکٹ مارکیٹ: 
اس تھیوری کے بانی سٹیفن ہامر اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ایف ڈی آئی کیوں کسی ملک میں آتی ہے۔ ان کے نزدیک دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی اجارہ داری قائم کرتی ہیں۔ وہ کسی بھی ملک میں اس وجہ سے سرمایہ کاری کرتی ہیں کہ اس ملک کی لوکل کمپنیوں کے ساتھ مل کر معاہدہ طے کرتی ہیں کہ دونوں اپنی اپنی مصنوعات کو برا بری کی سطح پر ہی فروخت کریں گی تا کہ دونوں کو ایک جیسا منافع حاصل ہو سکے اور ان کے کاروبار میں امپرفیکٹ مارکیٹ سب سے زیادہ موزوں ہے ۔ کیونکہ ایسی مارکیٹ میں سوداگر اور خریدار دونوںہی مارکیٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں اورمصنوعات کی نامکمل سی معلومات ہی مارکیٹ میں پائی جاتی ہے۔ 
پروڈکٹ لائف سائیکل تھیوری:
 ایف ڈی آئی کب کسی ملک میں آتی ہے اس کا جواب ہمیں اس تھیوری سے ملتا ہے۔ تما م تر مصنوعات اپنے تین مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلا بڑھوتری کی طرف جس میں ایک خاص حد تک فروخت ممکن ہو سکتی ہے ۔ دوسرا مرحلہ میچورٹی کا ہے جس میں فروخت برقرار رہتی ہے اور اس مرحلے کے بعد آخر میں کمی کی طر ف رجحان شروع ہو جا تا ہے ۔ جب یہ آخری مرحلہ آتا ہے تو کمپنیاں دوسر ے ممالک کے رخ کرتی ہیں جہاں پر ان کی فروخت ابھی شروع نہیں ہوئی اور قدر بھی زیادہ ہے۔ مزید اس بات کا بھی خیا ل رکھا جا تا ہے کہ وہاں یہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے نہ تبدیل ہو جتنی کہ ان کے اپنے ملک میں ہو چکی ہے۔
انٹرنیشنلائزیشن اپرووچ تھیوری: 
اس تھیوری کے مطابق نہ صرف مصنوعات بلکہ انٹرمیڈیٹ اشیاء مثلاً معلومات، پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک وغیرہ کے ذریعے سے ایسی اشیاء فروخت کی جاتی ہیں جس کی مانگ دوسرے ممالک میں زیادہ ہے اور اپنے ملک میں نہ ہونے کے برابر۔
 ایکلیک ٹک تھیوری: 
اس تھیوری کا دوسرا نام او ایل آئی پیراڈئم بھی ہے۔ جو کہ تین طرح کے فوائد پر مبنی ہے۔ پہلا ملکیت ہے جس میں بیرون ملک سرمایہ کار کسی دوسرے ملک کی کمپنی کو خرید لیتے ہیں او ر اس کے تمام تر آپریشن کو کنٹرول کرتے ہیں تا کہ منافع حاصل کرسکیں اور اس ملک کی اکنامک حالت کو بہتر کر سکیں۔ دوسرا لوکیشن ہے جس میں ملک میں موجو دہ ٹیکس کی پالیسز، ہنر مند افراد کا موجود ہونا، کم لاگت پر مزدوری جیسی کاروباری سہولیات کا ہونا ہے۔ اور آخری انٹرنیشنلائزیشن ہے جس میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ٹارگٹ مارکیٹ بڑی ہو اور ان کی ٹیکنالوجی کی نقل بھی ممکن نہ ہو سکے۔
 جہاں روزگا ر کے مواقع زیادہ ہوںگے، ہنر مند افراد میں اضافہ ہو گا ، تکنیکی و مالی تعاون ہوگا، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور مسابقتی مارکیٹ کا ماحو ل پیدا ہو گا وہاں ساتھ ساتھ مقامی انڈسٹری کا متبادل، ماحولیاتی آلودگی میں زیادتی، مقامی ثقافت کی تباہ کاری اور سیاسی بدعنوانیوں جسے خدشات بھی پروان چڑھیں گے۔تمام مندرجہ بالا تھیوریز کے مطابق پاکستانی کو بہت غوروفکر کے بعد سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کا جائزہ لینا ہو گا اور اس بات کاخاص طور پرخیال کرنا ہو گا کہ ان کی شرائط کیا ہیں اور پاکستانی قومی مفاد میں ہیں ۔ مزید براں دونوں طرفین کے فوائد میں توازن ہونے سے ہی ان تمام خدشات کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سول وملٹری باہمی اشتراک کے ساتھ پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لیے کوشاں ہیں۔اس ضمن میں زراعت کے سیکٹرمیں گرین پاکستان کے وژن کے تحت24جولائی2023 کو خانیوال ماڈل ایگری کلچر فارم کاافتتاح کیا گیا اوریکم اگست2023کو منرل سومٹ کا انعقاد جس میں پاکستان کے معدنیات سے بھر پورقد رتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا مواقعوں کو نمایاں کیا گیا۔این اے ایس ٹی کانورخان بیس میں4اگست 2023کو افتتاح کرنے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹرکو اجاگر کیا گیا ۔ علاوہ ازیں لاہور اور کراچی کی کاروباری کمیونٹی کے ساتھ اور پاکستان کے بیرون ممالک نمائندگان سے و یبنار کے ذریعے ہائی اتھارٹی کی میٹنگ کی گئی جس میں ایس آئی ایف سی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
اس ادارے کے قیام پر مختلف ماہرین نے اپنی اپنی رائے کا اظہا ر کیا جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایکسپرٹ شعیب احمد شیخ جو کہ بول نیٹ ورک اور ایگزٹ کے بانی ہیں، ان کے مطابق صرف آئی ٹی سیکٹر ہی پچاس ملین ڈالرز پاکستان کی معیشت میں اضافہ کرسکتا ہے اور یہ شارٹ ٹرم میں ممکن بھی ہے۔ اس کے حصول کے لیے انہوں نے تین حل پیش کیے ہیں۔ پہلا مقامی کاروباری حضرات کو ٹیکس میں آسانی جیسی سہولیات دی جائیںتا کہ وہ اپنا تمام تر منافع و جمع پونجی پاکستان میں لا سکیں۔ دوسرا حکومتی فنڈز کی بجائے وینچر کپیٹل سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ تیسرا IT-Enabled انڈسٹریز کی ٹیکس میں چھوٹ دے کر اوربہترکاروباری پالیسیز سے حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے جو کہ ملک کے اقتصادی نظام پہ ڈائریکٹ اثر انداز ہوگا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر قیوم سلہری جو ایس ڈی پی آئی کے ایگزیٹیو ڈائر یکٹر ہیں، نے اپنی آراء کو ایک انٹرویو میں پیش کیا جس میں انہوں نے واضع کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی ایف ڈی آئی کو بڑھانے سے متعلق منصوبہ سازی کی گئی تو بیوروکریسی اور پروسس کی روکاٹوں اور فالو اپ کے فقدان کی وجہ سے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہو سکے مگر اب سول و ملٹری ایک پلیٹ فارم پر ہیںاور کاروباری پالیسز میں تسلسل بھی نظر آرہا ہے جو کہ عوام الناس کی سپورٹ اور بہتر کوآرڈینیشن سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس با ت پر زور دیا کہ عوام کے اعتماد کو صرف اور صرف اب حقیقی معنوں میں ترقی اور سہولیات کی فراہمی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔جس طرح سے کوویڈ کے دور میں این سی او سی کے ساتھ حکومت کی بہترین کوآرڈینیشن سے پاکستان کو اس عالمی وباء سے چھٹکارا حاصل ہوا اورتمام اداروں کی انتھک محنت اور مثبت کردار کی وجہ سے پاکستان FATFکی گرے لسٹ سے نکلا۔  اسی طر ح سے کاروباری پالیسیزمیں ترمیم کے ساتھ ساتھ کوآرڈینیشن بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔ ||


مضمون نگار الیکٹرونک انجینیئر ہیں اور ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]