اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:58
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

جی 20سربراہی اجلاس: بھارت  کا جھوٹ بے نقاب

اکتوبر 2023

  G20 کا دو روزہ سربراہی اجلاس بھارت میں 9 اور 10 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ جی 20 کے ارکان میں امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا، ترکی، اٹلی، جاپان، بھارت، سعودی عرب، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ، ارجنٹائن، جنوبی کوریا اور میکسیکو شامل ہیں جبکہ یورپی  اتحاد میں یورپی یونین بھی شامل ہے۔ چین اور روس کے صدور کی عدم شرکت نے دنیا کے اہم ترین اقتصادی فورم کے مقاصد کو بری طرح متاثر کیا کیونکہ عملی طور پر یہ کثیر جہتی کے بجائے ایک محدود گروپ بن کر رہ گیا۔ بھارت اور امریکہ کے سیاسی اور اقتصادی مفادات چین اور روس کے خلاف گٹھ جوڑ کے قریب ہیں، جو ایک نئی سرد جنگ کے دور کو جنم دے رہے ہیں۔



 چین اور روس کے صدور کی عدم شرکت نے دنیا کے اہم ترین اقتصادی فورم کے مقاصد کو بری طرح متاثر کیا کیونکہ عملی طور پر یہ کثیر جہتی کے بجائے ایک محدود گروپ بن کر رہ گیا۔ بھارت اور امریکہ کے سیاسی اور اقتصادی مفادات چین اور روس کے خلاف گٹھ جوڑ کے قریب ہیں، جو ایک نئی سرد جنگ کے دور کو جنم دے رہے ہیں۔


اس سربراہی اجلاس کی تیاریاں گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھیں۔ دارالحکومت دہلی کی صفائی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں غیر ملکیوں کو غربت کا کوئی نشان نظر نہ آئے، تاکہ ایک بڑی اقتصادی طاقت کے پروپیگنڈے کو نقصان نہ پہنچ سکے۔ دارالحکومت نئی دہلی کی تمام غریب برادریوں کو سبز پردوں اور درختوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور ان سبز پردوں کی دیوار پر G20 بینرز آویزاں تھے۔ بھارتی میڈیا میں، ان غریب کمیونٹیز میں رہنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں زبردستی گھروں تک محدود رکھا گیا ہے، اور عملی طور پر قید کر دیا گیا ہے۔ وہ ان بستیوں سے باہر نہیں جا سکتے اور اپنے گھروں کی چھتوں تک ہی محدود ہیں۔ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پولیس کی طرف سے سخت مارا پیٹا جاتا ہے۔ جی 20 اجلاس سے یہ بھی واضح ہے کہبھارت صرف اپنے ملک میں غربت کی بدترین صورتحال سے پریشان ہے کیونکہ بھارتی آبادی کی اکثریت کی زبردست غربت بھارت کے عالمی طاقت بننے کے خواب کو چکنا چور کر رہی ہے۔
میزبان کے طور پربھارت نے بنگلہ دیش، نیدرلینڈ، نائجیریا، مصر، ماریشس، عمان، سنگاپور،سپین اور متحدہ عرب امارات کے لیڈروں کو بھی مدعو کیا۔ اگلے سال جی 20 کی صدارت بھارت سے برازیل کو منتقل کر دی جائے گی  G20 سربراہی اجلاس کے پہلے دن اعلان کردہ اعلامیہ میں اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تمام ریاستوں کو کسی بھی ریاست کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنا چاہیے۔ اعلامیے میں جوہری ہتھیاروں کے ناقابل قبول استعمال یا استعمال کی دھمکی پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ موجودہ دور کو جنگ کا دور نہیں ہونا چاہیے۔ روس اور یوکرائن نے اناج، کھانے پینے کی اشیا اور کھادوں کی فوری اور بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے اور خوراک اور توانائی کی حفاظت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


G20       سربراہی اجلاس سے دو دن قبل، برطانیہ میں تمام جماعتوں کے تقریبا 100 اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم رشی سنک کو ایک خط لکھا جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران بھارت میں ایک سکاٹش سکھ کی حراست کا معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ سکاٹ لینڈ کے ڈمبرٹن میں رہنے والے برطانوی شہری جگتار سنگھ جوہل کو 2017 میں پنجاب میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت دہلی کی جیل میں بند ہیں۔ برطانیہ میں رہنے والے جوہل اور ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ہراساں اور تشدد کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سرینگر میں پوسٹر بھی شائع ہوئے ہیں، جس میں G20 سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مودی سے IIOJK کے لوگوں کے قتل عام کو روکنے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے کہیں۔ 


جی 20 کا تھیم ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل کے طور پر رکھا گیا تھا، لیکن عملی طور پر، امریکہ نے یورپ اور کچھ دوسرے ممالک کے تعاون سے چین کے خلاف ایک نئی سرد جنگ شروع کر دی ہے، جس سے دنیا کو جنگوں کے نئے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ جس طرح امریکہ چین کے خلاف سرمایہ کاری کرتے ہوئے بھارت کو استعمال کر رہا ہے، اسی طرح اس نے چین کے خلاف کواڈ نامی فوجی اتحاد بنا لیا ہے، جو بھارت کو جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ یہ ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل کے لیے پردہ پوشی ثابت ہوتا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جی 20 سربراہی اجلاس سے غیر حاضری بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کیونکہ چین اور روس کی عدم شمولیت بھارت کے عالمی مفادات کے حصول کے مقصد کو محدود کرتی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر بھارت کی مایوسی کے تناظر میں، امریکی وائٹ ہائوس نے ان کی امریکہ سے بھارت روانگی پر کہا کہ امریکہ بھارت میں جی 20 سربراہی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
امریکہ کی آشیرباد سے جی 20 سمٹ میں بھارت مشرق وسطی اور یورپ میگا اکنامک کوریڈور معاہدے کا بھی اعلان کیا گیا۔ معاہدے میں بھارت، متحدہ عرب امارات، یورپی یونین، فرانس، اٹلی، جرمنی اور امریکہ شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر یورپی یونین اس منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کرے گی۔ اس راہداری میں دو قسم کی ٹرانسپورٹ، ریل اور جہاز شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، راہداری میں تیل کی پائپ لائن اور تیز رفتار ڈیٹا کیبل شامل ہوگی۔ معاہدے کا بنیادی مقصد چین کے بیلٹ روڈ انیشی ایٹو کے مقابلے گیم چینجر کوریڈور کی پیشکش کرنا ہے۔ تاہم، نقل و حمل کے ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرنا زیادہ منافع بخش نہیں ہوگا، جبکہ مال برداری کی وجہ سے تجارت میں تیزی نہیں آئے گی۔ اس معاہدے کے ذریعے بھارت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ مشرق وسطی اور یورپ کو اپنی مصنوعات کے لیے چین کے مقابلے میں بڑی منڈی بنائے۔ لیکن اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہو بھی جاتا ہے تو اسے وجود میں آنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی اوربھارتی مصنوعات ابھی تک عالمی منڈی میں چینی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب معیار کی نہیں ہیں۔



اس طرح بھارت سے سعودی عرب اور یورپ تک بحری جہازوں اور ریلوے کے ذریعے تجارتی روٹ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان حقیقت سے زیادہ نفسیاتی پروپیگنڈہ اور سیاسی سٹنٹ ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر کے سابق پرنسپل سکریٹری نری پیندر مشرا نے کہا ہے کہ بھارت جی 20 کے ذریعہ کثیر الجہتی شراکت داری کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، انسداد دہشت گردی اور صحت کے عالمی مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے اور بھارت  بھی اقوام متحدہ کا مستقل رکن بننے کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ریاستی سرپرستی اور ہندو انتہا پسندانہ پالیسیوں کا فروغ بھارت کے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے میں بڑی رکاوٹیں ہیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو اس میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی کہ اس کے انتہا پسند کردار کو تبدیل کرے۔
G20       سربراہی اجلاس سے دو دن قبل، برطانیہ میں تمام جماعتوں کے تقریباً 100 اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم رشی سنک کو ایک خط لکھا جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران بھارت میں ایک سکاٹش سکھ کی حراست کا معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ سکاٹ لینڈ کے ڈمبرٹن میں رہنے والے برطانوی شہری جگتار سنگھ جوہل کو 2017 میں پنجاب میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت دہلی کی جیل میں بند ہیں۔ برطانیہ میں رہنے والے جوہل اور ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ہراساں اور تشدد کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سرینگر میں پوسٹر بھی شائع ہوئے ہیں، جس میں G20 سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مودی سے بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر(IOJK) کے لوگوں کے قتل عام کو روکنے اور تنازع کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے کہیں۔ سربراہی اجلاس سے چند روز قبل امریکہ کے سرکاری میڈیا آرگن وی او اے نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہبھارت جی 20 کی سربراہی سنبھالنے کے بعد خود کو ایک انسان دوست اور دوست ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش میں ناکام رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی کو ملک کے شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جو کچھ تارکین وطن کے لیے شہریت کے عمل کو تیز کرتا ہے لیکن مسلمانوں کو اس سے خارج کرتا ہے۔ انہیں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہندو قوم پرستوں کے تشدد میں اضافے اور مودی کے نام کا مذاق اڑانے پر بھارت کے ممتاز اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی طرف سے دی گئی سزا پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کے ذریعہ اس سال شائع کردہ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 180 ممالک میں 161 ویں نمبر پر تھا۔ G-20 سربراہی اجلاس کے موقع پر مسئلہ کشمیر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا لیکن مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے بین الاقوامی اور دو طرفہ عزم کو پورا کرنے میں بھارت کی ناکامی ہے۔ ||