اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:49
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

پاکستان میں فروغ پذیر توانائی کا شعبہ : استعداد سے پاور ہائوس تک کا سفر

اگست 2023

مسلسل رواں دواں اک متحرک دنیا جہاں توانائی اور ترقی مرتکز ہوتی ہیں، ایسی دنیا کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کا شعبہ کارفرماہوتا ہے۔ توانائی میں جدت صرف ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات کی مرہون منت نہیں بلکہ یہ انسانی ذہانت کے جوہر اور خوشحالی کی مجموعی خواہش کا عملی نمونہ ہے۔ یہ ملک کے بنیادی ڈھانچے میں نہ صرف ایک اہم جزو ہے بلکہ معیشت کی زندگی میں جلا بخشتی ہے۔ اس سے کاروبار کی نئی جہتیں  رونما ہوتی ہیں۔اسی کی بنا پر قوم کے افراد میں موجود پنہاں صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاتاہے جو ملک و قوم کی خوشحالی کا باعث بنتی ہے۔



دور جدید میں پاکستان میں ابھرتا ہوا توانائی کا شعبہ، کراچی کے مصروف ترین مراکز سے لے کر شمالی علاقوں کی خوبصورت وادیوں کے خاموش گوشوں تک کو روشن کرتا ہے۔یہ خوشحالی کی ایک ایسی دھن پیدا کرتا ہے جس سے افراد مسحور ہوتے ہیں۔ جو قوم کی توقعات میں زندگی کو بیدار کرتا ہے اور نظریات کو حقیقت میں تبدیل کرتا ہے۔
آزادی پاکستان سے لے کر عصر حاضر تک یہ شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ توانائی کے شعبہ کی تاریخ کا جائزہ لینے کے لئے اس کو چار ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔
بنیادی وضع کاری کادور (1947-1970):
 تقسیم برصغیر کے موقع پر پا کستان اپنی 31.5ملین عوام الناس کے لیے صر ف ساٹھ میگا واٹ پاور جنریشن کی اہلیت رکھتا تھا۔ ملک کے دستور سازی کے عمل کے ساتھ ساتھ 1952 میں کراچی الیکٹرک کمپنی کا کنٹرول پاکستانی حکومت کے زیرانتظام آگیا۔ اس وقت کمپنی میں ایک ڈیزل یونٹ اور دو سٹیم یونٹ تھے جن کی مجموعی پیداوار 29.5 میگا واٹ تھی۔ ہجر ت کر کے آنے والے مہاجرین کی وجہ سے حکومت کو مزید سٹیم یو نٹ لگانا پڑا تاکہ  30میگا واٹ پیداوار کو ممکن بنا جا سکے۔اس کے علاوہ بجلی کی ترسیل و انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے گئے۔اس ضمن میں 1958میں پارلیمانی ایکٹ کے تحت واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارے کے قیا م کا منشو ر بجلی و پانی کے انتظامات کو ممکن بنانا تھا۔بجلی کی پیداوار کو بڑھانا، ترسیل کرنا اور تقسیم کرنے کے علاوہ پا نی کی فراہمی ، نکا سی، سیلاب کی روک تھا م کے ساتھ ساتھ واپڈا کے ابتد ئی اقدامات میں ہائیڈل اور تھرمل پروجیکٹس کا آغاز کرنا شامل تھا تا کہ بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ ان ہی کاوشوں کے تحت پیداوار 636میگا واٹ ہوگئی جو کہ پانچ سال پہلے 119میگا واٹ تھی۔اسی ابتدئی دور میں وارسک ڈیم 240 میگا واٹ اور منگلا ڈیم 1000میگا واٹ اہلیت کے سا تھ تعمیر کیے گئے۔
توسیع و ترقی کادور(1970-1990):
 توانا ئی کی روز بروز بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بھی اپنا کلیدی کردار ادا کیا اور 1971میں کراچی میں KANUPP1(کراچی نیو کلئیر پاور پلانٹ1-) کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس کی پیداواری صلاحیت 137میگا واٹ تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں اہم ترین فیصلہ ایک بڑے ڈیم کا قائم کرنا تھا ۔ 1976میں تربیلا ڈیم تعمیر کیا گیا جو کہ زمینی لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور والیوم کے اعتبار سے پانچواں بڑا ڈیم ہے۔ اسّی کے دہائی کے آغاز تک اس سے چار ہزار میگا واٹ بجلی پید ا کرنے کی صلاحیت تھی جسے بعد میں بڑھا کر تقریباًسات ہزار میگا واٹ پیداواری صلاحیت کے قابل بنا دیا گیا جو کہ پاکستان کے لیے پن بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔ 
ساقط اور زوال کادور(1990-2010): 
نوے کی دہائی کے شروع سے انڈسٹریل اور کمرشل صارفین شدید شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ملک کی برآمدات اور معیشت پر گہرا اثر پڑا۔ جس کی وجہ سے دوبارہ سے نئی اصطلاحات اور بحالی کی اشد ضرورت محسوس ہونے لگی۔ اس کے پیش نظر 1992میں حکومت پاکستان نے واپڈا کے پاور ونگ کو پرائیوٹ کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی جس کے تین اہم نکات میں پہلاپاور سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اضافہ دوسرا بجلی کے نرخوں میں بہتری لانا اور آخری بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر جہاں تک ممکن ہو سکے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا شامل تھا۔ علاوہ ازیں 1994میں پاور پالیسی وضع کی گئی تا کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی شدید صورت حال سے نبردآزما ہوا جا سکے۔ واپڈا کے منصوبے کی منظوری کے ساتھ ہی ایسے ادارے کی ضرورت محسوس ہونے لگی جو کہ تمام پاور سپلائی کی کمپنیوں کو کنٹرول کرسکے اوران کی دیکھ بھال کرسکے ۔مزید عوام الناس تک بجلی کی فراہمی کو ممکن بنا سکے۔ اس ضمن میں 1997میں پاکستان کے گزٹ میں الیکٹرک پاور ایکٹ کے تحت نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی) کا ادارہ قائم کیا گیا جس کے اولین مقاصد میںالیکٹرک پاور جنریشن ، ترسیل و تقسیم کی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنا،ایسے اصول مرتب کرنا کہ صارفین تک بجلی کی سپلائی ممکن ہو سکے اورتیسرا مقصد بنیادی ٹیرف کو وضع کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کا حصول اور پاور جنریشن پروگرامز آرگنائز کرناشامل ہے۔اسی سال ذمہ داران اتھارٹی کی محنت سے آئی پی پی (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کا بھی آغاز ہوا۔ جیسا کہ حب پاور اسٹیشن جس سے 2581میگا واٹ کو تھرمل پاور جنریشن میں ضم کیا گیا تا کہ سالانہ بجلی کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ پیداواری  صلاحیت کے علاوہ بجلی کی فراہمی کے لیے ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری وقت کی ضرورت بن گئی کیونکہ اس وقت موجودہ ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن طلب کو پورا نہیں کر پا رہے تھے۔آبادی کے بڑھنے کے ساتھ واپڈا کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو رہاتھا۔ جس کے نتیجہ میں1998 میںکمپنیز آرڈینس ایکٹ 1984 (موجودہ 2017) کے تحت این ٹی ڈی سی (نیشنل ٹرانسمشن اور ڈسپیچ کمپنی ) کا قیام عمل میں آیا جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں ٹرانسمشن نیٹ ورک آپریٹ کرنا ، ٹرانسمشن کی ڈیزائنگ اور منصوبہ بندی کرنا اور پاورسسٹم کو کنٹرول کرنا شامل ہیں۔ موجودہ دورمیں یہ ادارہ سترہ 500KV  اور سنتالیس 220KV گریڈ سٹیشنز کو آپریٹ اور کنٹرول کر رہا ہے۔



ابتدائی دور میں کراچی الیکٹرک کو پاکستان نے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول کیا تھا مگر 2005میں اسے پرائیویٹائزکردیا گیا تا کہ پاور سپلائی میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور لوگوں کو مسلسل بجلی کی فراہمی حاصل ہو اور لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔
ان تمام اداروں کے قیام اور اقدامات کے باوجود بجلی کی طلب چارفیصد سالانہ سے بڑھ کر سات فیصد ہو گئی اور پھر 2010میں مزید بڑھ کر دس فیصد تک ہو گئی۔ بجلی کی مسلسل فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے کثیر تعداد میں سرمایہ کاری درکار تھی لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں جی ڈی پی کی ایک فیصد بڑھوتری کے لیے 1.25فیصد بجلی کی فراہمی درکار تھی۔ اس کے مطابق جی ڈی پی کی سات فیصد بڑھوتر ی کے لئے 8.8فیصد بجلی کی فراہمی ضروری تھی۔اس کمی کے باعث پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوئی اور لوڈشیڈنگ روزمرہ زندگی کا معمول بن گئی۔ نہ صرف پیداواری اہلیت میں کمی واقع ہوئی بلکہ انسٹال پاور پلانٹس کی اپ گریڈیشن سے بھی ذمہ داران کی توجہ ہٹ گئی۔مزید آپریشنل پاور پلانٹس کا بھی ضروری وقتی معائنہ اور مرمت بھی نظر انداز ہونے لگی جس سے پاور پلانٹس زبوں حالی کا شکار ہوگئے۔ اس دور میں پاکستان نہ ہی اپنے موجودہ پاورپلانٹس کو مکمل طور پر استعمال کر رہاتھا اور نہ نئے پروجیکٹس کی منصوبہ بند ی کر رہا تھا۔ 
اصطلاحات اور بحالی کادور(حاضر2010-) :
 اس دور میں حکومت پاکستان نے اپنی عوام کے لیے بجلی کی فراہمی کو ممکن بنانے اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے پاور جنریشن پالیسز کو وقتاً فوقتاً متعارف کروایا۔ سب سے پہلے نیشنل پاور پالیسی 2013میں پیش کی گئی جس کے بنیادی مقاصد میں لوڈ شیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا، بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی لانا، ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن کے دوران بجلی کے ضیاع کو کم کرنا ، آمدنی میں اضافہ اور منسٹری لیول کے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا شامل تھا۔ اس کے نتیجہ میں ملک میں توانا ئی کے بحران کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا گیا۔
اس کے بعد 2015میں متعارف کروائی جانے والی پالیسی کے مطابق نجی اداروں کو پاور سیکٹر میں شامل کرنا ، ان کی حکو مت کی جانب سے سہولیات فراہم کرنا تاکہ وہ پاور جنریشن پلانٹس کے پروجیکٹس لگا سکیں اور پبلک سیکٹر میں بھی سر مایہ کاری کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس پا لیسی کی توجہ کا مرکز ملک کے لیے کم سے کم لاگت والی بجلی کی پیداوار کو یقینی بنانا، ملکی و مقامی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا اور ان تمام پاور سے متعلق افراد کی حمایت کرنا شامل تھا۔اسی سال قائد اعظم سولر پارک بہاولپور کی بنیاد رکھی گئی تا کہ قابل تجدید توانائی کو فروغ ملے۔
2019میں اے آرای (آلٹرنیٹ اور قابل تجدید انرجی ) پالیسی کو پیش کیا گیا جو کہ تاحال رائج ہے۔ اس پا لیسی کے تحت حکومت نے اپنے ایس ڈی جی(پائیدار ترقی کے اہداف) کے ہدف نمبر سات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قابل تجدید پاور پروجیکٹس کی تائید کرنا شروع کی اور گرین انرجی کی صلاحیت کو 2025تک بیس فیصد اور 2030تک تیس فیصد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس ضمن میں حکومت نے نجی سرمایہ داروں کے لیے پر کشش پیکج ٹیکس میں کمی اور چھوٹ کی صور ت میں فراہم کیا تا کہ کاربن کے اخراج میں کمی واقع ہو سکے جو کہ تھرمل اور نیوکلئیر پاور پلانٹس کی وجہ سے رونما ہوتی ہے۔


پاکستان اپنی توائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہت ہی کم مقدارمیں آئل پیدا کررہا ہے جس سے درآمداتی آئل پر گزارا کرنے پر مجبور ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ پاکستان اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں 17.03بلین ڈالز کا آئل درآمد کیا گیا جو کہ گزشتہ سال سے پچانوے فیصد زیادہ تھا۔ اسی طرح ایل این جی تراسی فیصد اور ایل این پی میں تقریباً چالیس فیصد اضافہ ہوا۔


ان ادوار میں پیش آنے والے مسائل کو مجموعی طور پر پرکھا جائے تو سرکلر قرضہ اور پاور جنریشن کے پیداواری ذرائع سامنے آتے ہیں۔ ان میں اول ترجیح گردشی قرضہ کو ہے جس کے سا تھ معیشت جڑی ہوئی ہے ۔ پاکستان اکنامک سروے کی 2021-22کی رپورٹ کے مطابق شماریاتی لحاظ سے 2013میں اسے 450بلین روپے تک لایا گیا جو کہ 2018میں 1148ملین روپے تک پہنچ گیا۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ اتھارٹی کے مطابق 2022میں یہ 2467بلین ہو گیا ہے جو پاکستان کے ٹوٹل جی ڈی پی کا 3.8فیصد ہے اور حکومت کے مجموعی قرضے کا 5.6فیصد ہے۔ اگر اسی طرح یہ شتر بے مہارہا تو 2025 میں تقریباً چار ٹریلین روپے ہو جائے گا جس کو قابو کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصطلاحات کرنا پڑیں گی۔
 گردشی قرضے کو ایک مثال کے ذریعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔پاکستان میں تین جینکوز کمپنیاں(Generation Company) موجو د ہیں جن کا کام پورے ملک میں بجلی کوپیدا کرنا ہے۔ یہ کمپنیاںدس ڈسکوز کمپنیوں(Distribution Company) کوبجلی فروخت کرتی ہیں اور ڈسکوز آگے صارفین کو بجلی مہیا کرتی ہیں۔ ڈسکوز کی ذمہ داری ہے کہ بجلی کے بلز سے حاصل ہونے والی رقم کو جینکوز کوادا کرے تاکہ وہ اس سے تیل، گیس، کوئلہ یا ڈیزل پاور پلانٹس کو آپریشنل رکھنے کے لیے استعمال کرسکیں۔لیکن چند وجوہات بلز کی نامکمل ادائیگیاںاور ٹرانسمشن میں بجلی کے ضا ئع ہونے سے مکمل طور پر جینکوز کو ادائیگی نہیں ہوتی۔ جس سے جینکوز بھی پلانٹس کو آپریشنل نہیں رکھ سکتے اور صارفین کو بھی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسی صورت حال میں نامکمل ادائیگیوں کا گردش شروع ہو جاتا ہے جو کہ گردشی قرضے کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔  
دوسرے مسائل ذرائع سے متعلق ہیں جن میں تیل،گیس اور کوئلہ شامل ہیں۔ پاکستان اپنی توائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہت ہی کم مقدارمیں آئل پیدا کررہا ہے جس سے درآمداتی آئل پر گزارا کرنے پر مجبور ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ پاکستان اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں 17.03بلین ڈالز کا آئل درآمد کیا گیا جو کہ گزشتہ سال سے پچانوے فیصد زیادہ تھا۔ اسی طرح ایل این جی تراسی فیصد اور ایل این پی میں تقریباً چالیس فیصد اضافہ ہوا۔
ملک میں گیس کی پیداوارمیں بھی طلب کے مقابلے میں کافی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے حکومت نے مزید نئے ذخائر کی تلاش تیز کر دی ہے۔ نئے ذخائر کو کارآمد بنانے کے لیے گیس پائپ لائنز کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے درآمد کرنے پڑرہے ہیں۔ملکی گیس کی کمی کے باعث غیر ملکی گیس پر بھی انحصار بڑھتا جا رہاہے۔ پاکستان پاور جنریشن کے لیے اپنی 75فیصدملکی گیس استعمال کرتا ہے اور باقی درآمد کرتا ہے۔تھرمل پاور میں کوئلے کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ تھر میں کوئلے کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ پہلا تھر پاور پلانٹ 2020میں 660میگا واٹ کی صلاحیت کا لگایا گیا۔ اس کے علاوہ ساہیوال تھرمل پاور پلانٹ 1320میگا واٹ کی صلاحیت کا 2017میں قائم کیا گیا۔ مجموعی طور پر کوئلے سے پیداواری صلاحیت 5280میگا واٹ ہے۔
پاکستان ہائیڈل پاور میں خود کفیل ہے اور ان پلانٹس سے اجتماعی طور پر 10251 میگا واٹ  بجلی پیدا کر رہا ہے جن میں تربیلا ، غازی بروتھا، منگلا، وارسک، چشمہ اور نیلم جہلم ڈیمزمشہورہیں۔ صرف ہائیڈل پاور سے ہی تمام ملک کی توانائی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے وسیع پیمانے پر سرمایہ  کاری ، لانگ ٹرانسمشن اور  ڈسٹری بیوشن لائنز اور اس جگہکے لوگو ں کو نئی جگہ پر آباد کرناجیسے مشکل عوامل کارفرما ہیں۔دوسرے ذریعوں میں پاکستان نیوکلئیر پاور پلانٹس میں کراچی نیو کلئیر پاور پلانٹ 1، چشمہ نیوکلئیر پاور پلانٹ4,3,2,1 سے 1430میگا واٹ پیداکر رہا ہے۔ قا بل تجدید انرجی ذرائع میں ہوا سے 1985میگا واٹ اور سولر سے 600میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ 
اسی اکنامک سروے کے مطابق پاکستان کی موجو دہ پاور جنریشن کی صلاحیت 41,557میگا واٹ ہے جبکہ اس کی کھپت 31,000میگا واٹ ہے جبکہ ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن کی صلاحیت 22,000میگا واٹ ہے۔
 اس فرق کی وجہ ملک میں ٹرانسمشن و ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے کی کمی اور ترسیل کے دوران ضیاع ہے۔ اس صورت حال کا تجزیہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے پیرامیٹرز میں کیا جائے تو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ اگر سپلائی ، ڈیمانڈ کے مقابلے میں کم ہے تو لوڈشیڈنگ معمول بن جائے گا ، اگر سپلائی،ڈیمانڈ کی نسبت زیادہ ہے تو وسائل بے جا استعمال سے ضائع ہورہے ہیں۔ اگر سپلائی کو ڈیمانڈ کے تقریباً برابررکھا جائے تو یہ وہ ساز گار صورت حال ہے جو مطلوب ہے۔جس کا حصول ،ریسرچ و ڈیویلپمنٹ پر مبنی منصوبہ بندی اور گریڈ اسٹیشنزکے انتظامی ڈھانچے کو بہتر طور پر تشکیل دینا ممکن ہے۔ علاوہ ازیں ایچ وی ڈی سی (ہائی ولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ) کو بھی لمبے فاصلے والی ٹرانسمشن لائنز میں استعما ل کیا جا سکتا ہے۔
 اس سفر کا اختتام گرین انرجی پرکرتے ہیں جو کہ منزل نہیں ہے اور ترقی کا یہ سفر جاری و ساری ہے۔ ابھی وقت کی ضرورت کے مطابق ہمیں اپنے قدرتی ذخائر کے استعمال میں احتیاط برتنا ہوگی ورنہ درآمدی ذرائع پر انحصار کرنا پڑے گا۔ گرین انرجی میں بڑھوتری کے لیے سنجیدگی کے ساتھ فیصلہ لینا ہو گا تا کہ قابل تجدید توانائی سے موجودہ اور بڑھتی ہوئی ضرورت کو پو را کیا جا سکے۔ ||


مضمون نگار الیکٹرونک انجینیئر ہیں اور ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]