اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:16
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements

ہلال اردو

تکریم شہداء شاعر مشرق کی نظر میں

جولائی 2023

اللہ تعالیٰ نے انسان کو لا تعداد نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے عظیم نعمت انسانی جان ہے۔انسانی جان کو شریعت میں اتنی اہمیت حاصل ہے کہ ایک شخص کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل اور ایک جان بچانے کو تمام انسانیت کا بچانا کہا گیا ہے۔انسان کی یہ جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اس لیے خود کشی کرنے اور خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی شریعت میں انتہائی مذمت کی گئی ہے تاہم اسلام کے دفاع کے لیے، اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے اور مسلمانوں کی جان ،مال،عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے اگر کوئی شخص اپنی جان قربان کر دے تو اس کے لیے جنت کی بشارت ہے اور ایسے شخص کو شہیدکہا جاتا ہے۔ہر قوم و مذہب میں کسی عظیم مقصد کے لیے اپنی جان قربان کرنے اور شہید ہونے کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بعض اشیاء اس کے نزدیک اس قدر محبوب ہوتی ہیں کہ وہ ان کی خاطر اپنی جان دینے اور دوسرے کی جان لینے سے گریز نہیں کرتا۔وہ شخص جو اپنی قوم ،مذہب یا سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دے، اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کا اس قدر احترام کیا جاتا ہے کہ آئندہ آنے والی نسلیں اس کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتیں۔اسلامی تعلیمات کے مطابق شہادت ایک عظیم رتبہ ہے جس کی بدولت شہید کو اللہ کی رضا کا مقام جنت عطا ہوتا ہے ۔



وطن کی فوج کے سپاہی جب پاک سرزمین کی حفاظت کے راستے میں اپنی جان قربان کرکے شہادت کی منزل پاتے ہیں اور ان کا خون جب خاک میں ملتا ہے تو اس خاک و خون سے ایک جہان نو پیدا ہوتا ہے۔ شاعر مشرق کہتے ہیں کہ قوم کا سپاہی اپنے لہو سے ملک و قوم کی بنیاد مضبوط کرتا ہے اور قوم کو زندگی عطا کرتا ہے۔اس عظیم خدمت اور قربانی کے صلے میں وہ اپنے رب سے حیات جاوداں کا انعام پاتا ہے۔
مرے خاک و خوں سے تونے یہ جہاں کیا ہے پیدا 
صلہ شہید کیا ہے؟ تب و تابِ جاودانہ


قرآن ِ کریم کے ایک دو نہیں بکثرت مقامات پر شہید کی فضیلت و عظمت اور مقام و مرتبہ، شہادت کی رفعت و منزلت بیان ہوئی ہے۔ کہیں فرمایا ہے کہ فی سبیل اللہ شہادت پانے والے لوگوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس زندگی کا شعور نہیں ، کہیں انہیں رحمت ِ الہٰی کے امید وار فرمایا اور کہیں رحمت و بخشش کو ان کا مقدر بتایا ہے۔ کہیں فرمایا ہے کہ انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جائے گا ،وہ اللہ کے فضل و احسان اور نعمت و کرم پر خوش ہوں گے ، انہیں کوئی غم یا خوف نہیں ہوگا ، ان کے لیے اجر ِ عظیم اور بلند درجات ہیں ، انہیں ہمیشہ کے لیے رضائے الہٰی اور دائمی جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ۔
اللہ کی رضا کے لیے اسلامی مملکت اور اس میں بسنے والے اہل وطن کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر پہرا دینا اور اس کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا انتہائی مقدس فریضہ ہے اور اللہ کے نزدیک ان  مجاہدین کا مقام اتنا بلند ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ان مجاہدین کے گھوڑوں کی قسم کھائیہے:
"قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں۔ پھر صبح کے وقت یلغار کرتے ہیں۔پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں۔پھر اس وقت (دشمنوں کی)جماعت میں جا گھستے ہیں۔"(سورة العادیات: آیت 1تا 5)
مقام شہادت اس قدر لائق تعظیم ہے کہ رسول   اللہ ۖ نے خود شہادت کی تمنا کا اظہار ان کلمات سے فرمایا۔
(ترجمہ)
"اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ۖ کی جان ہے ،میں اس بات سے شدید محبت کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں پھر شہید کردیا جائوں، پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جائوں، پھر جہاد کروں پھر شہید کر دیا جائوں۔"
صحیح مسلم:1876، سنن ابن ماجہ:(2753)
اس کے علاوہ بے شمار احادیث میں جہاد و مجاہدین اور شہادت و شہدا کی فضیلت بیان کی گئی ہے ،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت ابو ذر غفاری نے پوچھا:
"اے اللہ کے رسول (ۖ)سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟"
تو رسول اللہ نے فرمایا:
:''اللہ پر(غیر متزلزل)ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔''
بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ارشاد ِ نبوی ہے:
 "جنت میں ایک سو درجات ِ رفیعہ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔"
مسلم شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ارشاد ِنبوی ہے:
"اللہ تعالیٰ قرض کے سوا شہید کے تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔"
شاعر مشرق،حکیم الامت، دانائے راز، ترجمان حقیقت، مصور پاکستان اور مفکر اسلام علامہ محمد اقبال، جو ہمارے عظیم رہبر و رہنما ہیں، کا کل کلام قرآن اور محبت رسول ۖ سے مستنیر ہے۔ اسی لیے آپ قوم کے مجاہدوں،غازیوں اور شہیدوں کے مقام و مرتبہ سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ہمیں بار بار انتہائی دلکش انداز میں ان کے بلند و بالا مرتبے سے آگاہ کرتے ہیں اور ان کی قدر اور عزت و تکریم کا سبق دیتے ہیں۔ علامہ بتاتے ہیں کہ قوم کے ان مجاہدوں اور غازیوں کا مقصد و مدعا ملک و قوم کی حفاظت کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دینا ہوتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ وطن کے یہ سپاہی مالِ غنیمت حاصل کرنے اور اپنے ملک کی زمین میں اضافے کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف شہادت کا عظیم الشان مرتبہ حاصل کرنے کے لیے اسلام اور ملک و قوم کے دشمنوں کے ٹینکوں اور برستی گولیوں اور بموں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔
 یہ غازی، یہ تیرے پر اسرار بندے
 جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
 دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
 سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
 دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
 عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
 شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
 نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی
علامہ بتاتے ہیں کہ وطن کے یہ سپاہی اپنی دھرتی کی حفاظت اور قوم کی مائوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کی نگہبانی کی خاطر  اپنا تن من دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔یہ جسم میں خون کے آخری قطرے تک لڑتے ہیں اور اگر لڑتے لڑتے اسلحہ بارود ختم ہوجائے اور ہتھیار جواب دے جائیں تو یہ دست بدست لڑتے ہیں اور دشمن کا گلا دبوچ لیتے ہیں۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا 
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی 
پاکستانی قوم اس شعر کی عملی تعبیر کرنل شیر خان شہید نشان حیدر اور پاک فوج کے دیگر بے شمار غازیوں اور شہیدوں کے لازوال کارناموں کی صورت میں دیکھ چکی ہے۔
اقبال شہید کوقوم کی آبرو قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہید کے جسم کا ایک ایک ذرہ پاک و منزہ اور معصوم ہوتا ہے۔ شہید کو شوق شہادت ہی وہ جوش، ولولہ، ہمت،  استقامت اور جرأت رندانہ عطا کرتا ہے کہ جس کی بدولت وہ سر پر کفن باندھے ہمہ وقت  ملک و قوم کی نگہبانی کے لیے تیار رہتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ شہید کی خاکِ لحد کا ذرہ ذرہ اس کی قوم کے لیے نشاط انگیز قرار پاتاہے۔اس کی قوم اس پر فخر کرتی ہے اور اس کی شکر گزار ہوتی ہے کہ اس نے قوم کی زندگی اور بقا کے خاطر اپنی جان قربان کر دی۔جرأت و بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا جام پی لیا اور نہ صرف خود دائمی زندگی پا لی بلکہ قوم کو بھی نئی زندگی سے ہمکنار کردیا۔علامہ کے خیال میں شہید اپنے عمل کے ذریعے قوم کے افراد میں بھی حرکت و حرارت، جوش و جذبہ، ہمت وحوصلہ اور ذوق و شوقِ شہادت پیدا کر جاتا ہے اور اس کی شہادت سے ایک نئی قوم وجود میں آتی ہے۔


اقبال شہید کوقوم کی آبرو قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہید کے جسم کا ایک ایک ذرہ پاک و منزہ اور معصوم ہوتا ہے۔ شہید کو شوق شہادت ہی وہ جوش، ولولہ، ہمت،  استقامت اور جرأت رندانہ عطا کرتا ہے کہ جس کی بدولت وہ سر پر کفن باندھے ہمہ وقت  ملک و قوم کی نگہبانی کے لیے تیار رہتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ شہید کی خاکِ لحد کا ذرہ ذرہ اس کی قوم کے لیے نشاط انگیز قرار پاتاہے۔اس کی قوم اس پر فخر کرتی ہے اور اس کی شکر گزار ہوتی ہے کہ اس نے قوم کی زندگی اور بقا کے خاطر اپنی جان قربان کر دی۔جرأت و بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا جام پی لیا اور نہ صرف خود دائمی زندگی پا لی بلکہ قوم کو بھی نئی زندگی سے ہمکنار کردیا۔


طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئی شہید ہونے والی عرب لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے علامہ نے "بانگ درا" کی نظم "فاطمہ بنت عبداللہ" میں انہی خیالات کا اظہار بڑے پرجوش انداز میں کچھ یوں کیا ہے۔
 فاطمہ! تو آبروئے اُمتِ مرحوم ہے
 ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
 یہ سعادت، حورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
 غازیانِ دیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
 یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سِپر
 ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر
شاعرمشرق بتاتے ہیں کہ شہید کی شہادت سے قوم کو استحکام،بقا اور طمانیت نصیب ہوتی ہے۔شہید قوم کے لیے خوشیوں کا پیغام لاتا ہے۔ شہید کے جسم کا ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہوتا ہے۔ اس کی قبر بظاہر خاموش دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت میں وہ  اہل قوم کو بیدار ہونے اور ملک و قوم کی بقا اور حفاظت کی خاطر اللہ کے راستے میں سینہ سپر ہو جانے کے لیے پکار رہی ہوتی ہے۔
 فاطمہ!گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
 نغمۂ  عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے
 رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
 ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
 ہے کوئی ہنگامہ تیری تربتِ خاموش میں
 پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں
شاعرمشرق بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور شہادت کی لذت سے آشنا مردِ مجاہد دونوں عالموں سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اسے شہادت کے راستے پر چلتے ہوئے تن من دھن کی کوئی پروا نہیں رہتی۔ وہ جلد از جلد شہادت کی منزل سے ہمکنار ہونا چاہتا ہے کیونکہ شہادت ہی دراصل اس کے دل کی کشادگی ہے اور اللہ کے راستے میں یہ ہلاکت موت نہیں بلکہ زندگی ہے،اس دنیاوی زندگی سے اعلیٰ ترین زندگی۔ 
کشاد، در دِل سمجھتے ہیں اس کو
 شہادت نہیں موت ان کی نظر میں 
اقبال اپنی مشہور طویل نظم طلوع اسلام میں امت مسلمہ کو احیائے اسلام کی نوید سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں مسلمان بیدار ہو رہے ہیں۔ان میں آزادی کا جوش و جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔وہ جبر و استبداد کی زنجیریں توڑ رہے ہیں اور اپنے مقبوضہ  علاقے آزاد کروا رہے ہیں۔اب وہ وقت دور نہیں جب  امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لے گی۔ نظم کے آخر میں اقبال اس سارے منظر نامے کو شہیدوں کے خون کا صدقہ قرار دیتے ہیں۔ اور انہیں بھرپور خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں شہید کی قبر پر لالے کے پھول چڑھا رہا ہوں کیونکہ اس کا خون ملت اسلامیہ کے پودے کوبے حد راس آیا ہے۔
 سرِ خاکِ شہید برگہائے لالہ می پاشم 
کہ خونش با نہالِ ملتِ ما سازگار آمد 
وطن کی فوج کے سپاہی جب پاک سرزمین کی حفاظت کے راستے میں اپنی جان قربان کرکے شہادت کی منزل پاتے ہیں اور ان کا خون جب خاک میں ملتا ہے تو اس خاک و خون سے ایک جہان نو پیدا ہوتا ہے۔ شاعر مشرق کہتے ہیں کہ قوم کا سپاہی اپنے لہو سے ملک و قوم کی بنیاد مضبوط کرتا ہے اور قوم کو زندگی عطا کرتا ہے۔اس عظیم خدمت اور قربانی کے صلے میں وہ اپنے رب سے حیات جاوداں کا انعام پاتا ہے۔
مرے خاک و خوں سے تونے یہ جہاں کیا ہے پیدا 
صلہ شہید کیا ہے؟ تب و تابِ جاودانہ
علامہ اقبال کے نزدیک اپنے وطن اور قوم کی آزادی اور حفاظت کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے،ان پر جان قربان کرکے شہادت کا بلند مقام حاصل کر لینا ایسا مقدس اور عظیم الشان عمل ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی عمل نہیں۔اسی لیے اقبال اس سرزمین کو، جس کی بنیادوں کی تعمیر میں شہیدوں کا لہو صرف ہوا ہو، خانہ کعبہ کی مانند پاک سمجھتے ہیں۔
ہسپانیہ تو خونِ مسلماں کا امیں ہے
مانندِ حرم پاک ہے تو میری نظر میں 
پوشیدہ تیری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں 
خاموش اذانیں ہیں تری بادِ سحر میں 
حکیم الامت کی نظر میں شہادت ایک ایسی چیز ہے کہ اس جیسی چیز جنت میں بھی میسر نہیں۔جذبہ شہادت ہی سے امتِ مسلمہ کی عزت و آبرو قائم و دائم ہے۔اقبال بانگ درا کی نظم ''حضور رسالت مآبۖ '' میں فرماتے ہیں کہ فرشتے انہیں بارگاہ رسالت مآب ۖمیں لے گئے تو آپۖنے سوال کیا کہ: 
نکل کے باغِ جہاں سے برنگ بو آیا 
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا
اقبال بصد احترام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جواب پیش کرتے ہیں کہ : 
حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی
 تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
 ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاض ہستی میں
 وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی
 مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں 
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں 
انسان کے لیے کسی کے حکم پر اپنی ایک انگلی کا کچھ حصہ کٹوا دینا بھی انتہائی مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔مگر قوم کا مومن سپاہی تو اپنے اللہ کے حکم پر دین اور ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنی گردن کٹوا دینے پر بخوشی تیار ہو جاتا ہے۔مرد مومن کی غیرت کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے ملک و قوم، دین یا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر کوئی آنچ آئے۔لہٰذا چشم فلک نے دیکھا کہ چھ ستمبر 1965 کو وطن عزیز کی جانب بڑھتے ہوئے دشمن کے ٹینکوں کو پاک افواج کے افسروں اور جوانوں نے کس بے باکی سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا اور وطن پاک کی عزت و آبرو پر کوئی آنچ آنے نہ دی اور ملک پر جب کبھی برا وقت آیا قوم کے ان بیٹوں اور پاک افواج کے نوجوانوں اور افسروں نے اس کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔وطن عزیز میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف شاندار کامیابیاں بھی پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی بے مثال اور لازوال قربانیوں ہی کی بدولت حاصل ہوئی ہیں اور دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن برف پوش چوٹیوں اور خون منجمد کر دینے والی فضائوں میں پاک فوج کے یہی جوان اور افسر دشمن کے سامنے فولادی دیوار بنے کھڑے ہیں اور اپنی جرأت و بہادری کے پھول اور جانوں کے نذرانے وطن عزیز اور قوم پر نچھاور کر رہے ہیں۔ مجاہدوں،غازیوں اور شہیدوں کی اسی جرأت رندانہ،جوانمردی،انمول قربانیوں اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں ان کے بلند مقام و مرتبے کے باعث،ترجمان حقیقت علامہ محمداقبال کے نزدیک ان کے خون کی قدرو قیمت حرم پاک سے بھی زیادہ ہے۔
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور 
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر 
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ 
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر 
اس طرح حکیم الامت ترجمان حقیقت اور دانائے راز علامہ محمد اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ ملک و قوم کے لیے اس کی فوج کے مجاہدوں،غازیوں اور شہیدوں کی کیا اہمیت اور مقام و مرتبہ ہے اور ان کی قربانیوں اور وطن کے دفاع میں بہنے والے ان کے لہو  کی کیا قدر و قیمت، تقدس اور عزت و تکریم ہے۔ یوں، دراصل حکیم الامت ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ قوم کی زندگی اور وطن کی آزادی اس کے مجاہدوں، غازیوں اور شہیدوں ہی کی مرہون منت ہے۔جو قوم اس حقیقت سے روگردانی کرتی ہے اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔لہٰذا اپنی فوج کی قدر کرنا، اس مقدس ادارے کا احترام کرنا، ہر موقع پر اس کا ساتھ دینا اور اپنے مجاہدوں،غازیوں اور شہیدوں کے تقدس اور عزت و تکریم کا خیال رکھنا ہمارا اولین اور مقدس فریضہ ہے۔یہ ایک روشن حقیقت ہے اور قوم اور وطن کی فلاح و بقا اسی حقیقت میں مضمر ہے۔ ||


مضمون نگار ایک معروف ماہر تعلیم ہیں۔ اقبالیات اور پاکستانیات سے متعلق امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
[email protected]

 

 

 

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements