اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 02:48
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

C-130پاک فضائیہ کا ''برق رفتار ہوائی گھوڑا''

مئی 2023

پاک فضائیہ کا 'کارگو' جہاز ،C-130 فقط سیلاب زدگان اور زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ دشمن سے جنگ کی صورت میں یا کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات میں تیزرفتاری کے ساتھ افواج اور اُن کے سازوسامان کو مطلوبہ مقامات یا اگلے محاذوں پر پہنچانے کے لیے بھی یہ جہاز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے بجا طور پر پاک فضائیہ کا ''برق رفتار ہوائی گھوڑا'' کہا جاسکتا ہے۔ کمانڈر انچیف ایئر چیف مارشل اصغر خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوںنے یکم مارچ 1963کو C-130ہر کولیز (Hercules) کو پاک فضائیہ کے ہوائی بیڑے میں شامل کیا ۔ اس طرح پاک فضائیہ کی تاریخ کا یہ وہ تاب ناک دن قرار پایا، جس نے فضائیہ کے ایئرٹرانسپورٹ آپریشنز میں انقلاب برپاکردیا۔ 1965 کے آغاز سے ہی قومی اُفق پر جنگ کے بادل نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔ لہٰذا پاک فضائیہ کے کمانڈر انچیف نور خان نے اگست 1965 میں ٹرانسپورٹ ونگ کو جنگی تیاریوں کے بروقت احکامات صادر فرما دیے۔ 1965کی پاک بھارت جنگ کے دوران اسکواڈرن نمبر6 کے ہوا بازوں نے جرأت و شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں جو محبانِ وطن کے لیے تاابد قابلِ تقلید مثالیں بنی رہیں گی۔
 اسکواڈرن نمبر6 کے ''سرمایہ افتخار ملک و ملت'' ہوا بازوں نےC-130 ہر کولیز جہازوں کو اتنے نو بہ نو مختلف آپریشنز  میں استعمال کیا کہ دشمن بھی انگشت بدنداں رہ گیا۔ اُن آپریشنز میں سے کچھ کا تذکرہ بیان کیا جاتا ہے۔
نوخیز ہوا باز فلائٹ لیفٹیننٹ نذیراحمد خان جو بعد میں ایئر کموڈور کے عہدے تک پہنچے، نے 23 اگست1965 کو چکلالہ ایئر بیس سے رات کے وقت اڑان بھری، فلائٹ لیفٹیننٹ جاوید ایچ ملک ان کے معاون ہواباز اور فلائٹ لیفٹیننٹ واسطی نیوی گیٹر تھے۔ پاک آرمی آپریشن جبرالٹر کے سلسلے میں وادیِ کشمیرمیں مصروف کارزار تھی جس کے واسطے  انہیں سپلائی کی اشد ضرورت تھی، لہٰذا اس پرواز میں 28000 پائونڈ کا ساز و سامان لے جایا جارہا تھا، جو توپوں ، اس کے گولہ بارود، راشن اسلحہ اور دیگرجنگی اشیاء پر مشتمل تھا، اس تمام سامان کو جلد از جلد بحفاظت وادیٔ سری نگر میں پہنچانا  اس C-130 کے عملے کا ہدف تھا۔ اس سے پہلے اس قسم کے ٹرانسپورٹ آپریشنز وہ بھی شب کی گھٹاٹوپ تاریکی میں انجام دینے کی پاک فضائیہ کی تاریخ میں کوئی بھی مثال موجود نہ تھی۔یعنی بغیر چاند کی شب دیجور میں ایک نیا روشن باب رقم ہورہا تھا۔ موسم شدید خراب تھا اور جہاز دبیز بادلوں کا سینہ چاک کرتے ہوئے  دشمن کے علاقے میں محوِ پرواز تھا۔ آخر 25000 فٹ کی بلندی پر جا کرC-130 کہیں بادلوں کی تہوں سے نمودار ہوا، اس طرح نذیر احمد خان اپنے نیوی گیٹر اور معاون عملے کی مسلسل رہنمائی کی بدولت وادیٔ سری نگر کے عین اوپر پہنچ گیا۔ لیکن جیسے ہی نذیر احمدخان ڈراپ زون میں داخل ہوا، بادلوں کی ایک باریک تہہ نے تمام عملے کی نظروں کو دھندلا دیا۔ اﷲ کے بھروسے پر ہر کوئی دعا کررہا تھا کہ پروازہموار انداز میں بخیریت  آگے بڑھتی رہے، نیوی گیٹر نے 'ڈراپ' کا گرین سگنل دے دیا۔ اُسی وقت پرواز موسم کی خرابی کی وجہ سے انتہائی غیر ہموار ہوگئی جس میں C-130 کسی پرندے کی مانند تیزی سے اوپر نیچے ڈولنا شروع ہوگیا۔ بہر حال ہواباز نے زور آزمائی کرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ ڈراپ مکمل کیا، ناک کے سامنے15000 کی خطرناک پہاڑ کی چوٹی تھی جس سے بچتے ہوئے ہواباز نے جہاز کی پوری طاقت کو بحال کیا اور چکلالہ کی راہ لی۔ بعد میں آرمی کے کمانڈوز نے بھی اس بہت زیادہ خراب موسم میں ڈراپ مشن کی دل کھول کر تعریف کی۔ کیونکہ تمام ضروری سامان ٹھیک جگہ پر گرایا گیا تھا۔ نذیر احمدخان نے اپنے لائق عظیم ساتھی کے ساتھ اس طرح کے کئی مشن کامرانی سے مکمل کیے جن کے اعتراف کے طور پر 1965 کی جنگ کے بعد انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔
 کبھی عدو نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ پاک فصائیہ اُس کے ایئر ڈیفنس کے خلاف C-130  ہرکولیز جہازوں کو کامیابی کے ساتھ بحیثیت بمبار جہازوں کے استعمال کرے گا اور وہ بھی رات کی تاریکی میں۔ جبکہ دشمن اس کی بالکل توقع نہ کررہا ہو۔ 1965 کی جنگ کے دوران گروپ کیپٹن  ایرک گورڈن ہال (جوبعد میں ایئر وائس مارشل بنے) پی اے ایف بیس چکلالہ (نورخان) کمانڈ کررہے تھے۔ پاک بھارت 65 کی جنگ سے متعلق  پاک فضائیہ کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس نےC-130 کارگو جہاز کو نائٹ بمبار طیارے  کے طور پر استعمال کیا۔ یہ پاک فضائیہ کی ایک  ایسی تاریخی جدت طرازی کی اعلیٰ مثال تھی، جس نے دشمن کو حیران و پریشان کرکے رکھ دیا۔ اس کارنامے کے روحِ رواں ایرک گورڈن ہال تھے جنہیں یہ کام ایئر ہیڈکوارٹر کی طرف سے خصوصی طور پر سونپاگیا تھا۔ ایرک گورڈن  اور ان کی ٹیم نے دن رات اس ناممکن مہم پر کام کرکے اسے ممکن کردکھایا۔ اس طرحC-130 ایک ایسا دیوہیکل بمبار بن چکا تھا جو24000 پونڈ سے بھی زیادہ وزنی ہتھیار دشمن پر برسانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ستمبر 65 سے کچھ عرصہ قبل ہی ان کی ٹیم نےC-130 ہرکولیز میں ایسا مکینیکل نظام نصب کرلیا تھا جو بمبوں کے جھولوں کو پہلے ایک سوئچ ایکشن کی مدد سےC-130 کے پیٹ کی جانب سے باہر لٹکا دیتا اور پھر دوسرے سوئچ کے ذریعے  جھولوں سے بندھے ہوئے ان بموں کو علیحدہ کردیا جاتا۔ جمرود فائرنگ رینج پر جہاز کے عملے کے چند افراد کو اس نظام کو چلانے کی خصوصی تربیت دی گئی اس طرح کئی بار کی مشقوں سے عملے کے کچھ افراد اس کام میں ماہر ہوگئے اور ان تمام تیاریوں کے بعد 11 ستمبر کو منصوبہ بندی کی گئی کہC-130 جہاز کو بمبار کے طور پر سب سے پہلے ''کٹھوا پل ''پر آزمایاجائے، اس پل کی حفاظت کے لیے دشمن کی بے شمار طیارہ شکن توپیں اور دیگر ہتھیار تیار تھے۔ ایرک گورڈن ہال نے اس پُر خطر مشن میں رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔C-130 میں اپنے دفاع کے لیے کوئی ہتھیار نہیں ہوتا۔28000 پونڈوزنی بموں سےC-130کاپہلا حملہ ہی عدو کے لیے اعصاب شکن ثابت ہوا اور اس کی کمر ٹوٹ گئی، جس کی وجہ سے دشمن کی چھمب سیکٹر میں تیزی سے جاری پیش قدمی رُک گئی اور وہ پسپا ہو نے پر مجبور ہوگیا۔ تمام بھارتی ریڈیو دہائی دے رہے تھے کہ پاک فضائیہ کی جانب سے چار انجنوں والا چینی بمبار طیارہ استعمال ہو رہا ہے۔ دراصل یہ پٹھانکوٹ سے پرواز کرکے آنے والے فائٹر ہوا بازوں کی جانب سے غلط شناخت کا ایک مضحکہ خیزبزدلانہ اعلان تھا۔ چاند کی روشنی میں گھبرائے ہوئے  بھارتی ہوا باز C-130کو صحیح طور نہ پہچان سکے اور نہ ہی مقابلے کے لیے قریب آنے کی جرأت کرسکے۔



اسی طرح جب لاہور سیکٹر بی آر بی نہر کے گردو نواح ایک میل تک بھارت کی 72 توپیں گولے برسا رہی تھیں جبکہ ا ٹاری ٹارگٹ کو پاک آرمی نشانہ بنانا چاہتی تھی اس لیے وہاں دوC-130طیاروں کے ذریعے بم گرائے گئے، بم اتنی باریک بینی سے ٹھیک ٹھیک طیارہ شکن توپوں کے حصار پر گرائے گئے کہ بی آر بی نہر بالکل محفوظ رہی مگر گولے برساتی ہوئی بھارتی طیارہ شکن توپیں راکھ ہو کر رہ گئیں۔ اگر چہ بھارتی ریڈیو غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے کے طور پر کئیC-130جہازوں کو تباہ کرنے کے دعوے کررہاتھا۔ لہٰذا جب بھارتی فضائیہ کے کمانڈرانچیف  نے جنگ کے کچھ عرصے بعد چکلالہ بیس کا دورہ کیا تو گروپ کیپٹن ایرک گورڈن نے پانچوںC-130ایک لائن میں کھڑے کرکے ان کے سامنے پیش کردیے۔ جسے دیکھ کر بھارتی کمانڈر انچیف کے پاس سوائے کھسیانی ہنسی کے کوئی جواب نہ تھا۔ گروپ کیپٹن ایرک گورڈن کو 65 کی جنگ میں بے پناہ بہادری دکھانے پر حکومت کی جانب سے ستارۂ جرأت  دیاگیا۔ اس مقام پرC-130کے ایک اور مشن کا ذکر کرنا بڑا مناسب ہوگا جس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں پاک آرمی کو سپلائی ڈراپ دینے کے بعد سکواڈرن لیڈر مسعود خان کو ایک مزید خصوصی پُرخطر مشن کے لیے منتخب کرلیاگیا۔ 6 ستمبر کو مسعود خان (جو بعد میں ایئروائس مارشل بنے) اپنے انتہائی تجربہ کارنیوی گیٹرکے ساتھ رات کے اندھیرے میں 60 ٹروپرزہر کو لے کر ہلواڑہ کی جانب پشاورایئر بیس  سے روانہ ہوئے اور اسی انداز میں دوC-130جہازوں کو آدم پور اور پٹھانکوٹ کے لیے روانہ کیاگیا، اس سے پیشتر پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایسے مشن کبھی بھی تشکیل نہیں دیے گئے تھے۔ ان مشنز کے مقاصد یہ تھے کہ پیرا ٹروپرز زمین پر اتر کر ہوائی اڈے پر موجود تمام فیول ٹینکرز اور گوداموں کو تباہ کردیں وہاں موجود ہوا باز وں اور ایئر کریوز(Air Crews)کو مار دیں۔لہٰذا بھارتی ریڈاروں کی آنکھوں سے بچتے ہوئے، تینوںC-130درختوں کی اونچائی پر پرواز کرتے ہوئے پشاور سے اپنے اپنے ٹارگٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ ہلواڑہ اڈے سے صرف ایک منٹ قبل مسعود نےC-130 کو اس طرح پوزیشن کیا کہ پیرا ٹروپر آسانی سے جہاز کے دروازے سے باہر کود پڑے، یہ اتنا تیز آپریشن تھا کہC-130جہازوں نے کامیابی کے بعد واپسی کی راہ لی اور پشاور لینڈ کرگئے۔ مسعود کی اس شجاعت کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ جرأت سے نوازا۔
یہاں C-130 کے ایک اور لاجواب اور بے مثال مشن کا تذکرہ کرنا انتہائی اہم ہے، جسے سکواڈرن لیڈر نذیر نے اڑایا تھا۔ پاک فضائیہ نے مشرقی پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر ایک C-130 کو مستقل طور پر وہاں پوزیشن کردیا جس کے عملے کو ہر تین ماہ بعد تبدیل کردیا جاتا۔ ایسے برے حالات میں نذیر احمد خان رضاکارانہ طور پر فروری 1971 سے مستقل طور پر وہاں رہے، اس دوران C-130 عملے نے بے شمار خطرناک قسم کے مشنوں میںحصہ لیا۔ حساس اور پُرخطر قسم کی ٹیکنیکل  اڑانوں، ایئر بورن ایسالٹ، زخمیوں کی بحفاظت واپسی، یہاں تک کہ C-130 کو ایندھن کی ترسیل کے ٹینکر  کے طور پر بھی استعمال کیاگیا۔ کئی منفرد دلیری کی داستانیں C-130کے عملے سے منسوب ہیں جس میں انتہائی پُرخطرجگہوں سے لوگوں کو بچا کر واپس محفوظ مقامات پر پہنچانا تقریباً ہر ہفتے کا معمول بن چکا تھا۔ مگر ان سب میں جرأت آمیز معرکہ C-130کے ذریعے لال منیرہیٹ اور سلہٹ ہوائی اڈوں پر دوبارہ قبضہ کرنا تھا۔ 25 مارچ 1971 کو مکتی باہنی نے بھارتی فوجیوں کے ساتھ مل کر لال منیر ہیٹ اور سلہٹ   ہوائی اڈوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لہٰذا پاک آرمی کے لیے بہت ضروری تھا کہ ان ہوائی اڈوں کا کنٹرول واپس اپنے اختیارمیں لیا جائے۔3 اپریل کو ہمارے شیر دل کمانڈوز نے لال منیر ہیٹ  اور 8 اپریل کو سلہٹ پر C-130 کے ذریعے تیز ترین ایسالٹC-130 اڑائے ،چونکہC-130 میں اپنی حفاظت کے لیے کوئی ہتھیار نہیں ہوتا، اس لیے شدید خطرات درپیش تھے کہ اگر دشمن کی طرف سے مزاحمت کی گئی تو جہاز اور کمانڈوز کو شدید نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔ دو میں ایک C-130 سکواڈرن لیڈر نذیر احمد خان، معاون ہوا باز فلائنگ آفیسر زبیر اور نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹیننٹ اشرف اُڑا رہے تھے۔ ایس ایس جی کمانڈوز اپنے ضروری ہتھیاروں کے ساتھ جہاز میں سوار ہو چکے تھے، لیکن  جیسے ہی ہر کولیز جہاز منیر ہیٹ ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے لیے پہنچا تو پائلٹ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دشمن نے درختوں کے بڑے بڑے تنے کاٹ کر ہوائی اڈے کو لینڈنگ کے لیے بند کیا ہوا ہے۔ اس خطرناک صورت حال میں سکواڈرن لیڈر نذیر احمد خان نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے ذرا سی جگہ پر C-130 کو لینڈ کروا دیا۔ جہاز کے انجن چلتے رہے اور کمانڈوز برق رفتاری سے اترتے رہے۔ اسی دوران مکتی باہنی نے اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کردیں مگر ہمارے کمانڈوز نے دشمن کے فائر کا جواب دیتے  اور خود کو بچاتے ہوئے رکاوٹوں کو اس طرح دور کردیا کہ دوسرا C-130بھی لینڈنگ کے لیے آنے لگا، لہٰذا نذیر احمدنے اپنےC-130 کو فوراً  ٹیک آف کروادیا اور ساتھ ہی دوسرا C-130بھی لینڈ کرگیا۔ اس طرح ہوائی اڈا دوبارہ پاک فوج کے قبضے میں آگیا۔ نذیر احمد خان نے اس طرح کی کئی خطرناک اڑانیں بھریں۔ اُن کی کامیاب پروازوں اوردلیری کے مظاہرے پر انہیں ستارئہ جرأت سے نوازا گیا۔
 29 اپریل1972 وہ سنہرا دن ہے جس روز سکواڈرن نمبر6کے ایئر کریوز کو کشمیر آپریشن ،1965کی جنگ اور71ء کی جنگ میں اعلیٰ دلیرانہ کارکردگی دکھانے پر ''امتیازی پرچم'' سے نوازاگیا۔
1960 کے آخر میں جب قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس بلند مقصدکے حصول کے لیے سکواڈرن نمبر6 کے ہوابازوں نے بھاری مشینری ، افرادی قوت اور ان کے راشن کوبدستور ملک کے مختلف حصوں سے گلگت پہنچایا۔ شاہراہِ قراقرم دنیا میں آٹھویں عجوبے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس کی تعمیرکے لیے خصوصی طور پر چکلالہ اور گلگت کے درمیان سامان اور افراد کی نقل و حرکت کو مستقل بنیادوں پر بحال رکھاگیا۔ یعنی اس شاہراہ کی تکمیل میں سکواڈرن 6 کے شاہینوں نے بڑا مؤثر کردار ادا کیا۔ جب کبھی ملک و ملت کو یا بین الاقوامی سطح پر کسی دوسرے ملک کو ریلیف آپریشن کی ضرورت پڑتی تو ہمیشہ ٹرانسپورٹ سکواڈرن کے ہوابازوں نے خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خندہ پیشانی سے لبیک کہا۔ 26دسمبر2001 کو جنوب مشرقی ایشیاء میں سونامی نے قیامت برپا کر دی۔ اس میں بھی سکواڈرن نمبر6 کے ہوابازوں نے بڑے پیمانے پر سری لنکا ، مالدیپ اور انڈونیشیا کے ممالک کے لیے ریلیف آپریشنز شروع کیے۔
8 اکتوبر2005 کو قیامت خیز زلزلہ آیا جس نے پاکستان کے شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر کے کئی اضلاع میں قیامت برپا کردی۔ پاک فضائیہ کےC-130 جہازوں نے اس موقع پر بھی زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچایا، متاثرین میں راشن تقسیم کیا۔ اس طرح2011 کی مون سون بارشوں نے ملک میں سیلابی صورت حال پیدا کردی تو اس ہنگامی صورت حال میں بھی سکواڈرن نمبر6 کے ہواباز رات دن متاثرین کی مدد کے لیے مصروف رہے۔
1982 میں جب مکار دشمن بھارت نے سیاچن کے کچھ پہاڑوں پر قبضہ کرلیا، تو پاک آرمی کی ضرورت کے مطابق نڈر شاہینوں نے بھاری مشینری، توپوں اور گولہ بارود سمیت سپاہیوں کو سکردو اور گلگت پہنچایا۔ شروع شروع میں جب چند سپاہی فراسٹ بائٹ کا شکار ہوئے تو انہیں فوری طور پر وہاں سے واپس چکلالہ علاج معالجے کے لیے پہنچایا۔ جب بھی ضرورت پڑی پاک آرمی کے کہنے پر ڈراپ زون میں حرب و ضرب اور کھانے پینے کی اشیاء گرائیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے C-130 جہازوں کو بار بار خطرناک تنگ و تاریک گھاٹیوں اور موت کی وادیوں سے گزرنا پڑا۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا جیسے ہواباز سوئی کے ناکے سے جہاز کو احتیاط کے ساتھ گزار کر لے جارہا ہو اور اکثر اوقات خراب موسم بھی چیلنج بنا رہتا۔ ان تمام مہم جویانہ پروازوں کو مکمل کرنے کے لیے جس پیشہ ورانہ مہارت و قابلیت کی ضرورت ہوتی، ہمارے ہواباز ہر لحظہ اس کے لیے کوشاں رہتے۔یہ انمول خوبیاں سکواڈرن نمبر6 کے ہوابازوں کا ہمیشہ سے طرۂ امتیاز رہیں۔



جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے28 مئی 1998کو ایٹمی دھماکے کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا توایک مرتبہ پھر سکواڈرن نمبر6 کے ہوابازوں نے ہنستے مسکراتے فوری طور پر ہر پاکستانی سائنسدانوں اور نیوکلیئرڈیوائسوں اوران کے متعلقہ سازوسامان کو کوئٹہ پہنچایا جس پر ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے پاک فضائیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے برملا اظہار کیا کہ پاک فضائیہ کے C-130 جہازوں نے جس طرح ایٹمی دھماکوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے سائنسدانوں کی مدد کی اُس کی جس قدر تعریف کی جائے وہ کم ہے کیونکہ پاک فضائیہ کا عملہ اس قومی خدمت کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا۔
امریکہ پرنائن الیون کے حملوں کے بعدپوری دنیا کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوگیا، خصوصی طور پر جب امریکہ نے افغان طالبان پر بڑے پیمانے پر ہوائی حملے شروع کردیے تو پاکستان نے بھی امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ اکثر اقوام عالم دہشت گردی کے مقابلے کے لیے اکٹھی نظر آرہی تھیں ۔ لیکن اس طرح ہماری مغربی سرحدوں اور سمندری حدود میں بھی ملکی دفاع کے حوالے سے حساس صورت حال پیدا ہوگئی۔ پاک افغان سرحد کی حفاظت اور سمندری پانیوں کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان نے اکتوبر2001 میں آپریشن المیزان کا آغاز کیا۔ یہ ایسا آپریشن تھا جس میں پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کی کئی یونٹیں حصہ لے رہی تھیں۔ پاک آرمی  اور فضائیہ  کے ایئر ڈیفنس عناصر کو سرحدوں پر پہنچانے کے لیےC-130 کی بے شمار پروازیں کی گئیں۔ یہ پروازیں دسمبر کی دبیز دھندکی راتوں میں جاری تھیں۔ادھر پاکستانی افواج آپریشن المیزان میںمصروف تھیں تو ادھر بھارت نے مشرقی سرحدپر عسکری مشقوں کی آڑ میں اپنی کثیر افواج کو پاکستان کی ملحقہ سرحدوں پر لاکھڑا کیا، جس کے جواب میں افواج پاکستان نے آپریشن Sentinal (سینٹینل) شروع کیا۔ اس طرح سکواڈرن نمبر6پر ایک مرتبہ پھر بڑی بھاری ذمہ داری آگئی کہ جلداز جلد پاک آرمی اور پاک فضائیہ کی ایئر ڈیفنس یونٹس کو سرحد کے ساتھ جنگی پوزیشنوں پر کم سے کم وقت میں قومی دفاع کے لیے پہنچائے اور اُس نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کی جس کی وجہ سے دشمن کو حوصلہ نہ ہوا کہ وہ پاکستان کے خلاف کسی معرکہ آرائی کا خطرہ مول لے۔ ایئر چیف مارشل مصحت علی میر شہید نے12 دسمبر2002 کو ٹرانسپورٹ سکواڈرن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ''آپریشن المیزان اور آپریشن سینٹینل  کے دوران پاکستان ایئر فورس بیس چکلالہ کی کارکردگی سب سے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ رہی اور میں انہیں اس جنگ کا فاتح قرار دیتا ہوں اور ساتھ ہی ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور جذبۂ ایثار کو سلام پیش کرتا ہوں۔''



دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ کا حصہ بنتے ہوئے پاکستان کے لیے بہت ضروری تھا کہ یہاں کے قبائلی علاقوں میں مصروف دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے۔ لہٰذا اس نازک موقع پر سکواڈرن نمبر6 نے آئی ایس آر (انٹیلی جنس سروینس اینڈ ری کونسینس) مشن کی پروازوں کے ذریعے ایئر ہیڈکوارٹر اور جی ایچ کیو کو صحیح صحیح  زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔ جس کی وجہ سے زمین پرموجودنشانہ بازوں نے درست نشانہ بازی سے دہشت گردوں کو ختم کرنا شروع کردیا۔C-130ہوا بازوں نے لینر ٹیکنالوجی کی مدد سے اور اپنے فائٹر جہازوں کو ہر وقت زمینی صورت حال سے آگاہ کرکے آپریشن راہِ راست، راہِ نجات اور ضرب عضب میں بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ اس دوران خود کو نقصان سے بچاتے ہوئےC-130 شاہینوں نے دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ، جب کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوتیں بھی ایسا کارنامہ سرانجام دینے سے قاصر رہیں۔
سکواڈرن نمبر6 نے بین الاقوامی نمائش2006 میں رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو (آر آئی اے ٹی) میں حصہ لیا، جس میں دنیا بھر سے بہترین فوجوں نے شرکت کی۔اس اعلیٰ پائے کی نمائش میںC-130 سکواڈرن نے تین انعامات جیتے، جس میں سٹیٹک ڈسپلے اور ٹیم مقابلوں کی ٹرافیاں خصوصی ستائش کی حامل تھیں۔ اس طرح آر آئی اے ٹی 2016میں بھی پاک فضائیہ نے سٹیٹک ڈسپلے میں(Elegance Trophy)ایلی گینس ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
7جون 2017 سے قبل ہمالیہ کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں نے کبھیC-130 ہرکولیز جہازوں کے انجنوں کی آوازیں نہیں سنی تھیں اور وہ بھی رات کی تاریکی میں، لہٰذا این وی جی آپریشن  سکردو میں کیے گئے سکواڈرن نمبر6 کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاہے وہ شمالی علاقہ جات کی برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیوں پر اُڑنے والی پروازیں ہوں یا ٹرائبل علاقوں میں کیے جانے والے آئی ایس آر کے آپریشنز ہوں، پاک آرمی کی مدد کے لیے کیے جانے والے مشن ہوں یا پھر ملکی یا بین الاقوامی ریلیف مشنز، سکواڈرن نمبر6 کے کارنامے پاک فضائیہ کی تاریخ میں ہمیشہ افق پر چمکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ||