اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 02:59
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

ہندوستان میں زعفرانی دہشتگردی کا فروغ جنوبی ایشیائی امن کے لیے بڑا خطرہ 

مئی 2023

آر ایس ایس کے بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن چکا ہے۔ ہندو دہشتگردوں کا جب دل کرتا ہے، وہ مسلمانوں کیخلاف قتل و غارت گری شروع کردیتے ہیں۔ کبھی ماہ رمضان میں مسلمانوں کو تراویح کی نماز پڑھنے پر جیل جانا پڑتا ہے تو کبھی انتہا پسندہندو مسلمانوں کی بستیوں پر چڑھائی کر دیتے ہیں اور ان انتہا پسندوں کو بھلا ڈر بھی کس کا ہے؟ کیونکہ مسلمانوں کے خلاف قبیح جرائم میں ملوث ہندوئوں کو اعلیٰ اعزازات اور انعامات سے نوازنا بی جے پی کی گویا پالیسی بن چکی ہے۔ستم ظریفی یہ  کہ مسلمانوں کیخلاف اس استبدادیت میں تمام بھارتی ادارے یکساں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تازہ ترین مثال کے طور پر بھارتی عدالت نے  2002 میں گجرات فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام اور اجتماعی زیادتی کے تمام مجرمان کو شواہد کے باوجود رہا کر دیا تو دوسری طرف ہندو تہوار رام نومی کے موقع پر مہاراشٹر، بہار، گجرات، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش و دیگر ریاستوں میں ہندو انتہا پسندوں نے ہزاری باغ، ہوگلی، ہوارا، بہار شریف ، احمد نگر میں مسلم اکثریتی علاقوں پر دھاوا بول دیا۔ مساجد اور مدارس جلا دیے گئے، گھروں اور دکانوں کو آگ لگائی گئی، مسلمانوں کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر مسلمانوں کو ہی جیلوں میں بھر دیا گیا۔


بھارت میں 2014 سے آر ایس ایس برسراقتدار ہے۔ بالفرضِ محال اگر پاکستان میں کوئی مذہبی جماعت کبھی انتخابات میں جیت جاتی تو دنیا بھر کا میڈیا اور سبھی تجزیہ نگار قیاس کے ایسے ایسے گھوڑے دوڑا رہے ہوتے جنہیں دیکھ اور سن کر یوں لگتا گویا زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان گر پڑا ہو اور اس صورتحال میں عالمی امن کو درپیش بے شمار خطرات کی نشان دہی سامنے آ چکی ہوتی مگر اسے عالمی رائے عامہ کی چشم پوشی کہیں یا تجاہلِ عارفانہ کا نام دیا جائے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت اتنی بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر برسرِاقتدار آ رہی ہے مگر عالمی امن کے ٹھیکیدار حلقوں نے اس حوالے سے ذرا سی بھی تشویش ظاہر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔


اس بھارتی ظلم کے نتیجے میں سیکڑوں مسلمان شدید زخمی جبکہ متعدد شہید ہوئے ۔ حالات کی کشیدگی کے بعد انٹرنیٹ تک بند کر دیا گیا اور کئی مقامات فوجی چھائونیوں کا منظر پیش کرنے لگے ۔ کیا انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی عالمی برادری کو دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کے یہ حالات نظر نہیں آتے ؟
مبصرین کے مطابق 15 اگست 1947 اپنی آزادی کے بعد سے بھارت نے خاصے طویل عرصے تک بڑی کامیابی سے دنیا کو یہ تاثر دیے رکھا کہ اس کے ہاں تمام طبقات اور شہریوں کو مساوی انسانی حقوق میسر ہیں اور اگر کہیں کسی اقلیت کیخلاف امتیازی سلوک کا کوئی واقعہ پیش آتا بھی ہے تو اس کی نوعیت سراسر انفرادی ہوتی ہے اور ایسے متشدد ہندو عناصر کو حکومت یا اداروں کی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی۔ عالمی برادری کا ایک حلقہ ان بھارتی دعوؤں پر آنکھیں بند کر کے بڑی حد تک یقین بھی کرتا رہا مگر یہ امر خوش آئند ہے کہ اب دنیا بھر میںبھارتی اقلیتوں کی حالت زار پر کھل کر بات کی جانے لگی ہے۔ 4 اپریل کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی اور اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بھی بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ 
اس معاملے کے دیگر پہلوئوں پر بات کرنے سے قبل ضروری ہے کہ اس امر کا کھلے دل سے اعتراف کیا جائے کہ بھارت جیسے وسیع و عریض ملک میں انتخابی عمل کا کامیابی سے انعقاد اور اس کی تکمیل کو اگر دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔مگر اس معاملے کا یہ پہلو شاید اس سے بھی زیادہ توجہ کا حامل ہے کہ بھارت میں جس انداز سے انتہا پسند ہندو نظریات کے تحت مذہبی دہشتگردی کو فروغ دیا جا رہا ہے ، اس نے اس معاملے کی دیگر جہتوں کو بھی بڑی حد تک اجاگر کر دیا ہے۔  یوں بھارت میں محض وقت پر الیکشن کے انعقاد کو اگر جمہوریت اور سیکولرازم قرار دیا جائے تو یہ کسی ستم ظریفی سے کم نہیں کیونکہ ایک جانب مودی تمام انتخابات میں ہندو انتہا پسندی کا وہ بھیانک چہرہ پیش کرتے ہیں جس کا اعتراف ٹائم میگزین، گارڈین، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ سمیت دنیا بھر کا عالمی میڈیا کر رہا ہے تو دوسری جانب سیکولرازم کی دعویدار کانگرس بھی گزشتہ کافی عرصے سے سافٹ ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ یوں یہ سیکولرازم اور جمہوری قدروں کی باتیں محض جملے ہیں ، یوں بھی جس طور مقبوضہ کشمیر میں انسانی قدروں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ، اپنے آپ میں ایسے المیے ہیں جن کا تصور بھی کوئی مہذب معاشرہ شاید ہی کر سکے۔
سنجیدہ حلقوں کی رائے میں یہ عین ممکن ہے کہ بھارت کی آزادی کے ابتدائی برسوں میں شاید دہلی کے حکمرانوں نے ان انتہا پسند عناصر کی سرکاری سطح پر سرپرستی نہ کی ہو لیکن اگر ایسا ہوا بھی تو یہ کانگرس نے انسانیت سے محبت میں نہیں بلکہ سراسر اپنے سیاسی مفادات کے لیے کیا۔ اب تو  بھارت میں گزشتہ 9 برسوں سے ہندو نیشنل ازم کا عفریت ہر چیز کو نگلنے پر آمادہ نظر آتا ہے اور خود بھارتی میڈیا اور سول سوسائٹی کے اعتدال پسند عناصر بھی اس ''نیشنل ازم'' بلکہ الٹرا نیشنل ازم کو '' زعفرانی انتہا پسندی'' قرار دینے لگے ہیں۔ 2014 کے بعد سے تو نریندر مودی اور موہن بھاگوت کی سربراہی میں ''رام راجیہ'' کے قیام کی علمبردار راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی دنیا کی 17.7 فیصد آبادی پر بلا شرکت غیرے حکومت کر رہی ہیں۔ 
یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی نے اپنے قیام کے فوراً بعد اپنا منشور جاری کیا جس میں یہ نکات سر فہرست تھے ، غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ، بھارتی مسلمانوں کے عائلی قوانین کا خاتمہ کر کے مشترکہ سول کوڈ کا نفاذ ، بابری مسجد کا انہدام اور اسکی جگہ رام مندر کی تعمیر اور دہلی اقلیتی کمیشن ختم کر کے نام نہاد ہیومن رائٹس کمیشن کا قیام۔ 5 اگست 2019 کو  زیر قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے سنگھ پریوار نے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے بعد اپنی توجہ ایجنڈے کے دیگر نکات پر مرکوز کر لی۔ متنازع شہریت ترمیمی بل ، لو جہاد ایکٹ ، گئو رکھشا ایکٹ اور تین طلاق بل کو مودی سرکار نے بھارتی پارلیمان سے منظور کرا لیا، یوں ان اقدامات سے زعفرانی انتہا پسند حلقوں کو یہ گمان ہونا شروع ہو گیا ہے کہ واقعی '' رام راجیہ'' اور '' اکھنڈ بھارت'' کا قیام ممکن ہے ، اور اب سنگھ پریوار کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اپنے قیام کی 100 ویں سالگرہ یعنی 2025 تک کسی طور بھارت کی برائے نام سیکولر حیثیت بھی ختم کر کے انڈیا کو ہندو ریاست قرار دے دیں اور اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آر ایس ایس بھارت کو انتہا پسندی کی آگ میں جھونکنے پر بھی تیار ہے۔ 
بھارت میں 2014 سے آر ایس ایس برسراقتدار ہے۔ بالفرضِ محال اگر پاکستان میں کوئی مذہبی جماعت کبھی انتخابات میں جیت جاتی تو دنیا بھر کا میڈیا اور سبھی تجزیہ نگار قیاس کے ایسے ایسے گھوڑے دوڑا رہے ہوتے جنہیں دیکھ اور سن کر یوں لگتا گویا زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان گر پڑا ہو اور اس صورتحال میں عالمی امن کو درپیش بے شمار خطرات کی نشان دہی سامنے آ چکی ہوتی مگر اسے عالمی رائے عامہ کی چشم پوشی کہیں یا تجاہلِ عارفانہ کا نام دیا جائے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت اتنی بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر برسرِاقتدار آ رہی ہے مگر عالمی امن کے ٹھیکیدار حلقوں نے اس حوالے سے ذرا سی بھی تشویش ظاہر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔اس صورتحال کو بین الاقوامی موثر قوتوں اور عالمی رائے عامہ کے دوہرے معیاروں کے علاوہ غالباً کوئی بھی نام نہیں دیا جا سکتا ۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ RSS نے 1925 میں اپنے قیام سے لے کر آج تلک اس مؤقف کو کبھی راز نہیں رکھا کہ اس کا ہدف برِصغیر جنوبی ایشیاء کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا اور یہاں رام راجیہ قائم کرنا ہے۔ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی نے بھی خود کو کبھی ہندو انتہا پسندی کے نظریات سے لا تعلق قرار نہیں دیا بلکہ اس کا ہمیشہ سے ہی علانیہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ایک سیاسی حادثہ تھا جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔


یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ RSS نے 1925 میں اپنے قیام سے لے کر آج تلک اس مؤقف کو کبھی راز نہیں رکھا کہ اس کا ہدف برِصغیر جنوبی ایشیاء کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا اور یہاں رام راجیہ قائم کرنا ہے۔ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی نے بھی خود کو کبھی ہندو انتہا پسندی کے نظریات سے لا تعلق قرار نہیں دیا بلکہ اس کا ہمیشہ سے ہی علانیہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ایک سیاسی حادثہ تھا جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔


BJP اور RSS کے بعض حلقے تو وقتاً فوقتاً کہتے رہے ہیں کہ حکومت ملنے کی صورت میں غیر ہندوئوں کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے یا تو وہ ہندو بن کر رہنا قبول کریں ۔ دوسری صورت میں پاکستان یا بنگلہ دیش کی طرف کوچ کر جائیں۔غیر جانبدار تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ مودی اور RSS کو بھی بخوبی احساس ہے کہ ہندو انتہا پسندی کی وجہ سے بھارت کا مستقبل زیادہ روشن نہیں، لہٰذا RSS  کے سو سالہ قیام کا جشن ( 2025 ) مکمل انتہا پسندی کے ماحول میں منا لیا جائے، وگرنہ بعد میں صورتحال نجانے کیا رخ اختیار کرے۔ یہ بات بھی توجہ کی حامل ہے کہ سنجیدہ حلقے مصر ہیں کہ بھارت میں بڑھتی ہندو انتہا پسندی پر سرسری سی بھی نگاہ ڈالیں تو بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کیوں ہزاروں سال تک دوسروں کا غلام رہا۔ اسی سلسلے میں ایک ہندو دانشور موہن گرو سوامی نے کافی عرصہ پہلے '' 1000 شیم فل ایئر آف انڈین ہسٹری '' میں اس امر پر افسوس جتایا تھا کہ بر صغیر کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو با آسانی کہا جا سکتا ہے کہ ہندو ہمیشہ سے بھاری اکثریت میں رہے ہیں، مگر اسے کیا نام دیا جائے کہ شہاب الدین غوری اور قطب الدین ایبک سے لے کر بھارت میں مختلف مسلم خاندان اور شخصیات حکمران رہیں۔ اس دوران حکمران اور خاندان بدلتے رہے مثلاً غیاث الدین بلبن، شمس الدین التمش، رضیہ سلطانہ، ناصر الدین محمود (خاندان غلاماں)، فیروز شاہ تغلق ، خاندانِ خلجی، لودھی اور پھر 300 سال تک مغل حکمران۔ یاد رہے کہبے شک  بہادر شاہ ظفر کے پاس زیادہ اختیارات نہیں تھے مگر 1857 تک بہرحال برصغیر میں مسلم سلطنت قائم رہی۔ یوں برطانوی حکومت کا عرصہ اقتدار 1857 سے 1947 تک محض نوے سال بنتا ہے۔ ایسے میں یہ نتیجہ نکالنا کہ موجودہ بھارتی آزادی لا محدود عرصے تک برقرار رہے گی؟ اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے جس پر خود بھارت کے حکمرانوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یوں وہ اپنے طرز عمل پر نگاہ ڈالیں تو شاید وہ تاریخ سے کچھ سبق حاصل کر پائیں۔ یہ بات بھی خصوصی طور پر پیش نظر رہے کہ جنوبی بھارتی ریاستیں تامل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور یونین ٹیرٹریز پانڈی چری، لکش دیپ اور انڈیمان نکوبار برطانوی عہد اقتدار سے قبل کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہے۔ دوسری جانب مشرقی بھارت کو دیکھیں تو مغربی و مشرقی بنگال، اڑیسہ، آسام و سیون سسٹرز کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایسے میں دہلی کے حکمرانوں کو زمینی حقائق بہرطور مدنظر رکھنا ہوں گے۔
دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کے بعض نام نہاد دانشور آئے روز قیامِ پاکستان کے حوالے سے مختلف قسم کے منفی ریمارکس دیتے رہتے ہیں جس سے بعض ناپختہ ذہنوں میں منفی اثرات مرتب ہونے کا احتمال بہر کیف موجود رہتا ہے۔ غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ناقدین کے ذہنوں میں بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی حالتِ زار کا سرسری سا احوال بھی پیشِ نظر رہے تو شاید کفرانِ نعمت کے مرتکب ان افراد اور گروہوں کی روش میں قدرے مثبت تبدیلی رونما ہو سکے کیونکہ کسے نہیں معلوم کہ بھارت کے جمہوریت اور سیکولر ازم کے تمام دعووں کے باوجود 23 کروڑ کے لگ بھگبھارتی مسلمان آج بھی تیسرے درجے کے شہری ہیں۔مبصرین نے بھارتی مسلمانوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھارت میں ڈاکٹر ذاکر حسین،فخر الدین علی احمد اور عبدالکلام کو صدارت کے منصب پر فائز کیا گیا اور ممبئی کی فلم انڈسٹری میں بھی چند مسلمان اداکار اہم کردار کے حامل رہے ہیں۔مگر اس سے آگے بھارتی مسلمانوں کے ضمن میں کوئی اچھی خبر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ 
بھارتی مسلمانوں کو اس عجیب صورتحال سے بھی دو چار ہونا پڑتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے ہم نوا کہتے ہیں کانگرس نے مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جبکہ کانگرس سمیت تمام سیکولر پارٹیاں، انڈین آرمی،خفیہ ادارے،پولیس ،میڈیا اور عدلیہ کا بڑا حصہ بھارت کے ساتھ ان کی وفاداری کو مشکوک سمجھتا ہے ۔بنکوں سے قرضہ ملنا تو دور کی بات اپنے آبائی علاقوں کے باہر کرائے پر دکان یا مکان دیا جانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں وطنِ عزیز کے سبھی حلقوں کو بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کو سامنے رکھنا چاہیے اور خود احتسابی اور خود مذمتی میں حائل بظاہر معمولی لیکن در حقیقت انتہائی اہم فرق ملحوظ رکھا جائے کہ با شعور اور زندہ قوموں کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ اس بابت اصل ذمہ داری مقتدر طبقات،سول سوسائٹی اور میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ ||


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]