اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:52
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

جہاد کشمیر: پانڈو کی عظیم فتح

مارچ 2023

پانڈو کی عظیم فتح ہمارے جانبازوں کی عدیم المثال قربانی، جہادی جذبے ، بہترین عسکری پلاننگ اور محدود وسائل کے عمدگی سے استعمال کی اعلیٰ مثال تھی۔یہ نہ صرف تدبیراتی لحاظ سے بلکہ تزویراتی لحاظ سے بھی ایک بڑی مثال تھی۔ اس کی وجہ سے اوڑی (اب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہے) سے چناری تک تقریباً 25 کلو میٹر کا علاقہ جس میں سے 16 کلومیٹر کا علاقہ جو دشمن کے پاس ہے براہِ راست ہماری آبزرویشن میں آگئے تھے۔ پانڈو میں دشمن کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بہت بڑے علاقے سے اُس کو ہاتھ دھونا پڑے۔ جنگ کشمیر کے بارے میں بھارتی کتابDefending Kashmirمیں پورے پانڈو آپریشن کو صرف ایک فقرے میں بیان کیاگیا ہے : .Pakistan launched a counter attack at Pandu and re-captured it


جہاد کشمیر(1947-48) کے دوران لڑے گئے معرکوں میں دو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ایک چُنج پہاڑی کی فتح (بلندی9444فٹ(جو ٹیٹوال سیکٹر میں دریائے نیلم کے کنارے واقع ہے اوردوسری پانڈو (بلندی9300فٹ)کی عظیم فتح جو چکوٹھی اوڑ ی سیکٹر میں دریائے جہلم کے کنارے پر ہے۔
پانڈو پہاڑی چکوٹھی کے بالکل سامنے شمال میں  مظفرآباد سے تقریباً55 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یہ تین پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے جو پانڈو کے مقام پر آپس میں ملتی ہیں اور اس جگہ کی بلندی 9300 فٹ ہے۔ جون 1948 کے آخر میں اس جگہ بھارتی فوج کی دفاعی تعداد مندرجہ ذیل تھی۔
انفنٹری : 
•   دو بہار رجمنٹ (ہیڈکوارٹر اور ایک کمپنی۔ پانڈو گائوں اور بوما میں)
•    بہار رجمنٹ۔ دوکمپنیاں۔پوائنٹ6873اور جنوب مغربی ڈھلوان پر
•    بہار رجمنٹ ایک کمپنی۔ چھوٹا قاضی ناگ اور سفیدہ جنگل میں۔
•   ہیڈکوارٹر ڈوگرہ رجمنٹ اور دو کمپنیاں۔سنگ پہاڑی(10490فٹ)
•    ایک کمپنی۔ کتھائی نالہ کے مغرب میں۔
•    سکھ رجمنٹ۔ کنڈرکوزی جنگل میں ۔
•   دو کمپنیاں۔خان موہڑی اور ڈنہ(پانڈو کے مشرق میں) کھتڑنار۔
آرٹلری 
ایک مائونٹین رجمنٹ ۔ دو فیلڈ بیٹریاں اور ایک میڈیم بیٹری
دشمن کو ائر فورس کی مدد بھی حاصل تھی اور پوزیشنوں کے سامنے بارودی سرنگیں بھی تھیں۔
اپنی سپاہ کی یہ پوزیشن تھی۔
•  گیارہ  بلوچ۔ کتھائی نالہ کے مغرب میں بب ڈوری ایریا میں۔
•    آزاد رجمنٹ کتھائی نالہ کے مغرب میں۔
•     دو پلاٹون خیبر رائفلز۔ نانگا ٹک۔ کتھائی نالہ کے شمال مغرب میں
•    تین لشکر۔ (200قبائلی فی لشکر)نانگا ٹک کتھائی نالہ کے شمال مغرب میں
•    ایک کمپنی۔ 19بلوچ ۔
•    دو کمپنیاں۔ مظفرآباد بٹالین۔
•   نو پنجاب۔  مشین گن پلاٹون
آرٹلری 
     1مائوٹین بیٹری۔ ایک سیکشن 3فیلڈ رجمنٹ ۔ ایک سیکشن 8میڈیم  رجمنٹ ۔
حملے کے لیے تمام ابتدائی تیاریاں جون کے آخر ی ہفتے اور جولائی کے شروع میں مکمل کرلی گئی تھیں۔
ابتدائی آپریشن
پانڈو پر بڑے حملے سے پہلے ''آپریشن سَنتاسنگھ'' (Santa Sinngh)کے کوڈ نام سے مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول کے لیے جون48 میں ایک چھوٹا آپریشن شروع کیاگیا جو 15-16 جولائی تک جاری رہا۔
(ا)    دشمن کی سپاہ اور ہتھیاروں کی زمین پر پوزیشن ۔
(ب)    جارحانہ پٹرولنگ اور اچانک حملوں کے ذریعے دشمن کی سپاہ کے پہلوئوں کی سامنے والی پوسٹوں اور پچھلے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کرنا۔
اس تدبیراتی ایکشن کے ذریعے دشمن اپنے دفاعی مورچوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ اس آپریشن کے لیے پاکستانی کمانڈر نے تقریباً 400 آزاد رجمنٹ کے فوجی، کچھ قبائلی لشکر اور خیبر رائفلز کی دو پلاٹونوں کو استعمال کیاتھا۔ اُن کے ساتھ آرٹلری کی ایک گن بھی براہِ راست مدد کے لیے موجود تھی۔ اس فورس نے دشمن کے 580 فوجیوں کو نقصان پہنچایا جن میں سے 230  واصل جہنم ہوئے تھے۔ دشمن کے 2 جہاز بھی مشین گن اور چھوٹے ہتھیاروں سے گرائے گئے تھے۔ دشمن کا موسم ِ گرما کا بڑا حملہ جو اوڑی اور ٹیٹوال سیکٹر میں اُس نے کرنا تھا، وہ بھی قریباً 6/7 ہفتے کے لیے  ملتوی کرنا پڑا۔ ہمارے اس آپریشن میں30آدمی شہید اور70 زخمی ہوئے ۔ یہ بنیادی طور پرHit and Runقسم کا آپریشن تھا۔
حملے کا منصوبہ
بریگیڈ کمانڈر101 بریگیڈیر اکبر خان نے حملے کی مکمل پلاننگ کے بعد17 جولائی 1948 کو پانڈو پر حملے کے لیے احکامات جاری کیے۔
حملہ20/21 جولائی کی رات کو کیا جائے گا۔ اُس سے ایک دن پہلے تمام حملہ آور سپاہ اپنے اپنے اسمبلی ایریاز میں پہنچ جائے گی۔
حملے کے لیے 11 بلوچ ، ایک کمپنی19 بلوچ ۔ دو کمپنیاں آزاد مظفرآباد بٹالین، 2پلاٹون خیبر رائفلز،3 لشکر (300 آدمی) مشین گن پلاٹون 9پنجاب ، آرٹلری ایک مائونٹین بیٹری۔2 گنز3فیلڈ رجمنٹ۔2 گنز 8میڈیم رجمنٹ۔ ایک انجینئرز پلاٹون۔ ریزرو۔4FF-رجمنٹ کی دو کمپنیاں ہیڈکوارٹرکے ساتھ بب ڈوری میں۔6عدد فارورڈ آبزرویشن آفیسرز(FOO) آرٹلری سے ۔
مندرجہ ذیل وجوہ کی بنیاد پر ناگہانیت(اچانک پن)اور حملے کا خفیہ رکھنا اس آپریشن کا ایک لازمی جزو تھا۔اول: حملے کا ایک بڑا وسیع علاقے میں پھیلائو۔ دوم:بہت اونچے پہاڑ جہاں دشمن موجود تھا۔ سوم:عمودی چڑھائیاں۔ چہارم:ہدف تک لمبے اور مشکل ترین راستے ۔ پنجم:حملے کی جگہ کی طرف جانے والے راستوں کا براہِ راست دشمن کی آبزرویشن اور فائرکی زد میں ہونا۔
اس لیے پانڈو پہاڑ کے اطراف میں دشمن کی تمام پوزیشنوں اور پانڈو کی چوٹی کے درمیان اپنی سپاہ کو اس طریقے پر Deploy کیا گیا تھا کہ دشمن مختلف اطراف سے پانڈو پر ہمارے حملے میں رخنہ نہ ڈال سکے۔ اس مقصد کے لیے پوائنٹ 6873 کنڈر کوزی جنگل۔ سنگ(1040فٹ) اور کھترنار پوزیشنوں پر چھوٹے پیمانے کے حملے بھی منصوبے کا حصہ تھے۔ آرٹلری فائر سپورٹ کو یقینی بنانے کے لیے ہر حملہ آور دستے کے ساتھ ایک فارورڈ آبزرویشن آفیسرمنسلک کیاگیا تھا۔ مقامی سویلین گائیڈز بھی استعمال کیے گئے تھے تاکہ حملے کی اجتماع گاہوں تک بخیر و خوبی پہنچا جاسکے۔
lایک کمپنی آزاد رجمنٹ اور ایک لشکر دشمن کی سپاہ جو سنگ(Sing) پوزیشن میں مورچہ زن تھی، کو اپنے فائر سے اس طرح مشغو ل رکھے کہ وہ پانڈو پر بڑے حملے میں دخل اندازی نہ کرسکے۔
lمحسود لشکر کیپٹن خالد کی کمانڈ میں پوائنٹ6873پر مغرب کی طرف سے حملہ کرے گا تاکہ دشمن کی توجہ ہمارے بڑے حملے سے ہٹ یا بٹ جائے
lبڑا حملہ 11بلوچ اور4 بلوچ کی ایک کمپنی کے ذریعے کیا جائے گا۔ جس میں ایک کالم دو کمپنیوں کے ساتھ دریائے جہلم کے ساتھ میرا گائوں کی طرف سے تقریباً70-80 ڈگری کے زاویے پر تھی، چڑھنے کے بعد پانڈو ٹاپ پر پوائنٹ 9300 پر حملہ کرنا تھا۔ یہ نہایت مشکل چڑھائی تھی اسی لیے اس طرف سے حملہ کرنے کا کوئی کمانڈر سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ عسکری زبان میں یہ Least Expected اپروچ تھی۔ دشمن نے اسی لیے اُس طرف اپنی کوئی فوج نہیں رکھی تھی۔ اندازہ کریں کہ ہماری اس طرف اوپر چڑھنے والی سپاہ نے تین گھنٹے میں ایک میل کا فاصلہ طے کیا تھا اور پوری رات چڑھنے کے بعد صبح 4 بجے پانڈو ٹاپ پر پہنچے تھے اور اس دوران دریائے جہلم سے پانڈو ٹاپ تک تقریباً 6 ہزار فٹ کی بلندی طے کی تھی۔ دوسرے کالم نے دو کمپنیوں کے ساتھ کرنل شیر بہادر کی قیادت میں بوما گائوں سے پانڈو گائوں پر مغرب کی طرف سے حملہ کرنا تھا۔
پانڈو پر حملہ
حملہ منصوبے کے مطابق عمل میں لایاگیا۔ رات بارش شروع ہوگئی۔ ٹیلی فون لائن بھی ساتھ ساتھ بچھائی جارہی تھی۔ وائرلیس کی خاموشی تھی۔ بارش کا یہ فائدہ ہوا کہ دشمن کو کسی بھی حرکت کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ جوانوں نے برساتیاں پہن لی تھیں۔ کچھ مقامی لوگوں نے فالتو ایمونیشن، گینتی، بیلچے اور تاروں کے ڈرم اٹھائے ہوئے تھے۔ دو دن کے لیے پکا ہوا کھانا بھی سب کے پاس تھا۔ مقامی لوگ علاقے کی اونچ نیچ سے واقف تھے ۔اپنے فوجی مجاہدین اگر کہیں لڑھک جاتے تو یہ رضاکار اُن کی مدد کرتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن سے  بڑے ٹکرائو سے پہلے اپنی حرکات یا ارادے دشمن کومعلوم نہ ہوں۔ اﷲ کے فضل و کرم سے پیش قدمی کرنے والے تمام دستے بروقت اپنی اجتماع والی جگہوں پر پہنچ گئے۔ حملہ21 جولائی صبح 4 بجے کیاگیا جو پوائنٹ 9300 اور پوائنٹ9178 پر تھا اور ساتھ ہی مغرب سے پانڈو گائوں پر کیاگیا۔ بھارتی بھی پوری قوت سے مقابلہ کررہے تھے۔ گھمسان کے رن میں ہمارا کچھ نقصان ہوا اور کچھ کامیابی بھی ملی۔ پانڈوگائوں پر قبضہ نہ ہوسکا۔ ہمارا وہ کالم جو جنوب کی طرف سے پانڈو ٹاپ حملہ آور ہوا تھا، نے اسی اثناء میں پوائنٹ 9300 اور پوائنٹ 9178 پر قبضہ کرلیا۔ دشمن نے اس جگہ ایک جوابی حملہ کیا جو پسپا کردیاگیا۔
کیپٹن خالد کے محسود قبائلی لشکر نے پوائنٹ 6873 پر22جولائی شام کے وقت حملہ کیا اور23 جولائی رات ہونے تک اُس جگہ پر قبضہ کرلیا۔ قبضے کے دوران کیپٹن خالد شہید ہوگئے تھے لیکن اُس وقت دشمن پسپا ہو کر پانڈو گائوں کی طرف راہِ فرار اختیار کرچکا تھا۔
کنڈر کوزی جنگل اور سفیدہ جنگل کے شمال میں دشمن کے کافی مضبوط دفاعی مورچے تھے۔دشمن کو حملہ کرکے ادھر سے نکالنا تھا یا اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہ پانڈو گائوں کے علاقے میں ہمارے حملے کے دوران دخل اندازی نہ کرسکے۔ اپنی سپاہ کو اس علاقے سے غینم کے بنکروں سے لگاتار فائر کی وجہ سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کا حملہ رُک گیا۔ خان گل جمال جس کا تعلق قمبر خیال قبیلہ سے تھا ،نے رضاکارانہ طور پر دشمن کے دو مشین گن مورچوں کو چند گز کے فاصلے سے ہینڈگرینیڈ سے تباہ کردیا۔ دشمن جلد ہی حوصلہ چھوڑ بیٹھا اور پوزیشن کو خالی کردیا۔ اس جگہ سے کافی ہتھیار اور گولہ بارود ہمارے ہاتھ لگا۔
اسی اثناء میں لیفٹیننٹ کرنل شیر بہادر (11 بلوچ) اپنی سپاہ کے ساتھ21/22 جولائی کی رات مغرب کی طرف سے پانڈو گائوں میں بہاررجمنٹ کی دفاعی پوزیشن کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ لیکن سخت مزاحمت کی وجہ سے فوراً حملہ نہ کرسکے اور پوزیشن لے لی۔ بریگیڈ کمانڈر نے 21/22 جولائی کی رات کو ہی4.FF کی دو کمپنیوں کو جوبطورِ ریزرو بب ڈوری میں موجود تھیں ، کو پانڈو ٹاپ پر پہنچنے کا حکم دیا تاکہ وہ11 بلوچ کی پہلے سے ادھر پہنچی ہوئی کمپنیوں سے ملاپ کریں اور پانڈو گائوں پر حملے میں ان کی مدد کریں۔4FF کی کمپنیاں23جولائی کی شام کو ادھر پہنچ گئیں۔4FF کی کمپنیوں کے پانڈو ٹاپ پر پہنچنے سے24 گھنٹے جارحانہ پٹرولنگ اور Harassing Fireکے ذریعے لگاتار دشمن کو زبردست ذہنی اورجسمانی دبائو میں رکھا گیا۔ کچھ جگہوں پر ہمارے لڑاکا پٹرول دشمن کی دفاعی پوزیشن  کے اندر تک چلے گئے اور دست بدست حملے بھی کیے۔ ساتھ ہی ہماری آرٹلری کی طرف سے وقفے وقفے سے صحیح صحیح گولہ باری بھی کی گئی۔ جب کبھی بھی دشمن  حملے کے لیے یا بھاگنے کے لیے اپنے مورچوں سے باہر آتا تو اس پر توپ خانے کا فائر کیاجاتا تھا۔
ہماری سپاہ چونکہ کھلے جنگل میں جو9000 فٹ کی بلندی پر تھا، میں پھیلی ہوئی تھی اور اس بلندی پر سخت سردی تھی۔ اس لیے پہلے پہل تو لشکریوں نے اور بعد ازاں ریگولر سپاہ نے بھی اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لیے جگہ جگہ آگ جلائی۔ جلد ہی دشمن نے دیکھا  کہ تقریباًاُن کے تین اطراف میں آگ ایک دائرے کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ منظر اُن کے  اعصاب کے لیے ایک تازیانے سے کم نہ تھا۔
 اسی دوران پانڈو گائوں پوزیشن پر لگاتار مارٹرز اور توپ خانے کی گولہ باری جاری رہی۔ مقامی لوگوں میں کچھ افراد جو اس وقت گائوں میں موجود تھے، کے مطابق دشمن کی صفوں میں مایوسی اور کھلبلی تھی اور وہ اس خیال میں تھے کہ اُن کو ہماری سپاہ نے قریباً تین اطراف سے گھیر لیا ہے اور انہوںنے وہ رات اُمید و بیم کی کیفیت میں گزاری۔ دشمن کے ساتھ پچھلے تین چار دنوں میں چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ افرادی قوت، ہتھیاروں ، توپ خانے اور ہوائی فوج کے لحاظ سے دشمن ایک برتر پوزیشن میں تھا۔ اُن کی زیادہ تر دفاعی پوزیشنیں بھی مضبوط اور اُن کے قبضے میں تھیں۔ دراصل اُن پر ہماری سپاہ کی طرف سے ناگہانیت اور تذبذب کی کیفیت نے منفی اثر ڈالا جس میں بڑا حصہ اُس ایکشن کا تھا جس میں ہماری سپاہ نے جنوب کی طرف سے ناممکن اپروچ کو سر کرکے پانڈو ٹاپ کی سب سے اونچی پہاڑی پر قبضہ کرلیا تھااور یہ اُن کے اعصاب کے لیے بہت بڑا جھٹکا تھا۔ جس نے اُن کی لڑنے کی صلاحیت اور ہمت کو بری طرح متاثر کیاتھا۔ دشمن نے23 جولائی سے ہی اپنی پوزیشن کے سامنے اور جنوب کے علاقے میں توپ خانے کی زبردست گولہ باری شروع کرادی اورر ات گئے تک تقریباً دوہزار گولے فائر کیے۔ اس گولہ باری کی آڑ میں دشمن پانڈو گائوں سے نکل کر بغیر کسی بڑے نقصان کے مشرق میں خان موہڑی، سفیدہ، گندی گراں اور ڈنہ کی طرف پسپا ہوگیا۔ اس طرح ہمارے پانڈو گائوں پر حملے سے چند گھنٹے پہلے دشمن بڑی صفائی سے پانڈوپہاڑی اور گائوں سے فرار ہوگیا۔ اُن کی پسپائی کا اُس وقت پتہ چلا جب 24 جولائی صبح بریگیڈ کمانڈر کی ہدایات کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل سعید(4FF)، میجر حمید آفریدی11)بلوچ( اور کیپٹن سید غفار (4 بلوچ) پوائنٹ9178کے علاقے میں دشمن پر حملے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے گئے۔
ہمارے پٹرولز، آرٹلری دیدبان اور11 بلوچ کے آگے والے دستے جو دشمن سے ملاپ میں تھے، نے بتایا کہ دشمن کے علاقے میں رات ہی سے کوئی حرکت یا فائر وغیرہ نہیں ہو رہا اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دشمن یہ علاقہ چھوڑ کر مشرق کی طرف پسپا ہوگیا ہے۔ اس پر کرنل سعید ایک پلاٹون کے ساتھ پانڈو گائوں میں گئے اور وہاں جا کر معلوم ہوا کہ انڈین فوج نے پانڈو گائوں میں تمام پوزیشن خالی کردی ہیں۔4FF نے آگے بڑھ کر گائوں میں دفاعی پوزیشن سنبھال لی۔ میجر آفریدی کی کمپنی پانڈو ٹاپ پر ہی رہی صرف اپنی دفاعی پوزیشن کو دشمن کے لحاظ سے ری ایڈجسٹ کرلیا۔
دشمن کی شکست کا نقطۂ عروج اس وقت منظر عام پر آیا جب دشمن کے کچھ فوجی اپنی دفاعی پوزیشن خالی کرکے سفیدہ جنگل کی طرف بھاگے تو محسود قبائل کے تقریباً100 لشکری اور آزاد یونٹ کے کچھ سپاہ نے اُن کا پیچھا کیا اور پھر اگلے 24 گھنٹے زیادہ تر خنجروں کے ساتھ دست بدست لڑائی میں اُن کا بہت زیادہ جانی نقصان کیا۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو بہت سے ہتھیار ایمونیشن اور دوسرا جنگی سامان لائے۔ 24 جولائی شام تک پانڈو ٹاپ، پانڈو گائوں آس پاس کے تمام ایریا اور کتھائی نالہ کے مغرب کا تمام علاقہ دشمن سے پاک ہو چکا تھا۔ اسی دن دوڈوگرہ کمپنیاں جو سنگ سے پانًڈو کی طرف مدد کے لیے آرہی تھیں، کندر کوزی جنگل کے راستے مشرق کی طرف فرار ہوگئیں۔
اختتامیہ 
اس معرکے (جہاد )میں ہمارا جانی نقصان تقریباً100 شہید اور زخمی تھے جن میں ایک آفیسر بھی شہید ہوا۔
دشمن کے ایک وائرلیس پیغام کے مطابق اُن کے 9 آفیسرز سمیت تقریباً300 سپاہی مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ سامانِ جنگ جو ہمارے ہاتھ لگا اُس میں125 رائفلز11- سٹین گنز7- لائٹ اورمیڈیم مشین گنز ، 2 مارٹرز ،1500 مارٹر بم اور 3,12000 چھوٹے ہتھیاروں کا ایمونیشن شامل ہے۔
پانڈو کی عظیم فتح ہمارے جانبازوں کی عدیم المثال قربانی، جہادی جذبے ، بہترین عسکری پلاننگ اور محدود وسائل کے عمدگی سے استعمال کی اعلیٰ مثال تھی۔یہ نہ صرف تدبیراتی لحاظ سے بلکہ تزویراتی لحاظ سے بھی ایک بڑی مثال تھی۔ اس کی وجہ سے اوڑی (اب بھارتی مقبوضہ کشمیر میںہے) سے چناری تک تقریباً 25 کلو میٹر کا علاقہ جس میں سے 16 کلومیٹر کا علاقہ جو دشمن کے پاس ہے براہِ راست ہماری آبزرویشن میں آگئے تھے۔ پانڈو میں دشمن کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بہت بڑے علاقے سے اُس کو ہاتھ دھونا پڑے۔ جنگ کشمیر کے بارے میں بھارتی کتابDefending Kashmirمیں پورے پانڈو آپریشن کو صرف ایک فقرے میں بیان کیاگیا ہے : Pakistan launched a counter attack at Pandu and re-captured it.