اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:37
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements

ہلال اردو

خطبہ الہ آباد سے قرارداد پاکستان تک 

مارچ 2023

21 اپریل 1938 کو مصور پاکستان علامہ اقبال تو دنیا سے رخصت ہو گئے مگر قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے دیے ہوئے آزاد اسلامی ریاست کے تصور کی عملی تعبیر کے لیے جدوجہد جاری رکھی اور ان کے ولولہ انگیز قیادت کی بدولت بالآخر وہ دن آگیا جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قرارداد لاہور جسے قرار داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے منظور کی گئی جو دو قومی نظریہ کا منطقی نتیجہ اور قیام پاکستان کی منزل کا آخری سنگ میل ثابت ہوئی۔



1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے ساتھ ہی برصغیرپر انگریزوں کا اقتدار مکمل طور پر قائم ہوگیااور ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں پر بہیمانہ ظلم و ستم کا ایک نیا دور شروع ہوا اورظلم کی ایسی داستانین رقم ہوئیں کہ جنہیں سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے ظلم وستم کا ہر حربہ استعمال کیا مگر وہ کبھی مسلمانوں کے جذبہ حریت کو مات نہ دے سکے۔مسلمانوں نے اپنی روایتی رواداری کی بنا پر ہندوئوں کیساتھ مل کر،برطانوی حکمرانوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنا چاہی اور اسی لیے مسلم رہنما ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کی بات کرتے رہے۔قائد اعظم محمد علی جناح سمیت بڑے بڑے مسلم رہنمائوں کی کانگریس میں شمولیت اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے ان کی مسلسل کوششیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ ہندوئوں نے مسلمانوں کی اس رواداری اور خلوص کا جواب ہمیشہ بغض، عناد،مکاری، سازش اور ہر موقع پر نقصان پہنچانے کی حکمت عملی سے دیا۔ نہرو رپورٹ ہندوئوں کی مسلم دشمنی کا نقطہ عروج ثابت ہوئی جس نے مسلم رہنمائوں کی آنکھیں کھول دیں اور ان پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ ہندو مسلم اتحاد کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ 
نہرو رپورٹ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سائمن کمیشن کی ناکامی کے بعد ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی۔اس آل پارٹیز کانفرنس میں موتی لعل نہرو کی سربراہی میں ایک نو رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔کمیٹی کا مقصد ہندوستان کے لیے ہندوستانیوں کے ذریعے ایک ایسے آئینی ڈھانچے کو تشکیل دینا تھا جو ہندوستان میں آباد تمام قومیتوں کے لیے قابل قبول ہو یا جس کو کم از کم کانفرنس میں شریک تمام پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو۔ اس کمیٹی نے جو آئینی رپورٹ تیار کی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں اسے نہرو رپورٹ کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کے کسی قسم کے حقوق کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا۔ جن شقوں سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں
•   جداگانہ طریقہ انتخابات کو منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا۔ 
•     ہندوستان کے لیے وفاقی طرز حکومت کی بجائے وحدانی طرز حکومت کی سفارش کی گئی۔
•    مکمل آزادی کی بجائے نوآبادیاتی طرز آزادی کے لیے کہا گیا۔
•     ہندی کو ہندوستان کی سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پیش رفت میں جوں جوں کانگرسی پنڈت اور ہندو مہا سبا کے انتہا پسند ہندو تنگ نظر ہوتے گئے، بالکل اسی مناسبت اور رفتار سے مسلم لیگی لیڈر شپ کی سیاسی بصرت میں وسعت پیدا ہوتی گئی۔ اور یوں کانگرس اور مسلم لیگ کے درمیان لڑا جانے والا سیاسی کھیل عمل اور ردعمل کے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور اس رپورٹ نے ہندو مسلم اتحاد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
قائد اعظم محمد علی جناح جو ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست علمبردار تھے۔ نہرو رپورٹ سے انہیں بھی اس بات کا شدید احساس ہوگیا کہ ہندو قوم کی نیت نیک نہیں  اور مسلمانوں کو اپنی آزادی کے لیے الگ سے جدوجہد کرنی ہوگی۔چنانچہ وہ بھی مخلوط انتخاب کی حمایت سے دستبردار ہوکر جداگانہ انتخاب کی طرف آگئے۔ مسلمانوں کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ"مجھے جوانی میں شکاری کتے پالنے کا بہت شوق تھا مگر میں نے کسی شکاری کتے کو خرگوش کے ساتھ ایسا سلوک کرتے نہیں دیکھا جیسا نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا ہے"مولانا محمد علی جوہر،مولانا شوکت علی اور دیگر متعدد بڑے مسلم رہنمائوں نے فوری طور پر کانگرس کو خیرباد کہہ دیا۔
یہاں ایک نکتہ انتہائی قابل غور ہے اور ہمیں مصور پاکستان،حکیم الامت اور دانائے راز علامہ محمد اقبال کے فہم و فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ جس حقیقت کو قائداعظم سمیت دیگر مسلم رہنمائوں نے 1928 میں سمجھا اسے علامہ اقبال بہت پہلے 1907 ہی میں جان گئے تھے۔ 1907 میں وہ ہندو مسلم اتحاد کی خیالی جنت سے نکل کر دو قومی نظریے کی ضرورت و اہمیت کو جان چکے تھے اور ان کا1905 سے پہلے کا لکھا ہوا "ہندوستانی بچوں کا گیت" تبدیل ہو کر اب "ملی ترانہ" بن چکا تھا اور "ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا" کے نغمے گانے والا اقبال اب "مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا" کے گیت الاپنے لگا تھا۔ علامہ اقبال کے دیدہ بینا نے دیکھ لیا تھا کہ نہ ہندو مسلم اتحاد ممکن ہے اور نہ ہی یہ وقت کی ضرورت ہے اور بالفرض اگر یہ اتحاد ہو بھی جاتا ہے تو یہ مسلمانوں کی سیاسی موت کے مترادف ہوگا اور آخرکار مسلمانوں کی مستقل غلامی پر منتج ہوگا۔لہٰذا 1907 کے بعد ہی سے علامہ اقبال نے ہندو مسلم اتحاد کی ہر کوشش سے اپنا راستہ جدا کر لیا تھا اور اب نہرو رپورٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور وہ مضبوطی سے دو قومی نظریے پر ڈٹ گئے اور ان کے قلب و ذہن میں مسلم قوم کے لیے الگ خطے کے خدوخال نمایاں ہونے لگے اور ان کے یہی خیالات آخرکار 1930 میں ان کے خطبہ ا لہٰ آباد میں ایک آزاد اسلامی ریاست کی تجویز کی شکل اختیار کر گئے۔ہند میں مسلمانوں کے جائز حقوق اور مفادات کا مسئلہ علامہ اقبال کے ذہن میں خصوصی اہمیت اختیار کر چکا تھا اور وہ اپنی حیات مستعار کی آخری سانسوں تک اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں رہے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1930 کو الہٰ آباد میں اپنا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس میں ہند کے درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے کے علاوہ مسلم قومیت اور ہندی قومیت کے تصورات کا عالمانہ تجزیہ کیا اور ہندوستان میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا تصور پیش کیا۔ یہ خطبہ اقبال کی سیاسی بصیرت اور تدبر اور ان کی فکر و نظر کا آئینہ دار ہے۔حکیم الامت نے اپنے خطبے میں کہا ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں،ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہزار سال میں اپنی الگ حیثیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ہم میں یک جہتی کی فضا اس لیے قائم نہیں ہو سکی کہ یہاں ایک دوسرے کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح فریق مقابل پر غلبہ اور تسلط حاصل کیا جائے۔ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ تنہا ایک ملک میں سات کروڑ فرزندان توحید کی جماعت کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس مقصد کے لیے ایک مرکز قائم کرنا ہو گا۔میں یہ چاہتا ہوں کہ صوبہ پنجاب،صوبہ شمال مغربی سرحد،سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی شکل دی جائے یہ ریاست برطانوی ہند کے اندر اپنی حکومت خوداختیاری حاصل کرے خواہ اس کے باہر۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی"۔
ہندوستان میں آئینی اصلاحات کے لیے لندن میں 1930 ،1931 اور 1932 میں تین گول میز کانفرنسیں بلوائی گئیں۔ان کانفرنسوں میں علامہ اقبال اور قائداعظم سمیت کانگرس،مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں اور فرقوں کے سر کردہ رہنمائوں نے شرکت کی۔کانگرسی رہنماؤں کی شدید ہٹ دھرمی کے باعث یہ کانفرنسیں آئینی اصلاحات،اقلیتوں کے مسئلے اور مسلمانوں کے حقوق کے مطالبات بالخصوص جداگانہ انتخابات کے مطالبے کے حوالے سے کسی خاص نتیجے اورسمجھوتے پر نہ پہنچ سکیں۔
اس اثنا میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ہندوستان کے مستقبل اور سیاستدانوں سے مایوس ہو کر مستقل طور پر لندن میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔1935 میں نیا انڈیا ایکٹ جاری کیا گیا جس نے  پہلے مرحلے میں ہندی صوبوں کو کچھ خودمختاری عطا کی اور بعد ازاں دوسرے مرحلے میں مرکز میں کسی حد تک ذمہ دار حکومت کے قیام کی پیش بینی کی۔ہندی مسلمانوں کے لیے یہ وقت زبردست انتشار اور بدنظمی کا تھا۔ علامہ اقبال نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے لندن میں  قائد اعظم سے ملاقاتیں کرکے انہیں ہندوستان واپس آ کر کاروانِ ملت یعنی مسلم لیگ کی قیادت کے لیے آمادہ کرلیا۔لہٰذا ایسے کڑے وقت میں قائداعظم نے اس مشکل کام کا بیڑا اٹھایا اور مسلم لیگ کو جمہوری جماعت بنانے اور پارلیمانی بورڈ تشکیل دے کر عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں1936میں  وہ پنجاب آئے مگر پنجاب یونینسٹ پارٹی کے بانی میاں سر فضل حسین اور بعض دوسرے مسلمان رہنمائوں نے ان سے تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا۔پھر قائد اعظم جاوید منزل میں علامہ اقبال کے پاس آئے علامہ اقبال نے بصد خلوص قائداعظم کا ساتھ دینے کا عہد کیا اور اس عہد کو اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک نبھایا۔
قائداعظم نے صوبائی انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کا آغاز کیا  تو علامہ اقبال نے ان کا پورا پورا ساتھ دیا اور مسلمانوں کی مختلف جماعتوں اور مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے مابین مکمل اتحاد قائم کروانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔قائداعظم کی افہام و تفہیم کوششوں سے علامہ اقبال کی وفات سے تین دن قبل کلکتہ میں مسلم لیگ کے اجلاس کے موقع پر پنجاب کے مسلم قائدین کے مابین مکمل اتحاد قائم ہو گیا جو آزادی کی تحریک کے لیے انتہائی نیک شگون ثابت ہوا۔21 اپریل 1938 کو مصور پاکستان علامہ اقبال تو دنیا سے رخصت ہو گئے مگر قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے دیے ہوئے آزاد اسلامی ریاست کے تصور کی عملی تعبیر کے لیے جدوجہد جاری رکھی اور ان کے ولولہ انگیز قیادت کی بدولت بالآخر وہ دن آگیا جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قرارداد لاہور جسے قرار داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے منظور کی گئی جو دو قومی نظریہ کا منطقی نتیجہ اور قیام پاکستان کی منزل کا آخری سنگ میل ثابت ہوئی۔اس قرارداد میں مسلم لیگ نے صاف لفظوں میں ہندوستان میں آزاد اور خودمختار مسلم مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس تاریخی اجلاس میں قائداعظم نے اپنے صدارتی خطاب میں دوٹوک لفظوں میں مسلمانوں کا یہ اٹل فیصلہ سنایا کہ مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ہندوستان کے مغرب اور مشرق میں اسلامی ریاستیں قائم کی جائیں۔
یہ ایک خوشگوار اور حیرت انگیز امر ہے کہ قائداعظم مسلم لیگ نے یہ مطالبہ 1940 میں کیا مگر مفکر اسلام اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال  نے1930 میں اپنے خطبہ ا لہٰ آباد میں شمال مغربی ہندوستان میں ایک اسلامی مملکت کے قیام کو ایک اٹل حقیقت قرار دے دیا تھا۔ دسمبر 1930 میں انہوں نے مستقبل کے دھندلکوں میں جس آزاد اسلامی مملکت کو دیکھا تھا، وہ اپنی وفات تک دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے اس آزاد مسلم ریاست کے قیام پر مسلسل زور دیتے دکھائی دیتے ہیں اور 1937میں اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل تو وہ شدت سے محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ آزاد مسلم ریاست  یا ریاستوں کے مطالبے کا وقت آگیا ہے۔ان کے متعدد خطوط تقاریر اور بیانات اس پر شاہد ہیں۔وہ قائد اعظم کی توجہ بار بار اس جانب مبذول کرواتے ہیں۔قائداعظم نے "اقبال کے خطوط جناح کے نام" کے دیباچے میں خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے اور میرے خیالات میں بہت حد تک ہم آہنگی تھی۔ہندوستان کو درپیش دستوری مسائل کے گہرے تجزیے اور مطالعہ پر ان کے خیالات نے بالآخر مجھے انہی نتائج پر پہنچا دیا جن پر وہ خود پہنچے تھے۔انہی خیالات کا اظہار مسلمانان ہند کے متحدہ مطالبہ کے طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی قرارداد لاہور میں، جو عام طور پر قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہے،کیا گیا۔
 قائد اعظم کے نام علامہ اقبال کے خطوط کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ دلچسپ اور خوشگوار احساس بار بار دامن گیر ہوتا ہے کہ جیسے وہ مسلسل قائد اعظم کی رہنمائی کر رہے ہیں اور انہیں قرار دار پاکستان پیش کرنے اور اس کی روشنی میں قیام پاکستان کی جدوجہد میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے اور آزادی کی تحریک تیز تر کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔20 مارچ 1937 کے ایک خط میں وہ قائداعظم کو لکھتے ہیں کہ    آپ دہلی میں فوراً آل انڈیا مسلم کنونشن کا انعقاد کریں جس میں تمام صوبائی اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان اور عام مسلمان سیاسی لیڈروں کو مدعو کریں۔اس میں آپ پوری قوت اور واشگاف طور پر ہندوستانی مسلمانوں کا سیاسی نصب العین واضح کر دیں کہ وہ ملک میں ایک جداگانہ  سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔ہندوستان اور بیرون ملک یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان کو محض اقتصادی مسئلہ درپیش نہیں ،ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اسلامی نقطہ نظر سے تہذیبی ورثے کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے بلکہ یہ اقتصادی مسئلے سے کم اہم نہیں۔اسی طرح 28 مئی 1937 کو وہ قائد اعظم کے نام  اپنے ایک انتہائی اہم خط میں رقم طراز ہیں کہ 
''اس ملک میں جب تک ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں وجود میں نہ آئیں اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں۔۔۔۔ مسائل حاضرہ کا حل مسلمانوں کے لیے ہندوئوں سے کہیں زیادہ آسان ہے لیکن جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں کہ مسلمانان ہند کے ان مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہو سکے گا جبکہ ملک کی ازسر نو تقسیم کی جائے اور ایک یا زائد مسلم ریاستیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہو وجود میں لائی جائیں۔ کیا آپ کے خیال میں اس مطالبے کا وقت نہیں آن پہنچا۔
علامہ اقبال21 جون 1937 کو ایک بار پھر قائداعظم کو لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں امن و امان قائم کرنے اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے تسلط سے بچانے کی واحد ترکیب یہی ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ مسلم صوبوں کی علیحدہ فیڈریشن قائم کی جائے۔ کیا وجہ ہے کہ شمال مغربی ہندوستان اور بنگال کے مسلمانوں کو علیحدہ قوم تصور نہ کیا جائے جنہیں ہند اور بیرونِ ہند کی دوسری اقوام کی طرح حق خوداختیاری حاصل ہو۔
یہ بات بھی انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز ہے کہ قائد اعظم کے نام اپنے خطوط میں اقبال بار بار انہیں لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں اور یہاں اجلاس منعقد کرنے پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً وہ 11اگست1937 کے ایک خط میں قائداعظم کو لکھتے ہیں کہ ''مجھے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ لاہور میںلیگ کا اجلاس بلانا لیگ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا"۔ 
اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ قدرت کو یہی منظور تھا اور یہی ہوا کہ قائد اعظم نے علامہ اقبال کی خواہشات،ہدایات اور مشوروں کو مد نظر رکھتے ہوئے 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس بلایا جو واقعی برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی اور ملی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور آزادی کے سفر کو تیز تر کرنے اور آزادی کی منزل کو قریب تر لانے میں اہم ترین اور انقلاب آفرین اجلاس قرار پایا۔ اس تاریخی اجلاس میں شیر بنگال مولوی فضل الحق نے   تاریخی "قرارداد پاکستان" پیش کی کہ
    ''ہندوستان کے آئینی مستقبل سے متعلق مسلمانوں کو وہی تجویز قابل قبول ہو گی جس کے تحت صوبائی سرحدوں میں ضروری ردوبدل کر کے ملک کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ ان علاقوں میں آزاد ریاستیں قائم ہو سکیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے یعنی ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی خطے"۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے صدارتی خطاب میں مسلمانوں کا دو ٹوک فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلمان قومیت کی ہر تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں۔ان کے لیے ایک علاقہ اور وطن ہونا چاہیے۔ ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس مسئلے کو بین الاقوامی سمجھ کر حل کرنا چاہیے۔ مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو الگ قومیں ہیں۔ان کا اکٹھا رہنا ایک تباہی کا پیش خیمہ ہو گا۔لہٰذا مسلمانوں کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ہندوستان کے مغرب اور مشرق میں دو اسلامی ریاستیں قائم کی جائیں۔
مسلم لیگ کے اس تاریخی جلسے میں یہ تاریخی "قرارداد پاکستان" کامل اتفاق سے منظور کی گئی۔یہاں یہ بات انتہائی قابل توجہ، قابل غور اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ قرارداد منظور ہونے کے بعد قائداعظم نے اپنے سیکرٹری ایچ۔ایم سید سے فرمایا کہ آج اقبال زندہ نہیں ہیں،اگر وہ زندہ ہوتے تو انہیں خوشی ہوتی کہ ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی۔ 
قرارداد پاکستان نے برصغیر کے مسلمانوں کے جذبہ آزادی کے لیے مہمیز کا کام کیا،ان میں جوش و جذبے کی ایک نئی روح پھونک دی اور وہ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں آزادی کی منزل پانے کے لیے دیوانہ وار میدان عمل میں نکل آئے۔مسلمانوں کی صبر آزما جدوجہد، لاکھوں قربانیوں اور قائداعظم کی مدبرانہ اور ان تھک قیادت کی بدولت،آخرکاریہی قرارداد پاکستان 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے آزاد وطن پاکستان کا روپ دھار گئی۔آج ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کی آزاد فضائوں میں سانس لے رہے ہیں اور باوقار زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہمیں اپنے اس عظیم وطن کی فلاح و بقا،تعمیر و ترقی اور دفاع کے راستے میں "یقین محکم" "عمل پیہم" اور "محبت فاتح عالم"کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے تن، من، دھن قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔بزرگوں کی لاکھوں قربانیوں کا قرض اتارنے اور علامہ اقبال اور قائد اعظم کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرنے کا یہی واحد اور بہترین طریقہ ہے۔
مضمون نگار ایک معروف ماہر تعلیم ہیں۔ اقبالیات اور پاکستانیات سے متعلق امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ||


[email protected]

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements