اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:16
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

بھارت میں مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار

دسمبر 2022

آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی نے اپنے قیام کے فوراً بعد اپنا منشور جاری کیا جس میں یہ نکات سر فہرست تھے ، غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ، بھارتی مسلمانوں کے عائلی قوانین کا خاتمہ کر کے مشترکہ سول کوڈ کا نفاذ ، بابری مسجد کا انہدام اور اسکی جگہ رام مندر کی تعمیر اور دہلی اقلیتی کمیشن ختم کر کے نام نہاد ہیومن رائٹس کمیشن کا قیام۔ 5 اگست 2019 میں زیر قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے سنگھ پریوار نے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے بعد اپنی توجہ ایجنڈے کے دیگر نکات پر مرکوز کر لی۔


15 اگست 1947 میں اپنی آزادی کے بعد سے  بھارت نے خاصے طویل عرصے تک بڑی کامیابی سے دنیا کو یہ تاثر دیئے رکھا کہ اس کے ہاں تمام طبقات اور شہریوں کو مساوی انسانی حقوق میسر ہیں اور اگر کہیں کسی اقلیت کیخلاف امتیازی سلوک کا کوئی واقعہ پیش آتا بھی ہے تو اس کی توعیت سراسر انفرادی ہوتی ہے اور ایسے متشدد ہندو عناصر کو حکومت یا اداروں کی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی، عالمی برادری کا ایک حلقہ بھی ان بھارتی دعوؤں پر آنکھیں بند کر کے بڑی حد تک یقین کرتا رہا مگر یہ امر خوش آئند ہے کہ اب دنیا بھر میں بھارتی اقلیتوں کی حالت زار پر کھل کر بات کی جانے لگی ہے۔ سنجیدہ حلقوں کی رائے میں یہ عین ممکن ہے کہ بھارت کی آزادی کے ابتدائی برسوں میں شاید دہلی کے حکمرانوں نے ان انتہا پسند عناصر کی سرکاری سطح پر سرپرستی نہ کی ہو لیکن اگر ایسا ہوا بھی تو یہ کانگرس نے انسانیت سے محبت میں نہیں بلکہ سراسر اپنے سیاسی مفادات کے لیے کیا۔ اب تو بھارت میں گذشتہ 8 برسوں سے ہندو نیشنل ازم کا عفریت ہر چیز کو نگلنے پر آمادہ نظر آتا ہے اور خود بھارتی میڈیا اور سول سوسائٹی کے اعتدال پسند عناصر اس ''نیشنل ازم'' کو '' زعفرانی انتہا پسندی'' قرار دینے لگے ہیں۔ غیر جانبدار حلقوں کی رائے ہے کہ بھارت میں '' ہندوتوا ذہنیت'' کی تاریخ خاصی پرانی ہے مگر بیرونی دنیا کو اس کا احساس تب ہونا شروع ہوا جب مئی 1996 میں گیارہویں لوک سبھا کے نتائج سامنے آئے جن میں بی جے پی نے محض سادہ اکثریت حاصل نہیں کی بلکہ بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت اختیار کر لی۔ اگرچہ ان انتخابات کے بعد واجپائی سرکار محض 13 دنوں کیلئے ہی اقتدار میں رہ پائی مگر ''رام راجیہ'' کے قیام کے یہ حامی 1998 کے وسط میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اب 2014 کے بعد سے تو نریندر مودی اور موہن بھاگوت کی سربراہی میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی دنیا کی 17.7 فیصد آبادی پر بلا شرکت غیرے حکومت کر رہی ہیں۔ 
رام راجیے کے قیام کا خواب 
آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی نے اپنے قیام کے فوراً بعد اپنا منشور جاری کیا جس میں یہ نکات سر فہرست تھے ، غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ، بھارتی مسلمانوں کے عائلی قوانین کا خاتمہ کر کے مشترکہ سول کوڈ کا نفاذ ، بابری مسجد کا انہدام اور اسکی جگہ رام مندر کی تعمیر اور دہلی اقلیتی کمیشن ختم کر کے نام نہاد ہیومن رائٹس کمیشن کا قیام۔ 5 اگست 2019 میں زیر قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے سنگھ پریوار نے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے بعد اپنی توجہ ایجنڈے کے دیگر نکات پر مرکوز کر لی۔ متنازع شہریت ترمیمی بل ، لو جہاد ایکٹ ، گئو رکھشا ایکٹ اور تین طلاق بل کو مودی سرکار نے بھارتی پارلیمان سے منظور کرا لیا، یوں ان اقدامات سے زعفرانی انتہا پسند حلقوں کو یہ گمان ہونا شروع ہو گیا ہے کہ واقعی '' رام راجیے'' اور '' اکھنڈ بھارت'' کا قیام ممکن ہے ، اور اب سنگھ پریوار کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اپنے قیام کی 100 ویں سالگرہ یعنی 2025 تک کسی طور بھارت کی برائے نام سیکولر حیثیت بھی ختم کر کے انڈیا کو ہندو ریاست قرار دے دیں۔ 


آر ایس ایس مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کے ذریعے بھارت میں بسنے والے تمام افراد کو '' سناتن دھرم'' کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی صورت میں تمام اقلیتوں کو ہندوئوں کے طرزِ زندگی کی مطابقت سے ہی جینا ہوگا۔ ذاتی زندگی، جائیداد کی ملکیت، وراثت کی منتقلی، شادی بیاہ، طلاق غرضیکہ تمام معاملاتِ زندگی انھی قوانین کے مطابق انجام دیئے جائیں گے جو سنگھ پریوار کی منشا ہو نگے۔


مشترکہ سول کوڈ کیا ہے؟
 سبھی جانتے ہیں کہ بھارت میں 79.8 فیصد آبادی ہندومت کی پیروکار ہے جبکہ مسلمان 14.2 اور عیسائی تقریباً اڑھائی فیصد ہیں۔ ابھی تک ان اقلیتوں کی رسوم و روایات اور عائلی قوانین انکے مذاہب کے مطابق ہیں، مسلمان شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں جبکہ عیسائیوں کا اپنا طرزِ زندگی ہے۔ آر ایس ایس مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کے ذریعے بھارت میں بسنے والے تمام افراد کو '' سناتن دھرم'' کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی صورت میں تمام اقلیتوں کو ہندوئوں کے طرزِ زندگی کی مطابقت سے ہی جینا ہوگا۔ ذاتی زندگی، جائیداد کی ملکیت، وراثت کی منتقلی، شادی بیاہ، طلاق غرضیکہ تمام معاملاتِ زندگی انھی قوانین کے مطابق انجام دیئے جائیں گے جو سنگھ پریوار کی منشا ہو نگے۔ یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ برطانوی ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے عائلی قوانین سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی کیونکہ مسلمانوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ دین اسلام میں بتایا گیا ہے، شرعی قوانین کے تحت ہی مسلم برادری میں زندگی گزاری جاتی ہے۔ بھارت میں مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی صورت میں مودی سرکار یہ طے کرے گی کہ ذاتی سطح پر مسلمان اور عیسائی کیسے جئیں گے؟ جائیداد کی تقسیم اور وراثت کی منتقلی کیسے کی جائے گی؟ انھیں کتنی شادیاں کرنے کی اجازت ہو گی؟ شادی کے بندھن میں بندھنے کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ علیحدگی کی صورت میں طلاق کیسے ہو گی؟ مبصرین کے مطابق سنگھ پریوار کی جبر و استبدایت کی یہ روش بھارت کو بدترین خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتی ہے ۔
 یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کو ہندو ریاست قرار دینا اور یکساں شہری ضابطے کا ایجنڈہ آر ایس ایس کا دیرینہ خواب ہے، اٹل بہاری واجپائی 1998 میں بھارتی وزیراعظم بنے لیکن 1999میں جے للتا کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں انکی حکومت چلی گئی جس کے فوراً بعد مڈ ٹرم الیکشن کے نتیجے میں دوبارہ بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی اور 2004 کے وسط تک واجپائی بھارت کے وزیراعظم رہے ، ان کے کندھوں پر آر ایس ایس نے یکساں شہری ضابطے کے نفاذ کی ذمہ داری ڈالی مگر مخلوط حکومت اور اتحادی جماعتوں کی مخالفت کے باعث وہ اس جانب ٹھوس پیشرفت نہ کر پائے۔ 2014 اور پھر 2019 میں چونکہ مودی واضح اکثریت سے برسراقتدار آنے میں کامیاب رہے اس لیے آر ایس ایس نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے قانون سازیاں شروع کر دی ہیں۔ مشترکہ سول کوڈ کے لیے ہی متنازع شہریت ترمیمی بل، گئو رکھشا، تین طلاق اور لو جہاد جیسے کالے قوانین کی منظوری دی گئی یوں یہ قانون سازیاں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جانب بتدریج پیشرفت ہے ۔ 
نفاذ کی جانب پیشرفت 
بھارت میں ان دنوں ہماچل پردیش اور گجرات کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سرخیوں میں ہیں اور بی جے پی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ہماچل پردیش میں برسراقتدار آنے کی صورت میں 5 سالہ مدت میں ریاست میں مشترکہ سول کوڈ نافذ کر دیا جائیگا۔ گجرات سرکار نے بھی جیت کی صورت میں عائلی قوانین کے خاتمے کی جانب ٹھوس پیشرفت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ بھی یونیفارم سول کوڈ پر ہوم ورک کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے چکے ہیں، لگ بھگ دو ہفتے قبل یو پی کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرشاد موریہ نے بیان دیا کہ مشترکہ کوڈ کا نفاذ بھارت میں وقت کی ضرورت بن چکا ہے کیونکہ ماضی کی سرکاروں ( کانگرس، سماجوادی پارٹی) نے کچھ طبقات ( مسلمانوں، عیسائیوں) کیلئے نرم گوشہ رکھا اور اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا۔ اترکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی دوبارہ انتخابات جیتتے ہی سب سے پہلا کام یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا کیا، اس سب صورتحال میں یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ متعدد ہندو انتہا پسند حلقے بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے  کے لیے اتنے بے قرار ہیں کہ انکا مطالبہ ہے کہ مودی سرکار کو فی الفور لوک سبھا میں اس حوالے سے آئینی بل پیش کرنا چاہیے لیکن آر ایس ایس کے اعلیٰ حکام کو بھی اس معاملے کی سنگینی اور نزاکت کا کسی قدر احساس ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسی کسی پیشرفت کی صورت میں بھارت کے طول و عرض سے شدید ردعمل سامنے آئے گا جو دیکھتے ہی دیکھتے خانہ جنگی کی صورتحال اختیار کر سکتا ہے ۔ 


آر ایس ایس کے اس '' الٹرا نیشنل ازم'' کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء کا خطہ بالعموم اور بھارت بالخصوص عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونگے۔ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تو کشمیری عوام پہلے ہی بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں، اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنا انسانی اور اخلاقی فریضہ نبھاتے ہوئے بھارتی اقلیتوں کی مددکے لیے آگے آنا ہو گا۔


مرکز سے پہلے صوبوں میں نافذ کرنے کا فیصلہ 
بھارت میں مسلمانوں کے ''پرسنل لائ'' (عائلی قوانین) کے خاتمے کیلئے آر ایس ایس پورا زور لگا رہی ہے ، اسی تناظر میں اس یکساں شہری ضابطے کے قانون کے مسودے پر تیزی سے ہوم ورک ہو رہا ہے ، بی جے پی مناسب موقع آتے ہی اسے بھارتی پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کر سکتی ہے لیکن مودی سرکار بخوبی واقف ہے کہ لوک سبھا سے یکساں شہری ضابطے کا بل پاس ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں اٹک جائے گا کیونکہ اگر مودی سرکار ایسا کوئی قانون سامنے لے کر آئے تو مغربی بنگال میں حکومت کر رہی ترنمول کانگرس، بہار کی جنتا دل یونائیٹڈ ، تامل ناڈو کی ڈی ایم کے، کیرالہ کی کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ، آندھرا پردیش کی وائی ایس آر کانگرس، تلنگانہ کی تلنگانہ راشٹریے سمتی اور دہلی و پنجاب میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی تو اسکی سخت مخالفت کریں گی ہی ، راجستھان، جھاکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی کانگرس اتحاد والی صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی اس کا نفاذ روکنے کیلئے حتی المقدور کوشش کی جائیگی۔ فی الحال بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتراکھنڈ، گجرات ، اترپردیش اور ہماچل پردیش میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ ان ریاستوں میں ایسا کر کے بھارتی مسلمانوں اور عیسائیوں کے ردعمل کو بھانپا جائے مگربھارت کے اعتدال پسند حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر مودی سرکار اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑی رہتی ہے تو ہندوستان میں سیاسی عدم استحکام خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ 
یکساں سول کوڈ لاگو ہونے کے بعد کا ممکنہ منظر نامہ 
مندرجہ بالا تجزیے سے یہ بات تو عیاں ہے کہ جلد یا بدیر آر ایس ایس پورے بھارت میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے بھارت ، جنوبی ایشیاء اور عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ بھارت میں سنگھ پریوار اور اس کے نظریاتی حامیوں کی روش اتنی واضح ہے کہ خود بھارت کے اکثر اعتدال پسند حلقے تسلیم کرتے ہیں کہ سنگھ پریوار کے حامی ہٹلر کے نازی ازم کو اپنے لیے آئیڈیل لائحہ عمل مانتے ہیں اور خود بھارت کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھنا چاہتے ہیں جس قسم کا رویہ جرمنی میں مقیم یہودیوں کیساتھ ہٹلر کا تھا۔ اس سے ایک جانب یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کی حکمت عملی بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی بابت کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سنگھ پریوار کے ہندو ریاست کے قیام کے حوالے سے عزائم بھی پوری طرح عیاں ہو جاتے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ آر ایس ایس اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل میں مستقبل قریب میں کامیاب ہو جائے گی اور بھارت میں اقلیتوں کے عائلی قوانین کے خاتمے کے بعد یکساں شہری ضابطہ نافذ ہو جائیگا۔ اس تناظر میں آل انڈیا مسلم بورڈ نے چند ماہ قبل خط لکھ کر مودی سرکار کو خبردار کیا تھا کہ وہ مشترکہ سول کوڈ کے کی مہم جوئی سے باز رہے کیونکہ یہ صورتحال بھارتی مسلمانوں کو کسی صورت قبول نہیں ، بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بی جے پی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ منافرت پھیلانے کی روش ترک کر کے پرسنل لاز ختم کر نے کا راگ الاپنے کے بجائے غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے کاوشیں کرے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ آر ایس ایس کے اس '' الٹرا نیشنل ازم'' کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء کا خطہ بالعموم اور بھارت بالخصوص عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونگے۔ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تو کشمیری عوام پہلے ہی بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں، اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنا انسانی اور اخلاقی فریضہ نبھاتے ہوئے بھارتی اقلیتوں کی مددکے لیے آگے آنا ہو گا۔ ||


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]