اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:25
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

قومی سکیورٹی کا استحکام اور داخلی چیلنجز

دسمبر 2022

پاکستان کی ریاست ، حکومت ، حزب اختلاف اور اہل علم و دانش کی مدد سے تیار کی جانے والی '' قومی سکیورٹی پالیسی '' کا دستاویز ایک اہم بڑی کوشش تھی ۔ اسی اہم قومی سکیورٹی پالیسی کے دستاویز پر قومی اتفاق رائے کو بھی ممکن بنایا گیا او ریہ عمل مختلف فریقین کے درمیان مشاورت کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا ۔اس نیشنل سکیورٹی پالیسی میں ہمیں چار بڑے نکات ملتے ہیں ۔ اول جیو معیشت اور جیوتعلقات کو بنیادی فوقیت دی گئی جس میں علاقائی ممالک سے تنازعات کا خاتمہ اور بہتر تعلقات او راس تعلق میں ریاستی مفاد سمیت معیشت کو اہمیت دی گئی۔


پاکستان کو محض سیاسی بحران کا ہی سامنا نہیں بلکہ ریاست کے محاذ پر کئی طرح کے داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے ۔کیونکہ آج کی گلوبل دنیا میں قومی مسائل کو کسی بھی سطح پر سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھا جاسکتا او ران معاملات کو علاقائی او رعالمی سطح کے چیلنجز کے ساتھ جوڑ کر ہی ہم پرکھ سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ایک عمومی رائے یہ موجود ہے کہ داخلی ریاست کا استحکام ہی علاقائی او رعالمی سطح پر ہمیں اپنے فیصلوں میں ایک مضبوط ریاست کے طور پر کھڑا کرتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست سے جڑے ماہرین اسی نقطہ پر فوقیت دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے داخلی سطح کے مسائل کے حل میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ایک اور بنیادی نقطہ یہ دیا جاتا ہے کہ معیشت کی ترقی بھی سیاسی استحکام کو مضبوط بنا کر ہی ممکن بنائی جاسکتی ہے ۔کچھ لوگ قومی سکیورٹی کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھتے ہیں جبکہ یہ مسئلہ محض انتظامی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک بڑا سیاسی مسئلہ ہے ۔کیونکہ اسی سیاسی مسئلہ کی بنیاد پر ہمیں اپنی قومی ترجیحات کا تعین کرنا ہوتا ہے اور طے کرنا ہوتا ہے کہ کون سے فیصلے ہم کو ریاستی سطح پر مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔
پاکستان کی ریاست ، حکومت ، حزب اختلاف اور اہل علم و دانش کی مدد سے تیار کی جانے والی '' قومی سکیورٹی پالیسی '' کا دستاویز ایک اہم بڑی کوشش تھی ۔ اسی اہم قومی سکیورٹی پالیسی کے دستاویز پر قومی اتفاق رائے کو بھی ممکن بنایا گیا او ریہ عمل مختلف فریقین کے درمیان مشاورت کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا ۔اس نیشنل سکیورٹی پالیسی میں ہمیں چار بڑے نکات ملتے ہیں ۔ اول جیو معیشت اور جیوتعلقات کو بنیادی فوقیت دی گئی جس میں علاقائی ممالک سے تنازعات کا خاتمہ اور بہتر تعلقات او راس تعلق میں ریاستی مفاد سمیت معیشت کو اہمیت دی گئی۔ دوئم برملا یہ اعتراف کیا گیا کہ ہم مستقبل میں دنیا کے ساتھ نہ تو کسی تنازعات کا حصہ بنیں گے او رنہ ہی کسی کی جنگ میں حصہ دار بنیں گے۔ہمارا کردار ملکوں کے درمیان تنازعات کا خاتمہ اور دوطرفہ تعاون کی بنیاد سے جڑا ہوگا۔ سوئم داخلی گورننس کی بہتری میں فوقیت دی جائے گی اور قومی سکیورٹی پالیسی کو قومی ترقی اور عام آدمی کے مفادات کو عملی سطح پر فوقیت کے ساتھ جوڑ کر فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بنایا جائے گا۔ چہارم ملک میں داخلی سطح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم قومی اداروں کو مستحکم کرنے ، قانون کی پاسداری کی بنیاد پر اصلاحاتی عمل کو فروغ دیں گے اور انتہا پسندی او ردہشت گردی سے نمٹ کر قومی ریاست کو عملی طور پر پرامن ریاست کے طو رپر پیش کریں گے ۔


ہمیں ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کی طرف بڑھنا ہوگا او ریہ اصلاحات کی بنیاد روائتی اور فرسودہ طریقوں پر نہیں بلکہ عالمی دنیا میں ہونے والی جدیدت کی بنیاد پر اصلاحات کو فوقیت دینی ہوگی اور تمام طاقت کے مراکز یا حکمران طبقات یا ادارہ جاتی عمل کو جوابدہی کے عمل میں لانا ہوگا۔


پاکستان کی قومی سکیورٹی پالیسی کا بننا ، اس پر اتفاق رائے کا ہونا بہت اہمیت کا عمل ہے او رخاص طو رپر پہلی بار اس پالیسی میں گورننس اور جیو  معیشت یا جیو تعلقات کو فوقیت دینا اہم پہلو ہے ۔لیکن بدقسمتی سے اس '' قومی سکیورٹی پالیسی '' کو فوقیت دینا اور اپنی سیاسی معاشی حکمت عملی کے ساتھ جوڑنے کے معاملات میں ہماری سیاسی ترجیحات میں کافی کمزوری کے پہلو نمایاں ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ قومی سیاست سے جڑے مسائل یا محاز آرائی یا ٹکراؤ کے کھیل میں قومی سکیورٹی پالیسی پر حکمت عملی یا عملدرآمد کا نظام پس پشت چلا گیا ہے اور محاذ آرائی یا ٹکراؤ کی پالیسی سے قومی ترجیحات کو غلط سمت دے دی گئی ہے ۔جو توجہ قومی سکیورٹی پالیسی سے جڑے معاملات پر دینی چاہیے تھی اس پر قومی سطح پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔اس میں قصور کسی ایک سیاسی یا غیر سیاسی فریق کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر تمام فریقین کسی نہ کسی شکل میں اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں ۔بنیادی مسئلہ ترجیحات کے تعین کا ہے ۔کیونکہ ہم نے اپنی قومی ترجیحات میں سیاست او راقتدار کے کھیل کو اس حد تک فوقیت دے دی ہے کہ باقی معاملات پر نظر انداز کی پالیسی غالب ہے ۔اس وقت اگر ہم دنیا میں اور علاقائی ممالک میں بھی اپنی تصویر کو دیکھیں تو ایک عمومی تصویر یہ نمایاں ہوتی ہے کہ پاکستان میں ٹکراؤ کی پالیسی کا غلبہ ہے اور فریقین ایک دوسرے پر سیاسی برتری کی عملی جنگ لڑررہے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان ہی قوتوں بالخصوص بھارت کو بھی ہورہا ہے جو ہماری داخلی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہم پر ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو قائم کیے ہوئے ہے ۔


 کوئی بھی ملک یا عالمی مالیاتی ادارے ایسے موقع میں سرمایہ کاری کرنے یا معاشی تعلقات کو بہتر بنانے سے گریز کرتے ہیں جہاں عملاً غیر یقینی صورتحال درپیش ہوتی ہو اور وہاں کل کا کچھ معلوم نہ ہو ۔اس لیے مسئلہ محض عالمی ممالک یا غیر ملکی اداروں کا نہیں بلکہ خود ہماری داخلی سطح کے چیلنجز کا بھی ہے جو ہمیں آگے بڑھنے میں روکتے ہیں ۔


امید تھی کہ قومی سیاست سے جڑے فریقین میں سیاست او رمعیشت کے تناظرمیں کچھ بنیادی مفاہمت یا ایک ایسا روڈ میپ سامنے آسکے گا جو ہمیں مزید کسی محاز آرائی یا ٹکراؤ کی سیاست میں نہیں دکھیلے گا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور قومی سیاست اس وقت بھی ٹکراؤ کے منظر میں ہے اور اس کا علاج کسی ایک فریق کو نہیں بلکہ سب کو ہی مل کر تلاش کرنا ہوگا۔سیاست او رجمہوریت کی خوبی مسائل کے حل کی تلاش ہوتی ہے اور خودکو مسائل سے دور رکھنا یا مسائل کے خاتمہ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ مگر مسائل کے حل کی بجائے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنارہے ہیں اور اس کا ممکنہ حل اسی صورت میں سامنے آئے گا جب ہم سب اپنی اپنی ذات یا انا پرستی سے باہر نکلیں اور معاملات کو ریاست یا معاشرے کے مفاد کی بنیاد پر دیکھنے کی پہل کریں ۔ایک ایسے موقع پر جب ملک کی معیشت سب سے زیادہ فکری مندی پیدا کرتی ہے اور جو معاشی ریٹنگ ہماری دنیا میں بن رہی ہے وہ خود ایک بڑا چیلنج ہے ۔
 کوئی بھی ملک یا عالمی مالیاتی ادارے ایسے موقع میں سرمایہ کاری کرنے یا معاشی تعلقات کو بہتر بنانے سے گریز کرتے ہیں جہاں عملاً غیر یقینی صورتحال درپیش ہوتی ہو اور وہاں کل کا کچھ معلوم نہ ہو ۔اس لیے مسئلہ محض عالمی ممالک یا غیر ملکی اداروں کا نہیں بلکہ خود ہماری داخلی سطح کے چیلنجز کا بھی ہے جو ہمیں آگے بڑھنے میں روکتے ہیں ۔
ایک دوسرے کے لیے سیاسی برداشت یا سیاسی قبولیت بنیادی جز ہے اور حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں کی مضبوطی ہی سے ہمیں اپنا سیاسی استحکام مضبوط بنانا ہے ۔ دوئم سول ملٹری تعلقات میں اہم آہنگی کا پیدا ہونا اور سیاسی فریقین کی جانب سے بلاوجہ اداروں کی کردار کشی یا ان کو سیاسی معاملات میں الجھانا بھی قومی مفاد میں نہیں او راسی طرح سے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس تاثر کی نفی کریں جو ان پر سیاسی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں ۔ حکومت او راسٹیبلشمنٹ کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیاد سے ہم محض داخلی ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش قومی چیلنجز کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ سوئم معیشت کی بحالی او راس کے لیے محض عالمی اداروں پر حد سے زیادہ بڑھتے ہوئے انحصار کو کم کرنا او راپنی داخلی معیشت سے جڑے معاملات پر بنیادی نوعیت کے انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلیاں اور مضبوط ومربوط اصلاحات جو نہ صرف معاشی ترقی کے عمل کو آگے بڑھاسکے بلکہ شفافیت او رجوابدہی کے عمل کو بھی مضبوط بناسکے ۔ہمیں ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کی طرف بڑھنا ہوگا او ریہ اصلاحات کی بنیاد روائتی اور فرسودہ طریقوں پر نہیں بلکہ عالمی دنیا میں ہونے والی جدیدت کی بنیاد پر اصلاحات کو فوقیت دینی ہوگی اور تمام طاقت کے مراکز یا حکمران طبقات یا ادارہ جاتی عمل کو جوابدہی کے عمل میں لانا ہوگا۔چہارم اچھی حکمرانی اور عام آدمی کے مفادات سے جڑی سیاست اور عام لوگوں کا ریاست، حکومت او راداروں پر مؤثر اعتماد کی بحالی یا افراد او رریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط او رمربوط '' خود مختار مقامی حکومت '' کے ماڈل کو اختیار کرنا ہوگا او ران کو زیادہ سے زیادہ سیاسی ، انتظامی اورمالی خودمختاری دے کر ہی ہم عام لوگوں کے مفادات اور مقامی سطح پر ان کو مطمئن کرسکتے ہیں ۔ ہمیں مرکزیت پر مبنی سیاسی ، انتظامی او رمالی نظام نہیں بلکہ عدم مرکزیت پر مبنی نظام درکا رہے جہاں اختیارات کی منتقلی کا نظام شفافیت پر مبنی ہو۔پنجم وسائل کی منصفانہ تقسیم او ربالخصوص کمزور طبقات کی بنیاد پر اصلاحات، پالیسی سازی یا قانون سازی سمیت قومی اداروں کو عام آدمی کے مفادات سے جوڑنا جس میں اس کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہو اور شہریوں کے درمیان حقوق و فرائض کی آگاہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسی نقطہ میں ملکی سطح پر عام آدمی سے جڑے معاملات میں ریگولیٹری کے نظام کی شفافیت بھی شامل ہے ۔کیونکہ عدم ریگولیٹری نظام کے باعث عام آدمی کو مختلف سروسز یا سہولتوں میں بہت زیادہ استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔
پاکستان نے اگر واقعی خود کو جدید ریاست اور دنیا میں ایک ذمہ دار ریاست سمیت ملکی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ کو قائم کرنا ہے تو اسے اپنی ماضی اور حال کی غلطیوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہے ۔ قومی سکیورٹی پالیسی کا دستاویز اہم مگر اس سے بھی زیادہ اہمیت اس پر شفافیت کے ساتھ عمل کرنا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم قومی سطح پر تمام فریقین مل کر اپنے داخلی معاملات کا پوسٹ مارٹم بھی کریں اور بہت سے معاملات میں خود کو عملی طور پر Re- define, Re- structure and Re- visit کریں کیونکہ جس طریقے سے ہم ریاستی یا حکومتی نظام سمیت اپنا سیاسی اور معاشی نظام چلارہے ہیں وہ زیادہ فائدہ نہیں دے سکے گا۔ کیونکہ کوئی بھی نظا م اگر لوگوںمیں اپنا اعتماد کھودے تو سیاسی فریقین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاملات کو Out of Box جاکر دیکھیں او رایسے فیصلے کریں جو ہماری ریاست ، سیاست او رجمہوریت سمیت قومی اداروں کی ضرورت بنتے ہیں ۔کیونکہ اگر ہم نے بروقت اصلاحات نہ کیں یا اپنے پرانے فرسودہ حکمرانی کے انداز کو نہ چھوڑا تو کوئی بھی اعلی سطح کی بننے والی پالیسی محض کاغذوں تک تو اپنی سیاسی حیثیت تسلیم کرواسکے گی مگر عملی طو رپر اس کی کوئی ساکھ نہیں بن سکے گی ۔ اس لیے اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس کی گیند بھی خود پاکستان اور پاکستان میں موجود فیصلہ ساز افراد یا اداروں کی کورٹ میں ہے کہ وہ مشکل فیصلے بھی کریں اوران سخت فیصلوں کی بنیاد پر کوئی دس پندرہ برسوں کے روڈ میپ کو بھی حتمی شکل دیں تاکہ ہم آگے کی طرف بڑھ سکیں ۔ ہمیں اپنے قومی مسائل میں مسائل کے حل کے طور پر کردار ادا کرنا ہوگا وگرنہ مسائل کو قائم رکھنا او رمسائل کے خاتمہ کی بجائے نئے مسائل کو جنم دینے کی پالیسی ہمیں اور زیادہ سیاسی تنہائی میں دکھیلے گی ، اس کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوگی ۔ ||


مضمون نگار معروف سیاسی و سماجی تجزیہ نگار ہیں ۔ قومی سیاست ، ریاست اور سکیورٹی امو رپر تواتر کے ساتھ قومی اخبارات میں لکھتے ہیں اور ٹاک شوز کا حصہ بنتے ہیں۔
[email protected]