اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:18
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

کرتار پور راہداری … بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال 

نومبر 2022

کرتار پور راہداری کے قیام کو 4 سال ہو چکے ہیں، یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر پاکستان نے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کا کتنا بڑا داعی ہے اور وہ اپنے انسان دوستی کے دعوؤں کو محض باتوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ان پر پوری طرح عمل کرنے کی خواہش اور اہلیت رکھتا ہے۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی ایک مخصوص تاریخ ہے جو زیادہ خوشگوار نہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں اپنے قیام کے روز اول سے پاکستان کی کوشش اور خواہش رہی کہ عالمی برادری کے ساتھ خوشگوار ہمسائیگی اور برابری کی سطح پر تعلقات قائم کیے جائیں۔ اپنی اس کاوش میں پاکستان کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ وطن عزیز کی سبھی حکومتوں نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بدقسمتی سے بھارت کی شکل میں ہمیں ایک ایسا ہمسایہ میسر آیا جس نے مملکت خداداد کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور وہ اپنی اس ناپسندیدہ روش پر تاحال قائم ہے ۔ متعدد مواقع پر بھارت کو پیشکش کی گئی کہ پاکستان بھارت کیساتھ کسی بھی سطح، کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے کیونکہ پاکستان کو اس بات کا ادراک ہے کہ جنگیں اور تلخیاں کبھی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوتیں بلکہ ان میں مزید بگاڑ کا باعث بنتی ہیں اور بالآخر فریقین کو مذاکرات کی میز پرہی معاملات سلجھانے پڑتے ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دہلی سرکار نے کبھی امن کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ وہ قطعاً پائیدار امن کی خواہاں نہیں۔ وگرنہ بھارت دکن حیدرآباد، جونا گڑھ اور مناور کو ہڑپ نہ کرتا، سکم پر قبضہ نہ کرتا، مسئلہ کشمیر جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعے کی بابت منفی روش نہ اپناتا، بھارتی مسلمانوں پر زمین تنگ نہ کرتا اور نہ ہی سکھوں و دیگر اقلیتوں کیخلاف مظالم کا لا متناہی سلسلہ شروع کرتا۔ 
گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور 
 گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے قریب گائوں'' کوٹھے پنڈ'' میں لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ سکھوں کے لیے  اس مقام کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے کیونکہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک یہاں مقیم ہوئے اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے رہے، انھوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی یہیں گزارے ۔ یاد رہے کہ بابا گرو نانک کی پیدائش 15 اپریل 1469 کو ننکانہ صاحب میں ہوئی اور 22 ستمبر 1539 میں انھوں نے اسی کرتار پور میں وفات پائی۔ ان کے والد کا نام مہتا کلیان داس اور والدہ کا نام ماتا ترپتا تھا۔ گرودوارے کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والے سیلاب کے باعث تباہ ہو گئی تھی جس کے بعد پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 تا 1929 کے درمیان گرودوارہ کی دوبارہ تعمیر کروائی ۔ بہرحال گرو نانک 1521 میں اس مقام پر تشریف لائے اور کرتار پور کے نام سے اس گائوں کو آباد کیا۔ راویات بتاتی ہیں کہ اس علاقے کے مسلمان اور سکھ ان سے محبت کرتے اور انھیں انتہائی قابل احترام رہنما سمجھتے تھے۔ ان کی آخری رسومات بھی یہیں ادا کی گئیں البتہ اس بابت تاریخی حوالوں میں تضادات موجود ہیں ۔ بہرحال گرودوارہ کرتار پورکی اہمیت سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مذہبی مقام کی ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد زیارت ہے جو پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور ننکانہ صاحب کے برعکس سرحد کے قریب ایک گائوں میں واقع ہے۔پکی سڑک یعنی شکر گڑھ روڈ سے نیچے اترتے ہی ایک دلفریب منظر آنے والوں کا منتظر ہوتا ہے گویا سرسبز کھیت زائرین کو خوش آمدید کہتے ہیں ، دُور درختوں کی چھائوں میں چلتے ٹیوب ویلز اور کھیتوں کے درمیان گرودوارے کی سفید عمارت پرسکون دیہی ماحول میں کھیتوں میں بیٹھے سفید پرندے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جو گرو نانک کے زیر استعمال رہا، اسی مناسب سے اسے ''سری کُھو صاحب'' کہا جاتا ہے۔ گرودوارے کی مرکزی عمارت کے باہر کشادہ صحن ہے جہاں لنگر خانہ اور یاتریوں کے قیام کے لیے کمرے موجود ہیں۔ سرحد کے اُس پار بھارتی شہر ڈیرہ بابا گرو نانک میں ایک درشن ستھان یعنی ''زیارت کا مقام'' ہے  جہاں سے سکھ یاتری دُور بینوں کا استعمال کر کے گرودوارہ دربار صاحب کو دیکھتے ہیں۔ 
 راہداری کا قیام 
18 اگست 2018ء کو بھارتی پنجاب میں کانگرس کے سربراہ اور معروف کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو سابق وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لییپاکستان آئے۔ اس موقع پر پاک افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوت سدھو کی خواہش پر گرو نانک کے 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر کرتار پور راہداری کو کھولنے کی ہامی بھری تا کہ سکھ مذہب کے پیروکار اپنے مقدس ترین مقام کی زیارت کے لیے آ سکیں۔ پاکستان کے اس اعلان سے بھارت اور دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں سکھوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ جنرل باجوہ کے اعلان کے بعد تیزی سے راہداری کی تعمیر کا کام شروع ہوا جس کے نتیجے میں 9 نومبر 2019ء کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا گیا ۔ محض یہی نہیں بابا گرونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب میں ''بابا گرو نانک یونیورسٹی'' کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ۔ بہرحال کرونا وائرس کے باعث دربار صاحب کرتار پور سکھ زائرین کے لیے صرف پانچ ماہ تک کُھلا رہ سکا۔ کرونا وبا کے پیش نظر بھارت نے 16 مارچ 2020 کو اسے بند کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس مدت کے دوران ایک لاکھ سے زائد سکھ زائرین نے اس مقدس مقام کی زیارت کی۔ اس تناظر میں یہ امر باعث افسوس ہے کہ بھارت نے سکھوں کو کرتار پور آنے سے روکنے کے لیے کرونا کو بہانہ بنایا مگر وبا کی شدت میں کمی کے بعد سکھوں کی نمائندہ تنظیم شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد اس راہداری کو سکھ زائرین کے لیے کھولا جائے۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چرنجیت سنگھ چنی نے سکھ رہنمائوں کے ہمراہ مودی سے ملاقات کی اور راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا جس کے بعد بی جے پی نے 2022 کے اوائل میں پنجاب کے صوبائی انتخابات کے پیش نظر سکھوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے لیے بالآخر 20 ماہ قائم رہنے والی اس پابندی کو اُٹھا لیا ۔ پابندی ہٹنے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ چنی اور انکی کابینہ کے 37 رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی زیارت کی ۔  راہداری کے دوبارہ کھلنے کے بعد سے اب تک بیسیوں اہم سکھ شخصیات اور لاکھوں زائرین کرتارپور کا دورہ کر چکے ہیں۔ چند ہفتے قبل 4 اکتوبر 2022 کو بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ناموربائولربِشن سنگھ بیدی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کرتار پور آئے ۔ 
سکھ ہندو دھرم کا حصہ نہیں 
ماہرین کے مطابق 1984ء میں سکھوں کی نسل کشی کے بعد سبھی بھارتی خفیہ اداروں کی ہدایت پر کانگرس اور خصوصاً BJP نے شعوری کوشش کی کہ سکھوں کو کسی بھی طور واپس قومی دھارے میں لایا جائے اور اس مقصد کے لیے مختلف سطح پر بیک وقت کئی قلیل مدتی اور طویل المدتی پالیسیاں بنائی گئیں۔ مثلاً ایک جانب 1986ء میں آر ایس ایس نے '' راشٹریہ سکھ سنگت'' کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کو انتہائی منظم اور مربوط طریقے سے پورے بھارت کے سکھوں میں پروان چڑھایا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے بعد سے بھارتی حکومت (بے شک وہ کانگرس ہو یا BJP ) نے دانستہ طور پر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ سکھ درحقیقت ہندوئوں کا ہی ایک فرقہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خیال کو عملی شکل دینے کی غرض سے 2002 میں انڈین آرمی کے سابق سکھ ایئرمارشل ''ارجن سنگھ'' کومارشل آف دی ایئر فورس کا اعزاز دیتے ہوئے انھیں بھارتی ایئر فورس کا واحدفائیو سٹار ایئرچیف بنانے کا انتہائی غیر معمولی قدم اٹھایا گیا ۔ یاد رہے کہ موصوف 1965 کی جنگ کے دوران بھارت کے ایئر چیف تھے۔ یوں انھیں جنگ کے 37 برس بعد نجانے کس ''خدمت ''کے عوض یہ اعزاز بخشا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی شہہ پر انڈین ایئر فورس کی پوری تاریخ پر بھاری یہ غیر معمولی قدم اٹھایا گیا جس کا مقصد صرف اور صرف یہی تھا کہ کسی بھی طور سکھ قوم میں موجود ہندو مخالف جذبات کو قدرے ٹھنڈا کیا جائے۔
 بہرحال بات ہو رہی تھی راشٹریہ سکھ سنگت ، RSS اور BJPکی ملی بھگت کی۔ قابلِ توجہ ہے کہ 1986 میں راشٹریہ سکھ سنگت کے قیام کے بعد سے اب تک راجستھان، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور خصوصاً پنجاب میں اس کی 500 سے زائد شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔دوسری جانب بھارتی سکھوں میں بھی خاصی حد تک RSSاور بھارتی ایجنسیوں کی اس سازش کا ادراک ہو چکا ہے۔تبھی تو 2004 میں ''اکال تخت'' کے اس وقت کے جتھے دار ''جوگندر سنگھ ودیانتی'' نے راشٹریہ سکھ سنگت کو ''سکھ دشمن''' تنظیم قرار دے دیا تھا۔ 2009 میں ایک سکھ تنظیم ''ببر خالصہ'' نے اس وقت کے راشٹریہ سکھ سنگت کے سربراہ رُلدا سنگھ کو پٹیالہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اکتوبر 2017 میں اکال تخت کے جتھے دار گیانی گربچن سنگھ نے کہا تھا کہ ''RSS راشٹریہ سکھ سنگت کو استعمال کرتے ہوئے سکھ دھرم کو ہندو ازم میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں، بھارت کے لیے نمایاں کارنامے انجام دینے والے سکھ بھی جب پنجاب سے باہر جاتے ہیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، سکھ دھرم ہندو مذہب سے بالکل علیحدہ ہے اور سکھ ایک علیحدہ قوم ہے ، اگر آر ایس ایس اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی تو اس کے نتائج خوش آئند نہیں نکلیں گے''۔ 
 کرتار پور راہداری … بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال 
    غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سکھ قوم اور پاکستان کے مابین باہمی تعلق خاصی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے، جسے اس خطے کے کلچر کے لیے اچھا شگون قرار دیا جانا چاہیے، اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے لوگوں نے تقسیم ہندوستان کے انسانی المیے کو جتنا قریب سے دیکھا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اکثر ماہرین متفق ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت تقریباً 10 لاکھ افراد موت کی بھینٹ چڑھ گئے اور ان میں سے 90 فیصد کا تعلق دونوں اطراف کے پنجاب ہی سے تھا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ مشرقی پنجاب اور پاکستان حقیقی معنوں میں امن کے ''متلاشی'' ہیں۔ کرتار پور راہداری بھی اسی ضمن میں ایک بڑا قدم ہے۔ یوں بھی اگر یہ عمل آگے بڑھے تو اس کے دیر پا اثرات پورے جنوبی ایشیا خصوصاً پاک و ہند کے مابین ثقافتی ہم آہنگی کا سبب بن سکتے ہیں اور آگے چل کر مقبوضہ جموں کشمیر کے منصفانہ حل میں بھی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ثقافتی روابط بعض اوقات مذہبی روابط سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے میں آگے چل کر پورے جنوبی ایشیاء میں معاشی ترقی ،خوشحالی و رواداری کے دروازے کھلنے میں معاونت مل سکتی ہے۔  یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور سول سوسائٹی پہلے ہی سے اس ضمن میں مقدور بھر مثبت کردار ادا کر رہی ہے، ایسے میں عالمی برادری بھی اس حوالے سے اگر اپنا انسانی فریضہ نبھائے تو پورا جنوبی ایشیائی خطہ بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ ||


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]