اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 14:57
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

ازخود علاج اور دوا لینے کے نقصانات      

اکتوبر 2022

 صحت مند اور تندرست زندگی انسان کی ایک بڑی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے۔ صحت ہماری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے لیکن اس کا احساس تب ہوتا ہے جب ہم اسے کھو دیتے ہیں اس لیے صحت مند جسم کی اہمیت صرف وہی شخص بتا سکتا ہے  جو کسی بیماری کا شکار ہو چکا ہو۔  ماہرینِ صحت کے مطابق نہ صرف اچھی متوازن خوراک، ورزش یا چہل قدمی اور مفید مشغلے انسان کو صحت مند رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں بلکہ ایک عمر کے بعد باقاعدگی سے ڈاکٹرسے معائنہ کسی بھی بیماری کی ابتدائی تشخیص کے لیے اہم ہے۔ ضروری نہیں انسان کسی بیماری کے آنے کے بعد ہی ڈاکٹر کے پاس جائے بلکہ کچھ عرصے کے بعدطبی معائنہ بہت سی بیماریوں کی ابتدا میں ہی روک تھام میں مددگار ہو سکتا ہے،جیسے کہ بلڈ پریشر، ذیابیطس،کینسر، دل کے امراض، نظر کی کمزوری، گردوں کے مسائل وغیرہ وغیرہ ۔ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر کے پاس جانے کوعام طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے بیشتر افراد بیماری کی صورت میں بھی خود یا کسی دوست رشتہ دار کے مشورے سے دوا لے لیتے ہیں۔ مریض خوش قسمت ہو تو وقتی طور پر شاید اس کو آرام آ بھی جائے لیکن اس کے دیرپا نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر کے مشورے  کے بغیر دوا لینا تقصان دہ بلکہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ 


ڈاکٹری نسخے کے بغیر ازخود دوائوں کے بہت سے مضر اثرات ہوتے ہیں جن میں ایک اہم یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا اور غیر ضروری استعمال سے انسان کے جسم میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کا ایک گروپ ہے جو بیکٹیریل انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اینٹی بائیوٹیکس کی بہت  ساری قسمیں ہیں ،اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ اور غیر ضروری استعمال سے بیکٹیریا زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں اور ان کی مدافعت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس عام نزلہ اور زکام کے جراثیم کے علاج میں معاون نہیں ہیں لیکن ان کا غیر ضروری استعمال کیا جاتا ہے۔


پاکستان میں دیہی اور شہری آبادی دونوں میں ازخود علاج یا دوا لینے کا تیزی سے بڑھتا رجحان تشویش ناک ہے۔ نہ صرف ان پڑھ بلکہ پڑھے لکھے مردو خواتین ازخود علاج کو اپنا رہے ہیں ۔ دیکھا جائے تو پڑھے لکھے افراد میں یہ رجحان فروغ پا رہا ہے کہ انٹرنیٹ جیسے وسائل کو استعمال کر کے ازخود علاج کیا جاسکتا ہے جو کہ انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر بہت سی  ویب سائٹس ایسی ہیں جو مستند نہیں۔ ایک معروف ہسپتال کی چیف آف  فارمیسی سلویٰ احسن کے مطابق دوائیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک جو عام طور پر معمولی امراض میں استعمال کی جاتی ہیں جیسے کہ بدہضمی یا ہلکا درد، الرجی وغیرہ جن کو عمومی طور پر''اور دا کانٹر ڈرگز''کہا جاتا ہے جبکہ دوائوں کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ملنی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ دوائیں بھی اکثر ڈاکٹری نسخے کے بغیر دستیاب ہو جاتی ہیں جن کا بے حد نقصان ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ ہر دوا کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے تاکہ وہ صحیح طور پر اثر کر سکیں جیسے کہ کوئی دوا خالی پیٹ نہیں لینی چاہیے کیونکہ تیزابیت پیدا کرتی ہیں یا پھر کوئی اور مضر اثرات ہو سکتے ہیں یا پھر کچھ دوائیں ایسی ہیں جن کے ساتھ کوئی اور دوا لینا یا نہ لینا ضروری ہے جو کہ ایک شخص جو کہ ازخود علاج کر رہا ہوتا ہے اس بات سے واقف نہیں ہوتا اور دوائوں کا فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہو سکتاہے۔ ایک ڈاکٹر یا فارماسسٹ اس میں بہتر رہنمائی کر سکتا ہے کہ کون سی دوا کس طرح لینی چاہیے۔ ڈاکٹرعابد الیاس  میڈیکل سپیشلسٹ اور کنسلٹنٹ کریٹیکل کئیرہیں، وہ بتاتے ہیں کہ اکثر دوائوں کے کچھ سائیڈ ایفیکٹ یا مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں جن کو ایک ڈاکٹر ہی مد نظر رکھتے ہوئے نسخے میں لکھ کر دے سکتاہے اورخود سے بغیر مشورے کے لینے سے فائدہ تو درکنار الٹا نقصان ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر اینٹی بائیوٹکس، ذیابیطس، انسولین اور بلڈ پریشر کی دوائیاں وغیرہ۔ڈاکٹرز نہ صرف صحیح دوا بلکہ ہر مریض کی صورتحال دیکھتے ہوئے  مناسب مقدار بھی لکھ کر دیتے ہیں تاکہ انکا اثر ہو سکے۔مثال کے طور پر انسولین کی مقدار اگر زیادہ ہو جائے توشوگرکا انتہائی کم لیول انسان کی جان بھی لے سکتا ہے۔اسی طرح بلڈ پریشر کی دوا میں اپنی مرضی سے کمی بیشی سے دل کا دورہ تک پڑ سکتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹری نسخے کے بغیر ازخود دوائوں کے بہت سے مضر اثرات ہوتے ہیں جن میں ایک اہم یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا اور غیر ضروری استعمال سے انسان کے جسم میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کا ایک گروپ ہے جو بیکٹیریل انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اینٹی بائیوٹیکس کی بہت  ساری قسمیں ہیں ،اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ اور غیر ضروری استعمال سے بیکٹیریا زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں اور ان کی مدافعت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس عام نزلہ اور زکام کے جراثیم کے علاج میں معاون نہیں ہیں لیکن ان کا غیر ضروری استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایک معمولی سی بیماری کے لیے بھی کوئی ایسی دوا استعمال کی جائے جو کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں لینی چاہیئے تو وہ بے انتہا نقصان دہ ہو سکتی ہے اور مریض کو مضر اثرات کے طور پر مزید کسی بڑی بیماری  میں مبتلا کر سکتی ہیں جس کا علاج پھرماہر ڈاکٹر کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔
 ڈاکٹر عابد الیاس کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسی ادویات بغیر نسخے کے دستیاب ہی نہیں ہوتیں جن کو لینے سے مضر اثرات ہو سکتے ہیں جیسے کہ اینٹی بائیوٹکس، ذیابیطس، دل ، گردوں اوربلڈ پریشر کی ادویات وغیرہ ، جبکہ پاکستان میں تمام ادویات آسانی سے بغیر ڈاکٹری نسخے کے دستیاب ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ اگر ایک شخص کو کسی بیماری میں کسی دوا سے شفا مل جاتی ہے تو وہ خود کوایک سپیشلسٹ سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس سے ملتی جلتی بیماری کسی جاننے والے کو ہو تو اسی دوا کو لینے کا مشورہ دیتا ہے جو اس نے خود لی ہوتی ہے یا کسی اور گھریلو نسخے کا مشورہ دیتا ہے۔ جبکہ ضروری نہیں کہ ان دونوں مریضوں کی بیماری کی صورتحال ایک جیسی ہو۔ ممکن ہے جس دوا سے پہلے مریض کوآرام آیا، دوسرے کو اس دوا سے کوئی الرجی ہو یا اسے اس کی ضرورت نہ ہو یا اسکی بیماری کی نوعیت میں اس دوا کا استعمال نقصان دہ ہو جس سے پہلے مریض کو شفا ملی ہو۔ ان معلومات کی آگاہی عوام میں ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ اس قسم کے ازخود علاج کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور انسانی  جانوں کو بچایا جا سکے۔ 
 ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی ادویات کی ریگولیٹری اتھارٹیز کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس طرح کی ادویات اتنی کھلم کھلا میسر نہ ہوں کیونکہ اس سے عوام کو  فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں ایک بات  اور قابلِ غور ہے کہ ڈاکٹرز کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحیح مریض کو صحیح دوا اور مقدار لکھ کر دیں اوربہتر ہے کہ ڈاکٹری نسخوں کو الیکٹرانک یا کمپیوٹرائزڈ بنایا جائے تا کہ ہاتھ کی لکھائی سے ہونے والی غلط فہمی کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ضروری ہے کہ ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر سے ہی دوا کا نسخہ لیں اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں بھی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اگر کسی دوا سے الرجی ہو تو وہ بھی ڈاکٹر کو بتانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو دیکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کے استعمال سے بھی اگر کوئی مضر اثرات ہوں تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں نہ کہ دوا کا استعمال جاری رکھیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ دوا مریض کے لیے فائدہ مند نہ ہو اور ڈاکٹر کو اس کی جگہ کوئی اور دوا دینا پڑے۔ دوا ڈاکٹر کی تجویز کردہ مدت تک ہی استعمال کریں ،اپنی مرضی سے اس میں کمی بیشی نہ کریں۔ ایک صحت مند معاشرہ ہی صحت مند دماغ کو فروغ دے سکتا ہے جو کہ ملکی ترقی کے لییضروری ہے اور اس کے لیے نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی سطح پر بھی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ آنے والی نسل صحت مند ہو۔ ||


مضمون نگارایک نجی ٹی وی چینل سے منسلک رہی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتی رہتی ہیں۔
[email protected]