اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:47
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ڈاکٹر شوکت علی

مضمون نگار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

Advertisements

ہلال اردو

پاکستان کی  زرعی صلاحیت اور امکانات

فروری 2022

پاکستان دنیا کے ان 11 بڑے ممالک میں سے ایک ہے جو وسیع و عریض اور زرخیز زرعی رقبے کے مالک ہیں۔ وطن عزیز کی تقریباً40 فیصد افرادی قوت کا پیشہ  زراعت ہے ۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے۔ ملک کے طول و عرض میں قدرت کی طرف سے ہمیں ایسی گرم، سرد اور معتدل آب و ہوا نصیب ہوئی ہے جس میں ہر طرح کی فصلیں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔ اتنے بڑے زرعی وسائل ہونے کے باوجود پاکستان کو زرعی اجناس درآمد کرنا پڑ رہی ہیں جو کہ لمحہِ فکریہ ہے۔ پاکستان کی زرعی درآمدات سالانہ 8  ارب ڈالر سے تجاوز کر رہی ہیں۔ان درآمدات میں زیادہ تر خوردنی تیل، کپاس، گندم ، چینی ، چائے اور دالیں وغیرہ شامل ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زرعی درآمدات، پٹرولیم درآمدات کے برابر ہونے کو ہیں تو ان حالات میں زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت پر نظر ڈالنا بالکل فطری بات ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا زرعی شعبہ بانجھ ہو چکا ہے یا پھر زرعی وسائل کے نامناسب استعمال کی وجہ سے ہم زرعی پسماندگی کا شکار ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم قدرت کے دئیے ہوئے بے پناہ زرعی وسائل کو بروئے کار لا کر نہ صرف یہ کہ خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ زرعی اجناس برآمد بھی کر سکتے ہیں۔
آئیے سب سے پہلے پاکستان کی اہم روائتی فصلوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پاکستان میں گندم، کپاس ، گنا اور چاول وغیرہ کی منظور شدہ اقسام کی پیداواری صلاحیت پر بڑی بحث ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تحقیقی اداروں سے جاری ہونے والی اقسام کم پیداواری صلاحیت کی حامل ہیں۔ ایک آدھ فصل کی حد تک تو یہ بات درست ہو سکتی ہیں لیکن زیادہ تر فصلوں کی اقسام ہمارے ہاں بہترین پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارے کاشتکار ان اقسام کی صلاحیت کو بروئے کار لا رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب نہایت ہوش ربا ہے جس کا مشاہدہ نیچے دئیے گئے جدول میں کیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ آپ ٹیبل میں دیکھ رہے ہیں کہ کپاس کی منظور شدہ اقسام کی پیداواری صلاحیت 40 من فی ایکڑ سے زائد ہے۔ جبکہ ملک کی فی ایکڑ اوسط پیداوار ساڑھے چھ من سے بھی کم ہے۔ایسا نہیں ہے کہ فیلڈ میں یہ قسمیں اچھے نتائج نہیں دے رہیں۔ کاشتکار جانتے ہیں کہ زیادہ تر دیہاتوں کے ترقی پسند کسان ، انہیقسموں کی مدد سے کم و بیش 30 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ سال کپاس کی تقریباً 5 ملین بیلیں درآمد کی ہیں۔ اگر ہماری فی ایکڑ اوسط پیداوار محض 4 من بڑھ جائے تو درآمد صفر ہو جائے گی۔ کپاس کی4 من فی ایکڑ پیداوار بڑھانا ہرگز مشکل نہیں ہے۔ اگر کاشتکار کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ ہو ، مارکیٹ میں تصدیق شدہ اور خالص زرعی مداخلات موجود ہوں اور ان زرعی مداخلات کے حصول کے لئے کسان کے پاس مناسب مالی وسائل ہوں تو فی ایکڑ پیداوار اس سے بھی زیادہ بڑھائی جا سکتی ہے۔ یہی صورت حال دیگر اجناس کی بھی ہے۔ تقریباً ساڑھے چار من فی ایکڑ گندم کی پیداوار بڑھنے سے ہم 4 ملین ٹن اضافی گندم حاصل کر سکتے ہیں جس کی قدر کم و بیش 2 ارب ڈالر ہے ۔ چاول ہم پہلے ہی برآمد کر رہے ہیں۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھنے سے اضافی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ 



تیلدار اجناس (سرسوں، سورج مکھی، سویا بین) کے حوالے سے بات کرنا اس لئے ضروری ہے کہ کم و بیش 4 ارب ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ تیلدار اجناس کی سالانہ درآمدات پر خرچ ہو رہا ہے۔ان درآمدات کو تیلدار اجناس کے زیر کاشت رقبے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر کے کم کیا جا سکتا ہے۔ زیر کاشت رقبہ بڑھانے کے لئے مخلوط کاشت ایک کامیاب راستہ ہے۔ خصوصاً موسمی مکئی میں سویا بین کی مخلوط کاشت کر کے 8 سے 10 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔پنجاب میں 12 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر موسمی مکئی کاشت ہو رہی ہے۔مخلوط کاشت سے 10 ملین ٹن سویابین حاصل کیا جا سکتا ہے۔سویا بین پاکستان میں نئی متعارف ہونے والی فصل ہے جس پر تحقیق جاری ہے۔ اگر ہم کوئی ایسی ورائٹی تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جسے بہاریہ مکئی میں بھی کاشت کیا جا سکے تو یہ ایک انقلابی قدم ہو گا۔ 
دالوں کی مخلوط کاشت کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ خاص طور پر گنے میں دالوں کی مخلوط کاشت سے دالوں کے زیر کاشت رقبے میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے دالوں کی درآمدات میں کمی کی جا سکتی ہے۔موسمی کماد میں مونگ اور ماش جبکہ ستمبر  کماد میں چنے اور مسور کی دالیں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔
پاکستان میں تقریباً20 ملین ایکڑ قابل کاشت رقبہ غیر آباد ہے جس کی آباد کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ غیر آباد رقبے کو آباد کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ پانی کی عدم دستیابی ہے۔ پانی کا مسئلہ ڈیموں کی تعمیر سے حل کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا راستہ ، آباد رقبے کی ہموار کاری ہے۔ زرعی زمینوں کو ہموار کر کے اوسطاً 50 فیصد تک پانی بچایا جا سکتا ہے۔ ہموار زمینوں سے نہ صرف یہ کہ پانی کی بچت ہو گی بلکہ غیر ہموار زمینوں کی نسبت پیداوار بھی 10 فیصد تک بڑھے گی۔ زمین کی ملچنگ اور بیڈ کاشت سے بھی60 فیصد تک پانی کی بچت کی جا سکتی ہے۔ ڈرپ آبپاشی ایک مہنگا متبادل ہے لیکن اس سے بھی 60 فی صد تک پانی کی بچت کی جا سکتی ہے۔ اگر ہم نئے ڈیم بنا لیں یا کاشت کاری کے ان طریقوں کو اپنا لیں جن سے پانی کی نمایاں بچت ہوتی ہے تو پھر غیر آباد رقبوں کو آباد کرنا آسان ہو جائے گا۔
خیبر پختون خوا میں70 ملین سے زائد زیتون کے جنگلی درخت موجود ہیں جن پر زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کو پیوند کیا جا سکتا ہے۔ اگر مقامی لوگوں کی شمولیت سے ہم پیوند کاری میں کامیاب ہو جائیں تو پاکستان زیتون کا تیل برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔ اس جنگلی زیتون کے علاوہ خیبر پختون خوا ، بلوچستان اور پنجاب میں زیتون کے باغات بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں خصوصاً پوٹھو ہار کا علاقہ زیتون کی کاشت کے لئے نہائت موزوں قرار دیا جا چکا ہے ۔ پوٹھوہار میں تقریباً ڈیڑھ ملین پودے لگائے جا چکے ہیں اور مزید پودے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ 
چولستان کا علاقہ انگور کی کاشت کے لئے نہائت موزوں قرار دیا جا چکا ہے، جہاں انگور کی کاشت کی حوصلہ افزائی کر کے ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ جنوبی پنجاب کے مقامی لوگوں کی سالانہ آمدن میں بھی اضافہ ہو گا۔
پاکستان میں زرعی زمینیں اسلامی وراثتی قانون کے تحت نسل در نسل تقسیم ہوتی جا رہی ہیں جس سے فی کس ملکیتی رقبہ کم سے کم تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ چھوٹے زرعی یونٹ کو زرعی پیداواریت کے منافی سمجھا جاتا ہے لیکن اس فکر مند صورت حال کو حکمت عملی کے ذریعے سنہری موقعے میں بدلا جا سکتا ہے۔ دیہاتوں میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر چھوٹے کاشت کاروں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔چین میں فی کس ملکیتی رقبہ دنیامیں سب سے کم ، محض اڑھائی ایکڑ ہے لیکن وہاں ویلیو ایڈیشن کی مدد سے کاشت کاروں کی سالانہ آمدن بڑھائی گئی ہے۔پاکستان میں بھی اس کے وسیع تر امکانات موجود ہیں کیونکہ یہاں دیہی افرادی قوت کی کمی نہیں ہے۔ زراعت میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر کاشت کاروں کو نہ صرف خسارے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ بے روزگاری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
کچھ اسی طرح کی صورت حال لائیو سٹاک کے شعبے کی ہے۔پاکستان میں دودھ کی کل پیداوار میں بھینس کے دودھ کا حصہ 62 فیصد ہے۔ نیلی راوی بھینس کی ملکی اوسط پیداوار 2300 لیٹر فی کس فی سووا ہے جبکہ اس کی پیداواری صلاحیت 5000 لیٹر کے لگ بھگ ہے۔ خالص اور اعلیٰ نسل کے جانوروں کی مناسب دیکھ بھال سے دودھ کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ساہیوال گائے کی اوسط پیداوار اور اس کی پیداواری صلاحیت کا فرق بھی بہت زیادہ ہے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ نیلی راوی اور ساہیوال گائے سمیت تمام دیسی نسلوں کا دودھ A2 کیٹیگری کا ہے جسے A1 کیٹیگری کے مقابلے میں صحت بخش مانا جا رہا ہے۔ یورپ میں A2 دودھ کی طلب میں روز بروز اضافہ ہو نے کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں نمایا ں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ درآمد شدہ نسلوں (ہولسٹن فریژین ، جرسی وغیرہ) کا دودھ A1 کیٹیگری کا ہے جسے مضر صحت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں نیلی راوی اور ساہیوال گائے کی پیداوار بڑھا کر یورپی ملکوں میں دودھ کی برآمد کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں آرگینک گوشت کی سرپلس پیداوار کا ذکر کریں تو شتر مرغ اور خرگوش کا ذکر آنا لازمی ہے۔شتر مرغ ، گائے بھینس کی طرح عام چارے پر پلنے والا ایک ایسا پرندہ ہے جو گائے بھینس کی نسبت تیزی سے افزائش کرتا ہے اور کم چارہ کھا کر کٹوں بچھڑوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ گوشت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا گوشت آرگینک ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لئے نہائت موزوں ہے۔ اسے عام جانوروں کی طرح دیہاتوں میں پالا جا سکتا ہے ۔ شتر مرغ کی فارمنگ سے دیہی لوگوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔اسی طرح خرگوش بھی انتہائی کم لاگت میں بھیڑ بکریوں کی طرح سبز چارے پر پلنے والا جانور ہے ۔ یہ انتہائی تیزی سے افزائش کرتا ہے اور اس کا گوشت آرگینک ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش بھی ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ خرگوش کا گوشت استعمال کر سکتا ہے۔ گوشت کے علاوہ خرگوش کی کھال سے کئی طرح کی مصنوعات تیار ہوتی ہیں جو بین الاقوامی منڈی میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ لہذا خرگوش فارمنگ سے صنعتی خام مال بھی پیدا ہو گا جس کی ویلیو ایڈیشن کر کے صنعتی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح خرگوش فارمنگ سے دیہی علاقوں میں روزگار کے اچھے مواقع تلاش کئے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح فش فارمنگ میں بھی غیر روائتی طریقوں کی مدد سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے زرعی علاقے جہاں نہری پانی دستیاب نہیں ہے اور زیر زمین پانی کڑوا ہے، وہاں پر شرمپ فارمنگ کی جا سکتی ہے۔ شرمپ کی بین الاقوامی منڈی میں بہت مانگ ہے جسے درآمد کر کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں زیادہ تر رہو مچھلی کی فارمنگ ہو رہی ہے جس کی پیداواری لاگت کافی زیادہ ہے۔ لیکن مچھلیوں کی دو اقسام ،چڑا مچھلی اور گراس کارپ ایسی بھی ہیں جو محض ڈک ویڈ پر پالی جا سکتی ہیں۔ ڈک ویڈ پانی میں نشوونما پانی والی ایک ایسی بوٹی ہے جس کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے اور یہ دونوں مچھلیاں اسے نہائت شوق سے کھاتی ہیں۔ ڈک ویڈ پر پلنے والی مچھلیوں کی پیداواری لاگت انتہائی کم ہو گی اور دوسرا ان کا گوشت بھی آرگینک ہو گا لیکن ابتدائی طور پر اس کے لئے تحقیق کی ضرورت ہو گی۔
اس طرح زرعی شعبے میں پاکستان کے پاس بے پناہ صلاحیت ہے جسے چیدہ چیدہ بیان کرنے کی یہاں کوشش کی گئی ہے۔ اس صلاحیت کو بروئے کار لا کر نہ صرف یہ کہ ہم ملکی ضروریات پورا کر سکتے ہیں بلکہ اضافی پیداوار برآمد کر کے خطیر زر مبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ ||


مضمون نگار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔
 

ڈاکٹر شوکت علی

مضمون نگار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

Advertisements