اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:36
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

بھارت میں بالعموم اور مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص انسانی حقوق کی پامالیاں

فروری 2022

بھارت والے کبھی خود پر کتنا فخر کرتے تھے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور وہ بھی سیکولر۔ ہمارے ہاں سب مذاہب کے ماننے والے محفوظ ہیں، اپنی اپنی عبادات کرسکتے ہیں، کسی کی عبادت گاہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ہمارے ہاں بھی مجھ سمیت کتنے لکھنے والے، شاعر، ادیب، صحافی بھارت میں آزادیٔ اظہار کے گن گاتے تھے اور بھارتی اہل قلم کے طنزیہ جملے برداشت کرلیتے تھے لیکن اب بھارت میں ہمارے دوست  شاعر، صحافی، دانشور،  مصنّف شرمسار  ہیں۔ آزادیٔ اظہار ، جمہوریت، تحمل اور رواداری کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے خفیف ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت میں فرد کی حیثیت کچلی جارہی ہے۔ خاص طور پر مذہبی اقلیتیں اور چھوٹی ذات کے ہندو سفاک اکثریت کی گروہ بندیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خود بھارت سے ایسی ایسی شرمناک وڈیوز  وصول ہوتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، دل کانپنے لگتا ہے۔ ایک طرف تو قائد اعظم کی بصیرت کو بے ساختہ خراج تحسین دل کی گہرائی سے ادا کرتے ہیں کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو ہم پاکستان آجانے والے اور پاکستان میں پہلے سے رہنے والوں کے لیے یہ قاتل اکثریت کیا کیا ظلم توڑ رہی ہوتی ۔ ہم بے شک آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں لیکن چھتیس گڑھ، بہار، کرناٹکا میں مسلمانوں  پرجس طرح ہجوم ہلاکت خیز تشدد کررہے ہیں، انسانیت رُسوا ہورہی ہے، اللہ نے ہمیں اس سے تو سلامت رکھا ہوا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر والے تو 1930سے اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا واحد خطّہ ہے جہاں ایک بڑی آبادی پر بھارت نے فوج کے ذریعے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور آزاد دنیا چشم پوشی کررہی ہے۔ اسلامی ممالک بھی خاموش ہیں۔ 5اگست 2019 سے تو مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے آئین میں ترمیم کرلی گئی ہے۔ اسے مرکز کے تحت زیر انتظام دو وحدتوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسلسل عالمی سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے مگر حقوق انسانی کے علمبردار، آزادیٔ اظہار کے پرچارک، جمہوریت کے چمپئن مغربی ممالک کی زبانیں گُنگ ہوگئی ہیں۔ مسلم ملکوں میں ذرا سی اونچ نیچ پر ان کی تنظیمیں شور مچانے لگتی ہیں۔ ان کے صحافی ان دارُالحکومتوں میں اترنے لگتے ہیں۔ مگر بھارت کے کونے کونے سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں کہ انڈیا ایک ارب سے زیادہ صارفین کی مارکیٹ ہے۔ یہاں مغربی مصنوعات ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں اور اس ملک کے حکمراں اسلام دشمنی میں مغرب سے بھی آگے ہیں۔
2014 سے دہلی میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) نے مسلسل صحافیوں، حقوق انسانی کے لیے متحرک رضا کاروں، طلبہ، اساتذہ اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خوف زدہ کرنے، مقدمات میں الجھانے، جیلوں میں  ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ (حقوق انسانی کی نگراں تنظیم) کی عالمی رپورٹ 2021 میں بڑی تفصیل سے ایسے اندوہناک واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ ابتدائیہ میں بھی لکھا گیا ہے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف یلغار جاری رہی۔ متعلقہ حکام نے اپنی پارٹی کے ان لیڈروں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جنہوں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے۔ ان کے خلاف مسلسل الزام تراشی کی اور جو بی جے پی کے متعصب پُر جوش کارکن مسلمانوں کی ہلاکتوں میں پیش پیش تھے ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 
عالمگیر وبا کووڈ 19 کے لاک ڈائون اور دیگر پابندیوں کے دوران بھی اقلیتوں سے امتیازی سلوک برتا گیا۔ ان میں راشن کی مناسب تقسیم ہوئی نہ مالی امداد دی گئی اور نہ ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا گیا۔ انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ملک کے اکثر حصوں میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائیاں کی گئیں۔ جموں کشمیر میں یہ مظالم بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈھائے گئے۔ جس کے تحت ایک فرد کو بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک قید رکھا جاسکتا ہے۔ مسلح افواج کو Armed Forces Special Act ( آفسپا) کے تحت بہت سے علاقوں میں من مانی کی آزادی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بین الاقوامی این جی اوز پر بھی طرح طرح کی قدغنیں لگادی گئی ہیں۔ ایک بھیانک قانون:
 The Unlawful Activities Prevention Act (UAPA)  غیر قانونی سرگرمیوں سے امتناعی قانون۔ صرف یہ تصور کرلیا گیا کہ فلاں شخص یا تنظیم غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والی ہے اس لیے اسے بغیر مقدمہ قائم کیے،  بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں بھی قومی سلامتی کے تحفظ کی خاطر طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کے لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے نظر بند کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں پر دبائو بڑھانے کے لیے The National Intelligence Grid (NATGRID) کی رپورٹوں پر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بمبئی میں دہشت گردوں کے مبینہ حملوں کے بعد 11خفیہ ایجنسیوں میں اشتراک اور بھارت کے 14 ہزار حساس تھانوں کو آپس میں منسلک کرکے اسے دی نیشنل انٹیلی جنس گرڈ کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت بہت سے تصوراتی منصوبے، سازشیں کی جارہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں نیٹ گرڈ کے ذریعے دہشت کی ایک فضا قائم رکھی جاتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر:
مقبوضہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سیکڑوں افراد کسی الزام کے بغیر جیلوں اور حوالات میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ جون 2021 میں مقبوضہ کشمیر میں نئی میڈیا پالیسی کے ذریعے حکام کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ طے کریں کہ جھوٹی خبر کونسی ہے، سرقہ کیا ہے، غیر اخلاقی اور قوم دشمن سرگرمیاں کیا ہیں۔ اس کے تحت صحافیوں، ایڈیٹروں اور میڈیا گروپوں کے خلاف ایکشن کا لائسنس مل گیا۔ حکومت نے اپنے مخالفین پر کھل کر وار کیے۔ کووڈ 19 کا سہارا لے کر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس تک رسائی محدود کردی گئی۔ آفسپا کے تحت جولائی میں شوپیاں ضلع میں 3افراد کو دہشت گرد قرار دے کر مار دیا گیا۔ لیکن اگست میں ان کے خاندانوں نے سوشل میڈیا پر ان کی تصویریں دیکھ کر شور مچایا کہ یہ تو بے چارے مزدور تھے۔ اس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا کہ ستمبر میں بھارتی فوج کو انکوائری کرواکر یہ بیان جاری کروانا پڑا کہ فوجیوں نے آفسپا کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جارہی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں توعوام سے ان کی ان سے آئینی خود مختاری چھین لینے کے بعد بھارتی فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا ۔ مسلم نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بناکر خوف و ہراس کی فضا قائم کردی گئی ہے۔ عالمی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑا جیل خانہ کہنے پر مجبور ہیں۔
سکیورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ
ہیومن رائٹس واچ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے انسانوں کی رُسوائی کے اقدامات کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔ ایک طرف کرونا 19 کے وار جاری تھے۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہوکر دور دراز مقامات پر موجود اپنے گھر واپس جانے کے لیے پیدل چلنے پر مجبور تھے کیونکہ حکومت نے ٹرانسپورٹ بند کردی تھی۔ لوگ نوکریوں سے نکال دیے گئے، انہیں اپنے کرائے کے کمرے اور گھر چھوڑنے پڑے۔ سینکڑوں میل دور گھر جاتے ہوئے یہ بے روزگار، کہیں پولیس کی سفاکی کا نشانہ بنے، کہیں فوج کی۔ مغربی بنگال میں ایک 32 سالہ نوجوان بچوں کے لیے دودھ خریدنے نکلا، اسے پولیس نے اتنا پیٹا زد و کوب کیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ یوپی سے ایک وڈیو گردش میں آئی کہ دوسرے علاقوں کے کارکنوں کو پولیس سڑک پر ناک رگڑ وا رہی ہے اور رُسوا کررہی ہے۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اس دوران حوالات میں 77 جیلوں میں 1338اور 62ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاری کی۔
یو پی کی بی جے پی حکومت کے دوران کم از کم 119 افراد جولائی 2021 تک ماورائے عدالت قتل کیے جاچکے تھے۔ یوپی میں مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے کے لیے گائے کے ذبیحہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگست 2021 تک اس الزام میں 4000 مسلمان گرفتار کیے گئے۔


مقبوضہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سیکڑوں افراد کسی الزام کے بغیر جیلوں اور حوالات میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ جون 2021 میں مقبوضہ کشمیر میں نئی میڈیا پالیسی کے ذریعے حکام کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ طے کریں کہ جھوٹی خبر کونسی ہے، سرقہ کیا ہے، غیر اخلاقی اور قوم دشمن سرگرمیاں کیا ہیں۔ اس کے تحت صحافیوں، ایڈیٹروں اور میڈیا گروپوں کے خلاف ایکشن کا لائسنس مل گیا۔ حکومت نے اپنے مخالفین پر کھل کر وار کیے۔ کووڈ 19 کا سہارا لے کر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی گئی۔


کووڈ 19 کے پھیلائو کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر عائد کی گئی ۔ دہلی میں تبلیغی اجتماع کے حوالے سے کہا گیا کہ وہاں سب سے زیادہ مریض پائے گئے۔ بی جے پی لیڈروں نے اسے 'طالبانی جرم' اور 'کرونا دہشت گردی' سے موسوم کیا۔ حکومت حامی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے 'کرونا جہاد' کی دہائی دی۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان بد تمیزی امڈ آیا۔ مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی۔ اس کے نتیجے میں ان مسلمان رضا کاروں پر حملے بھی ہوئے جو متاثرہ مسلم علاقوں میں امدادی سامان بانٹ رہے تھے۔
مسلمانوں کے علاوہ چھوٹی ذات کے ہندوئوں پر بھی بی جے پی کے متعصب حامیوں نے ایسے ہلاکت خیز بلوے جاری رکھے۔ 2019 اور 2020 میں دلت آبادیوں کے خلاف مجرمانہ حملے کئی فی صد بڑھ گئے۔ کتنا ظلم ہے کہ اکیسویں صدی میں جیتے جاگتے انسانوں، ایک ملک کے شہریوں کو زندہ رہنے، روزگار تلاش کرنے، تعلیم حاصل کرنے سے جبراً روکا جارہا ہے۔ اگست میں اوڑیسہ میں ایک 15سالہ دلت بچی نے ایک اونچی ذات کے بنگلے کے عقبی باغ سے پھول توڑ لیے۔ ہنگامے شروع ہوگئے۔ 40دلت خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کردیا گیا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں انسانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے اور مغربی دنیا اس پر خاموش رہتی ہے۔ بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ یہ کیسا انسان دشمن معاشرہ ہے بلکہ ایک جنگل ہے جہاں اونچی ذات کے حیوان چھوٹی ذات کے انسانوں سے جینے کا حق چھین رہے ہیں۔ کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسانیت کو سر بازار رُسوا کیا جاتا ہے۔ اہل قلم خاموش رہتے ہیں، شاعروں کے لب سل جاتے ہیں۔
یہ دیکھئے کرناٹکا میں ایک انسان کو اس کے اہل خانہ کے سامنے ننگا کیا جارہا ہے، مارا جارہا ہے، صرف اس لیے کہ اس غریب نے ایک اونچی ذات کے ہندو موٹر سائیکل کو چھو لیا تھا۔
فروری میں تامل ناڈو میں ایک دلت انسان کو مار مار کر ہلاک کردیا گیا کہ وہ اونچی ذات کے ہندو کسان کے کھیت میں داخل ہوگیا تھا۔ ستمبر میں ایک دلت وکیل نے گستاخی کی سوشل میڈیا پر برہمن ازم پر تنقید کی جرأت کرلی اس لیے وہ موت کا حقدار بن گیا۔


2014 سے دہلی میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) نے مسلسل صحافیوں، حقوق انسانی کے لیے متحرک رضا کاروں، طلبہ، اساتذہ اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خوف زدہ کرنے، مقدمات میں الجھانے، جیلوں میں  ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔


بھارتی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں جو بھارتی معاشرہ دکھایا جاتا ہے وہ سب مصنوعی اور جعلی ہے۔ اصل بھارتی معاشرہ جو ترقی یافتہ شہروں میں بھی ہے۔ وہاں بھی نیچی ذات کے ہندوئوں، اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ان کی نئی نسل کو اپنے امکانات حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے اور وہ بھارت جو دیہات قصبوں میں آباد ہے، دہلی سے دور دراز علاقوں میں سانس لیتا ہے، وہاں تو برہمنوں اور دوسری اونچی ذات والوں نے معاشرے کو دوزخ بنا رکھا ہے۔ مسلمان تو اپنی اراضی، کھیت اور مکانات چھوڑ کر بڑے شہروں میں آنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے بھارتی میڈیا بہت کم آواز اٹھاتا ہے۔ دلّت آبادیوں پر مظالم کے خلاف تو کہیں کہیں احتجاج بھی ہوتا ہے۔
دلت نوجوان عورتیں اجتماعی آبرو ریزی کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ اونچی ذات کے با اثر ہندوئوں کا سیاسی، معاشی، سماجی خوف اتنا غالب ہے کہ حکام اورمیڈیا دلت انسانوں کو ہی قصور وار قرا دے دیتے ہیں۔ دلت کمیونٹی کی تعداد 20کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ یوپی میں 3کروڑ اور بنگال میں پھر بہار میں ایک ایک کروڑ سے زیادہ، باقی پورے بھارت میں ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اونچی ذات والے برہمن صرف 6کروڑ ہیں مگر اقتدار، وسائل ، تجارت پر، صنعت پر ان کا قبضہ ہے۔ حکام ان سے خائف رہتے ہیں۔ بھارت سماج میں بھی انہیں برتری حاصل ہے۔
مسلمانوں کی تعداد اب پاکستان کی آبادی کے برابر 22کروڑ ہونے والی ہے لیکن متعصب ہندو حکمرانوں نے ان کی سیاسی حیثیت کمزور کرنے کے لیے ایسے ایسے قوانین وضع کیے ہیں کہ اب اقتدار کا توازن پہلے کی طرح ان کے ہاتھوں میں نہیں رہا ہے۔ پھر دوسرے ملکوں میں مسلمانوں کی انتہا پسندی نے بھی بھارتی متعصب معاشرے کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو انتہا پسند قرار دے کر اپنے زیر اثر رکھتے ہیں۔ مسلمانوں میں جرأت مندانہ لیڈر پیدا نہیں ہونے دیتے۔ انہیں آپس میںلڑواتے رہتے ہیں۔ اقتصادی طورپر بھی انہیں پہلے کی نسبت بہت کمزور اور بے اثر کردیا گیا ہے۔
انسانی حقوق پر امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے اختیارات کا بے جا استعمال بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اس رپورٹ میں پولیس کی ماورائے عدالت ہلاکتوں، حوالاتیوں سے غیر انسانی سلوک ، بغیر کسی الزام کے گرفتاریاں، نظر بندیاں، میڈیا پر حکومت مخالف رپورٹروں اورتحقیقی صحافیوں کی گرفتاریاں اجاگر کی گئی ہیں۔
امریکی رپورٹ میں بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کچلنے کے واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔ اگست 2019 میں ہریانہ کی جیلوں میں 47فی صد سے زیادہ قیدی تشدد اور بد سلوکی کا شکار ہوئے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے خلاف آن لائن رپورٹ چھاپنے پر ویب سائٹ ایڈیٹر کو نظر بند کردیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کے پاسپورٹ کی تجدید میں کئی کئی سال لگادیے جاتے ہیں۔ جموں و کشمیر  ہیومن رائٹس کمیشن کو ممنوع قرار دیا گیا۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے نگرانی کا ذمہ خود لے لیا۔ یو پی میں خصوصی پولیس فورس قائم کردی گئی جسے بغیر وارنٹ گرفتاری اور تلاشی کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ مسلمانوں اور چھوٹی ذات کے ہندوئوں کے خلاف سب سے زیادہ مظالم یوپی میں ہورہے ہیں۔
بھارت بھر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔ ان کو بہت ہی برے حالات میں رکھا جاتا ہے۔ مسلمان اور دلت قیدیوں پر جیل حکام مظالم ڈھاتے ہیں۔ قیدیوں میں ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
کل تین یونیورسٹیاں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کا خاص ہدف ہیں جن میں دو مسلم یونیورسٹیاں ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، تیسری یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی ہے۔ یہاں بھی مسلمان طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں پولیس اکثر زبردستی داخل ہوجاتی ہے، لاٹھی چارج کرتی ، آنسو گیس پھینکتی اور ربڑ کی گولیاں داغتی ہے۔
عالمی تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینک اگر غیر جانبداری اور خلوص نیت سے تحقیق کریں تو اپنی آبادی کے حوالے سے بھارت انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا گڑھ ثابت ہوگا۔ اسلامی ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ  انسانی حقوق کچلنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کو حرکت میں لائیں آرگنائزیشن آف اسلامک اسٹڈیز او آئی سی کو بھی انسانی حقوق واچ کی تنظیم وجود میں لاکر بھارت میں انسانیت پر سفاکی اور جبر کی رپورٹ ہر سال تیار کرنی چاہئے اور عالمی فورموں پر شواہد، وڈیوز، دستاویزات کے ساتھ اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]