اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:55
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

وادیٔ لیپا۔۔ معرکۂ شیشہ لدی

دسمبر 2021

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ہوئے پون صدی کا طویل عرصہ ہونے والاہے۔ اسلام کے نام پر بننے والی پہلی اور بڑی مملکت آج بھی اپنے دشمنوں کی مسلسل ریشہ دوانیوں ، سازشوں ، منفی پروپیگنڈے اور تخریب کاریوں کے باوجود پوری شان سے ، ہر لحاظ سے سربلند کھڑی ہے۔ ملک عزیز کو پہلے دن سے ہی ایک انتہائی عیار، ریاکار اور بغض سے بھرے ہوئے دشمن سے واسطہ پڑگیا جس سے ہم آج تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ان جنگوں میں ہمارے فوجی جوانوں نے جاں نثاری ، بہادری اور سرفروشانہ جذبوں کی ایسی ایسی محیرالعقول مثالیں پیش کی ہیں جو خال خال ہی ملتی ہیں۔ ہم آج بھی دشمن کی مسلسل ریشہ دوانیوں کا شکار اور اُن سے نبرد آزما ہیں۔




جنگ دسمبر1971 کے بے شمار معرکوں میں وادیٔ لیپا کا معرکہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وادی مظفر آباد سے تقریباً 115 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس وادی کی لمبائی شرقاً غرباً تقریباًدس بارہ کلو میٹر ہے اور چوڑائی600 سے 1500 میٹر تک ہے۔ شرقی حصہ زیادہ اور غربی کم چوڑا ہے۔

 وادی تین بلند پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے۔ شمال مشرق میں شمسابری اور قاضی ناگ سلسلہ ہے جن کی بلندی 13 اور 14 ہزار فٹ کے درمیان ہے اور جنوب مغرب میں کافر کھنڈ پہاڑی سلسلہ ہے جس کی اوسطاً بلندی11 ہزار فٹ ہے۔

 اس سلسلے کے اوپر سے دو راستے وادی کو مظفر آباد سے ملاتے ہیں۔ 1971ء کی جنگ کے دوران یہ راستے کچے اور چھوٹی اوردرمیانی قسم کی گاڑیوں کے لئے تھے جبکہ آج کل یہ پکے ہیں۔ وادی کی اوسط بلندی ساڑھے چھ ہزار فٹ ہے۔ قاضی ناگ نالہ اس وادی کا سب سے بڑا نالہ ہے جو پورا سال بہتا ہے اور مغربی سمت ٹیٹوال کے نزدیک دریائے نیلم میں مل جاتا ہے۔
معرکۂ شیشہ لدی
شیشہ لدی وادی لیپا کے جنوب مغربی حصے جہاں وادی تنگ ہو جاتی ہے، پر شمال کی طرف واقع ہے اس جگہ وادی بمشکل چھ سو میٹر چوڑی ہے اور جنگی نقطہ نظر اور تدبیراتی  پوزیشن کے لحاظ سے اہم جگہ پر ہے۔ 3 دسمبر1971 کو جنگ کے آغاز پر وادی لیپا میںہماری مندرجہ ذیل عسکری موجودگی تھی۔
(١)    ایک کمپنی2 ایف ایف (اکلوتی ریگولر کمپنی)
(ب)    ایک کمپنی ۔ ٹوچی سکائوٹس
(ج)    ایک کمپنی۔ مجاہد فورس
(د)    ایک مؤنٹین بیٹری ۔ آرٹلری
شیشہ لدی فیچر ایک بیضوی شکل کا ہے جو شمالاً جنوباً  پھیلا ہوا اور تقریباً  7500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہ آس پاس کی زمین سے اٹھا ہوا ایک قطعہ زمین ہے جس کی لمبائی شمالاً ، جنوباً  تقریباً7سو سے9سو میٹر اور چوڑائی شرقاً غرباً 200 سے300میٹر ہے۔ اس  فیچر کے ڈھلانی جنوبی حصے پر سوائے چند ایک چیڑ کے درختوں کے کوئی درخت نہیں ہے اور اوپر سے چٹیل میدان کی طرح ہے جس پر چھوٹی چھوٹی خود رَوجھاڑیاں اور گھاس ہے۔ دشمن اس کے شمال میں سری فیچر جو قدرے بلندی پر واقع ہے، پر قابض تھا جو شیشہ لدی سے100سے 150 فٹ بلند ہے۔ یہ وادی کے مشرقی اور مغربی حصے کو کمانڈ کرتا ہے۔ اگر یہ دشمن کے قبضے میں چلا جائے تو وادی میں ہماری پوزیشن بہت نازک ہو جائے اور وادی کا جنوب مغربی حصہ ہمارے کنٹرول سے باہر ہو جائے۔ 
ان خطرات اور جنگی پوزیشن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میجر آفریدی2ایف ایف  جو اس وقت لیپا فورس کمانڈر تھے، نے2 ایف ایف کمپنی کی دو پلاٹون شیشہ لدی اور ایک پلاٹون وانجل پر تعینات کردی حالانکہ شیشہ لدی کے دفاع کے لئے دو پلاٹونز کم تھیں لیکن مجموعی طور پر اس وقت لیپا میں ہمارے پاس سپاہ کی کمی تھی اس لئے مجبوراً اسی کم نفری سے کام چلانا پڑا۔ اس فیچر کی جنگی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمن نے شیشہ لدی پر روزانہ کی بنیاد پر توپ خانے کا فائر کرنا شروع کردیا جس سے اس پر کھدی ہوئی کرال ٹرینچ(Crawl Trench)جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی اور ہر روز ہمارے دو تین جوان شہید یا زخمی ہو جاتے لیکن باہمت جوان ساتھ ساتھ کرال ٹرنیچ کی مرمت بھی جاری رکھتے ۔ یہ امر ذہن میں رہے کہ ہماری سپاہ مضبوط نقطۂ دفا ع یا دوسرے لفظوں میں ''شیل پروف'' بنکروں میں نہیں تھی کہ دشمن کی گولہ باری سے مؤثر طور پر محفوظ رہتی۔ اس گولہ باری کے آغاز سے ہی ہماری سپاہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ دشمن اس پوسٹ پر کسی بھی وقت بڑا حملہ کرسکتا ہے جس کے لئے ہمارے جری جوان اپنی کم تعداد اور وسائل حرب و ضرب کی کمی کے باوجود ہمہ وقت ایسی کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے۔7دسمبرکو اس پوسٹ پر 2 آفیسرز اور 40 جوان (بشمول توپ خانے کی او پی پارٹی) رہ گئے تھے۔ زیادہ تر بنکرز تباہ ہو گئے تھے اور مواصلاتی ذریعہ بھی تقریباً غیر فعال ہو کر رہ گیا تھا۔ وائرلیس کے ذریعے کام چلایاجاتا تھا وہ بھی دشمن کے فائر کی وجہ سے ہمہ وقت کام نہیں کرتا تھا جس سے آرٹلری فائر کروانا مشکل ہوجاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس پوسٹ پر پانی کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور نہ ہی پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی خاطر خواہ بندوبست تھا۔ پانی نیچے وادی سے روزانہ کی بنیاد پر لایاجاتا تھا۔ لگاتار گولہ باری سے کئی دفعہ دو تین تین دن تک پانی کے بغیر گزارہ کرنا پڑتا تھا اور پانی کی راشن بندی کرنی پڑتی تھی۔ آخر کار 7 دسمبر1971ء کا اندھیرا پڑتے ہی دشمن نے بڑے ہی تباہ کن طریقے پر توپ خانے اور مارٹرز سے شیشہ لدی پر گولہ باری شروع کردی جو کہ ایک بڑے حملے کا پیش خیمہ تھی۔ یہ گولہ باری صبح کے تقریباً 4بجے تک جاری رہی۔ اس کے فوراً بعد دشمن نے دو جانب یعنی شمال سے سِری فیچر اور جنوب مغربی  ڈھلان جو قاضی ناگ نالے کی طرف ہے ،سے حملہ کردیا۔  دشمن مشین گنوں، راکٹ لانچرز ، گرینیڈ لانچرز اور آگ برسانے والے ہتھیاروں سے فائر کررہا تھا۔دشمن کی گولہ باری اور آگ برسانے والے ہتھیاروں کی فائرنگ کی وجہ سے پوسٹ کے باہر میدان میں خشک گھاس اور جھاڑیوں کو آگ لگ گئی اور تمام علاقہ روشن ہوگیا۔ اس آگ کی وجہ سے دونوں اطراف کی سپاہ کو فائدہ ہوا۔ دشمن نے اپنے آٹومیٹک ہتھیاروں سے ہمارے مورچوں کو نشانہ بنایا لیکن چونکہ ہماری سپاہ مورچوں میں ہونے کی وجہ سے نسبتاً محفوظ تھی اور دشمن کھلی جگہ سے حملہ آور تھا، ہمارے شیردل مجاہدوں نے دشمن کے تاک تاک کے نشانے لئے اور سامنے وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی حملہ آور فوج کو نشانہ بنایا۔ دشمن کی فوج چیونٹیوں کی طرح پھیلی ہوئی تھی اور بہت بڑی تعداد میں حملہ آور تھی۔ دشمن رات کے اندھیرے میں پوسٹ کے کافی قریب پہنچ گیا تھا اور ایک لحاظ سے سرپرائز حاصل کرلی تھی۔ اسی اثناء میں دشمن نے جنوب مغرب کی طرف لگی ہوئی ہماری اکلوتی مشین گن کو بھی تباہ کردیا اور اس کے مشین گنر کو شہید کردیا۔ لیکن آفریں ہو ہمارے رائفل بردار جوانوں پر جنہوں نے لگاتار فائر سے دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور ان کابھاری جانی نقصان کیا۔ کچھ دشمن توقریباً پچاس گز کے فاصلے تک آگئے تھے۔ کمپنی کمانڈر میجر عزیز اور آرٹلری دیدبان سیکنڈ لیفٹیننٹ  طارق محمود عباسی بھی اسی سمت سپاہ کے ساتھ تھے۔ دشمن نے اس طرف سے کئی بار حملہ کیاوہ چاہتا تھاکہ ہمارے مورچوں کو روند ڈالے لیکن ہماری بہادر سپاہ جو صرف رائفلوں سے مسلح تھی اور کچھ کے پاس دستی بم بھی تھے، نے اُن کی ایک نہ چلنے دی اور تمام حملے پسپا کر دیئے۔ اسی اثناء میں دشمن کی ایک گولی میجر عزیز کے سرپر لگی اور وہ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز اور وطنِ عزیز کی آن اور حُرمت پر قربان ہوگئے۔اس پر سیکنڈ لیفٹیننٹ طارق محمود نے معرکے کی کمانڈ سنبھال لی اور اُسے جاری رکھا۔ شمال کی طرف سے بھی دشمن نے ایک کمپنی سے جو حملہ کیاتھا اُسے ہمارے صرف پندرہ جوانوں نے ناکام بنایاتھا جن کے پاس صرف رائفلز اور دستی بم تھے۔ ہمارے مورچوں کے سامنے چونکہ گریڈینٹ(Gradient) تقربیاً 60سے70 ڈگری تھا اس لئے ادھر دشمن کی زیادہ تر اموات دستی بموں سے ہوئی تھیں۔ صرف دشمن کا ایک پلاٹون کمانڈر ہمارے مورچے کے اندر تک آگیا تھا جس کو ادھر ہی ہلاک کردیاتھا۔ اس نے اپنی چھاتی سے علاقے کا ایک نقشہ بھی باندھ رکھا تھا۔ دونوں اطراف سے دشمن اصل میں اتنا نزدیک آگیا تھا کہ اب اُس کے لئے واپس جانا مشکل ہوگیا تھا۔صبح کی ملگجی روشنی جب پھیلنا شروع ہوئی تو پوسٹ کے نزدیک دشمن کے جوانوں نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی جس پر انہیں ہمارے جوانوں کے سیدھے فائر کا سامنا کرنا پڑا اس سے اُن کا بہت نقصان ہوا اور زیادہ تر اموات اسی موقع پر ہوئیں۔  رات کو مرنے والوں کی لاشیں بھی پوری ڈھلوان پر بکھری ہوئی تھیں۔ صبح کے تقریباً ساڑھے سات بجے تک شیشہ لدی پوسٹ دشمن کے حملے سے محفوظ کر لی گئی تھی۔ اس لڑائی کا انجام دشمن کی پسپائی پر ہوا اور ہمارے جوانوں نے دشمن کو ایک انچ زمین بھی نہ لینے دی۔ دشمن کے تقریباً 150 فوجی مارے گئے اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔ ان کی ایک ٹینک شکن گن ، پانچ مشین گنیں، سات لائٹ مشین گنیں، بہت سی رائفلیں اور بے تحاشا ایمونیشن ہمارے ہاتھ لگا۔ جنگ کے اختتام تک ہم یہی ہتھیار اور ایمونیشن استعمال کرتے رہے۔ چار جنگی قیدی بھی بنائے گئے تھے جن میں دو مسلمان تھے۔ بعد میں تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ حملہ ایک انفنٹری بٹالین 8 راجپوت نے کیا تھا۔ دو کمپنیوں نے جنوب مغرب سے اور ایک کمپنی نے شمال کی طرف سے حملہ کیاتھا۔جنوب مغرب سے حملہ کرنے والی دو کمپنیوں میں سے ایک مسلم کمپنی تھی جس کا کمپنی کمانڈر میجر جی ایس ملک حملے میں مارا گیا تھا۔ 8دسمبر سے جنگ کے خاتمے تک دشمن کو اس پوسٹ پر دوبارہ حملے کی جرأت نہ ہوئی باوجود اس حقیقت کے کہ یہ فیچر تدبیراتی لحاظ سے بہت ہی اہمیت کا حامل تھا۔ 15دسمبر کو دشمن نے ایک دفعہ پھر اپنی خفت مٹانے کے لئے توپ خانے کے بے تحاشا فائر سے اس پوسٹ کو نشانہ بنایا جس سے ہمارا کچھ جانی نقصان ہوا اور چند جوان شہید اور کچھ زخمی ہوئے، لیکن ہمارے بہادر جوان اپنے مورچوں میں ڈٹے رہے۔
شیشہ لدی آپریشن پاکستانی فوج کے ان چند ایک معرکوں میں شامل ہے جہاں ہماری صرف دو پلاٹونوں نے ایک پوری انفنٹری یونٹ کے حملے کو روکا اور اسے ناکام بنایا۔ دشمن کو جہاں کثرت تعداد ، وافرسامانِ جنگ اور توپ خانے کی بے تحاشا شیلنگ اورطاقت کا زعم تھا تو اس طرف اﷲ پاک پر مکمل یقین اور بھروسہ، جذبہ شوق شہادت اور وطن کی مٹی سے محبت کار فرما تھی۔ اسی وجہ سے جانی اور مادی وسائل کی ناقابلِ یقین حد تک کمی کے باوجود دشمن کوشکست فاش سے دوچار کیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔ آج بھی شیشہ لدی پر پاکستان کا ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔
اس معرکے میں 2 ایف ایف کے میجر عزیز شہید کو ستارئہ جرأت سے نوازا گیا جو ان کی ثابت قدمی، حوصلہ جرأت اور قائدانہ صلاحیت کا بجا طور پر اعتراف تھا۔ توپ خانے کے سیکنڈ لیفٹیننٹ طارق محمود، جن کی سروس صرف ایک سال تھی اور جنہوں نے میجر عزیز کی شہادت کے بعد سپاہ کی کمانڈ سنبھالی اور آپریشن کو کامیابی سے ہم کنار کیا، کو بھی ستارئہ جرأت سے نوازا گیا تھا۔ شیسہ لدی فیچر کو میجرعزیز کی شہادت میں عزیز رج(Aziz Ridge) کے نام سے موسوم کردیا گیا تھا جو آج بھی اسی نام سے پہچانی جاتی ہے۔ ||