اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:34
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

فلائنگ برڈ آف ایشیا عبدالخالق:

اکتوبر 2021

پاکستان کے مایہ ناز اتھلیٹ

 عالمی شہرت یافتہ ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ اولمپیئن صوبیدار عبدالخالق جنہیں فلائنگ برڈ آف ایشیا Flying Bird of Asia اور فاسٹسٹ مین آف ایشیا Fastest Man of Asia کے خطاب سے نوازا گیا۔23مارچ 1933ء کو ضلع چکوال کے گائوں جند اعوان میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد کا نام ماسٹر سجاول خان تھا جو تعلیم کے شعبہ سے وابستہ تھے ۔عبدالخالق نے مڈل کا امتحان گورنمنٹ مڈل سکول حسولا سے پاس کیا اور دوران سرو س میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد اپنے علا قہ میں وزن اُٹھانے کے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ یو ں کھیل سے دلچسپی عبدالخالق کو ورثے میں ملی۔ انہیں بچپن سے ہی پنجاب کے روایتی کھیل پڑکوڈی کا شو ق تھا اور اکثر گا ئوں میں منعقد ہو نے والے مقابلوں میں شریک ہو تے۔ اس کھیل کی تربیت انہوں نے اپنے ما موں غلام عباس سے حا صل کی۔ 1948ء میں ان کے گا ئوں میں پڑ کوڈی کے مقابلوں کا انعقاد ہو ا جن کو دیکھنے کے لیے وہاں پاکستان آرمی کے کوچز بھی مو جو د تھے وُہ ان دنوں اکثر ایسے مقابلوں سے کبڈی اور اتھلیٹکس کے نوجوان کھلاڑیوں کا انتخاب کر تے تھے ۔چونکہ اس کھیل میں ایک کھلاڑی آگے دوڑتا ہے اور دو کھلاڑی دوڑ کراسے پکڑنے اور گرانے کی کو شش کرتے ہیں اس لئے اس سے کھلاڑی کی تمام خصوصیات کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ انہوں نے عبدالخالق کو دوڑتے اور عمدہ کھیل کا مظاہر ہ کر تے ہوئے دیکھا۔ وہ بھانپ گئے کہ اس نوجوان میں تیزی پھرتی اور استقلال یعنی وُہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو دوڑ کے کھلاڑی میں ہونی چاہئیں۔ انہی خصوصیات کے پیش نظر عبدالخالق کو پاکستان آرمی جوائن کرنے کی پیش کش کی گئی جسے انہو ں نے قبول کر لیا ۔ کسے معلوم تھا کہ یہ نوجوان آگے چل کر ملک و قوم کا نام  اتھلیٹکس کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر روشن کر ے گا۔ اس طرح عبدالخالق نے ملازمت کا آغاز 1948ء میں پاکستان آرمی کے آرٹلری سنٹر اٹک سے بطور سپورٹس مین کیا ۔انتھک محنت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت یہ جلد ہی پاکستان آرمی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔پاکستان آرمی کے تربیتی کیمپ میں ان کی صلا حیتو ں کو نکھارنے میں پاکستان آرمی سپورٹس کے انچارج بریگیڈیئر رودھم نے اہم کر دار ادا کیا۔ ان کی اعلیٰ تربیت اور عمدہ کو چنگ کی بدولت عبدالخالق نے قومی اور عالمی سطح پر اتھلیٹکس کے میدان میں کامیابیاں حا صل کیں ۔ انہوں نے اپنے سپورٹس کیریئر کے دوران پاکستانی کو چز کے علا وہ برطانیہ کے کو چ مسٹر ریلے سے بھی تربیت حاصل کی ۔1954ء میں چوتھی نیشنل گیمز ساہیوال (اس وقت نام منٹگمری تھا) میں منعقد ہوئیں جن میں عبدالخالق نے 100میٹر دوڑ او ر 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹس میں گولڈ میڈل حا صل کر کے قومی سطح پر کامیابیوں کا آغاز کیا ۔عالمی سطح پر Legend Sprinterعبدالخالق کے گولڈ میڈل، سلور میڈل اوربرونز میڈل حاصل کرنے کی فہرست طویل ہے مگر ان میں سے چند ایک کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔ 
بین الاقوامی سطح پر عبدالخالق نے کا میا بیوں کا آغاز1954ء میں فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہو نے والی دوسری ایشین گیمزسے کیا ۔ ان مقابلوں میں انہو ں نے عمدہ کارکر دگی کا مظاہرہ کر تے ہوئے 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میںنہ صرف گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ ساتھ ہی نیا ایشین ریکارڈ بھی بنا ڈالا۔اس طر ح یہ ایشیا کے تیز ترین کھلاڑی قرار پائے۔ ان مقابلوں میں ہی 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں ٹیم کے ساتھ سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ 1956ء میں انڈیا کے شہر دہلی میں پاک بھارت میٹ (مقابلوں )کا آغاز ہوا جس میں عبدالخالق نے 100میٹر اور 200میٹر دوڑ کے ایونٹس میں نہ صرف گولڈ میڈل حا صل کیے بلکہ ساتھ ہی دو نئے ایشین ریکارڈ بنانے کا اعزازبھی حاصل کیا ۔ان مقابلوں میں ہی 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میںٹیم کے ساتھ سلور میڈل حا صل کر نے میں کامیاب رہے۔ عبدالخالق کو اس شاندار کارکر دگی پر Flying Birdکا خطاب ان مقابلوں کے مہمان خصوصی انڈیا کے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرونے دیا تھا، جب انہوں نے انڈیا کے معروف تیز دوڑنے والے اتھلیٹس پر سبقت حا صل کی۔ 1956ء میں عبدالخالق نے میلبورن اولمپک گیمز میں پاکستان کی نما ئندگی کی۔ ان مقابلوں میں یہ دُنیا کے سات بہترین کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔1957 میں ایران کے شہر تہران میں اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہو ا جن میں عبدالخالق نے 100میٹر دوڑ، 200میٹر دوڑ اور 4x100میٹر ریلے کے تینوں ایونٹس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے گولڈ میڈل حا صل کیے۔ اسی سال ایتھنز میں ورلڈ ملٹری اتھلیٹکس مقابلوں میں100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل کے ساتھ بڑی کامیابی حا صل کی۔1958ء میں عبدالخالق کو جاپان کے شہر ٹوکیو میں ایشین گیمزمیں ایک مر تبہ پھر قسمت آزمانے کا موقع میسر آیا۔ انہو ں نے کامیابیوں کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل حاصل کیا۔1959ء میں انہوں نے انگلینڈ کے شہر بیڈ فورڈ(Bed ford) میں انٹرنیشنل مقابلوں میں 100گز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل، ڈبلن میں 220گز کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور Dual Empire Games میں 220گز دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل حا صل کیا۔ اسی سال انگلینڈ کے شہر گلاسکو میں انٹرنیشنل مقابلوں میں 120گز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔1959ء میں ہی سویڈن میں انہو ں نے دو انٹرنیشنل مقابلو ں میں 200میٹر کے ایونٹ میں ایک گولڈ میڈل اور ایک سلور میڈل حا صل کیا۔ 
ان کے بیٹے محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ 1959ء میں یورپ میں لگا تار گیارہ میڈل جیتنے پر انہیں وہاں Unbeaten Man کے خطاب سے نواز گیا ۔ 1960ء میں روم اولمپک گیمز میں عبدالخالق کو ایک مر تبہ پھر پاکستان کی نمائند گی کا موقع ملا۔ اس مرتبہ انہوں نے100میٹر دوڑ اور 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹس میں ابتدائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں مگر میڈل تک رسائی حاصل نہ کرسکے ۔1960ء میں پاکستان، ایران اور انڈیا کی اتھلیٹکس ٹیموں کے درمیان لا ہور میں مقابلے منعقد ہو ئے جن میں عبدالخالق نے 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل حا صل کیا ۔انہی مقابلوں میں 200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں انڈیا کے مشہور زمانہ اتھلیٹ ملکھا سنگھ کو گولڈ میڈل حا صل کر نے پر اُس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے Flying Sikhکا خطاب دیا۔1962ء میں عبدالخالق نے ملائشیاء میں 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل اور 200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈ ل حاصل کیا۔انٹرنیشنل مقابلوں میں یہ ان کی آخری کامیابی تھی۔عبدالخالق کا انٹرنیشنل سطح پر کا میابیوں کا سلسلہ 1954ء سے شروع ہو کر 1962ء میں اختتام پذیر ہوا ۔ انہو ں نے اتھلیٹکس کے میدان میں پاکستان کے علاوہ ہالینڈ ، آسٹریلیا، ایران ، یونان ، فلپائن، انگلینڈ ، انڈیا ، جرمنی ، سکاٹ لینڈ، جاپان، چین ، سویڈن ، آئرلینڈ، مصر اور ملائشیاء میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ۔یاد رہے کہ عبدالخالق کے چھوٹے بھائی آنریری کیپٹن عبدالمالک کو بھی اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ صلاحیتوں سے نواز ا تھا ۔ انہوں نے قومی سطح پر نہ صرف ممتاز مقام حا صل کیا بلکہ انٹرنیشنل مقابلوں میں بھی کامیابیاں حا صل کیں ۔عبدالمالک نے 1960ء سے 1971ء تک وطن عزیز میں نیشنل گیمز اور نیشنل اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 110میٹر ہرڈل دوڑ کے ایونٹ میں 3گولڈ، 2سلور میڈل اور 3برونز میڈل حاصل کیے۔ عبدالمالک نے لا ہور میں پاکستان ،ایران اورانڈیا کی ٹیموں کے درمیان منعقد ہو نے والے اتھلیٹکس مقابلوں میں 110میٹر ہرڈل دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل اور 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں ٹیم کے ساتھ گولڈ میڈل حا صل کیا۔ بلا شبہ دونوں بھائیوں کی کھیل کے میدان میں خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ عبدالمالک 2021ء میں اس جہان فانی سے کو چ کر گئے، انہیں آبائی گائوں میں سپرد خاک کیا گیا۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
 عبدالخالق کی کوچنگ کے شعبہ میں خدمات قابل تحسین ہیں ۔انہو ں نے1965ء سے1970ء تک مختلف اوقات میں پاکستان آرمی میں بطور کوچ خدمات انجام دیں ۔تین سال پاکستان سپورٹس بورڈ میں قومی ٹیم کے کوچ رہے۔ پاکستان آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب سپورٹس بورڈ میں بطور اتھلیٹک کوچ اپنی خدمات پیش کیں ۔
 اس کے علاوہ عبدالخالق نے 1965ء کی جنگ میں جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع کے لیے عسکری خدمات بھی سرانجام دیں۔ 1971ء کی جنگ کے دوران بنگال میں انہیں 90ہزار پاکستانی قیدیوں کے ساتھ انڈیا نے جنگی قیدی بنا لیا تھا ۔ان کے بیٹے محمد اعجاز کے بقول ان کی والدہ نے بتایا کہ انڈیا میں قید کے دوران انڈیا کے سپر سٹار اتھلیٹ صوبیدار ملکھا سنگھ جب انہیں قیدیوں کے کیمپ میں ملنے آئے تو وُہ ان کو اس طر ح قید میں دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے اور ساتھ ہی ان کا حوصلہ بڑھایا اور تسلی دی ۔ ملکھا سنگھ نے انڈین آفیسر سے ان کا خیال رکھنے کو کہا۔عبدالخالق کے خاندانی ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کی قید کا جب علم ہوا تو انہوں نے عبدالخالق کو رہا کر نے کی پیش کش کی مگر عبدالخالق نے اُن کی اس پیش کش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرادیا کہ میں ساتھیوں کے ساتھ ہی رہائی حا صل کروں گا، اس طر ح جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان شملہ معاہدہ طے ہوا تو عبدالخالق اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہی وطن واپس لوٹے۔زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کر تیں۔1958ء میں عبدالخالق کو ان کی بے مثال کامیابیوں اور قومی خدما ت کے صلہ میں اُس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ پاکستان آرمی نے قومی خدمات کے پیش نظر انہیں ایک مربع زمین صوبہ سندھ میں بطور انعام پیش کی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے ان کی خدمات کے اعتراف اور ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے جناح سپورٹس سٹیڈیم کے انٹری گیٹ نمبر 5کا نام عبدالخالق کے نام سے منسوب کیا ۔ عبدالخالق کی زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ جانوروں اور پرندوں کے شکار کے بیحد شوقین تھے۔ انہوں نے تیتر ،بٹیر اور شکاری کتے بھی پال رکھے تھے۔ انہوں نے زندگی بھر اس شوق کو جاری رکھا۔ اس سے انہیں جسمانی فٹنس بحال رکھنے کا موقع بھی میسر رہا ۔ عبدالخالق نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے کاغذات جمع کرائے مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ یہ بیماری کی وجہ سے اس مقدس سفر پر روانہ نہ ہوسکے ۔کمر اور پیٹ میں شدید درد کی وجہ سے انہیں گائوںسے ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں لایا گیا جہاں پر دوتین دن زیر علا ج رہے اور ساتھ ہی حکومت پاکستان کی طر ف سے برطانیہ میں مزید علاج کی منظور ی کے کاغذات تیار کیے گئے مگر قدرت نے مہلت نہ دی۔ہسپتال میں جب ان کی والدہ انہیں دیکھنے آئیں تو ان پر نزع کا عالم طاری تھا والدہ انہیں اس حال میں دیکھ کر رونے لگیں اور ان کا نام لے کر انہیں تین مرتبہ آوازدی عبدالخالق نے والدہ کی اس پکار پر آنکھیں کھولیں اور جن الفا ظ میں والدہ کو پکارا کرتے تھے انہیں الفا ظ میں کہا "جی بے جی"یہ ان کے آخری الفا ظ تھے اس کے ساتھ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
ان کی نماز جنازہ جامع مسجد کے خطیب ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر عبدالحفیظ نے پڑھائی عبدالخالق کو10مارچ 1988ء کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آبائی گا ئوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر انور پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ عبدالخالق بلا شبہ ملک و قوم کا عظیم سرمایہ تھے ان کی کھیل کے میدان میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
ان کے پسماندگان میں چار بیٹے غلام عباس ، محمد اشفاق، محمد اعجاز ، عبدالرزاق تین بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں۔ ||