اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 14:50
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

کرونا وائرس کی نئی لہر اور ویکسین

جنوری 2021

کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی پھر سے اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وائرس کی ایک نئی لہر پورے زوروشور سے آچکی ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔جس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ شہریوں نے کرونا سے بچائوکی احتیاطی تدابیر میں کچھ غفلت سے کام لینا شروع کر دیا اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے لیکن متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی دنیا کچھ عرصے تک واپس کرونا سے پہلے کی زندگی میں واپس نہیں لوٹ سکتی کیونکہ وائرس ابھی ختم نہیں ہوا اور اب یہ معاشرتی فاصلہ، ماسک کا استعمال اور ہاتھوں کا بار بار دھونا اور سینیٹائزر کا استعمال ایک نیو نارمل ہے۔ 



ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کی نئی لہر کے آنے سے اس کی روک تھام کے لئے ویکسین کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے اورحالیہ کچھ عرصے میں بہت مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور کئی ادویہ ساز اداروں نے ویکسین کے تجربات کے نتائج جاری کر دیئے ہیں۔ایک ویکسین کے پچانوے فی صد تک مؤثر ہونے کی خبریں آچکی ہیں،مگر اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا کی وباکب ختم ہوگی۔
گزشتہ دنوں برطانیہ نے امریکی دوا ساز کمپنی فائزر (Pfizer)اور جرمن دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک   (Bio Ntech)کی کرونا ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کی منظوری دی ہے اور برطانیہ میں ویکسی نیشن کا آغاز ہو چکا ہے۔کیونکہ یہ ویکسین اپنی ٹرائلز مکمل کر چکی ہے اوروائرس کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ ویکسین آیا وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی یا پھر صرف اس وائرس کے حملے کی شدت کو کم کرے گی۔ کیونکہ ماضی میں فلو ویکسین کے استعمال سے اسے قابو کیا جارہا ہے لیکن مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ایسا ہی کرونا وائرس کے معاملے میں بھی ہوتا نظر آرہاہے۔ 
لیکن فائزر اور بایو این ٹیک کی جانب سے متعارف کرائی گئی ویکسین کو منفی ستر ڈگری سینٹی گریڈدرجہ حرارت درکار ہوگا اور اسے چھ ماہ کے لئے محفوظ کیا جا سکے گا جو کہ پاکستان جیسے ملک میں انتہائی مشکل کام ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے چند روز قبل عوام کو ایک خوشخبری سنائی کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ پاکستان کرونا کی کون سی ویکسین استعمال کرسکتا ہے اس کے لئے ہمیں ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرنے ہوں گے۔ حکومت کی کوشش ہے اسی ویکسین کا استعمال کریں جو ہمارے لئے فائدہ مند ہوں اس کام کے لئے وفاقی کابینہ نے ایک ویکسین کی خریداری کے لئے 150 ملین ڈالر مختص کرنے کی منظوری دی۔ پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا ویکسین عوام کو مفت فراہم کی جائے گی۔ حکومت فنڈ اکٹھا کررہی ہے، 2021 کی دوسری سہ ماہی میں ویکسین لگانا شروع کردیں گے۔
محققین کیوں یہ تحقیق کر رہے ہیں؟
عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو جلد ہی عالمی وبا قرار دے دیا تھا کیونکہ دنیا بھر میں اس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 
اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس کے دنیا بھر میں 1 کروڑ 90 لاکھ 79 ہزار 202 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں۔ جن میں سے 1 لاکھ 5 ہزار 972 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 4 کروڑ 62 لاکھ 44 ہزار 197 کرونا مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں محققین وائرس کی جانچ اور اس کے اثرات پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس کا مقابلہ کر سکیں جس میں ممکنہ ویکسین بھی شامل ہے۔ ویکسین ایک طریقہ علاج ہے جو بیماری سے بچائوکے نظام مدافعت کو تیار کرتی ہے اور اس بیماری کے مقابلے میں یہ تیزی سے ردِ عمل دیتی ہے۔ جراثیم کے مقابلے میں جیسے وائرس بیکٹریا جو کہ مستقبل میں جسم کے اندر جا سکتے ہیں، اگر یہ جسم میں داخل ہو گئے تو ویکسین کی وجہ سے نظامِ مدافعت اس کے لئے تیار رہتا ہے ۔ جس سے جرثومہ نقصان پہنچانے سے پہلے ہلاک ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت دنیابھر میں دو سو کے قریب ویکسینز کے ٹرائلز جاری ہیں۔چالیس کے قریب انسانوں پر ہو رہے ہیں اور تیرہ یا چودہ فیز تھری ٹرائلز میں یعنی آخری فیز میں جاری ہیں۔
پاکستان میں پہلی بار چین کی کرونا ویکسین کے
 تاریخی ٹرائلزجاری۔۔۔
دوسری طرف ایک اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان میں چین کے تعاون سے تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین فیز تھری کے تاریخی ٹرائلز جاری ہیں ۔ پاکستان کی طبی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی بھی ویکسین کے ملک میں ٹرائلز ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ ٹرائلزحکومتِ پاکستان اور قومی ادارہ صحت کے اشتراک اور نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کی نگرانی میں جاری ہیں اور ملک بھر میں پانچ مراکز میں ویکسین کے فیز تھری کے فری ٹرائلز جاری ہیں۔۔ 
کراچی میں انڈس ہسپتال اور آغا خان ہسپتال،لاہورمیں شوکت خانم ہسپتال اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز اور اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کرونا ویکسین فیز تھری کے ٹرائلز ہو رہے ہیں۔
اے ڈی فائیو نوول کرونا وائرس ویکسین (Ad5-ncoV Vaccine) جس کے ٹرائلز جاری ہیں اس کو چین کی کمپنی بائیو ٹیک کینسائنو بائیو نے بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بنایا ہے۔
چین کی تیار کردہ یہ ویکسین ایڈینو وائرس ویکٹر پانچ کے نام سے جانی جاتی ہے جس میں ایڈینو وائرس ویکسین کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ قدرتی طور پر ایڈینو وائرس ہی عام ہے جو عام طور پر نزلہ زکام اور سانس کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ اس ویکسین میں جو ایڈینو وائرس استعمال ہو رہا ہے ان کو تبدیل کیا گیا ہے تا کہ وہ اس بیماری کو پھیلا نہ سکیں اور انسانی جسم میں کرونا وائرس کے مقابلے میں مدد گار ثابت ہو۔ 
اسلام آباد کے ایک معروف ہسپتال میں سب سے پہلے ان کلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہوا۔ شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقبال خان ان چند پہلے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے ویکسین ٹرائل کے لئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی اچھی خبر پاکستانی عوام کو ملے گی۔ ڈاکٹر اقبال کے مطابق انہیں ویکسین لگوانے کے بعد کسی قسم کے منفی اثرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بس ہلکا سا بخار اور متلی کی کیفیت محسوس ہوئی جو کچھ دیر بعد ٹھیک ہو گئی۔
ویکسین کی فیز تھری ٹرائلز سے کیا مراد ہے اور اس کا
 طریقہ کار کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق فیز تھری تک کسی ویکسین کے پہنچنے سے مراد ہے کہ وہ کلینیکل آزمائش اور انسانوں پر آزمائش کے ابتدائی مراحل میں کامیاب ہو چکی ہے یعنی ویکسین انسانوں پر استعمال کرنے کے لئے محفوظ ہے۔
ابتدا میں ویکسین کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے پھر کم تعداد میں انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ پہلے دو مراحل یعنی فیز ون اور فیز ٹو کے تجربات چین میں ہی ہوئے تھے۔فیز ون اور ٹو میں ویکسین کے کامیاب ٹرائلز بڑے میڈیکل رسائل میں چھپ چکے ہیں جیسے کہ ''لینسٹ''(Lancet)نامی اہم میڈیکل جرنل۔ اسی لئے فائنل یعنی فیز تھری کا آغاز کیا گیا۔
 تحقیق کاراوروبائی امراض کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان کے مطابق دنیا میں سات ممالک میں بیک وقت ٹرائلز جاری ہیں تقریبا تیس سے چالیس ہزار رضا کار اس تحقیق میں حصہ لیں گے جن میں سے ابتدائی طور پر پاکستان کے پانچ سینٹرز میں دس ہزار رضا کاروں پر ویکسین لگائی جانی تھی تاہم اب یہ ہدف اٹھارہ ہزار کے قریب جا پہنچا ہے اور ابھی تک نو ہزار سے زائد رضا کار اس میں شرکت کر چکے ہیں۔
تحقیقات کے شواہد بتاتے ہیں کہ ویکسین محفوظ ہے، ہلکی نوعیت کے مضر اثرات نہیں ملے۔صرف محدود اور معمولی اثرات جیسے کہ بخار، پٹھوں میں درد، سردرد وغیرہ ظاہر ہوئے تھے جو بخار اور درد کی ادویات سے ختم ہو جاتے ہیں۔
کرونا وائرس کے خلاف آزمائی جانے والی ویکسین کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور یہ ویکسین موجودہ دستیاب ویکسینز کی طرح انسانی جسم میں قوتِ مدافعت بڑھانے والی تصور کی جاتی ہے۔ 
اس ویکسین میں وائرس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ شامل ہے جو مدافعتی ردِ عمل پیدا کرتا ہے جو انسانی جسم میں نشوونما نہیں پا سکتا لہٰذا بیماری کا باعث نہیں بنتا۔ دنیا میں موجود باقی روایتی ویکسینز کے بنانے میں سالوں درکار ہوتے ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث یہ چینی کنسائینو ویکسین جلد تیار کر لی گئی ہے۔
 ڈاکٹر اعجاز خان کے مطابق یہ ایک پوشیدہ تحقیق ہے جس میں ویکسین کا موازنہ پلیسیبو(Placebo)(غیر فعال محلول) سے ہو گا۔ ڈاکٹر اور شرکاء کسی کو بھی ویکسین کے بارے میں معلوم نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ ویکسین منتخب کر سکیں گے ۔ پتہ صرف تحقیق مکمل ہونے کے بعد چلے گا یا کسی ایمرجنسی کی صورتحال میں۔ یہ ایک رینڈمائزڈ تحقیق ہے جس میں حصہ لینے والے کے  ویکسین یا پلیسیبو لگنے کے برابر چانسز ہیں۔اور تحقیق کا کل دورانیہ بارہ ماہ ہے۔ جس میں رضا کار کو دو مرتبہ ویکسین سینٹر کا دورہ کرنا ہے ۔ جبکہ ہفتہ وار ٹیکسٹ پیغام اور ماہانہ فون کالز کی جائیں گی۔ سینٹر میں آنے کے بعد طبی عملہ جسم کا درجہ حرارت، بلڈ پریشر، نبض ، وزن اور قد کا اندراج کرے گا اور ویکسین لگنے سے پہلے خون کے نمونے لئے جاتے ہیں اوردوسرا نمونہ تحقیق کے اختتام یعنی بارہ ماہ بعد لیا جائے گا جس سے اینٹی باڈیز دیکھی جائیں گی۔
ویکسین ٹرائل میں کون سے افراد رضا کار بن سکتے ہیں ؟
ایک صحت مند رضا کار جس کی عمر اٹھارہ سال یا زائد ہو وہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتا ہو اور اپنی رضا مندی کے ساتھ اس سٹڈی کا حصہ بنے۔ویکسین کے کسی بھی دوسرے ٹرائل میں حصہ لینے والا اور ماضی میں لیبارٹری سے مصدقہ کرونا وائرس کا حامل فرد، مدافعتی کمی کے شکار افراد، کیسنر وغیرہ کے لئے تشخیص یا زیرِ علاج افراد اور کسی بھی ویکسین سے سخت الرجی رکھنے والے افراد یا خون کے بہنے کا عارضہ رکھنے والے اور سٹڈی کے آغاز میں حاملہ خواتین اس تحقیقاتی ویکسین ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ 
ویکسین ٹرائل کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟
ویکسین ٹرائلز اس بات کو متعین کرے گی کہ آیا کرونا وائرس کی روک تھام ہو رہی ہے یا نہیں۔اس ٹرائل سے پاکستان میں وائرس سے حفاظت اور فائدے کا تأثر قائم ہو گا اور ویکسین عام لوگوں کے لئے جلد دستیاب ہو گی جس سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ٹرائلز کی کامیابی کی صورت میں اس کو استعمال کے لئے منظور کیا جائے گا اور تحقیق سے حاصل کردہ معلومات کرونا کے خلاف ویکسین کی تیاری میں مدد دیں گی۔
ان ٹرائلز میں حصہ لینے کے باعث پاکستان ان ممالک میں شامل ہو گا جن کو ویکسین ٹرائلزکی کامیابی کی صورت میں ترجیحی بنیادوں اور بتدریج سستے داموں میں اس ویکسین کی فراہمی کی جائے گی۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ ویکسین کتنے عرصے تک کرونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرے گی ۔اس وقت تو اس ویکسین کی ایک ڈوز لگائی جا رہی ہے لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید ایک اور ڈوز کی ضرورت پیش آ جائے۔ اس لئے کرونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کو سختی سے اپنائے رکھنا ہو گا۔ ||


مضمون نگار حالاتِ حاضرہ اور صحت سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں
 [email protected]