اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:18
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

صحت مند زندگی کے لئے اپنے، اور اپنے پیاروں کے، دل کا خیال رکھیں

اکتوبر 2020

 دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
ناصر کاظمی کی مشہور غزل کے ان اشعار میں دل کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا کی تمام تر زبانوں میں کی گئی شاعری میں دل کی ایک خاص اہمیت ہے۔ پھر وہ چاہے دل کا خوش ہونا ، دل کا چُرانا، دل جیتنا ہو یا دل کا ٹوٹنا ان سب صورتوں میں دل کی بات ہی کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مرزا غالب نے بھی کہا کہ
'' دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
 آخر اس درد کی دوا کیا ہے''
یہ تو تھی شعروشاعری کی دنیا کی بات لیکن اگر انسان کی زندگی کی حقیقت دیکھی جائے تو دل انسانی جسم کا سب سے اہم عضو ہے۔



 دل سینے کے تقریباً وسط میں پھیپھڑوں کے درمیان ہوتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق نارمل حالت میں دل کی دھڑکن کی رفتارایک منٹ میں ساٹھ سے سو مرتبہ ہوتی ہے۔تاہم عمر کے ساتھ ساتھ دھڑکن کی رفتار بڑھ سکتی ہے اور جسمانی طور پر سرگرم افراد میں یہ رفتار کم ہو سکتی ہے۔جوکہ نارمل حالت میں ایک منٹ میں چالیس بار ہو سکتی ہے۔ اگر دل ناکام ہوجائے تو ہمارا مکمل جسم سانس لینا اور کام کرنا بند کر دیتا ہے، نتیجتاً ہمارا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ 
دل انسانی جسم کا اہم ترین حصہ ہے اور پورا نظامِ خون اس پر منحصر ہے۔ ایک عضلاتی پمپ کی طرح اس کا بنیادی مقصد پورے جسم کو خون پہنچانا ہے۔
ادارہ برائے عالمی صحت کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں ہر برس امراضِ قلب سے ایک کروڑ 75 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دل کے امراض بیشتر ممالک میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زیاہ افراد دل کے امراض سے جاں بحق ہو جاتے ہیں ۔
کن افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جن افراد میں بلند فشارِ خون، مٹاپا، شوگر اور کولیسٹرول کا مسئلہ ہوتا ہے ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔لیکن مناسب وقت پر علاج اور دوائیوں یا پھر آپریشن سے اموات میں کمی ممکن ہے۔غیرمتوازن غذا، ورزش یا چہل قدمی نہ کرنا، تمباکو نوشی اور الکوحل کا استعمال کرنے والے افراد میں بھی دل کے امراض ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق احتیاط اور آگاہی نہ ہونے سے دل کی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
دل کی بیماریاں اس وقت شروع ہوتی ہیں جب کولیسٹرول، چربی، اورپلاک کی شکل میں چونا(کیلشیئم)خون کی نالیوں (شریانوں)میں جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ کولیسٹرول، چربی اور کیلشیئم کے جمنے سے دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں خون کے گزرنے کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے، اور دل کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی۔ دل کو آکسیجن کی یہ کمی سینے میں درد کا باعث بنتی ہے، اور اس کو انجائنا بھی کہتے ہیں۔ دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں رکاوٹ کے باعث ہوتی ہے ۔
ذہنی دباؤ، ڈپریشن،پریشانی اور افسردگی۔۔۔کیا ان کے باعث بھی دل کے مسائل ہو سکتے ہیں؟
امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ جاننے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ذہنی تنائو دل پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن ذہنی تناؤ ان عوامل کو متاثر کرسکتا ہے جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھاتے ہیں جیسے کہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافہ ، سگریٹ نوشی وغیرہ۔ کچھ افراد اپنے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لئے بہت زیادہ شراب یا سگریٹ پینے کا انتخاب کرتے ہیں جوکہ بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے اور شریانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اگر یہ صورتحال زیادہ دیر تک رہے تو جسم ایک ہارمون جاری کرتا ہے جو ایڈرینالین (Adrenaline)کہلاتا ہے جو عارضی طور پر آپ کی سانس لینے اور دل کی شرح رفتار تیز کرنے اور آپ کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔جس کا مقصد کسی آنے والی صورتحال کے لئے انسان کو تیار کرنا ہے۔ 
گھر ، دفتر یا سڑک کہیں بھی ہوں۔ ذہنی دباؤ سے بچنا مشکل ہے، کسی بھی شخص کی زندگی سو فیصد پرسکون نہیں ہوتی۔ تاہم امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجاویز کے مطابق اگر ان چیزوں پر عمل کیا جائے تو کسی حد تک پرسکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ مثبت انداز میں خود کلامی کرنا جیسے کہ میں یہ کر سکتا ہوں جس سے تناؤ میں کمی آ سکتی ہے، اس کے علاوہ خود کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرنا جیسے کہ لکھنا پڑھنا، عبادت کرنا ،یوگا ، ورزش، چہل قدمی، کھیل، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ، میوزک سننا وغیرہ۔ 
دل کی بیماریوں کی عمومی علامات کیا ہوتی ہیں؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دل کی شریانوں یا وریدوں کی بنیادی بیماری کی کوئی علامت تو نہیں ہوتی تاہم فالج یا دل کا دورہ اس بیماری کی پہلی وارننگ ہو سکتی ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے چئیرمین اورماہر امراضِ قلب ڈاکٹر حبیب الرحمان نے دل کی بیماریوں کی علامات کے حوالے سے بتایا کہ اس کے علاوہ مریض سانس لینے میں دشواری یا تکلیف کا سامنا کرسکتا ہے۔ الٹیاں کرنا ، سرمیں ہلکا درد یا بیہوش ہونا ، ٹھنڈے پسینے آنا بھی دل کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔
دل کے دورے اور فالج کی علامات میں سینے کے درمیان میں اکثر درد یا تکلیف کا ہونا، بازوؤں ، بائیں کندھے ،کہنیوں ، جبڑے یا پیٹھ میں درد کا ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فالج کی سب سے عام علامت جسم کے ایک طرف چہرے ، بازو یا ٹانگ کی اچانک کمزوری یا بے حسی ہوتی ہے، الجھن کا شکار ہونا ،بولنے یا سمجھنے میں دشواری ہونا، ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے میں دشواری ، چلنے پھرنے اور توازن برقرار رکھنے، شدید سر درد اور بیہوشی بھی فالج کی علامت ہو سکتی ہے۔ان سب علامات کا سامنا کرنے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنا چاہئے۔
دل کے چار خانے یا چیمبر ہوتے ہیں۔ جبکہ ہر خانے سے دوسرے خانے میں داخل ہونے کے لئے خون والو(Valve) سے گزرتا ہے۔جو کہ خون کے واپس بہاؤ کو روکتا ہے۔ ان کی تعداد بھی چار ہی ہوتی ہے۔والو ایک دروازے کا کام کرتا ہے۔
دل کے والو کی بیماریاں بھی بہت عام ہیں جس کے بارے میں آگاہی کی ضرورت ہے۔ماہرامراضِ قلب ڈاکٹر حبیب الرحمان اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دل کے والو کی بیماریوں کی کم آگاہی کی وجہ سے مریض بروقت علاج نہیں کروا پاتے جو بیماری کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے۔جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ دل کے فیل ہونے اور موت تک کا باعث بن سکتا ہے۔ دل کے والو کی بیماریوں کی چند اہم وجوہات ہیں جن کا جاننا اہم ہے۔ جیسے ریومیٹک بخار(گٹھیا) کا ہونا جس سے دل کے والو بند ہو جاتے ہیںیا سکڑ جاتے ہیں۔کچھ مریضوں میں والو کے نقائص پیدائشی بھی ہو سکتے ہیں۔یا پھر عمر کے بڑھنے سے بھی والو میں خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ دل کے دورے کے بعد بھی دل کے بڑھ جانے سے والو میں لیکیج ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر حبیب الرحمان کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ توجہ دل کی شریانوں کی بیماری پر دی جاتی ہے اس لئے دل کے والو کی بیماریوں کی آگاہی کم ہے اور عمومی طور پر لوگ دل کی شریانوں کی بیماری کو بھی والو کی بیماری ہی سمجھتے ہیں۔
عمومی طور پر دل کے والوکی تبدیلی سرجری کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن چند مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں سرجری کے ذریعے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا اور رسک زیادہ ہوتا ہے۔ جیساکہ عمر کا زیادہ ہونا، مختلف بیماریوں کی وجہ سے بھی اوپن ہارٹ سرجری ممکن نہیں ہوتی۔ ایک نیا اور جدید طریقہ علاج بھی آ چکا ہے جس میں آپریشن کے بغیر والو کی تبدیلی ممکن ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں شعبہ امراض قلب کی ٹیم نے خطے کا پہلا بغیرآپریشن دل کے پرانے سرجیکل والو کا بذریعہ TAVR (Transcatheter Aortic Valve Replacement) جدید اور منفرد علاج کامیابی کے ساتھ کیا۔
یہ پروسیجر ڈا کٹر اسد اکبر خان (کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ) کی سربراہی میں کیا گیا جو کہ امریکہ میں 500 سے زائد اس طرح کے پروسیجر کر چکے ہیں۔یہ طریقہ علاج ایک اہم پیش رفت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور اب اس طریقہ علاج کوایک متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے نازک صحت کے حامل منتخب مریضوں کے دل کے والو کی تبدیلی اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر بھی ممکن ہے۔
اس نئے انٹروینشنل پروسیجر کی بدولت مریض کے دل کے والو کی تبدیلی ٹانگ میں ایک چھوٹے سے کٹ کی مدد سے Transcatheter کی رسائی کو ممکن بنا کر کی جاتی ہے۔ 
کن احتیاطی تدابیر سے دل کی عمومی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے ؟
سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ماہر امراضِ قلب  میجر جنرل(ر)اظہر کیانی کہتے ہیں کہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماریوں سے بچاو ٔمیں مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سادہ غذا، ورزش، پیدل چلنا کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ، وزن کو نہ بڑھنے دیا جانا ، سگریٹ نوشی کو ترک کرنے سے دل کی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ تمباکو نوشی کے حوالے سے ڈاکٹر اظہر کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف دل کی بیماریوں بلکہ مختلف قسم کے کینسر کا خدشہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔ 
اس کے علاوہ ان کا یہ بھی مشورہ ہے کہ بلڈ پریشر اور شوگر میں مبتلا افراد کو چاہئے کہ اس پر کنٹرول رکھیں۔کیونکہ اسی فیصد دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد شوگر کے مریض ہیں اور اگر بلڈ پریشر قابو میں نہ ہو تو فالج،نظر ختم ہو سکتی ہے۔دل کمزور ہو سکتا ہے جس کے بعد دل میں خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور دل اور گردے فیل ہو سکتے ہیں۔پھیپھڑوں میں پانی بھی بھر سکتا ہے۔  
ڈاکٹر اظہر کیانی کہتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر نہ صرف عمر رسیدہ افراد بلکہ بچے اور نوجوان بھی دل کی تکلیف، ہارٹ اٹیک کے ساتھ ان کے ہسپتال میں آتے ہیں اور بیس سے چالیس سال تک کے افراد بھی دل کے دورے کے ساتھ ان کے پاس ایمرجنسی میں آتے ہیں۔جن میں بیشتر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ہیں اوربیشترکھانے پینے میں غیر محتاط ہیں اور گھر سے باہر کھانا کھاتے ہیںجو کہ گھی اور تیل میں بنائے گئے ہوتے ہیں جو کہ اس کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ ورزش یا چہل قدمی نہیں کرتے جس کی وجہ سے غیر صحت بخش غذا میں سے چربی ان کی دل کی شریانوں میں جمنا شروع ہو جاتی ہے اور جب Angiography انجیوگرافی کی جاتی ہے تو ان کے دل کو جانے والی نالیوں میں رکاوٹ خون کے جمنے اور چربی کے اکٹھا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جو دل کے دورے کا باعث بنتی ہے۔اس لئے خوراک کم تیل کے ساتھ پکا کراستعمال کرنی چاہئے۔ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔ تیل کا استعمال کم کرنا چاہئے۔ کولڈ ڈرنکس ، فاسٹ اینڈ جنک فوڈ سے اجتناب کرنا چاہئے۔ڈاکٹر کی رائے کے مطابق کبھی کبھار ایسے چکنائی والے کھانوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو معمول بنا لینا انتہائی نقصان دہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ورزش اور وزن پر کنٹرول انتہائی ضروری ہے۔ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود اگر کسی کو دل کا عارضہ لاحق ہو جائے تو جتنا جلد ممکن ہو اس کا علاج کروانا چاہئے اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا چاہئے۔ اگر گھر میں ایک فرد کو یہ عارضہ لاحق ہو جائے تو سارے گھر والوں کو اس کی مدد کرنا چاہئے۔ کھانے میں بد پرہیزی نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ تمام گھر والوں کو چاہئے کہ کھانوں میں نمک، چکنائی اورمیٹھے وغیرہ میں احتیاط کریں اور مریض کو وقت پر دوا لینے کے لئے یاد دہانی بھی کروائیں۔اس کے علاوہ یہاں ایک بات اور بہت اہم ہے کہ اگر کسی کے خاندان کے بزرگوں میں عارضہ قلب ہے تو ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان پچاس فیصد تک ہوتا ہے کہ خاندان میں آنے والی نسل میں بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ افراد جن کے خاندان کے قریبی عزیزکو عارضہ قلب ہو تو وہ چھوٹی عمر سے ہی احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ ||