اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:15
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

سال  2020  اور معاشی چیلنجز 

جنوری 2020

یوں تو ہر نیا سال اپنے اندر نئے امکانات اور نئے چیلنجز لے کر شروع ہوتا ہے لیکن سال 2020پاکستان کی معیشت کے لئے منفرد ہے۔  پیچھے مڑ کر سال 2019پر نظر دوڑائیں تو یوں لگتا ہے ایک سال میں کئی سالوں کے برابر معاشی اتار چڑھائو رہا۔ سال کے آغاز میں بے یقینی کی گہری دھند تھی، حدّ ِ نگاہ  چند ماہ بھی نہ تھی لیکن سال ختم ہونے پر چند بنیادی اشاریئے ضرور مثبت  ہیں جن کی وجہ سے مطلع قدرے صاف دکھائی دینے لگا ہے ۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ  یہ مالیاتی استحکام بہت واجبی اور نازک ہے ، اس سے وقتی طور پر سانس تو درست ہوئی ہے لیکن معیشت کی مجموعی صحت اب بھی بہت احتیاط اور مسلسل بہتری کی متقاضی ہے۔ 
 گزشتہ سال شروع ہوا تو نئی حکومت کو  توشے میں ملے زرِ مبادلہ کے بحران  کے طوفانی جھکڑ نے ہر طرف بے یقینی اور بے چینی کی ریت اڑا رکھی تھی۔  روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ میں تیزی سے کمی تھمنے کا نام نہ لے رہی تھی۔ شرح مبادلہ میں اس کمی کی وجہ سے مہنگائی کے مزید بگولے اٹھنے لگے۔ قرضوں کا بوجھ اور ان کی ادائیگی پہلے کیا کم تھی جو مسلسل گرتی شرح مبادلہ نے ان کا وزن گیلے کمبل کی مانند اسی تناسب سے بڑھا دیا۔ بجلی اور گیس کے ٹیرف ایڈجسٹ ہوئے تو یہ بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ بڑھتی ہوئی شرح سود اور چھلانگیں لگاتے افراطِ زر نے کاروباری لاگت اور مہنگائی کو مزید بڑھادیا۔ 
سال2019 کی بیلنس شیٹ میں اہم ترین نکتہ یہ رہا کہ نئی حکومت نے خاصے ادھیڑ بن کے بعد بالآخر آئی ایم ایف کے ساتھ سوا تین سالہ مالیاتی استحکام پروگرام طے کیا۔ اس پروگرام کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس میں کچھ کڑی شرائط پر قبل از پروگرام عملدرآمد لازم ٹھہرا جن میں روپے ڈالر کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ کی صوابدید پر چھوڑنا، درآمدات کو کنٹرول میں لاتے ہوئے تجارتی اور جاری خسارے کو کم کرنا، حکومتی محاصل کا ٹارگٹ ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے، ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے غیر معمولی حساسیت اور ذمہ داری، بجلی اور گیس کی قیمتوں میںاضافے اور حکومتی اخراجات پر کنٹرول سمیت کئی دور رس اقدامات شامل تھے۔ 
سال 2020 کا سب سے بڑا اقتصادی چیلنج اس نوزائیدہ مالی استحکام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانا ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی بھاری قیمت اقتصادی شرح نمو میں کمی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ شرح نمو کسی بھی معیشت کا بیرومیٹرہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت پانچ فی صد سالانہ کے لگ بھگ نمو پانے کے بعد تین ساڑھے تین فی صد کی رینج میں آ گئی ہے۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو سال 2020 اور  2021 میں بمشکل پونے تین سے ساڑھے تین فی صد تک رہ پائے گی۔ معروف عالمی ریٹنگ کمپنی موڈیز نے حال ہی میں پاکستان کی معیشت کی'' آئوٹ لک''  منفی سے مثبت کی ہے لیکن ان چیلنجز کی نشاندہی کے ساتھ جو معیشت کو بدستور درپیش ہیں۔ سٹیٹ بنک کی سالانہ رپورٹ میں بھی ان چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
معیشت مالیاتی اور تجارتی خسارے کا شکار ہے۔ درآمدات کا حجم برآمدات کے اڑھائی گنا سے بھی زائدہے جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بے قابو رہا۔ برآمدات بڑھانے کی تمام کوششیں اب تک بے سود رہیں۔ گزشتہ چھ سالوں میں برآمدات بیس سے پچیس ارب ڈالرز کے درمیان رہی ہیں۔ ہماری برآمدات کی فہرست زیادہ تر ان اشیاء پر مشتمل ہے جو کم ویلیو ہیں۔ دو تہائی برآمدات بقول ایک معروف معیشت دان کے چادر، چاول اور چمڑے پر مشتمل ہیں۔بد قسمتی سے پاکستان کی برآمدی اشیاء کی باسکٹ میں گزشتہ دو تین دہائیوں سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ اس دوران ٹیکسٹائلز ہی لے دے کر برآمدات کا 55- 60%  حصہ رہی ہیں۔ ٹیکسٹائلز میں بھی گارمنٹس کا تناسب 40% سے بھی کم رہا اور باقی  خام مال و نیم تیار اشیاء ، جبکہ عالمی تجارت میں یہ تناسب الٹ ہے یعنی گارمنٹس کا تناسب 60 % اور ٹیکسٹائلز خام مال اور نیم تیار شدہ کا 40% ۔ 
 ایک اور اہم بات کہ عالمی تجارتی حجم میں گارمنٹس کی سالانہ شرح نمو ٹیکسٹائلز سے دوگنا رہی ہے۔ پاکستانی معیشت اس غیر متوازن ایکسپورٹ باسکٹ کو درست کرکے اور کچھ نئی مگر بہتر ویلیو ایڈڈ اشیاء میں مہارت کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ سال 2020 میں اس سمت کچھ ایسے بنیادی اقدامات  اٹھانے کی ضرورت ہے کہ اس روایتی رجحان میں تبدیلی کا عمل شروع ہو سکے۔ 
پاکستان کی معیشت کا ایک بہت بڑا تضاد درآمدات کی حوصلہ افزائی ہے۔ گزشتہ پندرہ اٹھارہ سالوں کے دوران درآمدات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ اور اس پر طرفہ تماشہ انڈر انوائسنگ نے گزشتہ بارہ سالوں میں درآمدات کا فلڈ گیٹ کھول دیا۔ روپے کی قیمت کو مصنوعی طور پر غیر حقیقی شرح مبادلہ پر رکھ کر بالواسطہ درآمدات کے لئے آسانی رہی جبکہ دوسری طرف برآمدات کی مسابقت مشکلات کا شکار رہی ۔ ماضی کی مختلف حکومتوں کے دور میں ایسی پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے صنعتی پیداواری شعبے یعنی Manufacturing Sector کا تناسب مجموعی قومی پیداوار میں مسلسل کم ہوتا گیا ۔ صنعتی شعبے میںسکڑائو اور دیگر وجوہات کے سبب برآمدات کا جی ڈی پی میں تناسب پندرہ سالوں کے دوران 13% سے کم ہو کر فقط سات فی صد رہ گیا ہے جبکہ ہم پلہ دیگر ممالک میں یہ تناسب  اس دوران خاصا بڑھا ہے۔ 
صنعتی پیداواری کا تناسب سال 2003 میں مجموعی ملکی پیداوار کا 22% تھا جو سال 2018 میں کم ہو کر 18% رہ گیا ۔ سال2020کا ایک بہت بڑا چیلنج صنعتی پیداوار میں گراوٹ کے اس رجحان کو بدلنا ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق بڑ ی صنعتوں کی پیداوار میں رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں 6.50% کمی ہوئی۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کی صنعتوں کا دار و مدار بڑی صنعتوں پر ہوتا ہے۔ اس سے صنعتی شعبوں میں جاری صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 
زراعت کی پیداوار میں بھی ایک جمود سا طاری ہے۔ رواں سال بھی کپاس کی فصل تباہی کا شکار ہوئی۔ ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں کی ملکی ضرورت کے بر عکس کپاس کی فصل بمشکل نوے لاکھ ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 1990-2015کے درمیانی پچیس سالوں کے دوران بڑی فصلوں یعنی Major crops  میں اوسط سالانہ اضافہ صرف 2.8%  فی صد رہا ، دیگر چھوٹی فصلوں یعنی Minor crops کی سالانہ شرح نمو فقط 1.9% رہی۔ وجوہات بہت سی ہیں لیکن حاصلِ کلام یہ ہے کہ پچیس سالوں کی اوسط کارگزاری دنیا کی پیداواری ترقی کے مقابلے میں انتہائی مایوس کن رہی۔ سال 2020 کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ روایتی اعلانات اور پیکیجز سے باہر نکل کر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ فی ایکڑ پیداوار بھی بڑھے اور فرسودہ طریقوں کے بجائے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔  
لائیو اسٹاک کا تناسب زراعت میں نصف سے بھی زائد ہے لیکن ڈیری کی بہت سی مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔ حلال گوشت کی بہت بڑی عالمی ٹریڈ میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ملک کے اندر غذائی سکیورٹی وقت کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اشیائے خور و نوش میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ کوالٹی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ سال 2020میں روایتی بے عملی تج کر عالمی معیارات کو اپنانے کی ضرورت ہے، فصلوں اور لائیو اسٹاک کی پیداوار، کوالٹی، کم لاگت کے ساتھ پیداوار ، اندرون ملک اوربیرون ملک مارکیٹنگ میں انقلاب لانے کی ضرورت ہے ۔ 
ملک کو تجارتی خسارے کے ساتھ ساتھ مالیاتی خسارے کا بھی سامنا ہے یعنی دوہرے خسارے کا سامنا ہے۔ حکومتی محاصل سے جمع شدہ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہر سال بجٹ خسارے کا بوجھ آنے والے سال کے دامن میں پہلے سے زیادہ چھید چھوڑ جاتا ہے۔ نتیجہ ہر سال اندرونی اور بیرونی قرضوں سے خسارہ پورا کرنے کا ڈنگ ٹپائو کام کئی دِہائیوں سے جاری ہے۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ قرضوں اور سود کی ادائیگی بجٹ کی سب سے بڑی مد ہے۔ اس کے بعد دفاع، حکومت کے انتظامی اخراجات کی باری آتی ہے، ڈویلپمنٹ کی باری آتے آتے ملکی وسائل ختم ہو جاتے ہیں اور یوں قرضوں کا بار اور مجبوری پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ 
بلیک اکانومی کا پوری معیشت میں حصہ ساٹھ فی صد سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے ۔ بلیک اکانومی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایف بی آر کے پاس بالواسطہ ٹیکسوں اورٹیکس نیٹ میں شامل لوگوں پر مزید ٹیکس لگائے بغیر محاصل بڑھانا مشکل ہے۔ اس پر مستزاد کرپشن نے وسائل کو دیمک کی طرح کھا یا ہے۔ موجودہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے ہیں جن کی مخالفت سے کاروباری حالات پر بے یقینی کے سائے بھی ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت بہت واضح ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، بالواسطہ ٹیکسوں کے بجائے براہ راست Consumptionاور آمدن پر ٹیکس لگانے، ٹیکسوں کے بوجھ کو منصفانہ انداز میں نافذ کرنے ، ٹیکس استثنیات یعنیExemptions کو صرف پسے طبقات تک محدود رکھنے اور ٹیکس جمع کرنے والے نظام کو شفاف اور ٹیکنالوجی سے لیس کئے بغیر معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ سال2020 میں ٹیکس نظام اور انداز میں تبدیلی لانا ایک دور رس معرکہ ہو گا۔ 
بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ان سیکٹرز میں ماضی کی بداعمالیوں کا بوجھ پوری معیشت پر بھاری پڑ رہا ہے۔ سرکلر ڈیٹ کا بوجھ سترہ سو ارب روپے تک پہنچنے کو ہے۔ اسی طرح پبلک سیکٹرز اداروں کا سالانہ نقصان بھی سیکڑوں ارب روپے سالانہ ہے۔ معیشت کو درپیش چیلنجز اور بھی ہیں لیکن چند بنیادی اور دور رس اہمیت کے حامل ان چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے نمٹے بغیر معیشت مستحکم بنیاوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ سال2020 بھی پچھلے سالوں جیسا ہو گا یا ان سے مختلف، اس کا فیصلہ اس سال کا ہر گزرتا مہینہ خود کر دے گا۔ 


 مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]