اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 14:05
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ڈاکٹرحمیرا شہباز

مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔ [email protected]

Advertisements

ہلال اردو

ثنا ء کے بابا شہید ہوگئے

جون 2018

ملٹری انٹیلی جیئنس کے خاموش مجاہد کرنل راجہ سہیل عابدکی شہادت پر ڈاکٹر حمیرا شہبازکی تحریر

''ارے تم نے یہ کیا کیا؟ یہ تو پڑھی ہوئی تھیں تم نے بغیر پڑھے اس میں ملا دیں۔ '' اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے پلیٹ میں پڑی کھجور کی گٹھلیاں الگ الگ کرتے ہوئے اپنی سہیلی کو مسکرا کر تاکید کی کہ وہ ان کو دوبارہ پڑھے۔ وہ معصوم اپنی اس نادانی پر ہنسے جارہی تھی۔ اور اپنی ایک اور سہیلی کو ہنس ہنس کر بتا رہی تھی کہ اُس سے کیا غلطی ہوئی تھی ۔ اس سمجھدار بچی نے اپنی کرسی میز کے اور نزدیک کھینچی اورنہایت دانائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سہیلیوں سے کہا ''چلو، اب پڑھو!'' اور اپنی آنکھیں میچ کرکچھ پڑھنے لگی۔ اس کی مٹھی میں بھری گٹھلیاں ایک ایک کرکے اس کے ہاتھ سے تھالی میں گرنے لگیں جن کی ضرب میرے دل پر پڑ رہی تھی ۔ میں جو کمرے کے دوسرے کونے میں بیٹھی اس معصوم کو دیکھ رہی تھی ، اس سے پوچھا کہ بیٹا کیا پڑھ رہے ہو ان پر؟وہ شاید اتنی دیر سے میری موجودگی کو محسوس نہیں کر سکی تھی۔ ان سب نے چونک کر میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا ، جیسے پوچھ رہی ہوں، ''کیوں، کیا پڑھنا تھا؟'' میرا جواب تھا:'' قل شریف۔ '' آٹھ نو برس کی بچیو ں کے لئے شاید یہ جواب مشکل تھا۔ اس معصوم نے مسکرا کر بڑے اعتماد سے کہا :'' مجھے پہلا کلمہ طیب آتا ہے میں وہی پڑھ رہی ہوں۔'' میں نے بھی تسلیم میں سر ہلا دیا۔

اس معصوم سے ایک دن قبل بھی میں ملی تھی جب وہ ایک بڑے سے ہال کے داخلی دروازے کے قریب ہی پہلی کرسی پر دم سادھے بیٹھی ہوئی تھی اور وہاں سے آگے خواتین کا جمع غفیر تھا۔ وہ سخت گھبرائی ہوئی تھی ، مجمعے میں اکیلی۔ جیسے اسکول کے گیٹ پر کوئی بچی چھٹی کے بعد بہت دیر سے اپنے والد کی منتظر ہو جو اس کو لینے آنے والے ہوں، لیکن نہ آ رہے ہوں۔ اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی ہے۔ میں اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گئی اور اس سے پوچھا :'' بیٹا با با کو دیکھنا ہے؟'' اس نے فوری ڈر کر نفی میں سر ہلایا اور جواب دیا :نہیں!! اور پھر دم سادھ لیا۔ میں نے پھر کہا:''آخری بار؟'' وہ خاموش تھی ۔ یقینا اس سے پہلے کبھی بھی اپنی زندگی میں اس نے اپنے والد کو نہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ہو گا۔ لیکن سبز ہلالی پرچم میں لپٹے اپنے باپ کو آخری بار دیکھنے کا مطلب اس کی سمجھ سے باہرتھا۔ اس کی خاموش زباں اور چلاتی نظروں کو برداشت کرنا ناممکن تھا۔ میں نے اٹھ کر اس کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ کرنل سہیل عابد'' شہید'' کی زینب ہے یہ۔

 

کل اس ہال میں عجیب ہی منظر تھا۔ بہت سی خواتین تھیں لیکن بہت بوجھل تکلیف دہ خاموشی تھی ہر طرف۔۔۔۔۔ کسی میں ہمت نہ تھی کہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں موجود تکلیف اور دکھ کو دیکھ سکے۔سب اک دوسرے سے نظر ملائے بغیر باتیں کر رہے تھے۔ اگر لمحے بھر کو نظروں کا تصادم ہو بھی جاتا تو آنسو منظر کو فوری دھندلا دیتے۔ ان خاموش سسکیوں میں بس تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک بچی کی دبی ہوئی چیخ سنائی دیتی تھی جیسے اس کو سانس لینے میں سخت دشواری ہو رہی ہو اور وہ اپنی تمام تر قوت سے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔وہ ہر جانے پہچانے چہرے کی طرف یوں لپکتی تھی جیسے ایک سانس ادھار مانگ رہی ہو۔ اپنے لئے یا شاید سبز ہلالی پرچم میں لپٹے اپنے والد کے لئے۔ کرنل سہیل عابد، :''شہید ''کی ثنا ہے یہ۔ آج میری سماعتوں نے پہلے روزے کی سحری کے لئے بیدار ہونے کے بعد پہلا جملہ یہی سنا تھا : ''ثنا کے بابا شہید ہو گئے!!!''

 

 ویسے ہی غیر متوقع بارشوں کا موسم ہے اور وہاں تو آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی ۔ ہر آنکھ پُر نم، بے موسم!! وہ بڑے صبر کے ساتھ اس پورے ہال میں سب سے مل رہی تھی لیکن سبز ہلالی پرچم میں لپٹے باپ کا سوچ کر ایک دم پُھوٹ پُھوٹ کر رو دیتی، بے صدا۔ کرنل سہیل عابد، ''شہید'' کی خدیجہ ہے یہ۔

 

کل یقینا وہاں شہید کا پرسا تھا، لیکن ماتم ہرگز نہیں تھا۔ کوئی ہنگامہ برپا نہیں تھا۔ ایک تقدس، احترام اور حد ادب کا پاس تھا وہاں۔ سب مل کر شہید کی بیوی کو شہید کی دائمی زندگی کا یقین دلا رہے تھے۔یہ یقین سب کے ایمان کا حصہ تھا۔ لیکن سب انسان تھے نا جن کا اس حقیقت پر ایمان ضرور تھالیکن شعور نہیں تھا ۔ ایمان، بے شعور انسان کو ایک گونہ اطمینان ضرور بخشتا ہے۔سب کو ان پر رشک تھا اور حسد کسی کو بھی نہیں۔وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھنے والے ہر بھائی سے یہ سوال کرتیں کہ ان کو آخری بار جاتے وقت ''خداحافظ'' کہنے والے شوہر نے اوروں سے آخری بار کیا کیا کہا؟ سب گلو گیر تھے۔ سب کی قوت گویائی سلب ہو چکی تھی۔ پھر وہ ان کے ساتھ مل کر رو دیتیں ۔فخر کا مقام تھا، صبر کی منزل تھی لیکن اگر ایسے میں وہ رو دیتی ہیں تو:

 

 بیوہ زن را این چنین شیون رواست

چکلالہ گیریژن کے رائزنگ سن لاج میں کچھ دیر قبل میں داخل ہوئی تھی تو عاشقِ وطن کے جنازے کی دھوم تھی ۔قوی امکان تھا کہ موقعے کی حساسیت کی بنا پر رسائی ممکن نہ ہو۔شہید کے نظارے کی کشش اور اس کے اپنوں کی تڑپ کشاں کشاں لئے جا رہی تھی۔ پاکستان بھر سے اعلٰی فوجی اور سول حکام اور عوام و خواص کا اجتماع تھا۔انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ ساری آمد و رفت کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مایہ ناز سپاہ کے ایک جری افسر کو خراج عقیدت پیش کر کے روانہ ہو رہے تھے۔ یقینا یہ عمل ان کے لئے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو کاٹ کر الگ کرنے کے مترادف تھا۔ جنازہ ہو چکا تھا اور حاضرین باری باری ایمبولینس میں ابدی زندگی پائے ،شہید کی جھلک دیکھنے کے لئے صف آرا تھے۔ میں نے جانا کہ کسی کا آخری دیدار، نظر بھر کر نہیں ہو سکتا کہ اس سے پہلے ہی دل بھر آتا ہے۔

 

فوجی دستے کی حفاظت میں شہید کی میت اور ان کے لواحقین وہاڑی اور چکلالہ کے بعد اب تیسری بار جنازے اور تدفین کے مراحل طے کرنے کے لئے گائوں بوبڑی ، بہارہ کہو کے لئے روانہ ہوگئے۔ تعزیت کرنے والے ایک دوسرے سے رخصت لینے لگے۔ اس شہادت نے بہت سے احباب کو سالوں بعد ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا۔

 

اگلے دن سہ پہر کو ہم فاتحہ خوانی کے لئے شہید کے گائوں کی جانب رواں تھے۔ بہارہ کہو، سترہ میل کے راستے میں دائیں جانب مڑتی انگوری روڈ۔۔۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ رستہ انجان نہیں۔ بحریہ ٹان کا داخلی صدر دروازہ، پانی کے چشمے کنارے پکنک پوائنٹ، دوہالہ سیداں ٹائون۔۔۔ یہ سب جگہیں میری دیکھی بھالی تھیں۔ پھر یاد آیا کہ گزشتہ برس 12 پنجاب کے حوالدار محمد فیاض شہید جو کہ2004 کے وانا میں ہونے والے آپریشن کالوشا میں شہید ہو گئے تھے، ان کے اہلِ خانہ سے ملنے میں یہیں تو آئی تھی۔ بوبڑی ہی تو تھا ان کے گائوں کا نام بھی۔ تھوڑی دیر میں گاڑی سڑ ک سے اتر کر شہید کے آبائی گھر کے آگے جارکی جس پر کسی ایڈووکیٹ کے نام کی تختی آویزاں تھی۔ گھر کے سامنے سڑک کے اس پار ، شامیانے تنے ہوئے تھے دریاں بچھی ہوئی تھیں، کرسیوں کی قطاریں تھیں۔ گائوں بھر کے معزز، خُرد و کلاں ، شہید کے اپنے پرائے موجود تھے۔ فوجی گاڑیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔

 گھر کے اندر صرف خواتین اور بچے تھے۔ شہید کی بیوہ اور بچے موجود نہیں تھے۔ صحن میں موجود خواتین کے ساتھ بیٹھ کر میں نے بھی کھجور کی گٹھلیوں پر قل شریف کا ورد شروع کر دیا۔ شہید کی اکلوتی بہن، خالائیں، بھابیاں، کزنز، اہلِ محلہ اور خاندان بھر کی خواتین موجود تھیں۔ ہر کوئی شہید کی شخصیت کے جملہ اوصاف کی گردان کر رہا تھا۔ خالہ اپنے بھانجے کی شجاعت کے گُن گا رہی تھیں۔کسی کو جواں سال شہید کی جدائی کا یقین نہیں آرہا تھا، کوئی ان کو چھین لینے والے دہشتگردوں کے ظلم کی دہائی دے رہی تھی، کسی کو ان کے نو عمر بچوں کا غم کھائے جا رہا تھا، تو کوئی ان کی برادرانہ شفقت کی محرومی پر اشکبار تھی۔اس علاقے کی ایک ناظم خاتون یا جو شاید وزیر تھیں، تعزیت کے لئے موجود تھیں۔ خواتین کا ان سے مطالبہ تھا کہ اس گائوں کو آتی سڑک کا نام شہید کرنل سہیل عابد سے منسوب کیا جائے، جس پر عمل درآمد کی انہوں نے یقین دہانی کروائی۔ میں بھی کچھ ہی دیر میں پہنچنے والی شہید کی فیملی سے ملنے کی ہمت بندھا رہی تھی جن سے برسوں کی رفاقت تھی لیکن کل ان کو جس حال میں دیکھا تھا دوبارہ ایسی قوت نظارہ ہر گزنہیں تھی۔

 

ان کے آنے پر ماحول میں دبی ہوئی سسکیوں کو آواز مل گئی۔ شہید کی ساس جو کہ ان کی خالہ بھی ہیں، اپنے خوبرو، جواں سال، جانثار، بہادر بیٹے کو پکارتی پھر رہی تھیں۔ بآوازِ بلند اس کی بہادری کے گیت گا رہی تھیں، ملک دشمنوں کو للکار کر غیرت دلا رہی تھیں۔چند برس قبل چل بسنے والی اپنی بہن اور شہید کی مرحومہ ماں کو یاد کرکے شکر ادا کرہی تھیں کہ وہ اس دکھ کو سہنے کے لئے زندہ نہیں بلکہ جنت میں اپنے قابل صد رشک بیٹے کا استقبال کر رہی ہوں گی۔ بلوچستان کے جمالی قبیلے کی ایک معزز بزرگ خاتون بھی روایتی بلوچی لباس میں وہاں موجود تھیں جو کوئٹہ سے اپنے اس منہ بولے بیٹے کے پرسے کو آئی تھیں۔ ہمت والی تھیں، سب کو دلاسے دے رہی تھیں۔پتا چلا کہ یہ صبر ان کو چند برس قبل اپنے فوجی افسر بیٹے، کرنل ناصر کی جدائی نے بخشا ہے۔ انہوں نے شہید کی قبر کی زیارت کی خواہش کی تو میں ان کے، اور دیگر چند خواہاں خواتین کے ساتھ قبرستان آ گئی۔ اس پہاڑی علاقے کے دامن میں یہ ہموار قبرستان تھا، جس کے آغاز میں ہی شہید حوالدار محمد فیاض کی قبر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم استقبال کررہا تھا اور آخر میں شہید کرنل سہیل عابد کی قبر پھولوں سے مہک رہی تھی۔ گزشتہ شب کی بارش سے نرم گیلی مٹی اورسرسبز میدان میں جانے والوں کے ابدی مکان۔ خوشگوار ہوا چل رہی تھی گویا جنت سے آرہی تھی۔ سامنے پہاڑی پر بنے گھر سے شہید فیاض کی بیٹی ندیمہ ، بیوی اور بھائی بھی وہاں اتر آئے۔ پتہ چلا کہ یہ دونوں شہید ایک ہی برادری کے ہیں اور آپس میں گہرے مراسم رکھتے تھے، دونوں ہی اپنی دھرتی کا فخر بنے۔

 

قبرستان سے واپسی پر بھی خواتین نے شہید کی بیوہ کو گھیرے میں لئے رکھا تھا جن کی اس عظیم قربانی پر پوری قوم ان کی مقروض ہے۔ شہید کا بیٹا سالار یکدم اپنے خاندان کی سالاری کے عہدے پر فائز ہو گیا تھا۔ باپ کو کندھا دینے کے بعد اب ماں او ربہنوں کا سہارا ہے وہ۔ یہ کم سن سیاہ پوش ، چند گھنٹوں میں ٹی وی اور سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خبر کا حصہ بن گیا تھا۔ پاکستان بھر کے ہر شہری کے موبائل پر یو این مشن کی وردی میں مسکراتے اس کے پر عزم شہید والد کی تصویر سجی ہوئی ہے۔ بہت سی سیاسی شخصیات اس سے تعزیت اور شہید کی قربانی کی سپاس گزاری کے لئے ملنے کو آ رہی تھیں۔ شہید کرنل سہیل عابد کے اس وارث کی حفاظت، پرورش اور خاطرداری قوم پر اب فرض ہے۔

 

میں خواتین کے مجمعے سے اٹھ کر اندر بچیوں کو دیکھنے چلی آئی کہ کس حال میں ہیں۔ اور وہ کل کی ہراساں معصوم بچی آج کھجور کی گٹھلیوں پر پوری ایمانداری سے تسبیح خوانی میں مگن تھی ۔ میں کمرے کے ایک کونے میں اس سے اپنے آنسو چھپائے بیٹھی خدا کی شکر گزار و ممنون تھی کہ اس نے اس بچی کو معصومانہ صبر سے نوازا ہے جس کو ابھی صحیح سے ادراک نہیں کہ اس نے کیا کھویا ہے۔

 

آئی ایس پی آر کی مورخہ 16مئی2018، کی پریس ریلیز شمارہ PR-171/2018-ISPR کے مطابق:سیکیورٹی فورسز نے پولیس اور 100 سے زیادہ ہزارہ برادری کے افراد کے قتل میں ملوث ، لشکر جھنگوی بلوچستان کے انتہائی مطلوب سرغنہ سلمان بیدانی سمیت2 خود کش حملہ آوروں کو حساس اطلاعات کی بنیاد پر ، بلوچستان کے علاقے الماس کلّی میں ایک آپریشن کے دوران مار ڈالا۔ دوران آپریشن گولیوں کی شدید بوچھاڑ میں ملٹری انٹیلی جیئنس کے کرنل سہیل عابد نے جام شہادت نوش کیا اور4 سپاہی شدید زخمی ہوئے جس میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔

 

یکم رمضان کی مبارک شب، جمعرات کی رات کو مادر وطن کے امن کو غارت کرنے والے شر پسند عناصر کے خلاف آپریشن پر نکلتے ہوئے کرنل سہیل عابد نے ایک بار بھی مڑ کر حسرت سے اپنے بچوں پر نظر نہیں ڈالی تھی ۔گو کہ ان کے عہدے کا تقاضا نہیں تھا کہ وہ اس سطح کے آپریشن پر اگلی صفوں میں اپنے سپاہیوں کے شانہ بشانہ موجود ہوں لیکن ان کی پیشہ ورانہ تربیت ، حب الوطنی اور فرض شناسی نے ان کو اس فرض سے باز نہیں رکھا۔

 

مشن پر نکلتے وقت ان کی بیوی ہاتھ میں شربت کا گلا س لئے کھڑی ہوتی ہے۔ مشن پر بر وقت پہنچنے کے لئے وہ گلاس واپس بیگم کو تھماتے ہیں کہ دیر ہو رہی ہے ۔ وہ ان کے پیچھے لپکتی ہیں، ملازم سے کہتی ہیں کہ یہ شربت گاڑی میں ہی دے آئو صاحب کو۔ کیا خبر انہوں نے پیا کہ نہیں!!  انہیں تو بس جلدی تھی ، جام شہادت جو ان کو پیش کیا جانے والا تھا۔

 

 اب میں ان کی بیگم کو دیکھتی ہوں کہ وہ مسکرا کر ان آخری چند لمحات کو یاد کرتی ہیں تو ان کی آنکھ نم ہو جاتی ہے لیکن شہید کی بیوہ کے آنسوئوں کو کوئی معمولی نہ جانے۔ مبادا اس اشک افشانی کو شہادت کی توہین سمجھے ۔ یہ تو وہ آنسو ہیں جو اعلیٰ ترین عشق کی گواہی دیتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اگر اپنے پورے اردو اور فارسی کلام میں کسی ذی نفس کی دوسرے ذی روح سے محبت کی مثال دی ہے تو وہ اس بیوی کا عشق ہے جو اپنے شوہر کو جنگ کے لئے رخصت کرتی ہے تو وہ اس کے فرائض کی اہمیت کو خوب سمجھتے ہوئے خاموش رہتی ہے، لیکن اس کی محبت میں آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو پر آسمان کا روشن ستارہ، صبح کا ستارہ بھی رشک کرتا ہے۔ اس کو اپنی چمک اس آنسو کی تابناکی کے آگے ہیچ لگتی ہے اور وہ خواہش کرتا ہے کہ:

 

کیوں نہ اس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جائوں میں

جس کا شوہر ہو رواں ہو کے ذرہ میں مستور

سُوئے میدانِ وغا، حبِ وطن سے مجبور

یاس و امید کا نظارہ جو دِکھلاتی ہو

جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو

جس کو شوہر کی رضا تابِ شکیبائی دے

اور نگاہوں کو حیا طاقتِ گویائی دے

زرد، رخصت کی گھڑی، عارضِ گلگُوں ہو جائے

کششِ حسن غمِ ہجر سے افزُوں ہوجائے

لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جائوں

ساغرِ دیدہئِ پرنم سے چھلک ہی جائوں

خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جائوں

عشق کا سوز زمانے کو دِکھاتا جائوں

(کلیاتِ اقبال،اردوبانگ درا،ص:112)

 

یہ عشق کا سوز ہی اب بیگم کرنل سہیل عابد کے لئے گرمیء حیات ہے۔ اپنے ہمسر کی جدائی کا دکھ ضرور ہو گا انہیں لیکن وطن کے کسی بھی جانباز سپاہی کی بیوی کو اپنے سرتاج میں سب بڑھ کر یہی خوبی تو نظر آتی ہے کہ وہ وطن کی عزت کا رکھوالا ہے، نگار ِوطن سے اپنے شوہر کے عشق سے اسے کبھی احساس رقابت نہیں ہوتا۔ اس کے عشق میں اپنا وقت، اپنی ترجیحات اور بالآخر اپنی جان قربان کر دینے والے سے اسے یہ گلہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی اور کی چاہت میں اسے چھوڑ گیا۔

 

انٹیلی جیئنس آفیسرز کا طرز زندگی ویسے ہی غیر روایتی ہوتا ہے۔زندگی ان کی ایک صوفی کی طرح شب زندہ داری میں گزر جاتی ہے۔ یہ وہ خاموش مجاہد ہیں جو ہر دم شر پسند عناصر کے خلاف ایک غیرعلانیہ جنگ کے محاذ پر نبرد آزما رہتے ہیں۔ بظاہر کچھ نہ کرتے ہوئے، قومی زندگی کے ہر پہلو پر کارفرما ہوتے ہیں۔ اگلے محاذوں پر جن کی شہادت کی خبر پر لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کون سی جنگ تھی جس پر ایک کرنل رینک کا آفیسر سالاری کر رہا تھا۔ دہشت گردی کی فضا میں ان کا ہر لمحہ محاذ پر ہے۔

 

بیگم کرنل سہیل تمام عمر اپنے شوہر کی حب الوطنی کی پشتیبانی کرتی رہی ہیں۔ ان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کہ ان کے عظیم شوہر نے جاتے وقت ایک بار بھی پلٹ کر ان کی طرف، لمحہ لمحہ ساتھ گزاری زندگی کے آشیانے کو، اپنی سرمایۂ زندگی ، اپنی اولاد کو ایک بار بھی حسرت سے نہیں دیکھا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ بظاہر نہ بھی رہے تو ہمیشہ رہیں گے۔

 

 بس قوم کو خیال رہے کہ کوئی ان کی قربانی کی توہین نہ کرے۔


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

 [email protected]

ڈاکٹرحمیرا شہباز

مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔ [email protected]

Advertisements