متفرقات

Default Value Negative

یہ واقعہ بنکاک میں پیش آیا۔ میں وکٹری مانیومنٹ جانے کے لئے مطلوبہ ویگن تلاش کر رہا تھا۔ اجنبی زبان کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کون سی ویگن کس روٹ کی ہے۔ ویگن کنڈکٹر تھائی زبان میں آوازیں لگا کر مسافروں کو متوجہ کر رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے یہاں ’’لوہاری گیٹ‘‘ کی آوازیں لگائی جاتی ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ ایک ویگن کو بھرنے کے بعد کنڈکٹر اس میں سوار نہیں ہوتا تھا بلکہ ڈرائیور سے اس کام کی اجرت لینے کے بعد اگلی ویگن کو بھرنے میں جُت جاتا۔ جب مجھے خوار ہوتے کافی دیر ہو گئی اور میں نے مایوس ہو کر ڈبل ڈیکر برگر کھانے کا فیصلہ کر لیا تو عین اسی لمحے کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر بلایا۔ مڑ کر دیکھا تو ایک معنک لڑکی انگریزی میں مخاطب تھی۔
I think you want to go to Victory Monument? 
میں نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
Follow me 
اس نے جواب دیا اور یہ کہہ کر ایک ویگن میں سوار ہو گئی۔ میں نے اس کی تقلید کی۔ ویگن چل پڑی تو کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ مسافروں نے چند روپے ڈرائیور کے ساتھ رکھے ایک ڈبے میں ڈال دیئے ہیں۔ میں نے لڑکی سے اس کا مطلب پوچھا تو و ہ بولی۔ یہاں سے وکٹری مانیو منٹ کا کرایہ بیس بھات ہے۔ سب لوگوں نے اپنا کرایہ اکٹھا کر کے ڈرائیور کے باکس میں ڈال دیا ہے۔ یہ ویگن اب صرف اپنی منزل پر جا کر ہی رکے گی۔ یہ سن کر میں نے ایک خالصتاً پاکستانی سوال کیا۔ فرض کرو اگر کوئی شخص کرایہ نہ دے تو ڈرائیور کو کیسے پتہ چلے گا۔ تمہاری ویگنوں میں تو کنڈکٹر بھی نہیں ہوتا؟ یہ سوال سن کر اس لڑکی کے چہرے پر عجیب تاثرات ابھرے۔ اس نے شدید حیرت سے کہا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کرایہ نہ دے۔ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔ اس کا رد عمل دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے کوئی آؤٹ آف کورس سوال پوچھ لیا ہے۔ اپنے سوال پر میں نے معذرت کی جو فوراً خوشدلی سے قبول کر لی گئی۔

لاہور کا جغرافیہ

حدود اربعہ

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن طلباء کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے ا ور روز بروز واقع تر ہو رہاہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہو گا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا یوں سمجھئے کہ لاہو ر کا ایک جسم ہے جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہو رہا ہے۔ لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

(پطرس بخاری)

 

بطور پاکستانی ہماری سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم کسی بات کوفیس ویلیو پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ کوئی بھی بات سننے کے بعد ہمارا پہلا ردعمل منفی ہوتا ہے۔ اس رویے کو میں
Default Value Negative 
کہتا ہوں۔ مثال کے طور پر دیگر ممالک میں ویگن کا کرایہ ایمانداری سے ادا کرنا عام سی بات ہے مگر ایک پاکستانی کی ڈیفالٹ ویلیو یہ ہو گی کہ اگر کرایہ ادا نہ کیا جائے تو کیا میں پکڑا جا سکوں گا؟ میٹرو اگر کسی مہذب ملک میں بنائی جائے تو وہاں آہنی جنگلوں کے بیچ ایک علیحدہ سڑک بنانے کی بجائے میٹرو بس کے لئے فقط ایک سرخ لکیر کھینچ کر راستہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے ہاں جنگلے بھی ایسے لگائے گئے کہ ان کو اکھاڑ کرلے جانا ممکن نہ ہو۔ کیونکہ ہمیں علم تھا کہ ہمارے ذہن میں سب سے پہلے یہ منفی سوچ آئے گی کہ کیسے ان جنگلوں کو توڑ کر بیچ میں سے شارٹ کٹ نکالا جائے۔ اسی طرح روزمرہ گفتگو میں کاروباری معاملات میں دفتری امور نمٹاتے ہوئے سیاسی بحث کرتے ہوئے ملکی مسائل پر رائے دیتے ہوئے حتی کہ راہ چلتے سوداسلف خریدتے ہوئے بھی ہمارے دماغ کی سوئی منفی طرز عمل پر ہی اٹکی رہتی ہے۔ مثلاً پھل خریدتے وقت پہلا منفی خیال یہ آئے گا کہ دکاندار گلے ہوئے پھل ڈال دے گا دوسرا یہ کہ کم تولے گا اور تیسرا خیال یہ آئے گا کہ نرخ زیادہ لگائے گا اور چونکہ یہ تینوں باتیں کبھی کبھار درست بھی نکل آتی ہیں۔ اس لئے ہماری ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو پر قائم رہتی ہے۔ روز مرہ زندگی میں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے بھی ہم اسی منفی رویے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں کسی کے ساتھ کاروبار شروع کرنے سے پہلے ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ دوسری پارٹی یقیناًہم سے فراڈ کرے گی ۔ سرکاری دفتر میں داخل ہونے سے پہلے ہم یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ یہاں کوئی جائز کام پیسے لگائے بغیر نہیں ہو گا اور میڈیکل سٹور سے دوا خریدتے وقت ہم شک میں ہی مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں دوا جعلی نہ ہو۔ اس کے برعکس مہذب دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو عموماً ایماندار اور سچا سمجھتے ہیں تاوقتیکہ کوئی بے ایمان یا جھوٹا ثابت نہ ہو جائے۔ جبکہ ہمارے ہاں ہر شخص کو جھوٹا دغاباز سمجھا جاتا ہے تاوقتیکہ وہ فوت نہ ہو جائے۔ مرنے والے کی ہم برائی نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں جن لوگوں کو جرائم میں گرفتار کیا جاتا ہے زیادہ تر کیسوں میں وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے سرے سے جرم کا ارتکاب ہی نہیں کیا بلکہ وہ ان عوامل کی بنیاد پر اپنے جرم کی سنگینی گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے مجبور ہو کر جرم کیا گیا۔ دوسری طرف ہمارے ہاں اگر کسی شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جائے اور اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہو تو اس کا وکیل سب سے پہلے مشورہ یہ دیتا ہے کہ تم نے اعتراف جرم نہیں کرنا۔ باقی میں سنبھال لوں گا۔افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ وکیل یہ منفی مشورہ کیوں دیتا ہے۔ بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ اس کا مشورہ مجرم کو سزا سے بچا لیتا ہے۔


ہماری اس ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کے ساتھ سچ بولا ہی نہیں گیا۔ اسی لئے لوگ اب کسی بات کو فیس ویلیو پر ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اس ملک کا نام نہاد دانشور طبقہ بھی ایسی ہی منفی سوچ رکھتا ہے کہ ان کی دانشوری امریکہ کو لتاڑنے سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے ان نوم چومسکیوں نے تاریخ کے ہر مرحلے پر جو بیانیہ اس قوم کو دیا اس کی مرحلہ وار دھجیاں اڑ چکی ہیں لیکن مجال ہے کہ ان کی ڈھٹائی میں فرق آیا ہو۔ آج بھی اس کی ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو ہے۔ یقین نہیں آتا تو ان کی گفتگو سن لیں اس فقرے سے شروع ہوتی ہے جو کروا رہا ہے۔ ’’امریکہ کروا رہا ہے‘‘ اور یہیں ختم ہو جاتی ہے۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 171مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP